مشکل وقت کے دوست: پاکستان اور سعودی عرب


سعودی عرب نے پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن میں بحران ختم کرنے اور زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لئے 3 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اتنی ہی رقم کے مساوی سالانہ تیل معطل ادائیگیوں پر دینے کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی یہ فراخدلانہ پیش کش وزیر اعظم کی طرف سے شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں منعقد ہونے والی عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں اچانک شرکت کے دوران سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت دنیا بھر میں صحافی جمال خشوگی کے استنبول قونصل خانہ میں قتل کے حوالہ سے شدید سفارتی مشکلات کا سامنا ہے اور اسے ایسے دوست ملکوں اور عالمی لیڈروں کی شدید ضرورت ہے جو اس وقت انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی بات کرنے کی بجائے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں تاکہ ان پر اپنے ہی ملک کے ایک ممتاز صحافی کو قتل کروانے کا جو الزام لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، اسے مسترد کرنے میں مدد مل سکے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایسا ساتھ فراہم کرنے کی حتی الامکان کوشش کررہے ہیں لیکن مڈ ٹرم انتخابات سر پر کھڑے ہیں اور امریکی میڈیا بظاہر منہ پھٹ اور مرضی کے مالک ٹرمپ کو اس حد تک مجبور کرچکا ہے کہ کل وہائٹ ہاؤس میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہیں خشوگی کیس میں سعودی کردار کو ناقابل قبول اور افسوسناک قرار دینا پڑا۔

دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں سعودی حکمت عملی اور عزائم کے خلاف سرگرم عمل ممالک کا بھرپور ساتھ دینے والا ترکی جمال خشوگی کے قتل کو لے کر سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کا کوئی موقع ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ترک صدر طیب اردوان نے کل پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے جمال خشوگی کے قاتلوں کو ترکی کے حوالے کرنے اور وہاں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ اس قتل کے اصل کرداروں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ صدر اردوان کا دعویٰ تھا کہ ترکی اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گا جب تک جمال خشوگی کو قتل کرنے والے سب کردار کیفر کردار تک نہیں پہنچتے۔ صدر اردوان کی اس تقریر کے حوالے سے دو روز تک میڈیا میں یہ دھوم مچی رہی تھی کہ ترک صدر منگل کو اپنے خطاب میں اس قتل کے بارے میں ’ننگا سچ‘ سامنے لائیں گے۔ اس لئے امید کی جارہی تھی کہ رجب اردوان کی تقریر میں خشوگی قتل کے بارے میں کوئی ایسے شواہد سامنے لائے جائیں گے جن کا ذکر تسلسل سے ترک میڈیا کے ذریعے ہوتا رہا ہے اور جن پر ابھی تک صرف ترک حکام کو ہی دسترس حاصل ہے۔ ان میں خاص طور سے ایک آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے جو متعدد ترک ذرائع کے مطابق ترکی کے پاس موجود ہے اور جس میں قونصل خانہ میں پندرہ رکنی ٹیم کو جمال خشوگی پر تشدد کرتے سنا جاسکتاہے ۔ ترک ذرائع کے مطابق خشوگی کو شدید تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا اور اس کے بعد لاش کے حصے بخرے کردئیے گئے۔ لیکن صدر اردوان نے ایسا کوئی انکشاف کرنے سے گریز کیا جس کے بعد سعودی عرب یا امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کا راستہ دشوار ہوجائے۔ ان کی تقریر میں پرانی باتوں کو دہرانے کے علاوہ صرف یہ نئی بات بتائی گئی کہ سعودی قونصل خانہ نے اس روز جان بوجھ کر اپنے سی سی ٹی وی کیمروں کو غیر مؤثر کردیا تھا تاکہ اس روز قونصل خانہ میں ہونے والے ظلم کی کوئی ریکارڈنگ موجود نہ رہے۔ اس کے علاوہ صدر کا کہنا تھا کہ سعودی اہلکاروں نے خشوگی کے قتل سے ایک روز پہلے استنبول کے قریب جنگلوں کا جائیزہ لیا تھا۔ قیاس کیاجارہا ہے کہ جمال خشوگی کی لاش کو انہی جنگلوں میں چھپایا گیا تھا جسے ابھی تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔

ترک صدر نے اس تقریر میں امریکی میڈیا اور مغربی لیڈروں کے ان شبہات کی تائید کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی کہ اس قتل میں ولی عہد محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہیں۔ اس الزام کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ استنبول آنے والی پندرہ رکنی سعودی ٹیم میں ولی عہد کے قریبی معاون شامل تھے اور اس کارروائی کی تیاری اور نگرانی کا کام ان لوگوں نے کیا تھا جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بہت قریب رہے ہیں۔ سعودی عرب نے ہفتہ کے روز اس قتل کا اعتراف کرتے ہوئے جن دو اعلیٰ شخصیات کو معزول کرنے کا اعلان کیا تھا ان میں جنرل احمد العسیری اور ولی عہد کے مشیر سعود القطانی شامل تھے۔ یہ دونوں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے علاوہ ولی عہد کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان ولی عہد اور نائب وزیر اعظم ہونے کے علاوہ وزیر دفاع بھی ہیں ، اس طرح انٹیلی جنس کا شعبہ براہ راست ان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ یوں بھی یہ حقیقت زبان زد عام ہے کہ سعودی عرب میں شاہی خاندان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کے طاقت ور ترین لیڈر ہیں۔ ترک صدر نے سعودی انٹیلی جنس پر تو جمال خشوگی کو قتل کرنے اور اس جرم کے شواہد مٹانے کا الزام لگایا ہے لیکن انہوں نے شاہی خاندان اور شہزادہ محمد بن سلمان کا نام لینے سے گریز کیا۔ اس طرح صدر اردوان نے سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کے باوجود دراصل سیاسی اور سفارتی معاہدہ کرنے کی راہ کھلی رکھی ہے۔

