ڈھکّن بننے کا نہیں ہے


”ہوا یہ تھا کہ تم کو تو پتہ ہی ہے کہ کراچی میں اچانک سب کچھ بدل گیا تھا۔ جب پاکستان بنا تھا تو میمن مسجد کے ساتھ کپڑا مارکیٹ میں صرف میمن تھے۔ کپڑے کا کاروبار، لین دین سب کچھ میمنوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اب ادھر میمن نہیں ہیں صرف چنیوٹی آ گئے ہیں، اس لیے کہ میمن لوگوں کا کون ہے فوج میں، پولیس میں، افسروں میں کوئی نہیں۔ جب تک کاروبار تھا صرف کاروبار، نہ بھتہ گیری، نہ غنڈہ گردی، سیدھا سادھا بزنس تو میمن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن جب بھتہ اور غنڈہ گردی آئی تو کام چنیوٹ کے لوگوں نے سنبھال لیا کیونکہ یہ کام میں تو ہوشیار ہیں ہی لیکن ساتھ میں یہ فوجیوں کو بھی جانتے ہیں، ان سے رشتہ داریاں ہیں ان کی، پولیس والوں کو بھی سمجھتے ہیں ان سے بھی معاملات ہیں ان کے اور افسروں سے بھی رابطہ ہے، بھتہ خوروں سے نمٹنا آتا ہے ان کو، اگر آپ کی رشتہ داری پولیس اور فوجیوں سے ہے پھر پاکستان میں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ہے۔

ہم لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ لانڈھی میں بھتہ دے دے کر فیکٹری چلتی رہی۔ سائٹ میں بھی ہر دن دو دن میں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ ہم لوگوں کو فیصلہ کرنا پڑگیا کہ اب کراچی میں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس سال بقرعید میں قربانی کی ساری کھالیں، جو ہم لوگ نہ جانے کب سے مدرسہ دارالعلوم کو دیتے تھے کلاشنکوف کے زور پر غنڈے لے گئے۔ ایک مہینے کے بعد رشید بھائی کو اغواء کرنے کی کوشش ہوئی مگر سائٹ والے فیکٹری میں رمضان ہمارا پرانا چوکیدار تھا، گولی اس کو لگ گئی اوروہ لوگ بھاگ گئے تھے پھر مجھے یہ خط ملا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس نے جیب سے فوٹو اسٹیٹ کیا ہوا خط نکال کر دیا۔

امین صاحب!
ماشاء اللہ آپ لوگوں کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے۔ آپ لوگوں کے بڑے سے گھر کا صرف بجلی کا بل اٹھارہ ہزار روپیہ مہینہ ہے۔ اگر گھر میں آٹھ ایئرکنڈیشنڈ چلیں گے تو اتنا بل تو آئے گا۔ یہ بھی اچھا ہے کہ آپ کے گھر میں چار چوکیدار اور چھ ڈرائیور ہیں۔ ان سب کی تنخواہوں، کھانے پینے پر بھی اچھا خرچ آتا ہے۔ آپ کا بیٹا حبیب اوربیٹی عائشہ روزانہ صبح ساڑھے سات بجے اپنے پرانے ڈرائیور ساجد کے ساتھ مزدا میں بیکن ہاؤس اسکول جاتے ہیں۔ دونوں بچّے بڑے پیارے اور اچھے بچّے ہیں۔ دونوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کی حفاظت ضروری ہے۔

ہم ان کی اچھی حفاظت کرتے رہیں گے۔ اس سلسلے میں آپ لوگ بالکل فکر مند نہ ہوں۔ اس خط کے ساتھ ایک لال لفافہ ہے اس میں ہزار ہزار روپے کے پچاس نوٹ رکھ کر جمعہ کو، آپ کے آفس میں صدیق بھائی ہے جو کھارادر میں رہتا ہے اس کو دے دیں کہ اپنے گھر لے جائے، ہم اس سے لے لیں گے اورآپ کے بچوں کی حفاظت بھی کرتے رہیں گے بالکل فکر نہ کریں آپ کے پورے خاندان پر ہماری نظر رہے گی اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ کے بچوں اور آپ کے کام کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاسکتا ہے۔ ہاں ایک بات اور صدیق بھائی کے ساتھ کسی کو بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے صدیق بھائی سے ہم خود ہی وصولی کرلیں گے۔

یہ خط پڑھ کر بھی ہم نے فیصلہ نہیں کیا تھا کہ کراچی چھوڑیں گے۔ جمعہ کوصدیق بھائی کو میں نے لال لفافے میں پچاس ہزار رکھ کر دیے، خط پڑھ کر سنایا اورکہا تھا کہ اپنے راستے سے ہی گھر جائے اور جو کوئی لوگ آکر لفافہ مانگیں تو انہیں دے دینا۔ کوئی جھگڑا کوئی مسئلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

