می ٹو مہم: جماعت اسلامی اور بی جے پی ایک پیج پر


اور دو ان عورتوں کے ہاتھ میں اختیار، اب پھر بھگتو۔ جماعت اسلامی والے پچھلے ستر برس سے چلا چلا کر ہمیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ عورتوں کے ساتھ زبردستی کیے جانے والے جنسی جرائم، چاہے وہ جنسی ہراسانی ہو، زبردستی کی شادی ہو یا پھر ریپ، ان میں عورتوں کا اپنا ہاتھ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اس پر زیادہ بات نہ کرو اور انہیں شرم و حیا اور کلچر کے پردے کے نیچے ہی چھپا رہنے دو۔

ٹھیک بات ہے۔ یہ باتیں سرعام مت کرو۔ ہاں مرد نجی محفلوں میں ایک دوسرے کو اپنی اپنی فتوحات گنوا کر جو مزا اور فخر حاصل کرنا چاہتے اور کرتے ہیں وہ بات اور ہے۔ لیکن پھر بھی جو کچھ ہو رہا ہے اسے چھپا رہنے دو۔ عورتوں کا تو اس سلسلے میں بات کرنا بے حیائی کی انتہا ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی اس بات کی حوصلہ شکنی کرتی رہی اور ہمیں بھی یہی درس دیتی رہی۔ ان کی منطق کئی حوالوں سے درست تھی۔

ایک تو یہ کہ جنسی ہراسانی اور ریپ کا خوف عورت کے لیے اتنا برا نہیں بلکہ اس کا فائدہ بھی ہے۔ یہ خوف عورت کو اپنی اوقات بھولنے نہیں دیتا۔ اس سے عورت ایک حد سے باہر جانے کی کوشش نہیں کرتی اور معاشرے میں مردوں کو سکون رہتا ہے۔ اور جب مردوں کو سکون ہے تو پھر معاشرہ ٹھیک ہی چلے گا۔ ہمارا خاندانی نظام محفوظ رہے گا اور سب لوگ نہیں لیکن عزت دار طبقہ بے فکری کی زندگی گذارے گا۔

جماعت اسلامی کہتی تھی کہ ویسٹ عورتوں کو آزاد کر کے ٹھیک نہیں کر رہا اور جلد ہی اس کے نتائج بھگتے گا۔ ویسٹ تک جماعت اسلامی کی آواز گئی یا نہیں اس کا تو ہمیں علم نہیں لیکن یہ ثابت ہو گیا ہے ہالی ووڈ والوں کو اگر اب پتا چلے کہ جماعت اسلامی نے ان کو کیا نصیحت کی تھی تو وہ ضرور اس پر کان دھریں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو ان کی اوقعات میں ہی رکھیں گے۔

صرف مادر پدر آزاد ویسٹ ہی نہیں، پاکستان کا بے راہروی کا شکار طبقہ بھی جماعت اسلامی کی بات نہیں سنتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اختیار عورتوں کے ہاتھ میں آتا گیا۔ پھر کیا تھا، می ٹو کا دھماکہ ہو گیا۔

نتیجہ یہ کہ اب ناچنے اور گانے والی اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر ٹی وی اور فلم کی سکرین پر مردوں کے جذبات بھڑکانے والی ادائیں دکھانے والی، اور گھر میں سب کچھ ہوتے ہوئے صرف شوق کی خاطر نوکریاں کرنے والی خواتین بھی مردوں پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے لگی ہیں۔ بھئی جو کچھ آپ سکرین پر کرتی ہو یا جیسا لباس پہن کر آپ گھر سے باہر نکلتی ہو اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی کوشش کرتی ہو اس کے بعد بھلا جنسی ہراسانی کس بلا کا نام ہے کہ ہر طرف می ٹو ہی چل گیا ہے۔

ویسٹ سے نکل کر می ٹو کی مہم بھارت میں بالی ووڈ سے ہوتی ہوئی میڈیا اور بی جے پی کی شدید مذہبی حکومت تک آ گئی۔ ظاہر ہے می ٹو کا ایک بھیانک مقصد انڈیا اور پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنا ہے۔ انڈیا میں بی جے پی کی شدید ہندو مذہبی حکومت کا ایک مسلمان منسٹر می ٹو کا شکار ہو کر مستعفی ہوا تو ایک ہندو منسٹر ان کی حمایت میں سامنے آ گیا۔

بھارتی یونین منسٹر جناب پون رادھاکرشنن نے پوری طاقت سے کہا کہ یہ می ٹو مہم بیمار ذہنوں کی پیداوار ہے اور اس کا مقصد ہماری معاشرتی پاکیزگی اور عورتوں کی عزت کو تباہ کرنا ہے۔ بی جے پی کی حکومت کے وزیر کا یہ بیان بتاتا ہے کہ جماعت اسلامی اور بی جے پی عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی کے موضوع پر ایک ہی پیج پر ہیں۔ دونوں ہی کے خیال میں عورتوں کو اس بات چپ رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

ٹیل پیس: پاکستان میں 2010 میں جنسی ہراسانی کا قانون جب سینٹ میں زیر بحث تھا تو کچھ مولانا حضرات نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں فرمایا کہ عورتیں اپنے خلاف ہونے والی جنسی ہراسانی کی خود ذمہ دار ہوتی ہیں۔ وہ خود اپنے لباس اور اداؤں سے اس کی دعوت دیتی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت کا حق صرف ان عورتوں کو ہونا چاہیے جو شرعی لباس میں ہوں۔ ایک اور مولانا صاحب نے تو یہ تک کہہ دیا کہ وہ ہم پر حسن کے گولے برسائیں تو وہ کوئی جرم نہیں اور ہمارا معمولی سا ردعمل بھی جرم بن جائے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik