دسمبر وہ نہیں آیا۔

دسمبر کبھی خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم خوبصورت تھے۔ جاڑا تب اچھا لگتا تھا جب ہمیں گرم کپڑے پہننے کا شوق تھا۔ تب برفباری دیکھنے دور راز نکل جایا کرتے تھے۔ سفر جتنا مرضی کٹھن ہوتا راستے خوبصورت لگتے تھے۔ ان دنوں خزاں کا موسم اور پیلے پتے سب رنگوں کو مات کرتے دکھائی دیتے۔ ہم پہاڑوں پر پیلے اور زردی مائل پتے گھنٹوں دیکھتے رہتے۔

Read more

چوتھی نسل کی مایوسی

نپولئین بونا پارٹ تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جو کبھی بھول نہیں سکتا۔ اس کی بے شمار فتوحات نے اسے مطلق العنان حکمران اور ہٹ دھرم جرنیل بنا دیا تھا۔ وہ ناقابل شکست تھا اور یہی اعتماد اس کی آخری شکست کا باعث بنا۔ نپولئین کی رشیا پر چڑھائی بنیادی طور پر روس کی فتح سے زیادہ روسی حکمران کو اپنا مطیع کرنا مقصود نظر آتا ہے جو کہ برطانیہ کے ساتھ روس کے تجارتی اور فوجی روابط کو

Read more

کچھ یادیں

جون ایلیا اپنی وفات سے ایک سال پہلے ہماری دعوت پر ایک مشاعرہ پڑھنے جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال تشریف لائے تھے۔ یہ مشاعرہ سٹیزنز فورم خانیوال کے زیرنگرانی ہوا تھا۔ ڈگری کالج خانیوال کے لان میں منعقدہ اس مشاعرے میں پہلی بار خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ فرشی نشست تھی اور سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ رات گئے مشاعرہ چلتا رہا۔ جب جون ایلیا پڑھنے بیٹھے تو

Read more

چلتا پھرتا ٹی ہاؤس

یوں تو ریل کی سیٹی ہماری گھٹی میں شامل ہے کہ بابا مرحوم ایک زمانے ریل کے نوکر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں کوئی کلاک نہیں تھا۔ گاڑیوں کے ٹائم پر ناشتہ ہوتا۔ ماں آواز لگاتی اٹھو! ریل کار گزر گئی، تم ابھی سو رہے ہو۔ لنچ تیزگام کی آمد پر ہوتا۔ ڈنر خیبر میل کے ڈیپارچر پر۔ بچپن میں چھپن چھپائی ریل کے پرانے بوسیدہ انجنوں کے بیچ ہوا کرتی۔ خیر یہ تو غیر ضروری تمہید باندھی گئی

Read more

اندھے لوگ اور حکومتیں

لوگ اندھے ہیں نہ بہرے ہیں یہاں پر لیکن بھوک نے لوگوں کو پاگل سا بنا رکھا ہے ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو راتوں رات دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور حکومت بدلتے ہی راتوں رات اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہاں لوگ ایک دن پہلے تک محب وطن ہوتے ہیں اور حکومت بدلتے ہی غدار قرار پاتے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمے بنتے ہیں۔ وہ منی لانڈرر اور ہیروئن فروش نکل آتے

Read more

سیاست: اضطراب بڑھتا جا رہا ہے

اضطراب ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ تناؤ کی کیفیت پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ وہ ٹاک شوز جو بیکار کی باتوں سے بھرے ہوتے تھے اور جن کو دیکھنے والوں کی تعداد مسلسل خسارے کا شکار تھی، پھر سے عوام کی نگاہ شوق کا مرکز بنے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی حالات ایک بار پھر وہیں ڈی چوک پر کھڑے ہمارے شکست و ریخت سے دوچار بھونڈے نظام کو للکارتے نظر آتے

Read more

سی پیک اور گدھے

پاکستانیو گھبرانا نہیں۔ سنو میں نہیں چھوڑوں گا، چوروں کو ڈاکووں کو۔ یہ بڑی بڑی چوری کی گاڑیوں پر پھرتے ہیں۔ ہٹے کٹے ہیں۔ بیماری کے ڈرامے کرتے ہیں۔ ان کے تو پلیٹ لٹ ہی اتنے شیطان ہیں، قابو میں نہیں آتے، کبھی اوپر جاتے ہیں کبھی بالکل نیچے آ جاتے ہیں، یہ خود کہاں قابو آئیں گے۔ ہم شریف لوگ ہیں یہ مافیا ہیں۔ مافیاز نے پاکستان کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ کوئی چینی مافیا ہے،

Read more

ڈاکٹر سارہ گل: پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر ڈاکٹر کو سلام

سینٹ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں ناخواندہ بے روز گار افراد کی تعداد چودہ فیصد اور پڑھے لکھے افراد کی تعداد چوبیس فیصد ہے جن میں خواتین چالیس فیصد سے زیادہ ہیں۔ بے روز گار ڈاکٹرز کا ملکی اور صوبائی سطح پر کوئی ڈیٹا مرتب نہیں کیا گیا۔ پچھلے دنوں خانیوال کے چھوٹے سے ضلعے میں کوئی تیس سیٹوں کے لئے بارہ ہزار ڈاکٹروں نے جن میں مردو خواتین ڈاکٹر شامل تھے، انٹرویو کے لئے لائنوں میں

Read more

سموگ اور سگریٹ

لاہور ملتان موٹر وے پر گزشتہ ماہ سفر کے دوران میں دیکھ رہا تھا، دونوں اطراف جگہ جگہ آگ لگی ہوئی تھی۔ یہ کوئی حادثاتی آگ نہیں تھی جو کسی گھر، دکان، بلڈنگ یا فیکٹری کو لگ جاتی ہے بلکہ یہ آگ کسان اپنی فصلوں کی کٹائی کے بعد باقی ماندہ بھوسے کو لگا دیتے ہیں۔ سموگ آج خاص طور پنجاب کا بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہم اس بات پر ہلکان ہو رہے ہیں کہ لاہور دنیا کا سب

Read more

راشد منہاس ہیرو اور مطیع الرحمان زیرو

راشد منہاس پاک فضائیہ کا وہ بہادر سپوت ہے جس پر قومیں فخر کیا کرتی ہیں۔جن کے نام کی مالا جپتی ہیں۔جنہیں چراغ بنایا جاتا ہے اور جن کے کارناموں کو مثال بنا کر نوجوانوں میں وطن کی آن پر مرمٹنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔راشد منہاس نوجواں فلائیٹ افسر جو ابھی ٹرینگ کے مراحل میں تھا اور ابھی پختہ کار نہ ہواتھا،جس کی عمر ابھی بیس سال تھی اور نوکری شروع ہوئے بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے وطن پر

Read more

خانیوال میں جمہوریت کی لاش

آج مورخہ سولہ دسمبر خانیوال کے ضمنی الیکشن میں پاکستانی جمہوریت کی گلی سڑی لاش کا جنازہ دھوم دھام سے اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ سانحہ علامتی ہے۔ وطن عزیز بہت سے سانحات کا سامنا کر چکا۔ آج سے پچاس برس قبل ایک سانحہ ہوا تھا جس کو سانحہ ماننے سے کچھ لوگوں نے انکار کردیا۔ ان مفاد پرستوں اور خودغرضوں کی توجیح یہ تھی کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔ اچھا ہوا ڈھاکہ میں ہر سال سمندری طوفان آتے

Read more

چوری اور سینہ زوری

فیصل آباد میں دو خواتین کو چوری کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ خواتین غریب ورکر،کچرا چنتی تھیں یعنی ہمارا گند صاف کرتی پھرتی اور ان میں سے اپنا رزق تلاش کرتی تھیں۔ ہو سکتا ہے دکانداروں کا تحفظ درست ہو۔ وہ چور ہوں یا دن دیہاڑے کھلی آنکھوں چوری کی جرات رکھتی ہوں مگر انصاف کے تقاضے پورے کرنا کسی کو سزا دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے بھلے وہ سمری ٹرائل کورٹ ہی کیوں نہ

Read more

مرتضی اور عطا آباد جھیل

مرتضی ٰ ایک سمارٹ ذرا دبلا پتلا انسان ہے۔ وہ ہنزہ، نگر اور شاہراہ ریشم پر سیاحوں کی خدمت کرتا ہے۔ مخلص، جیسا کہ وادی کے دیگر لوگ ہوتے ہیں، محنتی، ایماندار اور خدمت گزار ڈرائیور ہے۔ وہ جیپ چلاتا ہے۔ عطا آباد جھیل کو کراس کرتے ہوئے جب میں نے اسے ایک عمومی سوال کیا ”عطا آباد کے متاثرین کو حکومت نے کوئی امداد دی“ ؟

جواب دینے میں مرتضی ٰ پہلے تو ہچکچایا، میرے سوال دہرانے پر اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ وہ جذباتی سے لہجے میں بولا ”میں خود عطا آباد کے متاثرین میں ہوں۔ شکر ہے میرے بچے اور میں خود محفوظ رہے مگر ہمارا گھر بلکہ ہمارا گاؤں اس خونی جھیل نے اپنی خون آشام لہروں میں لپیٹ لیا۔ ہم سب گاؤں والے اس آفت کا شکار ہوئے۔ اور کئی سال بے یارو مددگار رہے۔ پانچ سال کے بعد حکومت نے ہمیں آٹھ لاکھ روپے دیے ہیں۔ ان پیسوں میں گلگت میں ایک مرلہ زمین بھی مل جائے تو غنیمت ہے“ ۔ میں جب بھی کوئی سیاح ادھر لے کر آتا ہوں مجھے اپنا گھر اور گاؤں بہت یاد آتے ہیں۔

Read more

ہنزہ کے قلعے اور زندان

صبح نماز کے لئے اٹھے تو طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے کی خاطر ہوٹل کی ٹیرس پر جا بیٹھے۔ ٹیرس پر چھوٹو کو بیٹھا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ یہ تو چھٹی کے دن، بارہ بجے سے پہلے کبھی اٹھی ہی نہیں تھی۔ میں نے پوچھا ”اتنی جلدی کیسے اٹھنا ہوا“ کہنے لگی میں تو ابھی سوئی ہی نہیں۔ ساری رات چاند کا نظارہ کرتی رہی ”۔ رات ویسے بھی بہت چھوٹی تھی۔ ساڑھے چار بجے سورج نکل آتا ہے۔ ہم

Read more

گلگت،ہنزہ اور پرتاب پل

جگلوٹ کی موجودہ ترقی بھی پاک آرمی کے بیس کیمپ کی وجہ سے ہے۔ یہ ٹاؤن دفاعی نقطہ نظر سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سیاچین کی حفاظت کا کچھ بندوبست یہاں سے بھی کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بھی یہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انیسویں صدی میں جگلوٹ کو دریائے سندھ کے پار ”بونجی“ نامی گاؤں جو مہاراجہ کشمیر کا ایک فوجی پڑاو تھا، سے ملانے کے لئے ایک فیری سروس چلتی تھی بعض میں مہاراجہ

Read more

بابو سر ٹاپ سے خنجراب پاس تک

موٹر وے لاہور سے براستہ ہزارہ موٹر وے آپ نیشنل ہائی وے پندرہ پر سفر کرتے مانسہرہ سے بالاکوٹ، کیوائی، کاغان اور ناران سے گزرتے ہوئے، جھیلوں، آبشاروں اور جھرنوں کے درمیان دریائے کنہار کے کنارے سفر کرتے مانسہرہ سے بابو سر ٹاپ تک کوئی سو میل کا سفر کر کے ”بابو سر ٹاپ“ تک پہنچتے ہیں۔ بابو سر ٹاپ کوئی 13700 فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور وادی کاغان کا سڑک سے مربوط بلند ترین مقام ہے۔ یہ

Read more

نہیں ممکن وطن میں ظلم سہنا

سنہ 2014 کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تو کچھ حلقے پریشان دکھائی دیے۔ آج کی حکمران پارٹی نے احتجاج شروع کر دیا۔ یہ احتجاج مذہبی رنگ اختیار کر گیا کہ ایک مذہبی جماعت کے سربراہ شوق شہادت میں غیر ملکی آسائش کو لات مار کر وطن عزیز کا درد لیے پاکستان آئے اور لاؤ لشکر لے کر عمران خان کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کر دی۔ اس جماعت کا لاؤ لشکر وہ خواتین اور ان کے معصوم بچے تھے جن کو ڈھال بنا کر پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس پر چڑھائی کی گئی۔ یہ مذہبی رہنما ملک میں خاصی عزت کے حامل تھے اور عوام ان کا احترام کرتی تھی۔ یہ اس سے قبل بھی ایک بار اسلام آباد پر چڑھائی کر چکے تھے۔ عسکری اداروں کی مداخلت اور سنگین دہشت گردی کے واقعات کے سبب ان کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

Read more

میری تقدیر نہ بدلے گی کبھی

کچھ لوگ حکومت کرتے ہیں۔ کچھ لوگ حکومت سہتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند پر سوسال انگریز حکومت کرتا رہا۔ پورا برصغیر حکومت سہتا رہا۔ انگریز ایک نظام کے تحت حکومت چلاتا تھا۔ اس نظام حکومت کو جس میں باہر سے آ کر چند لوگ، چند سو یا چند ہزار لوگ حکومت کا انتظام سنبھالتے ہوں، حکومتی بندوبست کی پالیسیاں جسے قانون کہا جاتا ہے، بناتے ہوں، ایک مخصوص سوچ اور دائرہ کار کے اندر محکوموں کو زندہ رہنے اور

Read more

ریپ، ٹو فنگر ٹیسٹ اور عورت کی عزت نفس

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ نے جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے مروجہ طبی معائنے کو عورت کی عزت نفس کے متصادم قرار دیتے ہوئے ٹو فنگر ٹیسٹ کو منسوخ کر کے بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق پنجاب حکومت کو قانون وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔ جنسی تشدد کی شکار خواتین کے لیڈی ڈاکٹر سے معائنے کے طریق کار کو درست نہ سمجھتے ہوئے شاید یہ تصور کیا گیا ہے کہ دراصل ریپ کنواری لڑکی کی عزت نفس کو اتنا مجروح نہیں کرتا جتنا لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ جو یہ بتاتی ہے کہ ریپ شدہ خاتون کی وجائنا میں دو انگلیاں داخل کی جا سکتی ہیں اور اگر کی جا سکتی ہیں تو اس عمل میں لڑکی کو درد ہوتا ہے یا نہیں۔

دوسرا یہ کہ لڑکی کا پردہ بکارت محفوظ ہے یا پھٹا ہوا۔ ان کے مطابق شاید یہ تصور کیا گیا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی رپورٹ سے ملزم فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ چونکہ لڑکی کا پردہ بکارت پھٹا ہوا ہے اور اس کی وجائنا میں دو انگلیاں بغیر درد کے ڈالی جا سکتی ہیں لہاذا لڑکی اخلاقی طور پر کرپٹ ہے اور اس نے تو لڑکی کی مرضی سے اسے ریپ کیا ہے۔

Read more

سوات کے دکاندار کی ایمان داری

مینگورہ شہر بہت ہی رش والی جگہ ہے۔ اگرچہ پاکستان کے دوسرے شہروں کی مانند یہاں کی گلیاں اور بازار بہت کشادہ نہیں مگر لوگوں کے دل کشادہ اور مہمان نوازی، خلوص اور محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں بہت حیران ہوا جب میں نے بازار میں تقریباٰ ایک کلومیٹر لمبی گاڑیوں کی قطار دیکھی۔ حیرت انگیز طور پر ڈراؤر اپنی لین میں صبر کے ساتھ چل رہے تھے۔ کسی نے لائن توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی۔

Read more

شرابی ڈرائیور اور پولیس

کراچی پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ شراب پی کر گاڑی چلانے والوں کے چالان کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے سانس سونگھ کر شراب کا پتہ چلانے والا آلہ خریدا جا رہا ہے۔ پولیس مین وہ آلہ ڈرائیور کے ناک یا منہ کے سامنے کرے گا۔ یہ آلہ بتائے گا کہ ڈرائیور نے شراب پی ہوئی ہے یا نہیں چالان تو پہلے بھی ہوتے تھے اور پاکستان میں شراب پر ویسے بھی پابندی ہے، شراب پی کر گاڑی،

Read more

وائرس بند کمرے میں پھیلتا ہے

کرونا کی دوسری لہر برطانیہ میں پوری طبی سفاکی کے ساتھ شہریوں کو گھائل کرتی نظر آتی ہے۔ لندن سے لوگ اپنا سامان سمیٹے بھاگ رہے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن، ائرپورٹ اور سڑکیں تک مسافروں سے بھر چکی ہیں۔ دوسری لہر کا وائرس بھی پہلے کی نسبت بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ مہلک شکل اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کی طرح پاکستان نے بھی برطانوی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ شہر کے شہر ویران ہوئے جاتے ہیں۔

پھر یہ اتری ہے وبا
شہر بھی زندان ہیں

Read more

کوٹ کا ناپ اور درزی

گزشتہ سال ایک دوست نے بڑی محبت سے گرم سوٹ کا کپڑا تحفتاٰ بھجوا دیا۔ امپورٹڈ کپڑا تھا، میڈ ان اٹلی۔ خوشی خوشی سلوانے درزی کے پاس جا پہنچا۔ کئی سالوں سے کوئی نیا سوٹ نہیں سلوایا تھا، اس لیے درزی کے بھاؤ کا پتہ نہیں تھا۔ سوٹ کی سلوائی سن کر دماغ چکرا گیا۔ اوپر سے درزی کا طعنہ ”ڈاکٹر صاحب یہ سلوائی آپ کی ایک آپریشن فیس سے بھی کم ہے“ ۔ دل میں خیال آیا ڈاکٹر کی بجائے درزی ہی بن جاتے تو بہتر ہوتا۔

ناپ دینے کا وقت آیا تو ایسے لگا جیسے میں بکرا ہوں اور قربان گاہ کی طرف لایا جا رہا ہو۔ پہلے تو موصوف نے پتلون کے علاوہ میرے سارے کپڑے اور جوتے تک اتروا دیے۔ ایسا سلوک اس سے پہلے باہر جاتے ہوئے امیگریشن حکام سے کئی بار کروا چکے تھے۔ پھر ہمیں ہاتھ اوپر اٹھانے کو کہا گیا جیسے کوئی فوجی شکست کے بعد اپنے آپ کو سرینڈر کرتا ہے۔ دائیں جانب، بائیں جانب، آگے اور پیچھے مڑنے کو کہا گیا۔ لمبے سانس لے کر چھاتی پھیلائی گئی جو کوئی زیادہ نہیں پھیلی۔ زور سے چھاتی پھیلانے کی کوشش میں کھانسی کا دورہ اٹھا جو کافی دیر میں ٹھیک ہوا۔

Read more

ناگن، نیولہ اور قلم کا سانپ

سانپ کے پھن اور قلمکار کے قلم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ کچھ سانپ بہت زہریلے ہوتے ہیں جیسے کوبرا۔ اگر لڑ جائے تو زندگی بچانی مشکل ہو جاتی ہے۔ کچھ قلمکار بھی اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ ان کے قلم سے نکلا زہر بہت سوں کو گھائل کر جاتا ہے جیسے لاہور کے ایک صحافی۔ سانپ تو اسی کو کاٹتا ہے جو اس کے راستے میں آ جائے۔ یہ صحافی مگر کاٹنے کے لئے ہر کسی کے راستے میں

Read more

پاکستانی سائنس

یہ ساٹھ اور ستر کی دہائی کی باتیں ہیں۔ خانیوال سولہ بلاکوں پر مشتمل تھا۔ جس کے پہلے آٹھ بلاک ہی آباد تھے۔ شہر سے باہر ایک کچی کالونی جو نشیبی علاقے پر مشتمل تھی، غریب آباد کہلاتی تھی۔ ایک باقاعدہ کالونی نمبر ایک زیر تعمیر تھی۔ غریب آباد کے ایک طرف فصلیں تھیں جنہیں ایک نالہ سیراب کرتا تھا۔ یہ نالہ کالونی اور غریب آباد کی حد بندی کرتا ہوا موجودہ سٹیڈیم تک آتا تھا اور ریلوے لائن تک زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔

Read more

کچھ مزید باتیں جون ایلیا کی

وہ شام جون ایلیا کے نام تھی اور آب حیات پینے کے بعد جون نے حیات نو پالی تھی۔ اس کے منحنی لاغر چہرے پر تمازت آ گئی تھی۔ موسم اگرچہ گرم تھا مگر اس شام ہلکی آندھی آئی تھی جو مشاعرہ شروع ہونے تک متوازن قسم کی ہوا میں بدل چکی تھی۔ مشاعرے کے لئے کالج کے وسیع لان میں فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ چاروں طرف پنکھے لگائے گئے تھے۔ کالج کے اردگرد کی زمین ریتلے ٹیلوں پر

Read more

جون ایلیا خانیوال میں

سٹیزنز فورم، خانیوال کی ایک ادبی، غیر سیاسی، سماجی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد لوگوں میں سماجی شعور پیدا کرنا اور ماڈرن سوک لائف کی طرف، اپنی مدد آپ کے تحت راغب کرنا ہے۔ تنظیم نے خانیوال میں اسی اصول کے تحت مرکزی قبرستان کی چار دیواری اور تین ایسے پارک ڈویلپ کئیے ہیں جو حکومتی اداروں کی بے توجہی کا شکار تھے۔ زلزلہ زدگان کے لیے سامان کے تین ٹرک، سیلاب زدگان کے لیے ادویات کی کھیپ بھجوانے کے علاوہ بہت سے ادبی پروگرام، مشاعرے اور مذاکروں کا اہتمام کرا چکی۔ جون ایلیا کے ساتھ ایک شام کا اہتمام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جو بعد ازاں تاریخی حیثیت اختیار کر گئی کہ جون بھائی کا جنوبی پنجاب کا یہ پہلا اور آخری مشاعرہ قرار پایا۔

