خاتون نے مجھے ریپ کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کی

جنسی درندے ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جو دنیا کی نظروں سے چھپ کر اپنی وحشیانہ کاروائیاں کرتے ہیں، مگر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اس سفاک میاں بیوی جیسا درندہ کوئی ہو گا جنہوں نے ایک دوسرے سے چھپ کر نہیں بلکہ اکٹھے ہو کر ایک ایسا وحشیانہ جنسی جرم کیا کہ جس کے بارے میں تصور کر کے ہی انسان کا دل کانپ اٹھے۔
میل آن لائن کے مطابق ویلز کے علاقے سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ لڑکی سیلی ایمبرج کے گھر سے کچھ فاصلے پر میاں بیوی پیٹر گرفتھ اور ایورل گرفتھ رہتے تھے، جن کے ہاں سیلی کا آنا جانا تھا۔ سیلی کے ساتھ اس جوڑے کا برتاؤ بہت دوستانہ تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس دوستی کی آڑی میں وہ کیسی دشمنی کرنے والے تھے۔
سیلی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پیٹر اور ایورل کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا اور میں اُن کے ہاں جا کر بہت خوشی محسوس کرتی تھی۔ مجھے ان کے ہاں آتے جاتے تقریباً ایک سال ہو چکا تھا جب ایک دن سیلی نے مجھے ایک مشروب دیا جسے پینے کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ میرے مکمل طور پر برہنہ تھی۔ ایورل نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر دبوچ رکھا تھا اور اس کا خاوند پیٹر میری عصمت دری کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ نشے کے باعث میں ہلنے جلنے سے بھی قاصرتھی۔ چند لمحوں بعد ہی میں دوبارہ بے ہوش ہو گئی۔ ‘‘
سیلی اس لرزہ خیز واقعے کے بعد اتنی مایوس اور دلبرداشتہ ہوئی کہ گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا۔ اُس کا کہنا ہے کہ بچپن میں پیش آنے والے اس واقعے کے متعلق وہ 20 سال تک کسی سے بات نہیں کر سکی۔ ایک روز وہ فلم دیکھ رہی تھی کہ اس میں پرتشدد ریپ کا ایک سین دیکھ کر اُس کا ذہن دو دہائیاں قبل پیش آنے والے واقعے کی جانب چلا گیا اور وہ شدت غم سے چیخنے لگیں۔ سیلی کا کہنا ہے کہ اُسی وقت وہ اٹھیں اور پولیس سٹیشن جا پہنچیں جہاں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ساری تفصیلات بتا دیں۔ اُن کی شکایت پر بدبخت جوڑے کو گرفتار کر لیا گیا اور قانونی کاروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے انہیں مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔


