مقدس گائے کے منہ مارنے پر اسلام آباد کے آئی جی ڈھیر ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد سے اطلاع آئی ہے کہ ایک گائے نے ایک باڑ کو منہ مارا جس کے نتیجے میں اسلام آباد کے کوتوال اپنی سیٹ سے گر گئے۔ ہندو دیو مالا میں تو سنتے آئے تھے کہ دنیا ایک مقدس گائے کے سینگوں پر ٹنگی ہوئی ہے اور وہ سینگ بدلتی ہے تو دنیا میں زلزلے آتے ہیں۔ لیکن یہ ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ بھی مقدس گائے کے لائے گئے زلزلوں سے ہل جاتی ہے۔ چیف جسٹس کو خبر ملی تو انہوں نے کوتوال صاحب کو واپس سیٹ پر بٹھایا ہے۔ اب آگے دیکھتے ہیں کہ گائے کس کروٹ بیٹھتی ہے۔

خبروں کے مطابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کے گھر کے ساتھ کچھ لوگ جھگیوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک شریر گائے پال رکھی ہے۔ اس نے اعظم سواتی کے چند پھول بوٹوں کو کھا لیا جس پر ان کے چوکیداروں نے گائے کو پکڑ کر باندھ دیا۔ اعزاز سید کی خبر کے مطابق گائے نے گھر کی چار دیواری کے پیچھے موجود علاقے میں چرنے کی جسارت کی تھی۔

بارہ سالہ ضیاء الدین کہتا ہے کہ ”جب اس نے اپنی گائے واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو ملازمین نے کہا کہ خان نے گائے باندھی ہے، اسی سے واپس لو۔ جب ہم لوگ اپنی گائے کھول کر واپس آئے تو اعظم سواتی کے لوگ ڈنڈے لے کر ہمارے گھر آگئے اور انہوں نے میری ماں اور بہن کو مارا پیٹا اور بعد میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں ہمارے خلاف درخواست دے دی۔ “

اب دیکھیں آپ یہ موقف جان کر اس لڑکے کی بات پر یقین کر رہے ہوں گے کہ اس پر کتنا ظلم ہوا ہے۔ ہم بھی ایسا ہی کر رہے تھے کہ خوش قسمتی سے اعظم سواتی کا موقف سامنے آ گیا۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی نے جو کچھ بتایا وہ ہمیں یوں سمجھ آیا ہے۔ گائے کھولنے یہ بدمعاش آئے۔ ان بدمعاشوں نے اعظم سواتی کے تین چوکیداروں کو اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔ گو کہ ان چوکیداروں کے پاس کلاشنکوفیں تھیں لیکن جب سامنے سے ایک بچہ، ایک بچی، ایک بڑھیا اور دو مرد کلہاڑی پکڑ کر آ جائیں تو ظاہر ہے کہ مقابلہ برابر کا نہیں رہتا۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ قبضہ کر کے رہنے والوں نے ان کی زندگی اور فیملی کو دھمکیاں دیں اور چوکیدار کو کہا گیا کہ آپ کو اور آپ کے خان کو بم رکھ کر اُڑایا جائے گا۔

اب اعظم سواتی بھی ہمارے جیسے ماڑے بندے ہیں۔ گھبرا گئے۔ انہوں نے بتایا ”میں نے ڈی ایس پی، ایس ایس پی اور پھر آئی جی کو فون کیا اور دھمکیوں سے متعلق بتایا تاہم بار بار کال کرنے کے باوجود 22 گھنٹے تک میری بات پر عمل نہیں ہوا“۔

بعض بدخواہ کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر اعظم سواتی چاہتے تھے کہ اسلام آباد کے آئی جی فورس لے کر آئیں اور ان جھگیوں کا صفایا کر دیں حالانکہ تجاوزات کا خاتمہ سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے۔ آئی جی نے تنگ آ کر فون سننا چھوڑ دیا تھا۔ آپ خود فیصلہ کریں کہ بھلا یہ بات یقین کرنے کی ہے؟ ہمیں تو اعظم سواتی کی بات پر یقین ہے کیونکہ وہ میرٹ پر چلنے والی تحریک انصاف کے وفاقی وزیر ہیں۔

خیر شکر ہے کہ بات وزیراعظم تک پہنچ گئی۔ انہوں نے یہ بات نہ سننے والے آئی جی کو نا اہل قرار دے کر ہٹانے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد مقدمہ درج ہوا اور پولیس نے درخواست پر کارروائی کی۔ اعظم سواتی کے بیٹے نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ملزمان نے اپنے مویشی ہمارے باغات میں چھوڑ دیے اور منع کرنے پر ملزمان نے ملازمین پر کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔

آپ خود دیکھیں یہ موقف اس شریر گائے والے لڑکے کے موقف کے مقابلے میں کتنا قرین قیاس لگتا ہے۔ بہرحال نئے پاکستان میں نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ کیا معلوم تاریخ میں کبھی پہلے ایسا ہوا ہے کہ ایک گائے کے منہ مارنے پر ایک کوتوال گر گیا ہو؟ بہرحال شکر کی بات ہے کہ گائے مکمل طور پر محفوظ ہے اور اعزاز سید کی رپورٹ کے مطابق اعظم سواتی کے گھر میں بندھی ہوئی ہے۔

پولیس نے اس درخواست اور آئی جی کے تبادلے کے بعد ایکشن لیا اور ان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ خطرناک دہشت گردوں میں ایک پندرہ سالہ بچی، چوتھی جماعت کا طالب علم بارہ سالہ ضیاءالدین اور عمر رسیدہ خاتون سمیت پانچ افراد شامل ہیں۔

یعنی ان کی عمریں دیکھیں۔ دو بچے، ایک مائی، اور تگڑے ایسے کہ انہوں نے کلاشنکوفوں سے مسلح تربیت یافتہ محافظوں کو اتنا مارا اتنا مارا کہ وہ تینوں ہسپتال میں پڑے ہیں۔ ویسے ہماری مانیں تو اعظم سواتی صلح کر لیں اور اپنے نا اہل محافظوں کو فارغ کر کے اس لڑکے، لڑکی اور بڑھیا کو چوکیداری پر رکھ لیں۔ پیسے بھی کم لیں گے اور ان نکمے محافظوں سے بہتر کارکردگی بھی دکھائیں گے جو بچے بچیوں سے مار کھاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1089 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar