جمال خشوگی قتل – صدر ٹرمپ کے لئیے ڈالرز نچوڑنے کا ایک اور موقع


بے شک عرب حکمرانوں کو یہ شدید غلط فہمی ہے کہ امریکہ ان کا دوست ملک ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ عرب ملک امریکہ کے لئے صرف دودھ دینے والی گائیں ہی ہیں۔ حتی کہ اپنی انتخابی مہم میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ، ”سعودی عرب ہمارے لئے ایک دودھ دینے والی گائے ہے، ہم جب بھی چاہیں گے، اس سے سونا اور ڈالر دوہیں گے اور جب اس کا دودھ ختم ہو جائے گا، ہم اسے ذبح کر دیں گے“۔

صدر منتخب ہونے کے بعد بھی ٹرمپ کا رویہ سعودیہ سمیت تمام مسلمان ممالک کے لئے خاصہ معاندانہ ہی رہا ہے۔ صدر ٹرمپ عرب حکمرانوں کی جس قدر کھلے عام تحقیر کرتے ہیں، اس رویہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے لوگوں میں بیٹھ کر ان پر کیسے کیسے جملے کستے ہوں گے۔ ایک امریکی رکن کانگریس کے حوالے سے یہ خبر بھی شائع ہو چکی ہے کہ ٹرمپ نے بن سلمان سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں اپنے کارندوں سے کہا تھا کہ ان تمام کرسیوں اور چیزوں کو جنہیں بن سلمان نے چھوا ہے یا جن پر بیٹھا ہے، انھیں جھاڑ لینا، تاکہ اگر ان میں کوئی جوئیں رہ گئی ہوں تو نکل جائیں اور اچھی طرح صفائی کر لینا“۔

بن سلمان کی کوششوں سے صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورہ کے لئے سعودی عرب کا انتخاب اس سے اپنی محبت جتانے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ اس دورہ سے پہلے ہی بن سلمان نے یہ کنفرم کر دیا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے بن سلمان کی سرپرستی کرے تو وہ نہ صرف اربوں ڈالرز کا اسلحہ امریکہ سے خریدے گا بلکہ ایران کو نیچا دکھانے کے لئے امریکہ کی بےدام غلامی بھی کرے گا۔ اس 110 ارب ڈالرز مالیت کی اسلحہ ڈیل کے فائنل ہونے اور صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی این جی او کے لئے 110 ملین ڈالرز کے عطیات کے بعد امریکی صدر کے رویہ میں تبدیلی آئی اور اس کے ہتک آمیز بیانات کا رخ سعودیہ اور اوپیک کی بجائے ایران کی طرف مڑ گیا۔

اتنی بڑی مالیت کے اسلحہ سپلائی معاہدے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹرمپ کی زبان سعودیہ کے بارے بند ہی رہتی مگر ایک دفعہ پھر رواں سال جون میں صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ انھوں نے شاہ سلمان سے کہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کریں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ شاہ سلمان نے ان کی یہ بات قبول کرلی ہے، جبکہ سعودی عرب پہلے ہی ایک کروڑ بیرل روزانہ پیدا کر رہا تھا۔ اب صدر ٹرمپ سعودی عرب سے اس پیداوار میں مزید اضافے پر زور دے رہے ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ اس کی روزانہ کی پیداوار ایک کروڑ بیرل سے زیادہ ہو۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک سے دفاع کے بدلے زیادہ سے زیادہ دولت اینٹھنے کی ٹرمپیانہ خواہش اتنی روز افزوں ہے کہ انھوں نے کئی مرتبہ فرانس کے صدر امانوئیل میکرون سے کہا ہے کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں 7 کھرب ڈالر خرچکیے ہیں اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ اس خطے میں بہت مالدار ممالک ہیں، جنھیں آپ خوب جانتے ہیں، وہی یہ خرچ ادا کریں گے، ورنہ ہم انھیں مجبور کریں گے کہ وہ خود اپنی فوج شام روانہ کریں اور ہم اپنی فوج کو گھروں میں واپس بلا لیں گے۔

سعودیہ اور اوپیک کی بے عزتی کا معاملہ یہیں پر تمام نہیں ہوا بلکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے اوپیک کے رکن ممالک کے بارے میں کہا کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق پوری دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔ اس خطاب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ان میں سے بیشتر ممالک کا بلاوجہ دفاع کر رہے ہیں اور وہ ہم سے اس کا فائدہ بھاری قیمتوں میں تیل دے کر حاصل کر رہے ہیں، یہ اچھا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتیں نہ بڑھائیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں کمی کریں۔

سارے عرب اوپیک ممالک خصوصا“ سعودی عرب حکومت نے تو کبھی بھی امریکی صدر ٹرمپ کو پلٹ کر ان ساری بےعزتی والے کمنٹس، تقاریر کا جواب تک نہیں دیا کہ شاید کہیں صدر ٹرمپ مزید ناراض نہ ہوں مگر ان کی بےعزتی اور توہین کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ 6 نومبر کو امریکی سینٹ کے 33 اراکین کا انتخاب ہونے جا رہا ہے جو عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔ اس وقت 100 رکنی سینٹ میں ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے 54 اراکین ہیں جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹ پارٹی کے 44 اراکین ہیں اور 2 اراکین آزاد بھی منتخب شدہ ہیں۔ ان 100 میں سے 33 اراکین اپنی 6 سالہ مدت رکنیت پوری کرکے اگلے سال 3 جنوری کو نئے آنے والے 33 اراکین کے لئے جگہ خالی کر دیں گے۔ جبکہ ایوان نمائندگان کے کل 435 ممبران کے لئے بھی انتخابات اسی تاریخ کو منعقد ہو رہے ہیں۔ صدارتی بلوں/ آرڈینینسز کی امریکی پارلیمنٹ میں آسانی سے منظوری کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ریپبلیکن پارٹی ان انتخابات میں اچھی کامیابی حاصل کرے اور زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرے۔ لہذا اپنے ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس مہینے کے شروع میں امریکی صدر ٹرمپ نے جی بھر کر سعودیہ کی خوب بے عزتی کی۔ امریکی ریاست مسی سیپی کے شہر ساؤتھ ہیون میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بڑے توہین آمیز انداز میں کہا کہ، ”ہم سعودی عرب کی حفاظت کرتے ہیں، کیا آپ کہیں گے کہ وہ امیر ہیں اور مجھے بادشاہ پسند ہے، بادشاہ سلمان؟ لیکن میں نے اسے کہا تھا کہ بادشاہ! ہم تمھاری حفاظت کر رہے ہیں، ہمارے بغیر تم دو ہفتے بھی نہیں رہو گے۔ لہٰذا فوجی تعاون کی قیمت میں اضافہ کرو۔ میں نے اس سے کہا کہ تمھارے پاس کئی کھرب ڈالر موجود ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اگر سعودیہ پر حملہ ہوگیا تو اس کا کیا بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کہا اے بادشاہ۔ شاید تم اپنے ہوائی جہازوں کی بھی حفاظت نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو پرسکون رہو گے، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں جو کچھ ملنا چاہیے وہ نہیں مل رہا“۔

مسلسل بےعزتیوں کے اس شدید شاک سے ابھی سعودی سنبھلے ہی نہیں تھے کہ ترکی میں سعودی جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ سامنے آ گیا۔ شروع میں تو سعودی حکومت کے اکابرین صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے متفرق وضاحت دیتے رہے اور تقریباً دو ہفتے تک اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ جمال خاشفجی زندہ ہیں اور اسی روز قونصل خانے سے واپس چلے گئے تھے مگر اب سعودی حکام نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ 59 سالہ صحافی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قتل سعودی شاہی خاندان کی اجازت کے بغیر ہونے والی ایک باغیانہ کارروائی کے دوران ہوا اور اس میں ملوث سعودی خفیہ ایجینسی، وزارت خارجہ اور ولی عہد کے سٹاف میں شامل درجنوں لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی حکام کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کو ”تاریخ میں حقائق چھپانے کی سب سے بری کوشش“ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جس کسی نے بھی اس قتل کی منصوبہ بندی کی ”اس کو سخت مشکل میں ہونا چاہیے“۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی کہا ہے کہ امریکہ اس قتل کے ”ذمہ داران کو سزا دے گا“ اور اس معاملے میں ملوث 21 ملزمان کے ویزے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی بھی عائد کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی عرب کا ہاتھ صحافی جمال خاشقجی کے موت میں ہے تو وہ اسے ”سخت سزا“ دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو میں بہت پریشان اور ناراض ہوں گا۔ اس سارے پریشر کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا مقصد پورا ہوا اور 15 اکتوبر کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے صدر ٹرمپ کو فون کال کی۔ جس میں اسلحہ ڈیل کو بڑھانے اور کچھ مزید تجارتی معاپدوں کے بارے بات چیت کی گئی۔ اس فون کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا مؤقف پھر تبدیل ہو چکا ہے اور ان کا تازہ ترین مؤقف یہ ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ولی عہد بن سلمان کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اس قتل کے پیچھے کچھ ’خود سر قاتل‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ”سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔ میں نے سعودی عرب کے شاہ سلمان سے بات کی ہے لیکن انھوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ ’ہمارے سعودی شہری‘ کے ساتھ کیا ہوا“۔

سعودی عرب کو اپنے سالانہ بجٹ میں پہلے ہی 30 ارب ڈالر کا خسارہ درپیش ہے اوپر سے امریکی صدر کی خوشنودی کے لئے سعودی شاہی خاندان کو سینکڑوں ارب ڈالرز کے معاہدے بھی کرنا پڑ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کی بلیک میلنگ سے پریشان ہو کر ان میں اضافہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی وجہ سے سعودیہ میں سرکاری اخراجات میں بہت بڑی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی بجٹ خسارہ کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ بجٹ خسارے کی اتنی بڑی رقم کے فرق کی وجہ سے سعودی عرب کے غریب عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کمی کا کوئی نقصان آل سعود کے شہزادوں کو نہیں ہوگا بلکہ یہ سارا بوجھ عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ خصوصا ”سی آئی اے حمایت یافتہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں، اس لئے ان کی خواہش یہ ہے کہ بجٹ خسارہ پورے کروانے کے چکر میں سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کو پرائیویٹائز کر دیا جائے، تاکہ یہ پوری طرح امریکہ کے ہاتھ آجائے۔ اس طرح ٹرمپ نہ صرف سعودیہ سے 2 ہزار ارب ڈالر نکال سکیں گے بلکہ وہ سعودی عرب کو یہاں تک پہنچا دیں گے کہ وہ عالمی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور امریکی بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہو جائے، تاکہ اسے عرب ممالک میں جو بالادستی حاصل ہے، اس کا خاتمہ ہو جائے۔

صدر ٹرمپ کے یہ سب اقدامات صرف تیل کی سیاست کے گرد نہیں گھوم رہے بلکہ ابھی تو صدر ٹرمپ نے اس قانون کا ذکر نہیں کیا، جس کے تحت وہ 9/11 کے واقعے میں مارے جانے والے 2,500 افراد اور 20 ہزار زخمیوں اور عمارات کے نقصان کا ہرجانہ سعودی عرب سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ اس ہرجانے کا تخمینہ کئی سو ارب ڈالر بنتا ہے۔ یاد رہے کہ اس ارادے کا اظہار بھی وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں کرچکے ہیں۔ مسئلہ فقط ترجیحات کا ہے، جو مکھن اس ہرجانے سے پہلے سیدھی یا ٹیڑھی انگلیوں سے نکالا جاسکتا ہے، شاید صدر ٹرمپ پہلے وہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اگر جمال خاشقجی کے معاملہ سے یہ مکھن نکل آیا تو وہ یہاں سے نکالیں گے ورنہ آنے والے وقت میں کچھ اور پلاننگ بھی کی جا سکتی ہے۔ اپنی کوتاہ بینی کے سبب سعودی عرب کی امریکہ کے لئے حیثیت ایک دودھ دینے والی گائے کی ہی ہے۔ جس سے جب بھی وہ چاہیں گے، سونا اور ڈالر دوہیں گے اور جب اس کا دودھ ختم ہو جائے گا، تو اسے آئی ایم ایف کے آگے ذبح کر دیں گے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سفاک قصاب کس بے دردی سے چھری چلائے گا۔

Facebook Comments HS