Read more

اسلامی بیماریاں

کرونا پہلے پہل چمگادڑ کا سوپ پینے سے ہوتی تھے۔ چینی دہریے جو ہر بلا کھا جاتے ہیں اللہ کی پکڑ میں آ گئے تھے۔
یورپ اور امریکہ میں سور کا گوشت کھانے سے یہی بیماری پھیل گئی۔ کئی علاقوں میں شرابی اس عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
پاکستان کے سچے پکے مسلمانوں میں یہ بیماری بقول ایک ممتاز عالم دین ماڈرن لڑکیوں میں بے حجابی اور فحاشی سے پھیلی۔ کیونکہ ایسی عریانی اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔

Read more

اہلیہ کی بے ساختہ خوشی: قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے

کرونا کے خوف نے انسان کو گھروں ہسپتالوں اور کونے کھدروں میں چھپنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کو گلے ملنا، ہاتھ ملانا، بچوں کا منہ چومنا اور بیگمات، گرل اور بوائے فرینڈ سے ملنا تک ختم ہو گیا ہے۔ بھائی، بھائی کو اور ماں اپنے بچوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہے۔ آلات زر یعنی سٹاک مارکیٹس ڈوبتی جارہی ہیں۔ کروڑوں ڈالر کمانے والی ایرلائینز، بس، وین اور ٹیکسی سروس بند ہے۔ گاڑیاں اور موٹر

Read more

ٹک ٹاک کا کاروبار، نکاح متع اور ہتھ چھٹ حکومت

نیا سال آتش بازی اور موسیقی کی تیزلہروں کے ساتھ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور امریکہ سے ہوتا ہو سخت سردی اور دھند میں پاکستان آیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سردی جنوری کے مہینے غالب رہے گی، مگر فواد حسن فواد اور سعد رفیق کی بیرک کے باہر لگی آگ کا ’سینک‘ شہباز شریف تک جا پہنچا۔ بقول سعد رفیق اس کو چوٹ لگی۔ لاہور سے روزانہ قومی اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کرانے اسے اسلام آباد لایا جاتا ہے اور اجلاس

Read more

اور چوائس بھی کیا ہے؟

ایک سال اور بیت گیا۔ یہ سال ہزاروں بچّے یتیم کر گیا۔ ہزاروں ماؤں کی گود اجڑ گئی۔ لاکھوں عورتیں بیوہ ہوگئیں گزشتہ سال بھی تو یہی ہوا تھا۔ یہی ہر سال ہوتا آیا ہے۔ ہزاروں مائیں زچگی کا عمل مکمل نہیں کر پاتیں اور زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ ایک لاکھ میں سے ایک سو اٹھتر مائیں زچگی کے دوران اپنی جان دے بیٹھتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ گزشتہ

Read more

مشرف کو پھانسی کون دے گا؟

مشرف کا دور حکومت بھی، ایوب، یحیٰ اور ضیا کی طرح شخصی آمریت کا دور تھا۔ آمریت ہمیشہ جمہوریت کو روند کر آتی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے ضیا نے بھٹو کا تختہ الٹا اور مشرف نے نواز شریف کا، در حقیقت دونوں نے کروڑوں پاکستانیوں کی گردن پر چھری چلائی اور بنیادی حقوق پامال کئیے۔ ایک نے بھٹو کو پھانسی لگائی اور دوسرے نے نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی۔ دونوں سزائیں معزز عدالتوں نے سنائیں۔

Read more

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

زرد پتوّں کا موسم یہ کہتا ہے، جمہوریت کا نام نہ لیں، آمریت کے ہاتھوں پر بیعت کر لیں۔ آمریت کا ہر حکم مانیں۔ اپنی زبانوں پر آمریت زندہ باد کا ورد کریں۔ ایوب، یحیٰ، ضیا اور پرویز مشرف کی زندگی پر مبنی فلمیں بنائیں، نصاب میں ان کے کارناموں پر مبنی مضامین شامل کریں۔ ان کی تصاویر شہر کے چوکوں پر آویزاں کروائیں۔ ریڈیو ٹی وی پر آمریت کے گیت گائیں۔ جمہوریت کا نام لینا قابل دست اندازی پولیس

Read more

توسیع کا تانگہ کچہری سے خالی لوٹ آیا

ہمارے محبوب لیڈر پیرانِ پیر، شیخ الشیوخ ، جناب شیخ رشید صاحب فرماتے ہیں، اور جو کچھ وہ فرماتے ہیں، ہم شوق سے گوش گزار کرتے ہیں۔ ہم ان کی باتوں پر غور و خوض کرتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ ہمیں ان کی سیاسی و عسکری بصیرت پر اندھا اعتماد ہے کیونکہ وہ دیوار کے پیچھے تک دیکھ سکتے ہیں۔ باتوں کی جنگ کے فیلڈ مارشل ہیں۔ باتوں باتوں میں دنیا فتح کر چکے ہیں۔ اگر آپ کسی ذہنی

Read more

بل فائیٹنگ کا سیاسی ایڈیشن

پرویز مشرف والا کٹا نہ کھولا جائے۔ پرویز مشرف کا کٹا کھلنے سے نہ ٹماٹر سستے ہوں گے نہ پیاز۔ چودھری شجاعت صاحب کو اللہ صحت عطا کرے، ان کے بغیر سیاست کا میدان بالکل ویران بیابان پڑا ہوا تھا۔ سیاسی محفلیں بالکل پھیکی، بور اور روح سے عاری ہو چکی تھیں۔ ایک شیخ رشید تھے دلوں کو گرمانے والے، ان کو بھی دل کا دورہ پڑ گیا۔ شیخ رشید کی بیماری نے دو تین روز عوام اور چینلز کو

Read more

نواز شریف سٹریچر پر لیٹ کر جہاز پر سوار کیوں نہیں ہوا؟

عوام اس بات پر غصے میں ہے یا پریشانی سے دو چار ہے کہ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے، ٹماٹر تین سو روپے کلو ہو گیا ہے جبکہ وزیر اعظم کو معاشی ٹیم نے یقین دلایا ہے کہ ملک معاشی ترقی کی منزلیں بتدریج طے کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ عمران خان کے معاشی وژن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ورنہ اسحاق ڈار نے تو گزشتہ حکومت کے دوران ملک کو معاشی طور پر پچاس سال پیچھے

Read more

کسی کا حکم اور اطاعت گزاروں کی بھیڑ

ساری ہوائیں۔ ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں۔ کہ ان کی سمت کیا ہے۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کبھی جمود کا شکار نہیں رہا۔ جمود کو لوگ سٹے بلیٹی کہتے ہیں۔ یہاں ٹھہراؤ کبھی آیا ہی نہیں۔ یہاں شب بھر میں مسجد بنانے والے ہزاروں کی تعداد میں ایک اعلان پر اکٹھے ہو سکتے ہیں، نمازی، آپ کو خال خال ہی نظر آئیں گے۔ یہاں اسحاق خان اور غلام احمد جیسے غلام آپ کو حکمرانی کرتے نظر آئیں گے تو

Read more

جمہوری کہکشاں اور بلیک ہول

پاکستان میں جمہوریت ہر دس سال کے بعد بلیک ہول میں گر جاتی ہے۔ پھر نئے سرے سے ایک کہکشاں سجا ئی جاتی ہے۔ نیا نظام شمسی ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس نظام شمسی میں ایسے ستارے ترتیب سے لگائے جاتے ہیں کہ پانچ چار سال میں کئی ستارے تو بقا کی منزل پالیتے ہیں مگر وہ چاند جس کے جھرمٹ میں ستارے ترتیب پائے ہوتے ہیں، اسے گرہن لگ جاتا ہے، کبھی آدھا تو کبھی پورا۔ لیاقت علی خان

Read more

عمران دھرنے کو ملک کے لئے فائدہ مند بنا سکتے ہیں

فضل الرحمٰن کے بارے آپ کیا سوچتے ہیں؟ آپ کی نظرمیں وہ ایک مفاد پرست ملّا ہے یا روٹی پر نوکری کرنے والا مولوی۔ حکومت کے بغیر اس کا دم گھٹتا ہے، اس کی طبیت ناساز رہتی ہے، اسے حکومت نہ ملنے کا دکھ ہے یا اسلام آباد کا گھر چھینے جانے کا، سرکاری پروٹوکال اور گاڑی کا غم ستا رہا ہے یا ہٹو بچو کی صدائیں سننے کی عادت اسے بے چین کیے ہوئے ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مولانا عوام

Read more

امیر تیمور کی قبر کشائی اور ہٹلر کی پسپائی

موبائل فون کا الارم مسلسل بج رہا تھا اور میں گہری نیند میں اسے گاڑی کی سیٹی سمجھ رہا تھا۔ اٹھا تو چار بجنے میں صرف دس منٹ باقی تھے۔ گاڑی نے میرا انتظار نہیں کرنا تھا۔ ننگے پاوں واش روم جانے کی غلطی کر بیٹھا۔ وضو کرتے پاوں پھسلا اور دھڑام سے نیچے گرا۔ ایک لمحے کو جیسے ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ سر سے شدید قسم کی ٹیس اٹھ رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے آخری وقت

Read more

امیر تیمور،زرینہ اور تاشقند کی پریاں

لاہور انٹر نیشنل ایر پورٹ سے تاشقند کے لئے ازبک ایر لائین کی پرواز تیار تھی۔ اس تاریخی شہر کو دیکھنے کی آرزو بر آئی تھی۔ ہمارا گروپ دس افراد پر مشتمل تھا۔ ڈھائی گھنٹے میں ہم افغانستان کے اوپر سے پرواز کرتے ہو ئے تاشقند ایرپورٹ پر لینڈ کر رہے تھے۔ امیگریشن کی خجل خواری کے بعد تاشقند کی کھلی ہوا میں زرینہ کی شکل میں معطر ہوا کے ایک پر رومان جھونکے نے ہمارا استقبال کیا۔ وہ ہماری

Read more

کلپنا اور دھرم کی دیمک

میں بچپن سے ہی پھولوں کا دیوانہ تھا۔ گھر کے لان میں مالی کے ساتھ بیٹھ کر پودوں کی تراش خراش میں مالی کا ہاتھ بٹایا کرتا۔ ہماری شام لان میں گزرا کرتی۔ جو پودا مرجھا جاتا ہم اسے نکال کر نیا لگا دیتے۔  میں شوق سے پودوں کو پانی لگاتا۔ مالی کہتا تھا، جو پودا پانی لگانے کے باوجود ہرا نہ ہو، اس کی جڑ میں بیماری لگ جائے یادیمک، وہ ہرا نہیں ہو سکتا۔ ۔  ہمارا لان سرخ

