بھارتی چینلز پر پابندی کی ضرورت کیا ہے
سپریم کورٹ نے بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار برہم ہو گئے۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ کوئی ہمارا ڈیم بند کرا رہا ہے، ہم ان کے چینلز بھی بند نہ کریں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بھارتی مواد کو بند کیا جائے۔
پاک بھارت تعلقات جب بھی کشیدہ ہوئے ہیں بھارتی مواد پر پابندی ضرور لگتی ہے۔ کبھی سینماؤں میں بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی ہے اور کبھی ان پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارتی چینلز بھی بار بار پابندی کی زد میں آتے ہیں۔ کچھ عرصے کی پابندی کے بعد یہ پابندی اٹھا لی جاتی ہے لیکن پھر کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ دوبارہ پابندی لگ جاتی ہے۔ کیبل آپریٹرز چیخ رہے ہیں کہ ہمارے کاروبار پر بہت اثر پڑے گا یہ پابندی اٹھائی جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے ساتھ مخاصمانہ جذبات کے باوجود عوام بھارتی فلمیں اور بھارتی چینلز ہی کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک سبزی فروش سے لے کر یونیورسٹی کے پروفیسر تک اگر ان کو چوائس دی جائے کہ وہ سلطان راہی، شان، معمر رانا، جان ریمبو کی فلم دیکھنا چاہیں گے یا امیتابھ بچن، عامر خان، شاہ رخ خان، سلمان خان کی۔ 99 فی صد موخر الذکر اداکاروں کو ترجیح دیں گے۔
یہی حال موسیقی میں ہے۔ پاکستانی میوزک کی نسبت سرحد پار کا میوزک زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ پاکستانی اداکار پابندی کے دور میں بڑی خوشی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں اور اکثر ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ یہ پابندی مستقل ہونی چاہیے۔ بھارتی فلموں کی پاکستانی سینماؤں میں نمائش کے خلاف بھی آواز بلند ہوتی رہتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے جب بھارتی فلم کی نمائش ہو تو سینماؤں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں کہ بھارت کو کبھی اچھا ہمسایہ نہیں سمجھا گیا۔ بھارت دشمنی مثال بن چکی ہے لیکن جہاں فلم، موسیقی یا ڈراموں کی بات ہو بھارتی کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
ہمارے بعض دانشور یہ رونا بھی روتے رہتے ہیں کہ بھارت ایک سازش کے تحت ہمارے عوام کو اپنی فلموں اور ڈراموں کے جال میں پھانس رہا ہے۔ ہمارے بچے ہندی کلچر سے زیادہ واقف ہیں اپنے کلچر سے نا آشنا ہیں۔ حضور اس سلسلے میں عرض ہے کہ آرٹ کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ اسے کوئی سرحد روک سکتی ہے۔ جس طرح غالب کے بقول عشق پر زور نہیں، یہ وہ آتش ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے۔ اسی طرح ایک اچھا گانا، اچھی غزل یا اچھی مووی آپ کے دل کو چھو لیتی ہے پھر آپ اس کے سحر سے بچ نہیں سکتے۔ کون ہے جو ”تارے زمین پر“ دیکھ کر متاثر نہ ہو۔ جگجیت سنگھ کی غزلوں پر سر دھننے والا اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اس کی قومیت کیا ہے۔
چناں چہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں آرٹ دم توڑ رہا ہے۔ موسیقی ہو یا ڈراما فلم ہو یا رقص ہمارے ہاں اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جو بڑے نام تھے وہ راہی ملکِ عدم ہوئے اب چند نام باقی ہیں انہی کے دم سے تھوڑا بہت بھرم باقی ہے۔ مہدی حسن، نور جہاں، اے نئیر اور ناہید اختر کے پائے کا گلوکار نظر نہیں آتا۔ وحید مراد، ندیم، شبنم اور محمد علی کا ثانی بھی کوئی نہیں۔ فلم ہو یا ڈراما اس کی اصل جان اس کا سکرپٹ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فلمی سکرپٹ لکھنے والے بھی کمال کرتے ہیں۔ ایسی بے سروپا کہانیاں لکھنا واقعی کمال کی بات ہے۔
راحت فتح علی خان باکمال سنگر ہے لیکن اس کے کریڈٹ پر جو نغمات ہیں وہ بھی بھارتی ہیں۔ جب تک ہم آرٹ کے حوالے سے اپنا معیار بلند نہیں کریں گے عوام بھارتی چینلز کے سحر سے نہیں نکلیں گے۔ جب پی ٹی وی سے ان کہی، تنہائیاں، وارث، ایک محبت سو افسانے، اندھیرا اجالا اور دھواں جیسے ڈرامے پیش کیے گئے تو ان ڈراموں کے نشر ہونے کے وقت سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں۔ آئینہ، بندش، دل میرا دھڑکن تیری جیسی فلمیں لوگ بیسیوں بار سینما میں جا کر دیکھتے تھے۔ لیکن جب معیار ہی صفر ہو تو کوئی محض اس لئے اپنی فلمیں نہیں دیکھے گا کہ یہ ہمارے لوگوں نے بنائی ہیں۔
آج اگر ہماری فلموں، ہمارے ڈراموں، ہماری موسیقی اور ہمارے چینلز کا معیار بھارت سے بہتر ہوتا تو کسی پابندی کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ لوگوں کی پسند نے یہ فیصلہ پہلے ہی سنا دیا ہوتا کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اس فکر میں گھلنے کے بجائے کہ بھارتی ثقافتی یلغار ہمیں برباد نہ کر دے اگر فنونِ لطیفہ اور آرٹ کی سر پرستی جائے اور اس سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو بہتر ہے۔ یہ ہر انسان کی ضرورت ہے کیونکہ انسان جذبات رکھتا ہے اور جذبات کی تسکین کے لئے آرٹ ہی سب سے موثر ذریعہ ہے۔


