کسے بت کہیں، کسے خدا مانیں

ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور۔یہ کیسا دیش ہے یہ کیسا ملک ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں کہاں بنائی اور توڑی جاتی ہیں۔ تحریک آزادی کیا ایسا ملک بنانے کے لئے چلائی گئی تھی۔ ہمارے اجداد نے اسی وطن کی خاطر جانوں کا نزرانہ پیش کیا تھا۔ ایسے انصاف کے لئے ہم نے نا انصافی کا ڈھنڈھورا پیٹا تھا۔ ایسی مساوات کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ آئے تھے۔پاکستان بن گیا۔ بن کے ٹوٹ گیا۔ ایک نسل آزادی کی راہ تکتے دنیا چھوڑ گئی۔

Read more

جب تک دوا ملی، بیٹا دنیا چھوڑ چکا تھا

اس دن مصروفیت بہت تھی۔ ایک تو میڈیکل بورڈ تھے پندرہ بیس ہوں گے۔ میں چیر مین میڈیکل بورڈ تھا۔ ایک سرجن صاحب نشتر سے تشریف لائے تھے اور دو قیدی عدالتی حکم پر میڈیکل بورڈ سے معائنے کے لئے لائے گئے تھے۔ ہسپتال میں مریضوں کی سفارش کے لئے کوئی آئے نہ آئے، میڈیکل بورڈ کے لئے سفارشیوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ اسی لئے میرے دفتر کے باہر خاصا رش لگا ہوا تھا اور گیٹ کیپر دروازہ بند کیے ہوئے تھا۔ میں ان دنوں ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھا۔اچانک دروازہ زور سے بجایا گیا۔ اس طرح کی بدتمیزی کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ کوئی انہونی موت ہوئی ہے یا کسی وجہ سے ہسپتال میں کوئی ہنگامہ ہو گیا ہے۔

Read more

معیشت کو آکسیجن ہی لگا دیں

شاید یہ بیان بے نظیر سے منسوب ہے۔ کسی نے سوال کیا ”آلو بہت مہنگے ہوگئے ہیں“۔ تو بینظیر نے جواب دیا ”لوگ سیب کیوں نہیں کھاتے“۔ یہ اور اس طرح کے سوالات تو سادہ سے ہیں لیکن ان کے جوابات میں جو گہرائی ہے اس کو محسوس کرنے کے لئے بھی ایک حساس دل…

Read more

ایڈز زدہ خاندان کی موت کی کہانی

دریا کنارے واقع اس قصبے کی آبادی کوئی چالیس ہزار ہوگی۔ یہ بہت چھوٹا سا شہر تھا۔ زیادہ تر پرانے خاندان آباد تھے۔ روز گار کے مواقع کم تھے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی دکانوں کے مالک یا کاشتکار تھے۔ اس شہر میں حکیموں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کوئی جنسی بیماریوں کا ماہر تھا اور کشتے بیچا کرتا۔ کوئی یرقان جیسی نہ ٹھیک ہونے والی امراض کا ماہر کہلاتا۔ یہاں عاملوں کی بھی بھر مار تھی۔ کینسر سے نجات اور بے اولاد جوڑوں کا علاج بذریعہ عمل کیا جاتا۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے اور خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے۔ الیکشن کے دنوں میں البتہ تھوڑی چہل پہل ہو جاتی جو الیکشن کے بعد یوں ختم ہوتی جیسے آندھی کے بعد ہوا۔ اس قصبے میں ہر سال ایک میلہ لگا کرتا تھا جو یہاں کی واحد تفریح ہوتی تھی۔

حبیب اللہ کی اچانک شدید بیماری نے اس شہر کے سکوت کا خاتمہ کر دیا۔ اسے ایمرجنسی میں ڈاکٹر انجام کے کلینک پر لایا گیا تھا۔ حبیب اللہ یوں تو ذات کا کمہار تھا مگر وہ کئی سال کویت میں ملازمت کرکے لٙوٹا تھا۔ اس نے قصبے میں نیا گھر بنایا تھا۔ جس کے گیٹ لوہے کے بنے تھے اور ان پر سفید چمکدار رنگ کیا گیا تھا۔ اس گھر کی دیواریں سفید ماربل کی بنی تھیں۔ یوں وہ چھوٹا سا وائٹ ہاؤس بن گیا تھا۔ حبیب اللہ خود بھی سفید کپڑے پہنا کرتا۔ اب اس کا شمار شہر کے سفید پوشوں میں ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے عقب میں بھینسوں کا باڑہ بنایا ہوا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی اور گھر والے سارے شہر کو دودھ سپلائی کیا کرتے۔ حبیب اللہ روز بروز امیر ہوتا جا رہا تھا مگر اس کی بیماری نے اچانک صورتحال الٹ کر رکھ دی۔

