کیا خود کشی کرنے والے ڈرپوک ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس وقت ہمیں ٹھیک ٹھیک علم ہوتا ہے کہ موت کیا ہے‘ تب سے مرنا ہمیں فرار کا ایک راستہ نظر آتا ہے۔ ہر مشکل مرحلے پہ‘ ناقابل برداشت دکھ میں‘ کہیں شدید الجھن میں پھنسنے پر‘ کسی جذباتی لمحے کے عروج پر، کبھی جب شدید دھچکا لگے، جہاں ذرا چوٹ گہری ہو جائے یا کوئی بھی ایسامسئلہ ہو کہ جس میں الجھ کر ثابت سلامت باہر نکلنا ممکن نظر نہ آ رہا ہو‘ ہم لوگ موت کی آرزو کرتے ہیں‘ ”یا اللہ‘ اس سے تو اچھا تھا موت دے دیتا“۔ مرنا بہرحال اتنا آسان نہیں ہے۔ پھر اگر اس آرزو سے آگے بڑھتے ہوئے کوئی شخص موت کو خود گلے لگا لے، ہم لوگ اس کی بھی نسلیں پُن دیتے ہیں۔ یعنی خواہش خود کو بھی ہے لیکن جو واقعی کام آ گیا وہ بے چارہ بھی برا ٹھہرے گا۔

مرنے کے لیے انسان کو شدید نا امیدی اور اتنی مایوسی چاہیے ہوتی ہے جتنے ریت کے ذرے، اور ایسا اندھیرا درکار ہوتا ہے جس کے بعد صبح ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو۔ ثروت حسین نے کہا تھا‘ موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت‘ لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں۔ وہ کشش دو مرتبہ ان کو کھینچ کر اپنے ساتھ ریلوے لائن تک لے گئی۔ پہلی مرتبہ صرف دونوں پیر گئے، دوسری مرتبہ درندہ کامیاب ہو گیا۔ کچھ لوگ ان کی رومانس میں ناکامی کو اس خودکشی کی وجہ قرار دیتے ہیں‘ لیکن خود کشی اٹ سیلف ان کے لیے ایک رومانس تھا (ایسا لازوال شعر کہنا تبھی ممکن ہے )۔

خود کشی کی وجہ عام طور پہ یہی فیکٹرز ہوتے ہیں؛ محبت میں ناکامی‘ امتحانوں میں فیل ہو جانا‘ محبت میں کامیابی (شادی کے بعد)‘ کسی قریبی عزیز کی اچانک موت‘ کاروبار ختم ہو جانا‘ نوکری نہ رہنا‘ لاعلاج بیماری ہو جانا‘ کسی بھی نشے کا بہت زیادہ عادی ہو جانا‘ اچانک شدید معاشرتی دباؤ کا سامنا ہونا وغیرہ۔ چھ ہزار دوسری وجوہات بھی اس میں شامل ہیں۔ خود کشی کرنے والا ہر انسان اپنی قسم کا انوکھا کیس ہوتا ہے۔ اس کے مسائل الگ ہوتے ہیں۔ جس طرح ہر ایک انسان کی زندگی ایک الگ کہانی رکھتی ہے عین اسی طرح اس کی مشکلات بھی الگ ٹھوس وجود رکھتی ہیں‘ جنہیں خودکشی جیسے موضوع پہ لکھتے ہوئے ایک بوری میں بند نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سنہری قول جو ہمارے یہاں بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے پہلے اسے دیکھتے ہیں۔ ”خود کشی کرنے والا بزدل ہوتا ہے“۔ ایسا نہیں ہے دوست‘ یہاں سے ہماری سوچ کی وہ غلط سمت شروع ہوتی ہے‘ جو ایسا کوئی خیال آنے کی صورت میں ہمیں کسی دوسرے سے مشورہ تک نہیں کرنے دیتی۔ خود کشی کرنے والا ہرگز بزدل نہیں ہوتا۔ وہ ٹھیک ٹھاک بہادر ہوتا ہے۔ وہ اصل میں اس قدر مجبور ہو چکا ہوتا ہے، اپنے حالات میں اس طرح گردن تک ڈوب چکا ہوتا ہے کہ اسے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اچھا‘ راستہ نظر کیسے آئے؟ خود کشی کے ساتھ جب ہم مختلف داغ دھبے اٹیچ کر رہے ہیں تو بندہ راستہ پوچھنے کے لیے ہی سہی‘ بات کس سے کرے گا؟ وہ کس سے کہے گا کہ یار مجھے ایسے خیال آ رہے ہیں‘ میں مرنا چاہتا ہوں؟ سننے والا منہ پہ نہ بھی کہے پھر بھی یہی سوچے گا کہ یہ پاگل ہے، دماغی مریض ہے، نارمل انسان بھلا کب ایسے سوچتے ہیں؟

جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اس کے بعد آتا ہے۔ یاد کریں جب کسی کے بارے میں ایسی بات آپ کے سامنے کی جاتی ہے تو آپ کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے؟ ”ابے یہ سب ڈرامے بازیاں ہیں‘ توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے، کوئی نہیں مرتا ورتا‘ بہت دیکھے ہیں ایسے ہم نے“۔ بالکل ٹھیک ہے، آپ نے پندرہ بیس ایسے کیس دیکھ رکھے ہوں گے جب مختلف لوگوں نے ایسی بات کی دھمکی دی مگر اس پہ عمل نہیں کیا‘ اگر اکیسواں بندہ دعویٰ کرنے کے بعد اس پہ عمل بھی کر لے تو اس صورت میں آپ کے پاس کیا آپشن رہ جائے گی؟ پچھتاوا؟ ساری عمر کا افسوس؟

میڈیا چیخ رہا ہے، ڈپریشن کے نعرے لگا رہا ہے، خود کشی کی شرح بڑھنے کی بات ہوتی ہے، چھوٹے چھوٹے بچے تک سکول میں نمبر کم آنے پہ گھر پڑی دوائیاں اکٹھی پھانکتے نظر آتے ہیں، لیکن خود کشی پہ مثبت انداز میں بات کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ مثبت مطلب کیا؟ مطلب سمجھتے ہوئے ہمیں دو باتیں یاد رکھنی ہیں۔ سب سے پہلے تو اس حقیقت کو گلے لگائیے کہ خود کشی کرنے والے بالکل آپ جیسے، میرے جیسے ہوتے ہیں۔ وہ بزدل‘ کم ہمت‘ ڈرپوک یا ناپختہ ذہن کے مالک نہیں ہوتے اور ان کے کردار میں کوئی خرابی بھی نہیں ہوتی۔ دوسری اور سب سے بڑی بات یہ کہ اگر وقت پر انہیں کوئی بات کرنے والا مل جاتا‘ جو ان سے اس موضوع پہ گفتگو کرتے ہوئے انہیں ڈانٹنے کی بجائے ان کی سطح پر آ کے بات کرتا۔ انہیں پاگل، کیریکٹر لیس یا مینٹل کیس سمجھنے کی بجائے اپنے جیسا نارمل مگر حالات کی دلدل میں پھنسا آدمی جانتا اور انہیں یہ احساس دلاتا کہ ان کی زندگی میں آگے کیا کچھ روشنیاں آ سکتی ہیں‘ تو شاید وہ انسان کبھی بھی خود کشی نہ کرتا۔

خود کشی سے بچنے کے لیے اس کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے۔ بات تبھی ہو سکتی ہے جب اس سے چپکا سوشل سٹگما دور کیا جائے۔ وہ تبھی دور ہو سکتا ہے جب ہم دوسروں کو اپنے معیار اور اپنی سوچ کے ترازو میں تولنا چھوڑ دیں۔ فرض کیا آپ کا دوست پیار محبت کے چکر میں خودکشی کرنے لگا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ سب بازاری باتیں ہیں‘ تھرڈ کلاس کام ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ یار یہ کیسا چیپوڑا آدمی ہے؟ مطلب عشق عاشقی کے چکر میں ایویں منہ کالا کرنے جا رہا ہے؟ آپ اپنی جگہ ٹھیک سوچتے ہیں‘ آپ کو تجربہ نہیں ہوا۔ آپ اسے ڈانٹ دیتے ہیں‘ جھڑک دیتے ہیں‘ کیا آپ کی ڈانٹ سے وہ باز آ جائے گا؟ کیا زیادہ بہتر یہ نہیں ہو گا کہ چپ کر کے اس کی بات پوری کی پوری سن لی جائے اور اس کی آنکھوں سے وہ پورا منظر دیکھتے ہوئے اسے کوئی راستہ دکھایا جائے؟

