انگریز کی خفیہ پولیس اور ایک انقلابی کی کایا پلٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی نصف صدی میں دنیا میں جن لوگوں کو سیاسی اعتبار سے بہت بڑی بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی، ان میں مرحوم مسٹرایم۔ این رائے ایک اہم شخصیت تھے۔ آپ امپر یلزم کے بہت سخت دشمن اور کٹر کلاس کے کمیونسٹ تھے۔ چنانچہ موجودہ نوجوان حلقہ ابھی پیدا بھی نہ ہوا تھا، کہ آپ ہندوستان سے روس چلے گئے، وہاں مشہور انقلاب پسند مسٹر لینن کے ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔

مسٹر رائے نے لینن کے ساتھیوں میں شامل ہونے کے بعد درجنوں بار دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، مگر غلط نام سے اور جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کے ساتھ، آپ ہندوستان میں جب 1930 ء میں گرفتار ہوئے، تو اس وقت بھی آپ کے پاس ایک غلط نام کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اور اس موقعہ پر جس ڈرامائی انداز میں آپ گرفتاری ہوئی، وہ بہت ہی دلچسپ اور برٹش گورنمنٹ کے جاسوسی کے وسیع ذریعہ کا ثبوت ہے۔ مسٹر رائے تاج محل ہوٹل بمبئی میں مقیم تھے۔ آپ اگلے روز جہاز کے ذریعہ انگلستان جانے والے تھے۔ آپ کی سیٹ اس جہاز میں ریزرو ہو چکی تھی، کہ علی الصبح چار بجے پولیس نے آپ کو تاج محل ہوٹل کے کمرہ سے گرفتار کر لیا۔

مسٹر رائے کی گرفتاری کی اطلاح تمام ہندوستان میں بجلی کی طرح پھیل گئی، کیونکہ آپ پہلی قطار کے انقلاب پسند ہونے اور بین الاقوامی شہرت رکھنے کے پاعث ہندوستان کے ہر شخص کے دل میں جگہ رکھتے تھے۔ اس گرفتاری کے دو تین روز بعد راقم الحروف کو خان بہادر مسٹر تصدق حسین ڈپٹی ڈئریکٹر جنرل اینٹیلی بیورو گورنمنٹ ہند سے ایک ٹی پارٹی میں ملنے کا اتفاق ہوا، تو راقم الحروف نے خان بہادر سے طنزاً کہا، خان بہادر آپ نے مسٹر رائے کو خوب سوئے تاج محل ہوٹل میں گرفتار کیا۔ میرے اس طنز کا جواب خان بہادر تصدق حسین نے جو دیا، وہ مجھے اب تک یاد ہے۔

آپ نے کہا:۔
” سردار صاحب! آپ لوگوں کو کیا علم، برٹش گورنمنٹ کے ذرائع کس قدر وسیع ہیں۔ مسٹر ایم۔ این رائے جب غلط نام کے پاسپورٹ کے ساتھ یورپ کے ایک دوسرے ملک سے انگلستان پہنچے، تو ہمیں علم تھا، کہ وہ لندن میں ہیں۔ ان کی انگلستان سے روانگی کا ہمیں علم تھا۔ ان کے ہندوستان پہنچنے پر ہم نے اپنے بھروسا کے افسران ان کے پیچھے لگا دیے۔ ہم ان کی نگرانی کرتے رہے، اور دیکھتے رہے، کہ یہ ہندوستان میں کس کس شہر جاتے ہیں، اور کس کس سے ملنے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو ہائے، کہ ان سے کس کس کا تعلق ہے، اور کون ہندوستان میں کمیونزم کا ستون ہے؟ اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں پھرنے کے بعد جب واپس انگلستان جانے والے تھے، تو ہم نے ان کو گرفتار کر لیا۔ اس سے پہلے ان کو گرفتار نہ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی، کہ ہم معلوم کرنا چاہتے تھے، کہ ہندوستان میں کس کس کا ان کے اور روس کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تعلق ہے“۔

خان بہادر تصدق حسین بہت بلند لوگوں میں تھے۔ بے حد دیانتدار، بہت لائق اور غیر معمولی شریف وضعدار اور بہت ہی دوست نواز۔ ان کی ہر دلعزیزی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ ان کے ذاتی دوستوں میں مولانا محمد علی اور ڈاکڑ انصاری جیسے درجنوں آل انڈیا لیڈر بھی تھے۔ میں نے جب آپ سے مسٹر رائے کے اس سے پہلے گرفتار نہ کیے جانے کی وجہ سنی، حیران رہ گیا۔

چنانچہ اس وقت ہی آپ نے باتوں باتوں میں مسٹر رائے کے متعلق ایک اور دلچسپ واقعہ بتایا، کہ مسٹر رائے جاپان میں کمیو نزم کا حال پھیلانے کے لئے گئے۔ وہاں کئی ماہ رہے، اور آپ کے پاس دوسرے نام کا پاسپورٹ تھا۔ آپ ٹوکیو سے سنگاپور گئے، تو اسی غلط اور جعلی پاسپورٹ کے ساتھ۔ برٹش گورنمنٹ کے ذریعہ ان کی نگر انی کی جا رہی تھی۔ سنگارپور پہنچے، تو وہاں آپ کی نگرانی کے لئے ایک برٹش پولیس افسر موجود تھا۔ سنگاپور پہنچنے پر یہ سمجھتے تھے، کہ برٹش گورنمنٹ آف انڈیا کو ان کے متعلق کچھ علم نہیں، اور یہ برطانوی حکام کو الو بنا کر پوشیدہ طور پر غلط نام کے پاسپورٹ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ مگر ان کی آنکھیں کھل گئیں، جب سنگاپور میں ایک برٹش پولیس آفیسر نے ان سے مسکراتے ہوئے کہا ”مسٹر رائے گڈ مارننگ۔ “ اس گڈ مارننگ سے ان کو معلوم ہو گیا، کہ برٹش پولیس اتنی بے و قوف نہیں، جتنا کہ مسٹر رائے سمجھتے ہیں۔

مسٹر رائے کی گرفتاری کے بعد پولیس کے لئے ایک بہت مشکل پیدا ہوئی، کہ جب پولیس آپ پر مقدمہ چلانے والی تھی، تو پولیس کو کوئی ایسا گواہ نہ، ملتا تھا، جو عدالت میں یہ کہے، کہ یہی مسٹرایم۔ این رائے ہیں۔ یعنی جو آپ کی شناخت کی تصدیق کرے۔ کیونکہ آپ کو ہندوستان سے روس گئے ایک طویل زمانہ ہو چکا تھا۔ آپ کو جاننے والے یا تو انڈر گراؤنڈ تھے، اور یا مر چکے تھے۔

چنانچہ جب آپ پر مقدمہ چلا، تو آپ آخری وقت تک یہی کہتے رہے، کہ آپ ایم۔ این رائے نہیں، اور آپ کو غلط طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اور پبلک کے ایک حصہ کا بھی یہی خیال تھا، کہ گرفتاری کسی دوسرے شخص کی ہوئی ہے، اور مسٹر رائے پولیس کے ہاتھوں میں نہیں آ سکے۔ چنانچہ آپ کے اس مقدمہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ( جو مسٹر رائے کا دیرینہ دوست تھا) عدالت میں شہادت دیتے ہوئے یہ تصدیق کی، کہ یہی مستر ایم۔ این رائے ہیں۔ اس مقدمہ میں مسٹر رائے کو چھ برس قید سخت کی سزا ہوئی۔

مسٹر ایم۔ این رائے جیل میں قید تھے، کہ ڈرامائی انداز میں آپ کو رہا کر دیا گیا۔ جس کی وجہ یہ تھی، کہ سیاسی خیالات کے اعتبار سے آپ کی کایا پلٹ ہوئی۔ یعنی آپ نے کمیونزم کا لباس اتار دیا، اور برٹش گورنمنٹ کو یقین دلایا، کہ آپ اب کمیونزم کے بہت بڑے مخالف ہیں، اور آپ آئند ہ اپنی زندگی کمیونزم کی مخالفت کرتے بسر کریں گے۔ رہائی کے بعد آپ نے ڈیرہ دون میں مستقل طور پر سکونت اختیار کی، اور دہلی سے آپ نے کمیو نزم کی مخالفت کے لئے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا۔ کشمیر کے پنڈت پریم ناتھ بزاز اور مسٹر رام سنگھ وغیرہ کئی اصحاب آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس اخبار اور اینٹی کمیونزم پر اپیگنڈہ پر پانی کی طرح روپیہ صرف ہونا شروع ہوا۔

لوگ حیران تھے، کہ یہ روپیہ کہاں سے آیا؟ چنانچہ کانگرس کے لیڈروں کو جب اصل حالات کا علم ہوا، تو انہون نے مرکزی اسمبلی میں سولات دریافت کیے۔ جس کے جواب میں انگریز ہوم منسٹر نے اقرار کیا، کہ کمیونزم کی مخالفت اور پراپیگنڈہ کے لئے گورنمنٹ ہند کے خزانہ سے مسٹر رائے کو ایک لاکھ روپیہ دیا گیا ہے۔ مسٹر رائے کا ہندوستان کی برٹش گورنمنٹ سے ایک لاکھ روپیہ وصول کرنا ہندوستان کے سیاسی حلقو ں کی آنکھیں کھولنے کا باعث ثابت ہوا، اور آپ کے لئے لوگوں میں نفرت و حقارت کے جذبات پیدا ہو گئے۔ کیونکہ جو شخص اپنے معیار پر قائم نہ رہے، اور ان کو اس وقت ثابت ہو، وہ اپنے وقار کے اپنے ہاتھوں مٹی پلید کرتا ہے، چاہے یہ کتنی بھی بڑی شخصیت کا مالک کیوں نہ ہو۔ حضرت مسیح نے کہا ہے ”کامیابی ان کے ہاتھوں میں ہو گی، جو آخری وقت تک میدان میں قائم رہیں گے“۔

مسٹر ایم۔ این رائے نے کمیونزم کے دشمن اور برٹش کے پراپیگنڈاسٹ ہونے کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ڈیرہ دون میں مستقل رہائش اختیار کی۔ چند برس ہوئے مسٹر رائے کا ڈیرہ دون میں انتقال ہوا، اور اب چند ماہ ہوئے، آپ کی بیوی بھی قتل کی گئیں۔

مسٹر رائے کے کوئی اولاد نہ تھی، اور آپ کی آخری زندگی پبلک ورکرز کے لئے عبرت کا باعث ہونی چاہیے۔ کیونکہ ڈیرہ دون کی شاندار کوٹھی میں رہنے کے مقابلہ پر اگر آپ فاقہ کرتے ہوئے مرتے، تو زیادہ اچھا تھا، کہ آئندہ تاریخ میں آپ کو اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کیا جاتا۔
کتاب سَیف و قلم سے اقتباس


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon