آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر اور جان ایلڈر رابینسن


( جان ایلڈر کی کتاب ’’ لک می ان دی آئی‘‘ نے اسے معذوری کو سمجھنے میں مدد دی ۔)

’’آپ وہیل چئیر پر ہوں تو لوگ آپ کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں گے ۔ با آسانی ( آپ کی معذوری کو) قبول کریں گے ، لیکن آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا لوگوں کے لیئے ہینڈی کیپ پارکنگ اسپاٹ( معذوروں کی پارکنگ کی جگہ ) نہیں کیونکہ یہ ایک نہ نظر آنے والی معذوری ہے ‘‘
یہ جملے جان ایلڈر رابینسن نے ایک لیکچر میں کہے ۔ جان اپنی2007  میں چھپنے والی کتاب ’’ لک می ان دی آئی‘‘ کی مقبولیت کے بعد پوری دنیا میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے متعلق آگہی پیدا کر رہا ہے ۔اس کی یہ کتاب جو اس کے بچپن سے آج تک کی یاداشتوں پر مبنی ہے ، شہرہ آفاق ثابت ہوئی ہے۔جس کی مقبولیت کے بعد اس نے دوسری کتاب ’’ بی ڈفرنٹ ‘‘(۲۰۱۱ ) رقم کی تاکہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کی مزید معاونت ہو سکے ۔
) مندرجہ ذیل مضمون اس کی زندگی کے تجربات کے حوالے سے واقعات پر مبنی ہے ۔ اور اسکا ذریعہ انٹرنیٹ پر اس کی تقاریر اور ویب سائیٹ ہے )۔
۔۔۔۔

جان ایلڈر رابینسن ایتھنز جارجیا میں 13 اگست 1957 کوپیدا ہوا۔اس وقت اسکے والدین جارجیا یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔والدہ مارگریٹ رابنسن ایک شاعرہ اور انگریزی ادب کی طالبہ تھیں ۔ اور والد جان جی رابنسن فلسفہ کے طالب علم تھے جو بعد میں یونیورسٹی آف میسی چیوسسٹ ایمہرسٹ (Amherst) کے فلسفہ کے شعبہ کے ہیڈ مقرر ہوئے جبکہ والدہ انگریزی کی استاد ۔ جان کی پیدائش کے بعد یہ گھرانہ مختلف ریاستوں میں مقیم رہا ۔ مثلا فلاڈیلفیا ، سیسٹل اور پٹس برگ کہ جہاں اسکا چھوٹا بھائی اوگسٹین 1966 میں پیدا ہوا جان کا بیشتر بچپن کا زمانہ میسی چوسٹ میں گذرا۔
وہ بچپن میں تنہا، اداس، جلد جھنجھلانے والا’’مس فٹ ‘‘ بچہ تھا۔ ’’ مجھے پتہ تھا کہ دوسرے بچے مجھے پسند نہیں کرتے۔ میرے اساتذہ کو بھی میری خامیاں نظر آتی ہیں۔۔۔ مگر مجھے نہیں پتہ کیوں ؟ جان کے والدین کو اندازہ تھا کہ وہ مختلف ہے مگر دراصل کیا مسئلہ ہے اسکی تشخیص ممکن نہ تھی ۔ وہ زمانہ ۱۹۶۰ کی دھائی کا ۔ اس وقت لوگ شاذ و نادر ہی آٹزم سے واقف تھے۔ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کا تو نام بھی نہ سنا گیا تھا ۔
جان میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کی خاص علامتیں مثلا دوسروں کے تاثرات کو نہ سمجھنا ، دوستی میں مشکل ، دہرانے والا رویہ ، تیز شور آوازوں اور تیز روشنی سے حد سے زیادہ حسیت کے علاوہ لوگوں کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنے کی اہلیت نہ تھی ۔ اس کی وجہ سے جب لوگ اسے کہتے ’’ لک می ان مائی آئی‘‘ تو وہ اپنی نظریں بچانے یا جھکانے لگتا ۔ ( جبھی اس نے اپنی کتاب کے عنوان میں یہ فقرہ رکھا ہے)لوگ اسے سوشیو ہیتھ، ریٹارڈ ، مینٹل جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے نوازنے لگے۔ جان اپنی معذوری کو جاننے کے باوجود اس رویے سے اداسی ، غصہ اور جھنجھلاہٹ محسوس کرتا ۔ اس کی لڑائیاں ہوتیں اور وہ بے دردی سے بچوں کو مارتا ۔ ماں باپ کا اسکول بدلنا مددگار نہ ہوتا۔ اسکول بدلنے سے شخصیت اور معذوری نہیں بدلتی۔جان کو اٹھارتی سے اور انتظامیہ کو جان سے چڑ تھی ۔ایک دن اسکول میں جان نے اپنی موٹر سائیکل کو غلط جگہ پارک کیا ۔تو اس کی اسکول سے چھٹی ہو گئی ۔خود جان بھی اسکول کو خیر آباد کہنا چاہتا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں دسویں جماعت کا طالب علم اب اپنے بل بوتے پہ جینا چاہتا تھا ۔ وہ ’’ فٹ ان ‘‘ ہونا چاہتا تھا مگر کیا شعبہ اپنایا جائے ؟
انسان کبھی بھی جان کے دوست نہیں بن سکے ۔مگر وہ مشینوں کا دوست بن گیا۔ جو اسکی ہمیشہ سے دلچسپی کا ذریعہ تھیں ۔ پیچیدہ مشینوں سے الجھنے کا شوق اسے تیرہ چودہ سال سے تھا۔ الیکٹرانکس اور موسیقی سے دلچسپی کا یہ عالم تھاکہ وہ چھوٹی سی عمر سے یونیورسٹی کے انجینئیرنگ کے شعبہ میں پوری پوری رات لیب میں کام کرتا تھا ۔ اپنے آپ کو سکھاتا، مشینیں اسے خوش رکھتیں ۔ وہ اس کو برے نام سے نہیں پکارتیں ، جھوٹ نہیں بولتیں ۔اس سے حقارت آمیز رویہ نہیں رکھتی تھیں ۔ اب سولہ سالہ ’’سکول ڈراپ آؤٹ ‘‘کا وقت آ گیا تھا۔ کہ وہ اپنے قدرتی ہنر کے جوہر دکھا کر اپنے آپ کو منوا سکے ۔جان کو پتہ تھا’’ میرا دماغ علم کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘باوجود اس حقیقت کے کہ انسانی رویہ ، تاثرات ، جملے اس کے لیئے معمہ تھے۔
ان نے میوزیکل سسٹم کو سمجھنے کی صلاحیت کی بنیاد پر ایک مقامی بینڈ گروپ جائن کیا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جہاں محض اس کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے لوگ اسے قبول کر رہے تھے ۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں جان ۸۰ ڈالر ہفتہ کما رہا تھا۔ وہ بڑے گھر میں رہ رہا تھا۔ ایک بائیک تھی اوریہاں کوئی اسے گیک (Geek) یا مینٹل جیسے ناموں سے نہیں پکارتا تھا ۔بینڈ میں موسیقی کے متوالے ناچ گا کر پروگرام کرتے۔ جان کی آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر طبیعت آواز اور روشنیوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔جسمانی طور پر اس میں تساہل پسندی تھی ۔مگر اسکا کام گانے کی بجائے گٹار کی آواز کو بہترکرنا تھا۔ بتدریج جان نے ترقی کرتے دنیا کی سب سے مشہور بینڈ گروپس مثلا پنک فلاوڈ (Pink Floyd) اور پھر (Kiss) کے لیئے کام کرنا شروع کر دیا ۔ اس نے راکٹ چھوڑنے والے اور دھواں نکلتے گٹا ر بنا کر موسیقی سننے والوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اتنی ترقی نے اسے سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ تفریح کی اس دنیا میں رہنے کا مطلب نیویارک اور ہالی وڈ جیسی جگہوں پر رہنا ہے۔ لوگوں سے گھلنا ملنا ہے ۔ اور یہی خوف تھا کہ اس نے پیشہ بدل لیا۔ اب وہ کھلونوں کی مشہور کمپنی کے لیئے کام کرنے لگا جہاں اس کو بطور ماہر الیکٹریکل انجینئیر کی نوکری دی گئی ۔اس کے کام کو دیکھ کر کبھی کسی کو یہ احساس نہ ہوا کہ وہ اسکول ڈراپ آؤٹ ہے۔یہ مشہور کمپنی ملٹن برڈ کی تھی ۔جہاں اس نے وڈیو گیمز اور بولنے والے کھلونے بنائے ۔ جنہوں نے کمپنی کو لاکھوں ڈالرزکا بزنس دیا ۔اور اس کی ترقی کر دی گئی ۔ اب اس کا کام بجائے انجینئیر کے انتظامیہ میں تھا مگر جلد ہی جان کو اندازہ ہو گیا کہ وہ یہاں انتہائی ناکام ہے ۔ اور ایک بار پھر اس کی معذوری نے مجبور کیا کہ وہ پیشہ بدلے ۔ اس دفعہ اس نے اپنے گاڑیوں کے عشق کو آزمانا چاہااور یوں جے ای روبینسن نامی ایک کمپنی کو شروع کیا ۔ جس کی ابتدا گھر کے پچھواڑے مختصر سے گیراج میں کی اور دنیا کی مشہور اور مہنگی گاڑیوں مثلا مرسڈیز ، رولس رائزوغیرہ میں مہارت کی بنا پہ ان کی مرمت کا کام شروع کر دیا آج اس کی کمپنی جو اسپرنگ فیلڈ میسی چوسسٹ میں ہے سب سے بڑی خود مختار کمپنی ہے ۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ اتنی کامیاب زندگی کے ساتھ ساتھ وہ ازدواجی زندگی میں ناکام ہو رہا تھا۔ دو شادیاں ناکام ہوئیں۔ اس کا ایک بچہ کبی (Cubby) پیدا ہوا۔ اس تمام عرصہ میں اس کو اپنی عجیب طبیعت کا معمہ حل کرنے کا موقع نہ ملا ۔ایک دن ایک گاہک نے جو تھرپسٹ تھا اس کے ہاتھ میں ایک کتاب دی اور کہا ’’ اس کو پڑھو ، یہ ہو بہو تم ہو ‘‘ جان نے ایک نظر اس پر ڈالی ، یہ کتاب آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے متعلق تھی ۔جان نے اس کتاب کو صفحہ بہ صفحہ پڑھا ۔ وہ حیران تھا کہ تھرپسٹ کی بات بالکل درست تھی۔ساری علامات حرف بہ حرف اس کی شخصیت پہ پوری اتر رہی تھیں ۔ یہ سال تھا ۱۹۹۷ کا ۔ جان کی عمر ۴۰ سال تھی ۔ پہلی بار اس پر اپنی شخصیت اور ذہنی معذوری کا معمہ حل ہو رہا تھا ۔ یہ معلومات حاصل کر کے کہ’’ میرا مرض کیا ہے ؟اور یہ کہ مجھ جیسے بہت سارے لوگ ہیں ۔ سب سے زبردست انکشاف ہے۔‘‘لیکن جان نے اپنی شناخت کے سفر کو ختم نہیں کیا ۔اسکے منطقی ذہن نے انسانی دفاع میں موجود کڑوروں خلیوں کے درمیان الیکٹریکل سرکٹ کو سمجھنے کی کوشش شروع کی ۔ آج کل وہ دنیا کی مشہور ترین ہارورڈ میڈیکل اسکول میں منسلک ہو کریہ گتھی حل کرنے میں تحقیقاتی ٹیم کا مددگار بن گیا ہے۔ کہ آخر آٹسٹک دماغ کے کس نیورو سرکٹ میں کمی یا زیادتی ہو رہی ہے ؟
وہ الیکٹریکل عصبی رابطے جن کا تعلق دوسروں کے احساسات ، جذبات اور جسمانی زبان (Body language) سمجھنے سے ہے ۔ اس سلسلے میں اس کے دماغ پہ تیز رفتار آر ٹی ایم یعنی (Repititive Transcraneal Magnetic Stimulation)کو دماغ کے محدود حصے سے گزارا جاتا ہے ۔بیس میں سے تین تجربات نے بقول جان کے حیران کن تبدیلی کا مشاہدہ کیا ۔’’ مجھے لگا کہ جیسے سفید اور کالے رنگوں کے علاوہ میں ( انسانی شخصیت) کی رنگینیوں کو دیکھ رہا ہوں ۔اب میں لوگوں کو بہتر انداز میں سمجھ رہا ہوں ۔‘‘
اپنی کتاب کی اشاعت ( لک می ان دی آئی )کے بعد سے جان دنیا میں لیکچر دے رہا ہے ۔اور لوگوں میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے متعلق آگہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اسکا کہنا ہے کہ اس سے دنیا میں دوسروں کے لیئے قبولیت اور سمجھنے میں مدد ملے گی ۔۔ ۔ اور دیکھا جائے تو ہم سب اندر سے ایک ہی ہیں ۔ ‘‘
اس سے پوچھا گیا کہ اگر اس کیفیت کے علاج کے لیئے کوئی دوا (پلPill )نکل آئے تو کیا وہ استعمال کریں گے ؟تو جان کا جواب تھا ’’ اگر میں نے اسکا علاج کیا تو شاید میں بالکل سپاٹ شخصیت بن جاؤں ۔‘‘
ان لوگوں کے لیئے جوآٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کا شکار ہیں ، اس کا پیغام ہے کہ ’’ انسانی دماغ بدلتا رہتا ہے ۔سیکھتا رہتا ہے ۔میں آٹو موبائل میں سمارٹ تھا مگر میری معذوریاں (کمی) بھی تھیں ۔ مگر پھر بھی میں نے زندگی سے نمٹنا سیکھ لیا ۔ لہذا کبھی بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ ‘‘

Facebook Comments HS