سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کی نیب کی اپیل مسترد کر دی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کی نیب کی اپیل مسترد کردی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق نیب کی نظرثانی اپیل کی سماعت کی ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کےساتھ گیم نہ کھیلیں، بتائیں جرم کیا ہے؟ فیصلے میں کیاغلطی ہے؟
جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ کوئی نظیر پیش کرنے سے پہلے بتائیں فیصلے میں کیاغلطی ہے؟ اسحاق ڈارسب مان بھی لیں تو کیس پر کیا اثر پڑتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پاناما نظرثانی فیصلے میں بحث کی گئی ہے،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آپ نے کئی برسوں تک مقدمہ لٹکائے رکھا، کتنے سال ایک بندے کے سر پر تلوار لٹکا کر رکھیں گے؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ نیب کسی اور کی جنگ لڑ رہا ہے۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پرویزمشرف نے جمہوری حکومت ختم کی، اس جملے کو حذف کر دیں، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ پرویزمشرف کے وکیل نہیں، آپ کو اس سے کیوں تکلیف ہورہی ہے؟ یہ پرویزمشرف کی درخواست تو نہیں؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پرویزمشرف کےخلاف مقدمہ بنایا؟ فیصلے میں لکھا ہے پرویزمشرف کا رویہ معاندانہ تھا، ہم نے یہ تو نہیں لکھا کہ نیب کا رویہ معاندانہ تھا، یہ توچورکی داڑھی میں تنکے والی بات ہو گئی۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے دوبارہ استفسارکیا کہ پرویزمشرف کےخلاف مقدمہ بنایا؟ آپ کہتے ہیں انہوں نے نوازشریف کو باہر بھجوایا، پرویزمشرف کےخلاف مقدمہ کیوں نہیں بنایا؟ نیب اپنے اعتماد کو کیوں تباہ کر رہا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کا فیصلہ دیکھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہاں حدیبیہ کا نظرثانی کیس ہے، پاناما کا نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پاناما کیس میں کہا گیا کہ حدیبیہ کے معاملے کی ازسرنو تفتیش کریں۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر حدیبیہ پیپرملزریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق نیب اپیل مسترد کر دی، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ریفرنس دوبارہ کھولنے کی کوئی وجہ نہیں۔