Read more

بھٹو کا قتل تاریخ کا سیاہ صفحہ ہے

بھٹو زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ اس کی وجہ صرف بھٹو نہیں۔ وہ حالات و واقعات ہیں جو بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لیجانے کا باعث بنے۔ پی این اے کی تحریک جسے مفتی محمود نے تحریک نظام مصطفے میں بدل کر اسے ایک مذہبی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ وہ تمام سیاسی پارٹیاں…

Read more

کپتان نے سندھی قوم کا دل جیت لیا

شاباش! کپتان۔ آپ نے قوم کا دل خوش کر دیا۔ سندھ کے عوام کئی دہائیوں سے دہائی دے رہے تھے۔ آپ نے ان کی فریاد سن لی۔ ان کی غربت، پسماندگی، بے روزگاری اور جہالت ختم کرنے کا وقت آگیا۔ آپ نے تو پہلے ہی عمران اسمٰعیل کو گورنر بنا کر سندھ کے عوام کو…

Read more

قربانی کے بکرے اور اناڑی قصّاب

یوں تو نواز شریف کی ضمانت ہو گئی ہے۔ عارضی ہی سہی۔ چھ ہفتے بعد پھر جیل سدھاریں گے۔ دوبارہ ضمانت کے لئے جیل جانا ضروری ہے۔ اس دوران بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ عمران خان چاہیں تو اس وقت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال کر اپنے نمبر بنا سکتے ہیں مگر انہیں کیا ضرورت ہے نمبر بنانے کی۔ ابھی کون سا الیکشن آرہا ہے جو اس طرح کی حرکتیں کی جائیں۔ بنی گالا میں اللہ ہو کا ورد جاری رہتا ہے۔ جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہو وہاں اللہ کی رحمت بھی ہوتی ہے۔

ادھر رائے ونڈ میں بکروں کا صدقہ دیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں صدقہ بلا کو ٹالتا ہے۔ بلا نیب کی شکل میں رائے ونڈ آتی جاتی رہتی ہے یا آج کل زیادہ آ جا رہی ہے۔ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکل گیا ہے۔ وہ شکرانے کے نفل پڑھ رہے ہیں۔ ای سی ایل بھی سیاستدانوں کے لئے ایک بلا کا نام ہے۔ اس بلا کو ٹالنے کے لئے علیحدہ علیحدہ بکرے قربان کرنے پڑیں گے۔ قربانیاں رنگ لاتی ہیں۔

Read more

اسے اس کے اکلوتے بیٹے نے مارا تھا

ویسے تو شیدا ہمارا پرانا محلے دار تھا۔ اس کی تیل کی ایجنسی تھی۔ مٹی کا تیل، ڈیزل اور پٹرول بیچا کرتا تھا۔ ہمارے گھر سے تھوڑی دور ہی اس کا گھر تھا۔ صاف ستھرا، رنگ روغن کیا ہوا بڑا سا گھر، اتنا بڑا جتنا عام طور پہ پرانے محلّوں میں ہوا کرتے تھے۔ یہ میرے بچپن کی یادیں ہیں جو شیدے کے ساتھ جڑی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کب ہماری فیملی اس محلے سے شفٹ ہوئی کہ میں تعلیم کے سلسلے میں باہر چلا گیا تھا۔میں ان دنوں ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کا میڈیکل افسر تھا جب شیدے سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ اس کے سر سے مسلسل خون بہ رہا تھا۔ میں فوری طور پر اسے اپریشن تھیٹر لے گیا۔

Read more

ہم “پاکستان زندہ باد” کہتے رہیں گے۔

مصیبت یہ ہے کہ ہم بہت جلدی بھول جاتے ہیں۔ ہمارا حافظہ کمزور ہے۔ لیکن حافظہ بھی کیا کیا یاد رکھے۔ ذہن کی پٹاری خوفناک مناظر سے بھر چکی ہے مزید منظر کشی کی گنجائیش کہاں بچتی ہے۔ پہلی مصیبتوں، پہلی بیماریوں اور پہلی آفات کے مناظر کو اس پٹاری سے نکالیں گے تو نئے…

Read more

انسانیت اور مذہب

احد کا پہاڑ اس لرزہ خیز منظر کا گواہ ہے جب ہندہ نے شہید حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ یہ ہندہ وہی ہے جو آقائے نامدار حضرت محمّد مصطفٰے صلعم پر گندگی پھینکا کرتی تھی اور جس کا خاوند ابو سفیان آپ کے خلاف تمام جنگوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ جب یہ مفتوح ہوئے تو اللہ کے پاک پیغمبر نے نہ صرف انہیں معاف کر دیا بلکہ ان کے گھر کو جائے امان بنا دیا۔

Read more