میکلوڈ روڈ کے نیچے آفس کے باہر میں نے لانڈھی میں فیکٹری کے آفس سے ذوالفقار کو بلا کربٹھایا تھا کہ وہ صدیق بھائی کے پیچھے پیچھے ان کے گھر تک جائے اور دیکھے کہ کیا ہوتا ہے۔ صدیق بھائی ہمارا پرانا آدمی تھا بہت پریشان ہوگیا مگر خط پڑھ کر راضی بھی ہوگیا تھا۔ وہ میکلوڈ روڈ سے پیدل ٹاور سے ہوتا ہوا کھارادر جاتا تھا۔

شام کو ہی اس کا فون آگیاکہ جیسے ہی وہ ٹاور کے آگے مین روڈ کراس کرکے کھارادر جانے والی گلی میں گھسا، کسی نے اس کے ماتھے پر پیچھے سے ٹی ٹی رکھ کر کہا تھا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، اس ٹی ٹی میں آواز نہیں ہے اور خاموشی سے لال لفافہ اس کے حوالے کر دے اورسیدھا چلتا چلا جائے پیچھے بھی مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے یہی کیا تھا۔ وہ لوگ لال لفافہ لے گئے تھے۔

رات کو ذوالفقار گھر آیا اس نے جو کہانی سنائی اس کے بعد تو کچھ گنجائش نہیں تھی۔ وہ صدیق بھائی کے پیچھے پیچھے تھا، ٹاور سے مڑ کر جیسے ہی کھارادر والی گلی میں صدیق بھائی گھسے تھے ایک اسکوٹر پیچھے آکر رکا، ایک آدمی اسکوٹر سے اتر کر صدیق بھائی کے پیچھے لگ گیا تھا۔ تھوڑی دور ہی جا کر اس آدمی نے ٹی ٹی نکال کرصدیق بھائی کے سر پر رکھ دی اور صدیق بھائی نے لفافہ اس کو دے دیا تھا۔

لفافہ لیتے ہی پیچھے سے ایک پجارو آئی تھی جس میں وہ آدمی بیٹھ گیا اور گاڑی آگے چلی گئی تھی۔ ذوالفقار نے پجارو کا نمبر بھی لکھ لیا تھا۔ گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ تھی۔ بھائی پھر کیا کرتے۔ دوسرے دن تینوں بھائیوں نے میٹنگ کی اور یہی فیصلہ ہوا کہ فوراً ہی ملک چھوڑدیا جائے۔ جب حکومت کی گاڑیوں میں یہ سارا کام ہوگا تو بڑے سے بڑا آدمی بھی کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ جب قانون ہی قانون کے خلاف کام کرے پھر کچھ نہیں رہتا ہے، نہ قوم نہ ملک نہ وطن نہ حکومت نہ عوام اور نہ ہی ہمارے جیسے لوگ جن کا تو کام ہی امن و سکون کے ساتھ چلتا ہے۔

”ہم لوگوں کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ اس زمانے میں امریکہ کا اٹلانٹا شہر بہت تیزی سے بن رہا تھا۔ وہاں پر اولمپک کھیلوں کے مقابلے ہونے والے تھے، ہم لوگوں نے جا کر وہاں سے ہی کام شروع کیا۔ کام بہت تیزی سے بڑھا ہے جو کچھ ہمارے باپ نے تیس چالیس سال میں بنایا اس کے دس گنے سے بھی زیادہ ہم لوگوں نے گذشتہ دس بارہ سال میں بنا لیا ہے اورسب سے بڑی بات یہ کہ ہمارے گھر کا ہربچّہ پڑھ گیا ہے، بڑی سے بڑی تعلیم بغیر کسی خوف کے۔

یہ تھی امین کی کہانی۔ پھر بڑے پیار سے اس نے کہا تھا، ”یار اس وقت بڑی ٹینشن تھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا، ہم لوگوں نے بس اس کی معافی دو مجھ کو۔ لیکن یار اِدھر سے تو سب ہی چلے گئے ہیں جو بچ گئے ہیں تم کہتے ہو دو نمبر کام کررہے ہیں دو نمبر لوگوں کے ساتھ“

” بات تو صحیح ہے، میں نے خود سرکاری نوکری چھوڑدی ہے، روز روز کی دھاندلیوں سے بچنے کے لیے۔ کب کا لندن واپس جاچکا ہوتا مگر ابو بیمار ہیں اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑسکتا ہوں۔ اس لیے پرائیویٹ ہی کام کرتا ہوں، اچھا کام کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں جو کچھ کرسکتا ہوں عزت سے کروں“ میں نے اسے بتایا تھا۔

” یار بہت اچھا ہے، ڈھکّن بننے کا نہیں ہے۔ “ وہ پھر زور سے ہنسا تھا۔
میں اسے کیا بتاتا کہ یہاں سب کچھ ڈھکّن ہے، جو حکومت میں ہیں وہ ڈھکّن ہیں جو حکومت کے باہر ہیں وہ ڈھکّن ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر، وکیل، جج، اکاؤنٹنٹ، منیجر، اسکول، کالج، وزیر، سفیر سب ڈھکّن ہیں مگر اس کو بتانے کا کیا فائدہ، وہ اب ڈھکّنوں سے دور جاچکا تھا بہت دور جہاں شاید بہت کچھ بُرا ہے، مگر ڈھکن نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2