انسانیت اور مذہب

احد کا پہاڑ اس لرزہ خیز منظر کا گواہ ہے جب ہندہ نے شہید حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ یہ ہندہ وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمّد مصطفٰے صلعم پر گندگی پھینکا کرتی تھی اور جس کا خاوند ابو سفیان آپ کے خلاف تمام جنگوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ جب یہ مفتوح ہوئے تو اللہ کے پاک پیغمبر نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا بلکہ ان کے گھر کو جائے امان بنا دیا۔

Read more

نشئی اور کشکول

سورج غروب ہونے کو تھا۔ پیلی سنہری کرنیں کالے اور سفید بادلوں کے آوارہ ٹکڑوں سے منعکس ہو کر مزار کے گنبد پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی بڑھتی جارہی تھی۔ جنوری کے ابتدائی ایام تھے۔ جیرے کے لئے موسم کوئی اہمئیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے اندر بہار کا موسم تھا۔ نیلے پیلے رنگ اس کی آنکھوں میں ناچ رہے تھے۔ گنبد اتنا خوبصورت لگ رہا تھاجیسے سونے کا بنا ہو۔ سورج ڈوبتا جارہا تھا۔ اور بادل سفید سے سیاہ ہوتے جارہے تھے۔یہ مزار جیرے کے گھر کے راستے میں پڑتا تھا۔ جیرا ہسپتال سے فاغ ہو کر ابھی لوٹا تھا۔ آج اس نے بہت بڑا کام کیا تھا۔ اس نے ایک انسان کی جان بچائی تھی۔ اس کے سامنے ایک سائیکل والے کو گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ اور اس نے گاڑی روکنا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر کا ایک کمزور سا آدمی تھا۔ ٹکر سے اس کا سر پھٹ گیا تھا۔ وہ ایمبولینس پر ہی ہسپتال چلا گیا تھا۔ اس کے پاس مزدوری کے پیسے تھے جو اس نے زخمی کی ادویات پر خرچ کر دیے۔

Read more

چیخیں تو نکلیں گی

نون لیگ نے ملک برباد کر دیا۔ نواز شریف تین ہزار ارب کھا گیا۔ ملک کا بچہ بچہ قرض میں جکڑا گیا ہے۔ کنٹینر پر چڑھے خان کا بیانیہ ہمارے اذہان میں نواز شریف کے خلاف نفرت بھرتا چلا گیا۔ نواز شریف اقتدار میں آیا تھا تو ہم تواتر سے یہ سن رہے تھے کہ…

Read more

میاں صاحب کی گاڑی اور پاکستان

میاں صاحب سے مراد ہمارے محترم میاں نواز شریف نہیں ہیں۔ میاں نواز شریف اس طرح کی گاڑی چلانے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے نہ ہی اس طرح کی سڑکیں ان کی شایان شان ہو سکتی ہیں۔ وہ تو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے۔ شہزادے نہیں تھے مگر زندگی شہزادوں کی طرح گذاری۔ اپنے ساتھ ساتھ آپ کے اور میرے لئے بھی ایسی سڑکیں اور موٹروے بنائے جہاں میرے دوست ملک ظفر نے اپنی پرانی سوزوکی ایک سو چالیس کی رفتار سے بھگادی اور چالان ہونے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گئے۔ بھلا پانچ سال پرانے ٹائر کتنی دیر نئے موٹروے کی رگڑ برداشت کرتے۔

Read more

عورتیں تو ظلم نہ کریں

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت صدیوں سے ایک کام تواتر کے ساتھ کرتی چلی آئی ہے اور وہ کام ہے عورت کی تذلیل۔ عورت کو ستی کرنے کی رسم سے لے کر ساری ساری عمر بیوگی میں گزارنے کی روح فرسا روایات برصغیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ روایات آج بھی اس ظالم، بدمعاش اور بدکردار معاشرے کا منفی چہرہ ہیں۔ اسلام، بدھ ازم اور بابا گرونانک ان رسومات کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ یہ معاشرہ جو ہندو، بدھ، سکھ اور دیگر مذاہب میں تقسیم ہے لیکن عورت کی تذلیل میں یکجا ہے۔ حالانکہ برصغیر میں ان مذاہب کے جانکاروں نے ان رسومات کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے لیکن یہ بدمزاجی اور بدمزگی شاید ہمارے ڈی این اے تک سرائیت کر چکی ہے۔

Read more

چور، تھانیدار اور سیاستدان

میں ان دنوں ڈسٹرکٹ ہسپتال کا ایم ایس تھا۔ یہ ہسپتال گوناں گوں مسائل کا شکار تھا۔ جیسا کہ پاکستان کے دیگر ہسپتال ہیں۔ حکومت نے ہسپتالوں کو سڑکوں اور نالیوں کے مقابلے میں شودر سمجھا ہوا ہے۔ تعلیم اور صحت کے لئے مختص بجٹ اس بات کا گواہ ہے۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹر کم تھے۔ مریض بہت زیادہ۔ سرکاری اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے مریض اس سے بھی زیادہ۔ موخّر الذکر ہسپتال میں علاج سے زیادہ پروٹوکال کے چکر میں ہوتے۔ یہ مریض زیادہ تر جسمانی کمزوری کے علاج کے لئے ہسپتال آتے تھے حالانکہ۔ زیادہ تر سرکاری ملازم ذہنی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ان کی کمزوری کا علاج آج تک دریافت نہیں کرسکا البتہ ہسپتال میں آئی طاقت کی ساری ادویات انہی ذہنی معذوروں پر خرچ ہو جاتی تھیں۔ غریب مریض بے چارے دیکھتے رہ جاتے۔

Read more

مودی کا ہیرو، ہمارا محسن

ابھے نندن ہمارا ہیرو ہے۔ اس نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے۔ جس کا ملبہ ہوا میں تحلیل ہو گیا اور اس کے بے نام پائلٹ کی راکھ دریائے سندھ میں جا گری۔ مودی نے اپنے ہیرو کو واپس آنے پر مبارک باد دی ہے۔ یہ ہیرو پاکستان پر حملہ کرنے آیا…

Read more

بے گناہوں کو سزا دینے کے چند واقعات

مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار میں مجسٹریٹ کی عدالت میں کسی میڈیکولیگل کیس کی گواہی کے لئے آیا ہوا تھا۔ تین چار ملزم جو ہتھکڑی میں تھے اور جیل سے لائے گئے تھے، صاحب بہادر کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ صاحب نے فائل تک دیکھنا گوارا نہیں کیا اور ریڈر کو تین ماہ بعد کی تاریخ ڈالنے کا حکم جاری کردیا۔ ایک ملزم کی قوت برداشت شاید جواب دے چکی تھی۔ اس نے توہین عدالت کا مرتکب ہوتے ہوئے بلند آواز میں کہا ”صاحب پانچ سال ہو گئے ہیں ؛ کبھی تیسرے کبھی چھٹے مہینے میری پیشی لگتی ہے اور بغیر کچھ کہے سنے اگلی پیشی پڑ جاتی ہے۔ میرا قصور کیا ہے“ ۔

صاحب نے ترس کھا کر ریڈر سے فائل دیکھنے کو کہا۔ اس پر چار گرام ہیروئین رکھنے کا جرم تھا جس کی سزا شاید تین سال قید تھی۔ ملزم پانچ سال سے جیل میں تھا۔ صاحب بہادر نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ اس کی برآمدگی بڑھا دوتاکہ میں اس کی سزا کو جسٹیفائی کر سکوں۔

Read more

پاکستانی منڈی اور سعودی شہزادہ

محمد بن سلمان ایک شہزادہ ہے جیسے شہزادے ہوتے ہیں۔ وہ ولی عہد سلطنت بھی ہے۔ وہ سلطنت جس کا شاہ فیصلے کرنے سے معذور نظر آ رہا ہے یا معذور کر دیا گیا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اس نے جس طرح راستے کے پتھر ہٹائے ہیں وہ کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ وہ سعودی روایات سے ہٹ کے اوائل عمری میں حکومتی امور میں مدخل ہوا ہے۔ اپنے ہمعصر شہزادوں کو جس طرح ناکوں چنے چبوائے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر قیمت پر مخالفین کو راستے سے ہٹانا اس کے لئے معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ جیسے طاقتورسربراہِ مملکت کے ساتھ تلواروں کا رقص اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ آپ طاقت کی زبان اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

Read more

مار نہیں پیار ۔ سدرہ کی کہانی

مجھے جواب طلبی کا تحریری نوٹس موصول ہوا تو میں برداشت نہ کر سکی۔ اس سے پہلے دوبار زبانی کلامی مجھے وارننگ دی جا چکی تھی۔ مجھے یہ کہا گیا تھا کہ میرا ڈسپلن نہیں۔ کلاس پر میرا کنٹرول نہیں۔ میری کلاس کے بچے اودھم مچاتے ہیں۔ شور کرتے ہیں۔ کلاس روم سے نکل کر ونگ میں بھاگے پھرتے ہیں۔ میں ان بچوں کو تمیز نہیں سکھا سکی۔ ان کو قواعد و ضوابط کی پابند نہیں بناسکی۔ یہی حال رہا تو آپ کی سالانہ ترقی روک لی جائے گی۔

میں نے پرنسپل کو بتایا کہ دو سال پہلے میں اس کلاس کی انچارج بنی تھی۔ دو سال پہلے اس کلاس کے نوے فیصد بچے ڈی اور ای گریڈ لیتے تھے، اسی کلاس کے اب نوے فیصد بچے اے اور بی گریڈ میں آگئے ہیں۔ اسی کلاس نے امسال سکول بزم ادب میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس کلاس کے دو بچے سکول کرکٹ ٹیم میں شامل کر لئے گئے ہیں اور ایک بچے نے اپنے گریڈ کے تمام سیکشنز میں ٹاپ کیا ہے پھر بھی آپ نے میری جواب طلبی کی ہے۔ پرنسپل ابھی نیا آیا تھا۔ ریٹائرڈ فوجی تھا۔ کیڈٹ سکول میں پڑھاتا رہا تھا۔ اس نے میرے جواب کی ریکارڈ سے تصدیق کی اور مجھے وارننگ جاری کردی۔

Read more