اس مشکل وقت میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے مڈل ایسٹ آئی نامی ویب سائٹ کو سعودی عرب روانگی سے پہلے انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کی بے بسی کا اظہار ان لفظوں میں کیا تھا کہ ’ میں جمال خشوگی کی ہلاکت پر اپنے تحفظات کے باوجود میں یہ کانفرنس نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ ہمیں سعودی قرضوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے‘۔ اب تحریک انصاف اس انٹرویو کے مندرجات کی حساسیت کی وجہ سے اس کی تردید کرنے کی کوشش ضرور کررہی ہے۔ لیکن عمران خان کو جس طرح عالمی بائیکاٹ کے بعد شاہ سلمان نے اچانک ریاض سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی اور پاکستان نے جس طرح فوری طور پر اسے قبول کرکے وزیر اعظم کی شرکت کو ممکن بنایا تھا ، اس سے بلاشبہ سعودی عرب کو ایک نہایت مشکل وقت میں بھرپور سفارتی ساتھ مہیا کیا گیا ہے۔ان حالات میں سعودی عرب کی طرف سے چند ارب ڈالر کی امداد پاکستان کے لئے اظہار تشکر کا ایک ذریعہ ہے۔ کیوں کہ عرب رہنما اپنی پسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار اپنی دولت کی قوت کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت سعودی رعایت کو وزیر اعظم عمران خان کی سفارتی کامیابی قرار دینے میں کو ئی کمی نہیں کرے گی لیکن دراصل یہ امداد لینے کے لئے پاکستان نے ایٹمی قوت اور مسلم دنیا کا اہم اور بڑا ملک ہونے کے باوجود اصولوں پر سمجھوتہ کیا ہے اور ایک عالمی اور انسانی جرم میں سعودی کردار کی مذمت کرنے کی بجائے مشکل وقت میں اسے سفارتی تعاون فراہم کیا ہے۔ اس طرح یہ کہنا نیم سچ ہے کہ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کام آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے بھی انتہائی مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دے کر دوستی کا ’حق‘ اداکیا ہے۔ عمران خان ملکی معاشی مشکلات کو اس کمزوری اور مجبوری کی بنیاد قرار دے چکے ہیں۔

سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے بہانے سعودی عرب کا دورہ دراصل سعودی عرب سے امدادی پیکج حاصل کرنا تھا ۔ سعودی عرب پاکستانی وزیر اعظم کی کانفرنس میں موجودگی سے یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ عالمی کمپنیوں اور مغربی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود یہ کانفرنس کامیاب رہی ہے اور متعدد ممالک اب بھی سعودی عرب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عمران خان کی اس کانفرنس میں شرکت کو اس لئے بھی محض نمائشی اور بہانہ ہی کہا جائے گا کیوں کہ پاکستانی وزیر اعظم ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تقریر جیسے اہم ترین ایونٹ میں شریک ہونے سے پہلے ہی اسلام آباد واپس آگئے ہیں۔ شہزادہ محمد استنبول میں ہونے والے قتل کے بعد پہلی مرتبہ کسی پبلک اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے ریاض سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرکا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کی نوجوان آبادی اور معدنی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتایا کہ سرمایہ کاروں کے لئے اس ملک میں سرمایہ لگانے اور منافع کمانے کا سنہرا موقع ہے۔ تاہم اس موقع پر بھی وہ پاکستان میں دہشت گردی کے ساتھ کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے دراصل اپنے پیشروؤں کے خلاف بیانیہ کو ہی مستحکم کررہے تھے۔ اسی طرح انہوں نے خیبر پختون خوا میں اپنی پارٹی کی سابقہ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ ایک عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں یہ باتیں سرمایہ کار کمپنیوں سے زیادہ اپنے ملک کے ووٹر کو متاثر کرنے کی کوشش تھیں۔ آج قوم کے نام خطاب میں بھی وہ زیادہ بھرپور طریقہ سے یہ مؤقف بیان کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورہ سے سعودی امداد تو ضرور ملی ہے جس سے ملکی کرنسی کو بھی سہارا ملا ہے اور اسٹاک ایکسچینج بھی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ملک میں سرمایہ کاروں کو لانے کے لئے حکومت کو الزامات لگانے اور مشکلات بیان کرنے سے زیادہ یہ بتانا ہو گا کہ وہ سرمایہ کاروں کو کیا تحفظ اور مراعات فراہم کریں گے۔

دوسرے ممالک اور کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ضرور یہ سوچیں گی کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ان کے ساتھ طے ہونے والی شرائط کو بدعنوانی کا نتیجہ قرار نہ دیا جائے۔ ماضی میں ہونے والے معاہدوں میں کرپشن تلاش کرنے کے رویہ سے ملک کو کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو البتہ نیا سرمایہ کار ادھر کا رخ کرتے ہوئے سو مرتبہ سوچے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali