کیا خوب، قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔۔۔۔
سینئر اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری کے لئے ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کر دئیے ہیں۔
پی ٹی وی کرپشن کیس میں آج اسپیشل جج کامران بشارت مفتی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت میں موجود ڈاکٹر شاہد مسعود فیصلہ سنتے ہی وہاں سے فرار ہو گئے۔ سپیشل جج سنٹرل کامران بشارت مفتی نے سرکاری ٹی وی کرپشن کیس میں اینکر پرسن شاہد مسعود کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت منسوخی کی استدعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ملزمان سے تفتیش ہو چکی ہے جبکہ مرکزی ملزم ابھی تک ضمانت پر ہے، ضمانت منسوخ کر کے تحویل میں لینے کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود پر بطور میجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی ویژن پر کرپشن کے الزامات ہیں اور ان کے شریک ملزم نے ایف آئی اے کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔ شاہد مسعود کو پیپلزپارٹی کے دور میں سابق صدر آصف زرداری نے چیئرمین پی ٹی وی لگایا تھا، ان پر 3 کروڑ 30 روپے کی خردبرد کا الزام ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل کیس میں بھی مجرم عمران کے بیرون ملک 37 اکاؤنٹس کا دعویٰ کیا تھا جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ازخودنوٹس لیا تھا تاہم اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود اپنا دعویٰ درست ثابت نہیں کرسکے تھے جس پر انہوں نے عدالت عظمیٰ سے معافی مانگی اور جب کہ عدالت نے ان کے پروگرام پر تین ماہ پابندی عائد کی تھی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود سیاسی تجزیہ کاری کے علاوہ روحانی معاملات میں بھی گہرا درک رکھتے ہیں۔ قیامت کی پیش گوئیوں کے بارے میں ان کی کتابیں اور آڈیو ویژول شائقین میں خاص طور پر مقبول ہیں۔


