اس "بارسوخ” گھر میں رہنے والوں نے وفاقی وزیر اعظم سواتی کا جینا حرام کر رکھا ہے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان کی تبدیلی روک دی ہے اور معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تمام معاملہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے ہمسائے میں رہنے والے غریب خاندان کی گائے کے فارم ہاﺅس میں چلے جانے پر ہوا جس کے بعد عثمان سواتی کے بیٹے نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جس پر 12 سالہ بچے سمیت متعدد افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ دوسری جانب متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی گائے غلطی سے اعظم سواتی کے فارم ہاﺅس میں چلی گئی اور جب گائے واپس لے کر آیا تو ان کے لاٹھی بردار ملازمین ہمارے پیچھے آ گئے اور تشدد کیا۔ اعظم سواتی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میرے تین ملازمین کو بے دردی سے مارا گیا جبکہ مجھے اور میرے خاندان کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھی دی گئی۔
معروف سینئر صحافی حبیب اکرم نے متاثرہ خاندان کے کچے مکان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ”یہ اس بارسوخ خاندان کا گھر ہے جس میں رہنے والوں کو ایک وفاقی وزیر نشان عبرت بنانا چاہتا ہے، آئی جی مزاحمت کرتا ہے تو پاکستان کا وزیراعظم اس جرات پر اسے عہدے سے ہٹا دیتا ہے، ہمارے چھوٹے پن کی کوئی حد؟“