Read more

کوہ سیموائی، ماریا اور فل مون پارٹی

تھائی ایر لائین کی پرواز بنکاک ایر پورٹ پر اتری تو اگلی فلائیٹ میں وقت کم رہ گیا تھا۔ بھاگم بھاگ اس گیٹ کی طرف جا رہے تھے، جہاں بنکاک ایر ویز کا ایک چھوٹا طیارہ مسافروں کو تھائی لینڈ کے جزیرے کوہ سیموائی لے کر جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ یہ صبح کا وقت تھا اور ہم جگہ جگہ امیگریشن حکام کی سخت کارروائیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ آخری سٹیپ میں جوتا پہننے کا بھی وقت نہیں

Read more

کسی کی ماں میلے میں نہ مرے

میلہ اپنے عروج پر تھا۔ لوگوں کا اژدھام تھا۔ شام کی ہلکی ٹھنڈی ہوا کے باجود، پلّو، پسینے میں شرابور تھا۔ اس کے سامنے لکی ایرانی سرکس کے ٹکٹ لینے والوں کا رش لگا ہوا تھا۔ اس کی دائیں طرف موت کا کنواں چل رہا تھا۔ موت کے کنویں کے ٹکٹ بیچنے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے دو نوجوان رقاصائیں سٹیج پر ڈانس کررہی تھیں۔ سب سے زیادہ رش اسی سٹال کے گرد تھا اور اسی

Read more

ناران سے بابوسرٹاپ، جھیلیں اور جھرنے

ہمارا آج ناران میں آخری دن تھا اور وادی کاغان کے بلند ترین درے اور آخری مقام بابو سر ٹاپ جانے کا پروگرام تھا۔ ہم صبح آٹھ بجے ناران سے نکل گئے تھے۔ اگرچہ بابو سر جانے کے لئے آپ اپنی گاڑی بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اکثر لوگ اپنی ہی گاڑیوں پرجاتے ہیں لیکن میں نے یہ سفر جیپ پر کیا۔ سڑک کافی بہتر ہے۔ کہیں کہیں گلیشیرز سڑک روکے ہوئے ہیں۔ سڑک والے حصے کوصاف کرکے گلیشیر

Read more

ملکہ پربت اور دس ہزار فٹ بلند کچّی سڑک

ناران کے گنجان آباد بازار سے نکل کر پل کراس کرتے ہوئے سیف الملوک ندی کے بائیں ہاتھ پہاڑ کے دامن کے ساتھ ساتھ ایک سنگل روڈ جھیل کو جاتی ہے۔ سڑک کے کنارے دور تک نئے ہوٹل بن گئے ہیں اور بہت سارے زیر تعمیر ہیں۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ غور سے دیکھنے پر کہیں کہیں اصلی سڑک کے آثار ملتے ہیں۔ مزید دو تین سالوں میں سڑک تعمیر سے پہلے کی اصل شکل

Read more

ٹراوٹ مچھلی، طالبان اور سفید دیو

شمالی علاقہ جات میں جا کر بھی جس نے ٹراوٹ مچھلی نہیں کھائی گویا اس نے شمالی علاقہ جات، خاص طور پر ناران، سوات اور نیلم ویلی کی بے قدری کی۔ یہ چھوٹے سائیز کی مچھلی جو صرف ٹھنڈے پانی میں رہتی ہے ذائقے اور طاقت میں لا جواب ہے۔ ٹراوٹ مچھلی کی پاکستان میں تین اقسام پائی جاتی ہیں۔ رین بو اور براون انگلستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئی ہیں جبکہ سنو ٹروٹ یہاں کی لوکل مچھلی ہے۔ ان

Read more

جب ناران پریوں کا مسکن تھا

کیوائی سے کوئی پانچ کلومیٹر آگے پارس نام کا ایک چھوٹا سا سٹاپ آتا ہے۔ یہاں بھی کافی ٹورسٹ دم لینے کو رکتے ہیں کہ چائے پانی کرلیں۔ ہم بھی یہاں کچھ دیر کو رکے تھے۔ یہاں سے ایک بار دوستوں کے ساتھ جیپ لے کر شاران گئے تھے۔ اتنا خوبصورت جنگل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم کیمپنگ کا سامان ساتھ لے کر گئے تھے۔ شاران سے بھی اوپر ایک پیدل کا ٹریک ہے لیکن ہماری ہمت

Read more

کاغان کے مسافر

شاہ اسمٰعیل کی قبر سے واپس آیا تو بچّے پریشان تھے، کہ بغیر بتائے نکل آیا تھا اور موبائل بھی کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ ہوٹل کے لان میں ایک فیملی اپنا ناشتا بنا رہی تھی۔ ان کے بچے اوپن ائیر میں ناشتا بننے کے عمل سے اور خوشبودار دھویں سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اس طرح کی ایڈونچر سے میری جان جاتی ہے ڈکّی میں کافی سامان رکھنا پڑتا ہے، بندہ سیر سے زیادہ کھانے پکانے کے چکر میں

Read more

دریچے:مسافر کاغان کے

میاں جی سے کھانا کھا کر نکلے تو چار بج چکے تھے۔ ٹریفک اسی طرح چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی۔ میاں جی سے تھوڑا سا آگے ایک میکڈونلڈ بھی کھل گیا ہے۔ اس کی لوکیشن بھی اچھی ہے اور خاصا وسیع ہے۔ میکڈونلڈ چھوٹو کی فیورٹ جگہ ہے، دیکھتے ہی اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ اس وقت دیر ہو رہی تھی اس لئے واپسی پر رکنے کا وعدہ کرکے آگے نکل گئے۔ صبح سے گاڑی چلا رہا

Read more

دریچے: سفر سے جڑے سفر

خانیوال سے حویلیاں، شاہ مقصود انٹر چینج تک تقریباً چھ سو کلومیٹر، آدھا گھنٹہ بھیرہ رکنے کے باوجود، چھ گھنٹے میں طے کر لیا۔ شاہ مقصود انٹر چینج سے جیسے ہی باہر نکلے، دوطرفہ ٹریفک اور ٹوٹی سڑک نے ہماری سپیڈ کو بریک لگادیے۔ اس دن غیر معمولی طور ٹریفک زیادہ تھی یا وہ روز مرّہ کا معمول ہی تھا۔ حویلیاں سے مانسہرہ، چالیس کلو میٹر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ ایبٹ آباد سے نکلتے ہوئے ”میاں جی ریسٹورنٹ“

Read more

دریچے: سفر سے جڑے سفر

یوں تو زندگی ایک سفر ہی ہے۔ انسان ماں کی گود سے لحد تک سفر ہی تو کرتا ہے۔ یہ سفر خوشگوار بھی ہو سکتا ہے اگر راستے میں سایہ میسر ہو۔ ماں اور باپ ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح ہوتے ہیں۔ آپ ان کے پتے توڑ لیں، ٹہنیاں کاٹ لیں، یہ آپ کو سایہ فراہم کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کے مختلف ادوار میں آپ کا سفر جاری رہتا ہے۔ بیوی بچے اور مخلص دوست جگہ جگہ آپ

Read more

بکرا کلچر

پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت بکرا کلچر کو ملی ہے۔ اس کلچر کی بقا اور ترقی کے لئے لاکھوں بکرے روزانہ اور کروڑوں بکرے سالانہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ قصاب کی دکان پر یہ بکرے اپنی کھال اترواکر الٹے لٹکے ہوتے ہیں، ان بکروں کے سپئیر پارٹس ہم خرید کر اپنی ہانڈی کی زینت بناتے ہیں۔ بکرا عید کے موقع پر یہ بکرے ریوڑ کی شکل میں شہر کا رخ کرتے

Read more

میں ماں بننا چاہتی ہوں

شمّی ایک بدکردار لڑکی تھی، یا اس کی شہرت ایسی تھی۔ مشہور ہونے والی لڑکیوں کا کردار کسی نہ کسی وجہ سے مشکوک ہی رہتا ہے۔ وہ بھی شاید مشکوک کردار کی حامل لڑکی تھی۔ وہ میرے ہسپتال میں نرس دائی لگی ہوئی تھی۔

یہ ایک چھوٹا دیہاتی ٹائپ ہسپتال تھا۔ شمّی کے علاوہ اس ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایل ایچ وی کے علاوہ سارا عملہ مرد حضرات پر مشتمل تھا۔

Read more

عوام کے لہو سے جلتا چراغ کب تک روشن رہ سکے گا

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں عسکری لیجنڈز سے خطاب کرتے ہوئے ماہر اقتصادیات مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے فرمایا کہ قوم اور پاکستان کو سنجیدہ نوعیت کے سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے فرمایا کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا سبب سابقہ حکومتوں کی معاشی بد انتظامیاں ہیں۔ مشکل فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ رہی ہے۔ اب مشکل فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ قوم یگانگت کا مظاہرہ کرے۔ فوج نے اضافی بجٹ نہ لے

Read more

افواہوں کے شہر کی دلہن

ویسے تو اس شہر کے لوگ بہت نیک تھے۔ وہاں کی مسجدیں نمازیوں سے بھری رہتی تھیں۔ زیادہ تر تاجر طبقہ اس شہر کا باسی تھا۔ لوگ باریش تھے اور ان کے ماتھوں پر محرابیں تھیں۔ پھر بھی شہر میں اضطراب تھا اور ایک بے نام افراتفری تھی جس کو دیکھنے کے لئے گہری بصیرت کی ضرورت تھی۔ میں ان لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ شاید اس کی وجہ میرا مذہبی بیک گراونڈ ہو یا اس کی وجہ کچھ اور رہی ہو، میرا کام اگرچہ مریض دیکھنا اور لوگوں کی جسمانی مشکلات کو کم کرنا تھا۔ مجھے لڑائی جھگڑے کے کیسوں میں میڈیکولیگل رپورٹ بھی جاری کرنی پڑتی تھی اور قتل و غیر قدرتی اموات کی صورت میں پوسٹ مارٹم بھی میری ذمہ داری تھی۔ یہی دونوں ذمہ داریاں مجھے لوگوں کے رویے نظر میں رکھنے پر مجبور کرتی تھیں۔

Read more

زرداریوں میں گھرے ہوئے عمران خان

اللہ کا شکر ہے۔ اللہ کو پاکستان پر رحم آگیا۔ سارے چور پکڑے گئے۔ عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں یہ بات وزیروں کو بڑا پکّا منہ کر کے بتائی۔ وزیروں نے کچے کانوں سے یہ بات سنی اور گھر جا کر سکون سے لیٹ گئے۔ وزیر صاحبان کوئی نئے تو ہیں نہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے وزیراعظموں کی آنیاں جانیاں دیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیروں کی تنخواہیں کم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزرا نے اس بات کا بھی برا نہیں منایا، انہیں اچھی طرح علم ہے کہ پہلے بھی وہ کون سا تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے تو دس سال تنخواہ نہیں لی پھر بھی احتساب کے شکنجے میں کس دیے گئے ہیں۔ وزرا جانتے ہیں تنخواہ کا تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں۔ اور تنخواہ کو تو ان کے ڈرائیور چوکیدار اور چھوٹے ملازم تک جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔

Read more

مجھے اپنی محبوبہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنا تھا

ایشا سے میری پہلی ملاقات میرئیٹ میں ہوئی تھی۔ وہ ایک این جی او کی سرگرم رکن تھی۔ یہ تنظیم آبادی کنٹرول اور سیف ابارشن پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ اس شام اسی تنظیم کا میں مہمان خصوصی تھا۔ درا صل چند دن پہلے اسی تنظیم کے ایک ذیلی دفتر کو جس ٹیم نے سیل کیا تھا، میں اس کا ممبر تھا۔ اس دفتر میں غیر قانونی اسقاط حمل ہونے کی رپورٹ تھی، اور ایک مذہبی تنظیم اس کی

Read more

عسکری بجٹ میں کٹوتی قوم کو معاشی دلدل سے نکالے گی؟

تحریک انصاف کے بے شمار ورکر ایسے ہیں جو اب عمران خان کے لئے نہں، اپنی عزت بچانے اور اپنی اندر کی خجالت چھپانے کے لئے عمران خان کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ محلے اور گاؤں کے لوگ آتے جاتے، مہنگائی کا رونا روتے ہیں، بجلی اور گیس کے نرخوں میں گراں قدر اضافے پر ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں طعنے مارتے ہیں ”ہور چوپو“ میرا دوست شفیق، لیکن کسی کی

Read more

پاگل کتے کا کاٹنا اور پیر صاحب کا علاج

اس گاوں میں ایک کتا باولا ہو گیا تھا۔ وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا، اور اس کے سامنے جو بھی آرہا تھا، اسے کاٹ رہا تھا۔ اس پاگل نے گائے کے بچھڑے کو کاٹا، ایک بھینس اس کی زد میں آئی اور تین انسان، ان بدنصیبوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ لوگ لاٹھیاں لے کر اس کے پیچھے بھاگے، لیکن اس پاگل کی رفتار ان لاٹھی برداروں سے زیادہ تیز تھی۔ بھلا ہو شیر محمند فوجی کا، وہ اپنی بندوق اٹھا لایا تھا، اس کے ایک فائر نے پاگل کتے کا کام تمام کردیا۔

Read more

وہ کھیلتے کھیلتے بے ہوش ہو گئی تھی

فتح محمد نے جیسے ہی زیبرا کراسنگ پر قدم رکھا، پیدل چلنے والا اشارہ سرخ ہو گیا۔ اس نے اشارے کے ٹائمر کو دیکھا ہی نہ تھا، شاید اسے اس کا علم ہی نہ ہو۔ ایک سیکنڈ میں حادثہ ہو گیا۔ ایک واکس ویگن اس سے ٹکرائی اور وہ سڑک پر گرگیا۔ اس کے اوسان بحال ہوئے تو دو پولیس والے اور واکس ویگن کا ڈرائیور اسے سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ اس کی پیشانی میں ٹیس سی اٹھ رہی تھی۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تو خون کے چند قطروں نے اس کا ہاتھ تھوڑا گیلا کر دیا۔وہ ہوش میں تھا اور توانا، چند سیکنڈ میں ہی اٹھر کر کھڑا ہو گیا۔ اسی اثنا میں ایمبولنس آچکی تھی۔ اس نے لاکھ انکار کیا، یقین دلایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے، مکمل ہوش و حواس میں ہے، اسے میڈیکل ایڈ کی ضرورت نہ ہے، وہ اپنے پاوں پر چل کر اپنے گھر تک جاسکتا ہے، مگر بیکار، اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں اسے داخل کر لیا گیا۔

Read more

میاں بیوی: دونوں کو دل کا دورہ پڑا تھا

اس عورت کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اور وہ بے یار و مددگار ہائے ہائے کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ اس کا خاوند تھا، جو اس کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ پاکستانی گاڑیوں میں میڈیکل ایڈ کا ملنا ناممکنات میں شامل ہے، یہاں ہسپتالوں میں میڈیکل ایڈ نہیں ملتی، یہ تو ریل گاڑی کا ڈبہ تھا، اور گاڑی پوری رفتار سے بھاگی چلی جارہی تھی۔ گاڑی کے دیوہیکل پہیّے لائن کے ساتھ رگڑ لگاتے شور مچاتے چلے

Read more

وہ برقعے والی لڑکی کون تھی؟

یوں تو اس دن موسم گرم ہی تھا۔ او پی ڈی میں میں کوئی تیس چالیس مریض گھسے ہوئے تھے اور بغیر نمبر کے ایک دوسرے سے پہلے میری کرسی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کمرے میں گھٹن اور حبس بڑھتے جا رہے تھے۔ یہ اوائل جون کے دن تھے۔ میرا انہی دنوں پبلک سروس کمیشن پاس ہوا تھا اور اس دیہاتی علاقے میں بطور میڈیکل افسر میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ وہ خاتون کافی دیر سے میری کرسی پکڑے کھڑی تھی۔ وہ ٹوپی والے برقعے میں ملبوس تھی۔ میں نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا۔

کہنے لگی میری چھاتی میں درد ہوتا ہے اور پھر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ میرا سانس پھولنے لگتا ہے۔ آپ مجھے اچھی طرح چیک کریں۔ آواز سے وہ نوجوان لگتی تھی۔ میں نے اس کی نبض دیکھی۔ وہ معمول سے تیز تھی۔ میں نے سٹیتھوسکوپ اس کی چھاتی پر رکھ کر دل کی دھڑکن سننا چاہی۔ اچانک اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی ننگی چھاتی پر زور سے دبایا۔

Read more

میں نے پولیو کے قطروں میں یہودی سازش کا مقابلہ کیسے کیا؟

قاری صاحب کا احترام واجب تھا کہ بچوں کو قرآن پڑھانے آتے تھے۔ میں ان دنوں ضلعی پولیو کنٹرول افسر تھا۔ پولیو مہم سال میں تین چار مرتبہ کرنی ہوتی ہے۔ یہ مہم پانچ دنوں پر محیط ہوتی ہے۔ پہلے تین دن پولیو ٹیمیں جو مرد و زن پر مشتمل ہوتی ہیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔ ان کے پاس تمام بچوں کا ڈیٹا ہوتا ہے۔ جو بچے کسی

Read more

کسے بت کہیں، کسے خدا مانیں

ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور۔یہ کیسا دیش ہے یہ کیسا ملک ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں کہاں بنائی اور توڑی جاتی ہیں۔ تحریک آزادی کیا ایسا ملک بنانے کے لئے چلائی گئی تھی۔ ہمارے اجداد نے اسی وطن کی خاطر جانوں کا نزرانہ پیش کیا تھا۔ ایسے انصاف کے لئے ہم نے نا انصافی کا ڈھنڈھورا پیٹا تھا۔ ایسی مساوات کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ آئے تھے۔پاکستان بن گیا۔ بن کے ٹوٹ گیا۔ ایک نسل آزادی کی راہ تکتے دنیا چھوڑ گئی۔

Read more

جب تک دوا ملی، بیٹا دنیا چھوڑ چکا تھا

اس دن مصروفیت بہت تھی۔ ایک تو میڈیکل بورڈ تھے پندرہ بیس ہوں گے۔ میں چیر مین میڈیکل بورڈ تھا۔ ایک سرجن صاحب نشتر سے تشریف لائے تھے اور دو قیدی عدالتی حکم پر میڈیکل بورڈ سے معائنے کے لئے لائے گئے تھے۔ ہسپتال میں مریضوں کی سفارش کے لئے کوئی آئے نہ آئے، میڈیکل بورڈ کے لئے سفارشیوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ اسی لئے میرے دفتر کے باہر خاصا رش لگا ہوا تھا اور گیٹ کیپر دروازہ بند کیے ہوئے تھا۔ میں ان دنوں ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھا۔اچانک دروازہ زور سے بجایا گیا۔ اس طرح کی بدتمیزی کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ کوئی انہونی موت ہوئی ہے یا کسی وجہ سے ہسپتال میں کوئی ہنگامہ ہو گیا ہے۔

Read more

معیشت کو آکسیجن ہی لگا دیں

شاید یہ بیان بے نظیر سے منسوب ہے۔ کسی نے سوال کیا ”آلو بہت مہنگے ہوگئے ہیں“۔ تو بینظیر نے جواب دیا ”لوگ سیب کیوں نہیں کھاتے“۔ یہ اور اس طرح کے سوالات تو سادہ سے ہیں لیکن ان کے جوابات میں جو گہرائی ہے اس کو محسوس کرنے کے لئے بھی ایک حساس دل کی ضرورت ہے۔ شیخ رشید صاحب آج کل استاد السیاستدان بنے ہوئے ہیں۔ وہ دعوے دار ہیں، عمران خان کے سیاسی استاد ہونے کے۔ استاد

Read more

ایڈز زدہ خاندان کی موت کی کہانی

دریا کنارے واقع اس قصبے کی آبادی کوئی چالیس ہزار ہوگی۔ یہ بہت چھوٹا سا شہر تھا۔ زیادہ تر پرانے خاندان آباد تھے۔ روز گار کے مواقع کم تھے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی دکانوں کے مالک یا کاشتکار تھے۔ اس شہر میں حکیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کوئی جنسی بیماریوں کا ماہر تھا اور کشتے بیچا کرتا۔ کوئی یرقان جیسی نہ ٹھیک ہونے والی امراض کا ماہر کہلاتا۔ یہاں عاملوں کی بھی بھر مار تھی۔ کینسر سے نجات اور بے اولاد جوڑوں کا علاج بذریعہ عمل کیا جاتا۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے اور خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے۔ الیکشن کے دنوں میں البتہ تھوڑی چہل پہل ہو جاتی جو الیکشن کے بعد یوں ختم ہوتی جیسے آندھی کے بعد ہوا۔ اس قصبے میں ہر سال ایک میلہ لگا کرتا تھا جو یہاں کی واحد تفریح ہوتی تھی۔

حبیب اللہ کی اچانک شدید بیماری نے اس شہر کے سکوت کا خاتمہ کر دیا۔ اسے ایمرجنسی میں ڈاکٹر انجام کے کلینک پر لایا گیا تھا۔ حبیب اللہ یوں تو ذات کا کمہار تھا مگر وہ کئی سال کویت میں ملازمت کرکے لٙوٹا تھا۔ اس نے قصبے میں نیا گھر بنایا تھا۔ جس کے گیٹ لوہے کے بنے تھے اور ان پر سفید چمکدار رنگ کیا گیا تھا۔ اس گھر کی دیواریں سفید ماربل کی بنی تھیں۔ یوں وہ چھوٹا سا وائٹ ہاؤس بن گیا تھا۔ حبیب اللہ خود بھی سفید کپڑے پہنا کرتا۔ اب اس کا شمار شہر کے سفید پوشوں میں ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے عقب میں بھینسوں کا باڑہ بنایا ہوا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی اور گھر والے سارے شہر کو دودھ سپلائی کیا کرتے۔ حبیب اللہ روز بروز امیر ہوتا جا رہا تھا مگر اس کی بیماری نے اچانک صورتحال الٹ کر رکھ دی۔

Read more

بھٹو کا قتل تاریخ کا سیاہ صفحہ ہے

بھٹو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ اس کی وجہ صرف بھٹو نہیں۔ وہ حالات و واقعات ہیں جو بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لیجانے کا باعث بنے۔ پی این اے کی تحریک جسے مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفے میں بدل کر اسے ایک مذہبی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو ستر کے انتخابات انفرادی حیثیت میں لڑ کر بھٹو سے پنجاب میں الیکشن ہاری تھیں اور ضیا الحق کی اقتدار کی خواہش۔ بھٹو کو

Read more

کپتان نے سندھی قوم کا دل جیت لیا

شاباش! کپتان۔ آپ نے قوم کا دل خوش کر دیا۔ سندھ کے عوام کئی دہائیوں سے دہائی دے رہے تھے۔ آپ نے ان کی فریاد سن لی۔ ان کی غربت، پسماندگی، بے روزگاری اور جہالت ختم کرنے کا وقت آگیا۔ آپ نے تو پہلے ہی عمران اسمٰعیل کو گورنر بنا کر سندھ کے عوام کو یہ عندیہ دے دیا تھا۔ لوگ سمجھ گئے تھے کہ آپ کس طرح کے افراد کو پسند کرتے ہیں۔ اس لئے آپ نے گھوٹکی پر

Read more

قربانی کے بکرے اور اناڑی قصّاب

یوں تو نواز شریف کی ضمانت ہو گئی ہے۔ عارضی ہی سہی۔ چھ ہفتے بعد پھر جیل سدھاریں گے۔ دوبارہ ضمانت کے لئے جیل جانا ضروری ہے۔ اس دوران بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ عمران خان چاہیں تو اس وقت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال کر اپنے نمبر بنا سکتے ہیں مگر انہیں کیا ضرورت ہے نمبر بنانے کی۔ ابھی کون سا الیکشن آرہا ہے جو اس طرح کی حرکتیں کی جائیں۔ بنی گالا میں اللہ ہو کا ورد جاری رہتا ہے۔ جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہو وہاں اللہ کی رحمت بھی ہوتی ہے۔

ادھر رائے ونڈ میں بکروں کا صدقہ دیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں صدقہ بلا کو ٹالتا ہے۔ بلا نیب کی شکل میں رائے ونڈ آتی جاتی رہتی ہے یا آج کل زیادہ آ جا رہی ہے۔ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکل گیا ہے۔ وہ شکرانے کے نفل پڑھ رہے ہیں۔ ای سی ایل بھی سیاستدانوں کے لئے ایک بلا کا نام ہے۔ اس بلا کو ٹالنے کے لئے علیحدہ علیحدہ بکرے قربان کرنے پڑیں گے۔ قربانیاں رنگ لاتی ہیں۔

Read more

اسے اس کے اکلوتے بیٹے نے مارا تھا

ویسے تو شیدا ہمارا پرانا محلے دار تھا۔ اس کی تیل کی ایجنسی تھی۔ مٹی کا تیل، ڈیزل اور پٹرول بیچا کرتا تھا۔ ہمارے گھر سے تھوڑی دور ہی اس کا گھر تھا۔ صاف ستھرا، رنگ روغن کیا ہوا بڑا سا گھر، اتنا بڑا جتنا عام طور پہ پرانے محلّوں میں ہوا کرتے تھے۔ یہ میرے بچپن کی یادیں ہیں جو شیدے کے ساتھ جڑی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کب ہماری فیملی اس محلے سے شفٹ ہوئی کہ میں تعلیم کے سلسلے میں باہر چلا گیا تھا۔میں ان دنوں ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کا میڈیکل افسر تھا جب شیدے سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کے سر سے مسلسل خون بہ رہا تھا۔ میں فوری طور پر اسے اپریشن تھیٹر لے گیا۔

Read more

ہم "پاکستان زندہ باد” کہتے رہیں گے۔

مصیبت یہ ہے کہ ہم بہت جلدی بھول جاتے ہیں۔ ہمارا حافظہ کمزور ہے۔ لیکن حافظہ بھی کیا کیا یاد رکھے۔ ذہن کی پٹاری خوفناک مناظر سے بھر چکی ہے مزید منظر کشی کی گنجائیش کہاں بچتی ہے۔ پہلی مصیبتوں، پہلی بیماریوں اور پہلی آفات کے مناظر کو اس پٹاری سے نکالیں گے تو نئے منظر نامے کی گنجائش بنے گی۔ ذہن ہر وقت حالت جنگ میں ہے۔ کون سی افتاد زیادہ خطرناک تھیں۔ کون سی غلطیاں زیادہ مہلک تھیں۔

Read more

انسانیت اور مذہب

احد کا پہاڑ اس لرزہ خیز منظر کا گواہ ہے جب ہندہ نے شہید حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ یہ ہندہ وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمّد مصطفٰے صلعم پر گندگی پھینکا کرتی تھی اور جس کا خاوند ابو سفیان آپ کے خلاف تمام جنگوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ جب یہ مفتوح ہوئے تو اللہ کے پاک پیغمبر نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا بلکہ ان کے گھر کو جائے امان بنا دیا۔

Read more

نشئی اور کشکول

سورج غروب ہونے کو تھا۔ پیلی سنہری کرنیں کالے اور سفید بادلوں کے آوارہ ٹکڑوں سے منعکس ہو کر مزار کے گنبد پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی بڑھتی جارہی تھی۔ جنوری کے ابتدائی ایام تھے۔ جیرے کے لئے موسم کوئی اہمئیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے اندر بہار کا موسم تھا۔ نیلے پیلے رنگ اس کی آنکھوں میں ناچ رہے تھے۔ گنبد اتنا خوبصورت لگ رہا تھاجیسے سونے کا بنا ہو۔ سورج ڈوبتا جارہا تھا۔ اور بادل سفید سے سیاہ ہوتے جارہے تھے۔یہ مزار جیرے کے گھر کے راستے میں پڑتا تھا۔ جیرا ہسپتال سے فاغ ہو کر ابھی لوٹا تھا۔ آج اس نے بہت بڑا کام کیا تھا۔ اس نے ایک انسان کی جان بچائی تھی۔ اس کے سامنے ایک سائیکل والے کو گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔ اور اس نے گاڑی روکنا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا۔ وہ ادھیڑ عمر کا ایک کمزور سا آدمی تھا۔ ٹکر سے اس کا سر پھٹ گیا تھا۔ وہ ایمبولینس پر ہی ہسپتال چلا گیا تھا۔ اس کے پاس مزدوری کے پیسے تھے جو اس نے زخمی کی ادویات پر خرچ کر دیے۔

Read more

چیخیں تو نکلیں گی

نون لیگ نے ملک برباد کر دیا۔ نواز شریف تین ہزار ارب کھا گیا۔ ملک کا بچہ بچہ قرض میں جکڑا گیا ہے۔ کنٹینر پر چڑھے خان کا بیانیہ ہمارے اذہان میں نواز شریف کے خلاف نفرت بھرتا چلا گیا۔ نواز شریف اقتدار میں آیا تھا تو ہم تواتر سے یہ سن رہے تھے کہ زرداری ملک دشمن ہے۔ لوٹ کر کھا گیا۔ سرے محل بنا لیا۔ دوبئی میں جائیدادیں بنالیں ملک بری طرح مقروض ہو گیا۔ ریلوے بند ہو

Read more

میاں صاحب کی گاڑی اور پاکستان

میاں صاحب سے مراد ہمارے محترم میاں نواز شریف نہیں ہیں۔ میاں نواز شریف اس طرح کی گاڑی چلانے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے نہ ہی اس طرح کی سڑکیں ان کی شایان شان ہو سکتی ہیں۔ وہ تو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے۔ شہزادے نہیں تھے مگر زندگی شہزادوں کی طرح گذاری۔ اپنے ساتھ ساتھ آپ کے اور میرے لئے بھی ایسی سڑکیں اور موٹروے بنائے جہاں میرے دوست ملک ظفر نے اپنی پرانی سوزوکی ایک سو چالیس کی رفتار سے بھگادی اور چالان ہونے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گئے۔ بھلا پانچ سال پرانے ٹائر کتنی دیر نئے موٹروے کی رگڑ برداشت کرتے۔

Read more

عورتیں تو ظلم نہ کریں

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت صدیوں سے ایک کام تواتر کے ساتھ کرتی چلی آئی ہے اور وہ کام ہے عورت کی تذلیل۔ عورت کو ستی کرنے کی رسم سے لے کر ساری ساری عمر بیوگی میں گزارنے کی روح فرسا روایات برصغیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ روایات آج بھی اس ظالم، بدمعاش اور بدکردار معاشرے کا منفی چہرہ ہیں۔ اسلام، بدھ ازم اور بابا گرونانک ان رسومات کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ یہ معاشرہ جو ہندو، بدھ، سکھ اور دیگر مذاہب میں تقسیم ہے لیکن عورت کی تذلیل میں یکجا ہے۔ حالانکہ برصغیر میں ان مذاہب کے جانکاروں نے ان رسومات کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی ہے لیکن یہ بدمزاجی اور بدمزگی شاید ہمارے ڈی این اے تک سرائیت کر چکی ہے۔

Read more

چور، تھانیدار اور سیاستدان

میں ان دنوں ڈسٹرکٹ ہسپتال کا ایم ایس تھا۔ یہ ہسپتال گوناں گوں مسائل کا شکار تھا۔ جیسا کہ پاکستان کے دیگر ہسپتال ہیں۔ حکومت نے ہسپتالوں کو سڑکوں اور نالیوں کے مقابلے میں شودر سمجھا ہوا ہے۔ تعلیم اور صحت کے لئے مختص بجٹ اس بات کا گواہ ہے۔ اس ہسپتال میں ڈاکٹر کم تھے۔ مریض بہت زیادہ۔ سرکاری اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے مریض اس سے بھی زیادہ۔ موخّر الذکر ہسپتال میں علاج سے زیادہ پروٹوکال کے چکر میں ہوتے۔ یہ مریض زیادہ تر جسمانی کمزوری کے علاج کے لئے ہسپتال آتے تھے حالانکہ۔ زیادہ تر سرکاری ملازم ذہنی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ان کی کمزوری کا علاج آج تک دریافت نہیں کرسکا البتہ ہسپتال میں آئی طاقت کی ساری ادویات انہی ذہنی معذوروں پر خرچ ہو جاتی تھیں۔ غریب مریض بے چارے دیکھتے رہ جاتے۔

Read more

مودی کا ہیرو، ہمارا محسن

ابھے نندن ہمارا ہیرو ہے۔ اس نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے۔ جس کا ملبہ ہوا میں تحلیل ہو گیا اور اس کے بے نام پائلٹ کی راکھ دریائے سندھ میں جا گری۔ مودی نے اپنے ہیرو کو واپس آنے پر مبارک باد دی ہے۔ یہ ہیرو پاکستان پر حملہ کرنے آیا تھا۔ پاکستانی جہازوں نے اس ہیرو کے جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ ایجکٹ کر گیا۔ پاکستانی ظالموں نے اسے جان سے مارنے کی کوشش کی

Read more

بے گناہوں کو سزا دینے کے چند واقعات

مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار میں مجسٹریٹ کی عدالت میں کسی میڈیکولیگل کیس کی گواہی کے لئے آیا ہوا تھا۔ تین چار ملزم جو ہتھکڑی میں تھے اور جیل سے لائے گئے تھے، صاحب بہادر کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ صاحب نے فائل تک دیکھنا گوارا نہیں کیا اور ریڈر کو تین ماہ بعد کی تاریخ ڈالنے کا حکم جاری کردیا۔ ایک ملزم کی قوت برداشت شاید جواب دے چکی تھی۔ اس نے توہین عدالت کا مرتکب ہوتے ہوئے بلند آواز میں کہا ”صاحب پانچ سال ہو گئے ہیں ؛ کبھی تیسرے کبھی چھٹے مہینے میری پیشی لگتی ہے اور بغیر کچھ کہے سنے اگلی پیشی پڑ جاتی ہے۔ میرا قصور کیا ہے“ ۔

صاحب نے ترس کھا کر ریڈر سے فائل دیکھنے کو کہا۔ اس پر چار گرام ہیروئین رکھنے کا جرم تھا جس کی سزا شاید تین سال قید تھی۔ ملزم پانچ سال سے جیل میں تھا۔ صاحب بہادر نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ اس کی برآمدگی بڑھا دوتاکہ میں اس کی سزا کو جسٹیفائی کر سکوں۔

Read more

پاکستانی منڈی اور سعودی شہزادہ

محمد بن سلمان ایک شہزادہ ہے جیسے شہزادے ہوتے ہیں۔ وہ ولی عہد سلطنت بھی ہے۔ وہ سلطنت جس کا شاہ فیصلے کرنے سے معذور نظر آ رہا ہے یا معذور کر دیا گیا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے اس نے جس طرح راستے کے پتھر ہٹائے ہیں وہ کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ وہ سعودی روایات سے ہٹ کے اوائل عمری میں حکومتی امور میں مدخل ہوا ہے۔ اپنے ہمعصر شہزادوں کو جس طرح ناکوں چنے چبوائے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر قیمت پر مخالفین کو راستے سے ہٹانا اس کے لئے معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ جیسے طاقتورسربراہِ مملکت کے ساتھ تلواروں کا رقص اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ آپ طاقت کی زبان اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

Read more

مار نہیں پیار ۔ سدرہ کی کہانی

مجھے جواب طلبی کا تحریری نوٹس موصول ہوا تو میں برداشت نہ کر سکی۔ اس سے پہلے دوبار زبانی کلامی مجھے وارننگ دی جا چکی تھی۔ مجھے یہ کہا گیا تھا کہ میرا ڈسپلن نہیں۔ کلاس پر میرا کنٹرول نہیں۔ میری کلاس کے بچے اودھم مچاتے ہیں۔ شور کرتے ہیں۔ کلاس روم سے نکل کر ونگ میں بھاگے پھرتے ہیں۔ میں ان بچوں کو تمیز نہیں سکھا سکی۔ ان کو قواعد و ضوابط کی پابند نہیں بناسکی۔ یہی حال رہا تو آپ کی سالانہ ترقی روک لی جائے گی۔

میں نے پرنسپل کو بتایا کہ دو سال پہلے میں اس کلاس کی انچارج بنی تھی۔ دو سال پہلے اس کلاس کے نوے فیصد بچے ڈی اور ای گریڈ لیتے تھے، اسی کلاس کے اب نوے فیصد بچے اے اور بی گریڈ میں آگئے ہیں۔ اسی کلاس نے امسال سکول بزم ادب میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس کلاس کے دو بچے سکول کرکٹ ٹیم میں شامل کر لئے گئے ہیں اور ایک بچے نے اپنے گریڈ کے تمام سیکشنز میں ٹاپ کیا ہے پھر بھی آپ نے میری جواب طلبی کی ہے۔ پرنسپل ابھی نیا آیا تھا۔ ریٹائرڈ فوجی تھا۔ کیڈٹ سکول میں پڑھاتا رہا تھا۔ اس نے میرے جواب کی ریکارڈ سے تصدیق کی اور مجھے وارننگ جاری کردی۔

Read more

ہماری اصل حکومت سفیدے کا درخت

ہماری اصل حکومت سفیدے کے درخت کی مانند ہے۔ ایک خاص وقت میں، خاص لوگوں کے مفادات کو بڑھاوا دینے اور ان کے بزنس کو ترقی دینے کے لئے اس کی افزائش کرائی گئی۔ کاشت کو پھیلایا گیا۔ اس کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔ جنگل کے جنگل سفیدے سے بھر دیے گئے۔ نہ یہ دیکھا گیا کہ اس کے کیا کیا نقصانات ہیں۔ یہ کتنا پانی پیتا ہے۔ اس کی چھاوں ہوتی ہے یا نہیں۔ اس کی لکڑی میں کتنی مضبوطی ہے۔ بس کمپنی کا مفاد تھا۔ اس کا بیج جگہ جگہ پھیلا دیا گیا۔ ہسپتال، سکول، کالج اور سرکاری دفاتر اس جنگل کی نظر کر دیے گئے۔ ان سفیدوں کی جڑیں زیر زمین دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ زیرزمین پانی اتنی زیادہ مقدار میں پی رہی ہیں کہ ہماری فصلیں جن پر ہمارا معاشی دارومدار ہے پیاسی رہ جاتی ہیں۔ ہماری زرعی آمدنی کم ہونے کی ایک وجہ غیر ملکی درخت ہیں جو بیرونی ایجنڈے کے تحت ہم پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔

Read more

آبادی کا بم اور ثاقب نثار کے مشورے

چیف جسٹس ثاقب نثار دوسال اپنی خود نمائی، انا پرستی اور طاقت کے اظہار کا ڈھول پیٹ پیٹ کر رخصت ہوئے۔ اپنی ذات کی شناخت بڑھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ کوئی شعبہ بشمول صحت، تعلیم، بلدیتی ادارے اور صحافت سمیت خاندانی منصوبہ بندی تک میں قدم رنجہ فرماتے رہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حکومت سیاستدان اور میڈیا پورے ترنم کے ساتھ ان کے گن گاتے رہاحتٰی کہ ان کی ریٹائرمنٹ کا دن آ گیا۔ ان کی ریٹئرمنٹ کے بعد ان کی خوشامد کا دور بھی ختم ہوا۔

افسوس ہے۔ اب تو ان کے بغیر خبرنامے اور ٹاک شوز بھی پھیکے پڑ گئے ہیں۔ ایک دن فرمایا کہ آبادی کا بم پھٹنے والا ہے۔ پوری قوم مل کر آبادی کنٹرول کرے۔ قبل ازیں آپ نے اپنے گھر سے آبادی کنٹرول کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کیا بابا رحمتے اس اعلان سے پہلے آبادی بڑھانے کا ارادہ فرمائے ہوئے تھا؟ آپ نے علما اور دیگر طبقات کو حکم دیا ہے کہ آبادی کنٹرول کریں ورنہ؟ اس حکم میں آبادی کنٹرول نہ کرنے کی کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔

Read more

ریاست ہٹ دھرم ہے

معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین قتل کر دیے گئے۔ خوف کا منظر ان بچوں کی آنکھوں میں ٹھہر گیا ہے۔ وہ مبہوت ہیں۔ سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو تو یہ بھی علم نہیں کہ موت کیا ہوتی ہے۔ مرنا کیا ہوتا ہے۔ ننھی بچی منتظر ہے کہ اس کی ماں اسے فیڈر دے گی۔ اسے علم نہیں کہ اب اسے فیڈر دینے والی ماں نہیں ہے۔ شاید کئی برس اسے ماں کی موت کا علم ہی نہ ہو۔

Read more

سنہری فیصلے اور سیاہ تاریخ

چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب ایک دن خوب خرگوش سے بیدار ہوئے تو ان کی زندگی بدلی ہوئی تھی۔ آئینہ دیکھا تو خاص تبدیلی محسوس نہ ہوئی لیکن ان کا دل دھڑک رہا تھا اور دماغ میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ناشتے کی میز پر آپ نے اعلان کردیا کہ میں ایک سال کے لئے بالکل بدل گیا ہوں۔ گھر والوں نے بلکہ پورے پاکستان نے ان کے اس اعلان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لیکن یہ بات

Read more

سہ فریقی حکومت اور عوام کی بے چینی

حکومت۔ ایک ادارے یعنی شخصی حکومت کا ہونا عوام کی نظر میں نا پسندیدہ عمل رہا ہے۔ ایک حکومت سے مراد فوجی حکومت یا آمریت ہوتی ہے جہاں طاقت کے سارے سرچشمے ایک ہی شخص یا ایک ادارے کے پاس ہوتے ہی۔ پاکستان کی تاریخ کے زیادہ ادووار اسی طرح کی حکومت کے زیر تسلط رہے ہیں۔ یہی حکومتیں پاکستان کی سیاہ تاریخ کی سنہری حکومتیں قرار پائی ہیں۔ پاکستان میں بچوں کو پڑھائی جانے والی کتابیں اس بات کی شاہد ہیں۔ تاریخ بھی انہی اداروں کی مرضی سے ترتیب پائی ہے۔

ایوب خان کی شخصی حکومت مثالی کہلاتی ہے۔ مروجہ تاریخ کے مطابق اس دور میں ڈیم بنائے گئے۔ بجلی والی ٹرین چلائی گئی۔ کارخانے لگائے گئے۔ پاکستانی صدر کی اتنی عزت تھی کہ امریکہ کے دورے کے دوران امریکی صدر جانسن ایوب خان کے استقبال کو ایرپورٹ تشریف لائے۔ ان کے دور میں پاکستان نے انڈیا سے جنگ جیت لی۔ یہ بات اس تاریخ میں نہیں لکھی گئی کہ ایوب خان نے وزیراعظم سہروردی اور قائید اعظم کی بہن کو غدار قرار دے کر دھاندلی سے الیکشن جیتا۔ اپنے تین دریا سندھ طاس کے تحت انڈیا کو دے دیے۔

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد، عدالت عظمیٰ اور عوام کے بائیس ارب روپے

ڈاکٹر یاسمین راشد ایک معروف ڈاکٹر ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے گائینکالوجسٹ ہیں۔ معروف طبی اداروں میں تدریسی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ مسیحاوں کی رہبری میں اپنی نیک نامی کماچکی ہیں۔ مریض اور لواحقین ان کا نام ادب عزت و احترام سے لیتے ہی۔ طب سے وابستہ افراد میں ان کا ایک مقام ہے۔ سیاست کے خاردار راستوں میں بھی ان کا دامن ہر طرح کی گندگی سے محفوظ رہا ہے۔ لاہور میں شریفوں کے مقابل کسی شریف کا ٹھرنا بذات خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔ یاسمین راشد کی ہردلعزیزی لاہور میں پی ٹی آی کی مقبولیت سے کہیں زیادہ تھی۔ اگرچہ وہ الیکشن جیت نہیں پائیں لیکن اس نے شریفوں کی مقبولیت می شگاف ضرور ڈال دیا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کو پنجاب کی وزارت صحت سے سرفراز کرنا عمران خان کا پنجاب میں سب سے معقول اقدام تھا۔ جہاں پی ٹی آئی ورکر اور عوام عمران خان کے بزدار کو وزیر اعلی بنانے کے فیصلے سے اندر ہی اندر مایوس تھے وہیں یاسمین راشد کے وزیر صحت بنائے جانے پر خوش تھے۔ ان کے خیال میں ڈاکٹر صاحبہ ایک سچی اور مخلص ورکر تھیں۔ اور پی ٹی آئی کی صحیح نمائندہ کہلائے جانے کی مستحق۔

Read more

غربت، جہالت، ناانصافی اور کرپشن کے خلاف جہاد اور عمران خان

سال نو پر وزیراعظم جناب عمران خان نے پاکستان سے غربت، جہالت، نانصافی اور کرپشن کے خاتم ے کے لئے جہاد کا اعلان کیا ہے۔ یہ برائیاں پاکستان کی جڑوں میں اس قدر سرائت کر چکی ہیں کہ ان کا تدارک بہت مشکل ہو چکا ہے۔ 2018 پی ٹی آئی اور عمران خان کے لئے خوش قسمتی کا سال ثابت ہوا کہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو جو

Read more

اندھے گونگے اور بہرے لوگ

اسلام آباد میں اندھے گونگے اور بہرے لوگ رہتے ہیں اس لئے میں اردو میں تقریر کرتا ہوں گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے زرداری صاحب نے اسلام آباد کے لوگوں کے بارے عوام کی معلومات میں یہ گراں قدر اضافہ کیا۔ میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے جو لوگ بہرے ہوتے ہیں وہ گونگے بھی ہوتے ہیں۔ اور گونگے بہرے سوائے اشاروں کے کوئی زبان نہیں سمجھتے۔ وہ اشاروی کی زبان کے علاوہ کوئی زبان بول نہیں سکتے۔

Read more

اسد عمر: جیا بے قرار ہے آنے کو بہار ہے

جیا بے قرار ہے آنے کو بہار ہے
آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے۔

یہ اسلام آباد کی ایک خوبصورت پہاڑی دامن کوہ کا منظر ہے۔ آسمان پر ہلکے سرمئی بادلوں کا ڈیرہ ہے۔ بارش کی ننھی بوندیں گاڑی کی سکرین پر گر رہی ہیں۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے لیکن ہیرو کے چہرے پر ادسی اور غم ویاس کی تصویریں بن رہی ہیں۔ گاڑی کا دروازہ کھلتا ہے۔ خوبرو ہیرو گاڑی سے باہر نکلتا ہے۔ اس کی عینک کے شیشے پر بارش کی دو بوندیں گرتی ہیں اور منظر تھوڑا دھندلا جاتا ہے۔ ہیرو پر عزم ہے اپنی عینک اتارتا ہے اور پھر سے تان لگاتا ہے۔ آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے۔

یہ ہیرو کوئی اور نہیں وزیر خزانہ اسد عمر ہیں۔ ان کی محبوبہ ناظرین کی حاٹ فیورٹ ہیروئین آئی ایم ایف ہے۔ سین بدلتا ہے اور ایک سکرین نمودار ہوتی ہے۔ ویڈیو کانفرنس شروع ہو جاتی ہے۔ محبوبہ گانے کا جواب گانے سے دیتی ہے۔

Read more

ماحولیاتی بحران میں اقوام عالم کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

ماحولیاتی تبدیلیاں جس طرح کرہ عرض پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اس کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے انسان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گلیشئیر پگھل رہے ہیں اور پانی کے ذخائیر خطرناک حد تک سکڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں سردی کا موسم برائے نام رہ گیا ہے۔ سیلاب اور زلزلے بڑھتے جا رہے ہیں اور انسانوں کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں

Read more

سو دن میں وزیراعظم نے قوم کو حوصلہ دیا ہے

تجھ کو خبر نہیں مگر اک سادہ لوح کو برباد کر دیا تیرے سو دن کے اختیار نے ہم نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانی ہے۔ ریاست مدینہ کے معاشی پہلو نے غریبوں کو اٹھایا ہم نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے یہں غریب ملک کو اوپر لے کر آئیں گے۔ ہم غربت ایسے دور کریں گے جیسے چین نے ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ ہم کرپشن ایسے ختم کریں گے جیسے چین نے ختم کی۔ ہم

Read more

آج کے بچّے کل کے گنجے۔۔۔۔

آج کے بچے کل کے گنجے۔ ہر بچے نے بڑا ہونا ہے۔ جوان ہونا ہے۔ اور پھر گنجا ہونا ہے۔ جیسے کچھ لوگ وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں اسی طرح کچھ مرد وقت سے پہلے گنجے ہو جاتے ہیں۔ جوانی میں گنجے ہونے والے مرد جوانی میں ہونے والی بیوہ کی طرح ہوتے ہیں کہ لوگ ان میں پھر گنجے پن کے علاوہ عمر کے تعین میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ گنجے لڑکے کو عام طور پر لڑکا نہیں مرد سمجھا جاتا ہے جیسے جوان بیوہ کو لڑکی نہیں عورت۔ یورپ میں گنجے ہیٹ کا استعمال کرتے ہیں جو نہ صرف سردی سے بچاتا ہے بلکہ گنجے پن کو عیاں ہونے سے روکتا ہے۔ ہماری بدقسمتی۔ لنڈے سے ہیٹ خرید بھی لیں اور پھر اسے پہننے کی جرات کر بھی لیں تو بیوی کاٹھا انگریز ہونے کا طعنہ مارتی ہے۔ گھر سے باہر نکل جائیں تو محلے کے بچے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ہیٹ کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہیں۔ ظالم اسی پر اکتفا نہیں کرتے ہمارے بچوں کو سنیپ چیٹ پر طرح طرح کے سٹکر لگا کر بھیجتے ہیں۔

Read more

حکومت نے کوئی ٹرن نہیں لیا

کون کہتا ہے عمران خان یو ٹرن لیتا ہے۔ وہ خود اور قوم یوتھ بے شک کہتی رہے, حکومت نے آج تک کوئی یو ٹرن نہیں لیا۔ بلکہ صرط مستقیم کی اعلیٰ مثال قائم کئے ہوئے ہے اور کوئی یو ٹرن لئے بغیر اپنی باری کھیل رہی ہے۔ کھیل کے وہی گھسے پٹے اصول بلکہ بے اصولیاں پوری آب و تاب سے پی ٹی آئی حکومت کے آسمان پر جگمگا رہی ہیں جو نواز شریف کے دور حکومت کا حصہ

Read more

گرونانک کے پیروکار اور امن کی خواہش

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی تقریب حلف برداری اس حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ ہندوستان کی مشہور شخصیت ،کھلاڑی ،اداکار، اینکر سیاستدان اور ہردل عزیز،جناب نوجوت سنگھ سدھو تشریف لائے۔ ان کی آمد اور جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے ڈالی گئی جپھی نہ صرف برصغیر پاک و ہندمیں مقبول ہوئی بلکہ ہندوستانی سیاست میں ایسا ارتعاش پیدا کر گئی جس کے مثبت اثرات نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ جناب مودی کی تنقید

Read more

حکومت کو معذرت قبول کرنے کا اختیار ہے؟

گذشتہ دنوں ناموس رسالت کے نام پر جو اودھم مچایا گیا آقائے دوجہاں جناب رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ و سلم کی ناموس کو جس طرح اقوام عالم کے سامنے پیش کیا گیا، وہ تو ایک علیحدہ داستان ہے اور ایک طویل عرصے تک زیر بحث رہے گی۔ شرمناک بات وہ معاہدہ ہے اور مزید شرمناک معاہدے کی وہ شک ہے جس میں تحریک اس دوران مرنے والوں اور بے لگام مجمعے کے ہاتھوں لٹنے والوں سے معذرت کرتی نظر

Read more

عدم برداشت کا رویہ ہمیں برباد کر دے گا

یہ کون لوگ ہیں۔ یہ کس حیثیت میں بات کر رہے ہیں۔ یہ چور ہیں۔ یہ ڈاکو ہیں۔ ان لوگوں نے قوم کا پیسہ لوٹا ہے۔ ان کو الٹا لٹکا دیا جائے۔ یہ خورشید شاہ نے اور مشاہداللہ نے پی آئی اے کو برباد کر دیا۔ یہ سٹیل مل کو بیچ کر کھا گئے۔ یہ گفتگو جناب وفاقی وزیر اطلاعات نے فرمائی۔ قومی اسمبلی میں جناب اسد قیصر نے انہیں سمجھایا کہ ایسی گفتگو نہ کریں۔ چیئرمین سینٹ نے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کی بلکہ سینٹ میں فواد چودہری کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

جواب میں فواد نے پریس کانفرنس میں عوام کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چیئرمین سینٹ کون سا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو حکومت کو سوچنا پڑے گا۔ جواب میں مشاہدللہ نے کہا فواد وغیرہ گز گز بھر کی زبانیں رکھتے ہیں اور بدزبان بھی ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے معزز اراکین گفتگو میں اتنے بدزبان ہیں تو عمل میں کتنے بداعمال ہوں گے۔ ان کے کردار کیا ہوں گے۔ کیا ان کو علم نہیں کہ قوم ان کو دیکھ رہی ہے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ان کے انداز و اطوار قوم بھی اپنائے گی۔

Read more

ویل ڈن عثمان بزدار

لاہور میں شیلٹر ہوم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے فرمایا آج پہلا قدم ہے۔ مدینہ کی فلاحی ریاست کی طرف۔ لاہور بڑا ہی پولیوٹیڈ شہر ہے۔ یہاں لوگ سڑکوں پر اپنے بچوں کے ساتھ سوتے ہیں۔ مزدور یہاں کام کرنے آتے ہیں۔ رات کو سونے کے لئے ان کے پاس جگہ نہیں ہوتی۔ مجھے خو شی ہے آج ہم ایسا کام کرنے جا رہے ہیں جس کی برکت سے پاکستان بہت آگے جائے

Read more