گل بہار بانو: غفلت کے اندھیروں میں فن کا ڈوبتا ہوا سورج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری یہ مشہور غزل گانے والی ماضی کی نامورپاکستانی گلوکارہ گل بہار بانو اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہیں، علاقائی چینل کے مطابق وہ اپنے سوتیلے بھائی کے رحم و کرم پر ان کے گھر میں زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں۔

گل بہار بانو بہاولپور کے علاقہ خانقاہ شریف سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے گائیکی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ غزل گائیکی میں ایک منفرد مقام رکھنے والی گلوکارہ کے متعلق ماضی میں بھی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان کو تشویشناک ذہنی حالت میں ملیر کینٹ چوکی پر بیٹھے پایا گیا تھا۔ گمنامی کی زندگی گزارنے والی گل بہار بانو کوحکومت پاکستان نے 14 اگست 2007ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

ماضی میں بھی کئی مشہور فنکار وں اور ان کی خدمات کو ایسا نظر انداز کیا گیا کہ وہ بدحالی اور گمنامی کی زندگی سے منہ موڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ فن کو کبھی موت نہیں آتی، فنکاروں کی آواز ان کے الفاظ ان کی کارکردگی لازوال ہوتی ہے لیکن بدلتے دور کے نئے تقاضوں اور زمانے کی ستم ظریفی کے باعث ایسے نایاب ہیروں کی چمک ماند پڑھ جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں فنکار آپ کو کسی ٹھیلے پر کیلے بیچتے یا دیواروں پر رنگ روغن کرتے نظر آئیں گے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے باعث ان کو الیکٹرانک میڈیا میں کسی مارننگ شو میں بلا لیا جاتا ہے اور بھیڑ چال چلتے میڈیا چینلز پرد وسے چار مرتبہ وہ چہرہ آپ کی نظروں سے گزر جاتا ہے مگر حکومت کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اورفن سے متعلقہ اداروں کی عدم توجہی اور غفلت ان کو دوبارہ ٹھیلے اور رنگ روغن کی دکان پر پہنچا دیتی ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے یہاں فن کو مذہب کے ترازو میں تول کرا س کی قدر و قیمت کو گھٹا دیا جاتا ہے اسی طریقہ واردات سے نئے فنکاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا جاتا ہے اور ان کو کسی ایسے کام میں قسمت آزمائی پر مجبور کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ بنا ئے ہی نہیں گئے، فن خداد اد صلاحیت ہے اور خدا کی عطا کی ہوئی شہ کو اس کے حق دار سے دور کرنا حق تلفی ہے۔ جہاں نئے فنکاروں کومشکلات کا سامنا ہے وہیں ماضی میں اپنے فن کا لوہا منوانے والے فنکاروں کو حکومت کی جانب سے کوئی تحفط فراہم نا ہونے کے باعث فنکار کسمپرسی کی حالت میں میں دم توڑ جاتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا ثقافتی ورثہ ختم ہو رہا ہے اور جو اس کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں وہ ماڈرنزم کے نام پر غیر ملکی ثقافت کو پروموٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ آرٹ کونسل آف پاکستان، گلوکاروں، اورموسیقی کے شو قین افراد کو مل کر فن اور فنکاروں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے چاہییں۔ حکومت کو گل بہار بانو کو بہترین علاج فراہم کرنا چاہیے تا کہ ان کی ذہنی حالت نارمل ہو سکے، وہ موسیقی کی دنیا میں واپس آ سکیں او ر فن کے قدردان لوگوں کے دلوں پر دوبارہ راج کر سکیں۔

اور وہ نئے فنکارجو خود کو منوانے کی چاہت رکھتے ہیں اور اپنے فن سے عشق کرتے ہیں وہ دنیاداری اور مجبوری کو اپنے فن پر غالب نا آنے دیں
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •