اقتدار کا بلی اور چوہے کا کھیل
پاکستان میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ اقتدار کی کشمکش اور رسہ کشی نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ نا اہل سیاستدان شروع سے ہی اقتدار پر اپنے پاوں نہیں جما سکے۔ پہلے سول بیوروکریسی اور پھر ملٹری بیوروکریسی اس نا اہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قابض رہی۔ اقتدار کی اسی کشمکش نے پاکستان کو دولخت کیا۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ ایوب نے دھاندلی سے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی۔ اس کی کرپشن نے بائیس خاندان پیداکیے۔
قرض حد سے بڑھ گیا۔ ایوب خان اقتدار میں آئے تو پاکستان کا قرض 25 کروڑ روپے تھا۔ وزیر اعظم عمران خان ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ایوب خان نے اس وقت کے حساب سے سب سے بڑا قرض لیا تھا۔ ان کے دور میں پاکستان کا قرض 25 کروڑ سے بڑھ کر 1200 کروڑ تک جا پہنچا تھا۔ لیکن اتنا پرانا قرض ہمارا مسئلہ نہیں۔
۔ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ضیالحق نے بھٹو کو پھانسی کیوں دی نہ اس بات سے غرض ہے کہ لا کھوں افغانی ہماری معیشت کو جونکوں کی طرح چوس رہے ہیں۔ یہ مصیبت کس نے ہمارے گلے ڈالی۔ محمد خان جونیو کو خود پالا پوسا اور کیوں لات مار کر نکال دیا۔ دس سال ضیا اور بھٹو کی باقیات کو کبھی اقتدار دے کر اور کبھی اقتدار سے نکال کر ذلیل۔ کیوں کیا جاتا رہا۔ مشرف نے طیارہ ہا ئی جیک کیس بنا کر اپنے وزیر اعظم کو جیل ڈال دیا۔
زرداری کو نواز شریف فاروق لغاری اور مشرف نے جیل میں بند کیوں کیے رکھا۔ پھر سب بڑے سیاستدانوں کو ملک بدر کرکے یورپ سے شوکت ترین کو لایا گیا۔ یہ اقتدار کی بلی اور چوہے کا کھیل ہے۔ یہ کھیل ضیا کی روحانی اولاد، بھٹو کی حقیقی اولاد اور ملٹری بیوروکریسی کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔ بظاہر تو یہ دوستانہ میچ لگ رہا ہے۔ کبھی بیوروکریسی، کبھی نواز تو کبھی زرداری جیت کی مسند پر براجمان نظر آتے ہیں۔ کبھی زرداری اور بیوروکریسی مل کر نوازشریف کو چت کرتی ہے کبھی زرداری نواز کے ساتھ مل کر بیورکریسی کو بیک فٹ پر لے جاتے ہیں۔ ادھر سیاستدان عوام کے سامنے بھی جوابدہ ہیں ان کی سوچ اور پسند ناپسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ملکی دفاع اور انٹر نیشنل حالات بیوروکریسی کے آڑے آ جاتے ہیں۔ دونوں طرف کھیل کے کچھ قواعد انہیں حد سے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔
گزشتہ تیس سالوں سے ضیا کی باقیات جو اب پوری طرح سیاست میں خود کفیل ہیں، اپنی اولادوں کو بھی سیاست کے اسرار و رموز سے بخوبی آگاہ کرچکے ہیں۔ بھٹو خاندان جس کی تیسری نسل سیاست میں قدم جما چکی ہے بلکہ اس میں زرداری کی ملاوٹ بھی آچکی ہے۔ دونوں نے مل کر چوہے بلی کے اس کھیل کو قدرے مشکل بنا دیا ہے۔ عمران خان اس کھیل میں بیوروکریسی کی سپورٹ میں لایا گیا ہے۔ اس کی پبلک پاپولیریٹی اس کی اضافی قابلئیت ہے جس سے طاقت کا توازن بیوروکریسی کے حق میں جارہا ہے۔ ۔ حکومت کو سہارا دینے کے لئے عدلیہ بھی پورے جوش وجزبے کے ساتھ شامل ہو چکی ہے۔ دوسری طرف سول بیوروکریسی ان سیاستدانوں کو سپورٹ دے رہی ہے۔ ایک میڈیا ہے جو منقسم ہے۔ اگرچہ میڈیا کو خاص طور پر سیاستدانوں کی حمایت کرنے والے میڈیا کو بھی کسی نہ کسی طرح لگام ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ملک کے معاشی مسائل اور ڈوبتی معیشت اس کھیل کو دلچسپ بنا رہی ہے۔ قرض کا حصول حکومت کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ الیکشن میں قرض کی شدید مخالفت کرنے والے عمران خان قرض ملنے کو ہی اب اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ حکومت کے پاس کوئی معاشی ایجنڈا ہے نہیں۔ وہ بھی سیاستدانوں کے احتساب کا نعرہ استعمال کرکے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ کمر توڑ منہگائی، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کو پریشان کر دیا ہے۔
ڈالر کی قدر میں اضافہ صارفین پر سکائی لیب کی طرح آن گرا ہے۔ الیکٹرونک کے سامان فرج، اوون اور ایل سی ڈی کے ریٹ بڑھنے سے جہیز مہنگا ہو گیا ہے۔ کتابیں کاپیاں اور پین پنسل مہنگے ہونے سے غریب بچے سکولوں سے نکال لئے گئے ہیں۔ حکومت نے ان غریب بھٹہ ملازمین کو ملنے والا الاونس بھی بند کر دیا ہے۔ اس طرح کے اور بہت سارے معاملات حکومت کی مجبوری ہیں لیکن اس کے ساتھ شریف خاندان پر بنائے جانے والے کمزور مقدمات عوام کو ن لیگ کے قریب لا رہے ہیں۔
یہی حالات رہے تو حکومت کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ سیاسی طور پر حکومت پہلے ہی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ چند ووٹوں کا فرق زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔ حکومت اور اس کے حامیوں کی بقا اسی میں ہے کہ شریفوں اور زرداری کو سزا ہو جائے یا ان کو این آر او پر مجبور کر دیا جائے۔ بظاہر این آر او پر کام کرنا زیادہ آسان لگ رہا ہے۔ اور بیوروکریسی شاید یہی چاہ رہی ہے۔ عمران خان جبکہ حلالہ میں آئی ہوئی اس دلکش حسینہ یعنی حکومت کو طلاق دینے پر شاید راضی نہ ہو۔ ایسی صورت میں کھیل مزید دلچسپ ہو جائے گا۔ عوام کا کیا بنے گا اس کی کوئی پرواہ نہ پہلے کسی کو تھی نہ اب ہے۔