کبھی بچپن میں آپ ٹرین بنے تھے؟ وہ جو پانچ چھ بچے ایک دوسرے کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے ہیں اور اسی طرح آگے چلنا شروع کر دیتے ہیں؟ اس وقت ہم سب ٹرین بنے ہوئے ہیں۔ ہم سب مل کر ایک دوسرے کے لیے ماحول بنا رہے ہیں کہ ایک بندہ اٹھے اور خود کشی کا سوچنے لگے۔ کیوں سوچنے لگے؟ اس لیے کہ بولنے کے سب راستے بند ہیں۔ ماں باپ کو اپنا بچپن‘ اپنی جوانی بھول جاتی ہے۔ بہن بھائی اگر بڑے ہوں تو نصیحت باز اور چھوٹے ہوں تو چغل خور بننے میں اطمینان اور دل سکون محسوس کرتے ہیں۔ دوست پرتپاک گرمجوشی سے آپ کا بینڈ تو بجا سکتے ہیں لیکن آپ کا مسئلہ ان کے نزدیک سنجیدہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی استادوں کا فاصلہ ویسے ہی اپنے شاگردوں سے کئی ہزار کلومیٹر ہوتا ہے۔ رشتے دار بہت نایاب ہو چکے ہیں‘ شریکے ہر جگہ پائے جاتے ہیں (جسے شریکا نہیں پتہ کیا ہوتا ہے اس نے پھر بھگتا ہی نہیں ہونا‘ جے ہو برادر آپ کی)۔ نیٹ کی دوستیاں سکرین شاٹ والے چپیڑ مار سکتی ہیں‘ تو راستے، سب کے سب‘ ایسے بند ہیں!

فیصلہ بہرحال اب یہ کرنا ہے کہ ہم خود کس پوزیشن پہ ہیں؟ کیا ہم بات کرنے والوں میں سے ہیں یا قدرت کی مہربانی سے ہمیں سننے والا بنایا گیا ہے۔ ہر دو کیسز میں اصل بات یہ ہے کہ بات کرنا اور بات کا سنے جانا شدید ضروری ہے۔ جس وقت دماغ میں ایسا کوئی خیال آئے، چاہے بات کرنے کے لیے کالا کوا ہی ملے بات کر دیں‘ بھڑاس نکال لیں۔ خودکشی کا خیال زور اس وقت پکڑتا ہے جب ہر چیز کی حلیم دماغ کے پریشر ککر میں پکتی رہتی ہے۔ پریشر ککر کے سیٹیاں مارنے پہ بھی اگر دھواں نکلنے کا بندوبست نہ ہو تو کیا ہو گا؟ تو بس وہ جو ہو گا اس سے بچنا ہے۔

دنیا بھر میں خودکشی کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ خواتین مردوں کی نسبت تین گنا زیادہ چانس رکھتی ہیں کہ وہ خود کشی کریں لیکن‘ مرد اگر خود کشی کریں تو یہ چانس خواتین سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ جینوئنلی مر جائیں گے (اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین اس مقصد کے لیے ہتھیار استعمال کرنے کی بجائے دوائیوں کی اوور ڈوز پھانکنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس میں یہ امکان بہرحال موجود ہوتا ہے کہ وقتی معدہ واش کرایا جائے اور بندہ واپس آ جائے )۔ تو بس آس پاس نظر رکھیں اور کوئی بھی جاننے والا اگر ڈپریشن میں یا مائل بہ خودکشی نظر آتا ہے تو اس کی بات انسانوں کی طرح سن لیں۔ یہ مشکل کام ہے لیکن بہرحال کرنا پڑے گا‘ منہ بند کر کے سنیں‘ الٹی سیدھی بالکل مت ہانکیں۔ خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain