زرداریوں میں گھرے ہوئے عمران خان

اللہ کا شکر ہے۔ اللہ کو پاکستان پر رحم آگیا۔ سارے چور پکڑے گئے۔ عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں یہ بات وزیروں کو بڑا پکّا منہ کر کے بتائی۔ وزیروں نے کچے کانوں سے یہ بات سنی اور گھر جا کر سکون سے لیٹ گئے۔ وزیر صاحبان کوئی نئے تو ہیں نہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے وزیراعظموں کی آنیاں جانیاں دیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیروں کی تنخواہیں کم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزرا نے اس بات کا بھی برا نہیں منایا، انہیں اچھی طرح علم ہے کہ پہلے بھی وہ کون سا تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے تو دس سال تنخواہ نہیں لی پھر بھی احتساب کے شکنجے میں کس دیے گئے ہیں۔ وزرا جانتے ہیں تنخواہ کا تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں۔ اور تنخواہ کو تو ان کے ڈرائیور چوکیدار اور چھوٹے ملازم تک جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔

Read more

مجھے اپنی محبوبہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنا تھا

ایشا سے میری پہلی ملاقات میرئیٹ میں ہوئی تھی۔ وہ ایک این جی او کی سرگرم رکن تھی۔ یہ تنظیم آبادی کنٹرول اور سیف ابارشن پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ اس شام اسی تنظیم کا میں مہمان خصوصی تھا۔ درا صل چند دن پہلے اسی تنظیم کے ایک ذیلی دفتر کو جس ٹیم نے…

Read more

عسکری بجٹ میں کٹوتی قوم کو معاشی دلدل سے نکالے گی؟

تحریک انصاف کے بے شمار ورکر ایسے ہیں جو اب عمران خان کے لئے نہں، اپنی عزت بچانے اور اپنی اندر کی خجالت چھپانے کے لئے عمران خان کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ محلے اور گاؤں کے لوگ آتے جاتے، مہنگائی کا رونا روتے ہیں، بجلی اور گیس کے نرخوں…

Read more

پاگل کتے کا کاٹنا اور پیر صاحب کا علاج

اس گاوں میں ایک کتا باولا ہو گیا تھا۔ وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا، اور اس کے سامنے جو بھی آرہا تھا، اسے کاٹ رہا تھا۔ اس پاگل نے گائے کے بچھڑے کو کاٹا، ایک بھینس اس کی زد میں آئی اور تین انسان، ان بدنصیبوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ لوگ لاٹھیاں لے کر اس کے پیچھے بھاگے، لیکن اس پاگل کی رفتار ان لاٹھی برداروں سے زیادہ تیز تھی۔ بھلا ہو شیر محمند فوجی کا، وہ اپنی بندوق اٹھا لایا تھا، اس کے ایک فائر نے پاگل کتے کا کام تمام کردیا۔

Read more

وہ کھیلتے کھیلتے بے ہوش ہو گئی تھی

فتح محمد نے جیسے ہی زیبرا کراسنگ پر قدم رکھا، پیدل چلنے والا اشارہ سرخ ہو گیا۔ اس نے اشارے کے ٹائمر کو دیکھا ہی نہ تھا، شاید اسے اس کا علم ہی نہ ہو۔ ایک سیکنڈ میں حادثہ ہو گیا۔ ایک واکس ویگن اس سے ٹکرائی اور وہ سڑک پر گرگیا۔ اس کے اوسان بحال ہوئے تو دو پولیس والے اور واکس ویگن کا ڈرائیور اسے سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ اس کی پیشانی میں ٹیس سی اٹھ رہی تھی۔ اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تو خون کے چند قطروں نے اس کا ہاتھ تھوڑا گیلا کر دیا۔وہ ہوش میں تھا اور توانا، چند سیکنڈ میں ہی اٹھر کر کھڑا ہو گیا۔ اسی اثنا میں ایمبولنس آچکی تھی۔ اس نے لاکھ انکار کیا، یقین دلایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے، مکمل ہوش و حواس میں ہے، اسے میڈیکل ایڈ کی ضرورت نہ ہے، وہ اپنے پاوں پر چل کر اپنے گھر تک جاسکتا ہے، مگر بیکار، اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا، جہاں اسے داخل کر لیا گیا۔

Read more

میاں بیوی: دونوں کو دل کا دورہ پڑا تھا

اس عورت کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اور وہ بے یار و مددگار ہائے ہائے کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ اس کا خاوند تھا، جو اس کی مدد کرنے سے قاصر تھا۔ پاکستانی گاڑیوں میں میڈیکل ایڈ کا ملنا ناممکنات میں شامل ہے، یہاں ہسپتالوں میں میڈیکل ایڈ نہیں ملتی، یہ تو ریل…

Read more

وہ برقعے والی لڑکی کون تھی؟

یوں تو اس دن موسم گرم ہی تھا۔ او پی ڈی میں میں کوئی تیس چالیس مریض گھسے ہوئے تھے اور بغیر نمبر کے ایک دوسرے سے پہلے میری کرسی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کمرے میں گھٹن اور حبس بڑھتے جا رہے تھے۔ یہ اوائل جون کے دن تھے۔ میرا انہی دنوں پبلک سروس کمیشن پاس ہوا تھا اور اس دیہاتی علاقے میں بطور میڈیکل افسر میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ وہ خاتون کافی دیر سے میری کرسی پکڑے کھڑی تھی۔ وہ ٹوپی والے برقعے میں ملبوس تھی۔ میں نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا۔

کہنے لگی میری چھاتی میں درد ہوتا ہے اور پھر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ میرا سانس پھولنے لگتا ہے۔ آپ مجھے اچھی طرح چیک کریں۔ آواز سے وہ نوجوان لگتی تھی۔ میں نے اس کی نبض دیکھی۔ وہ معمول سے تیز تھی۔ میں نے سٹیتھوسکوپ اس کی چھاتی پر رکھ کر دل کی دھڑکن سننا چاہی۔ اچانک اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی ننگی چھاتی پر زور سے دبایا۔

Read more

میں نے پولیو کے قطروں میں یہودی سازش کا مقابلہ کیسے کیا؟

قاری صاحب کا احترام واجب تھا کہ بچوں کو قرآن پڑھانے آتے تھے۔ میں ان دنوں ضلعی پولیو کنٹرول افسر تھا۔ پولیو مہم سال میں تین چار مرتبہ کرنی ہوتی ہے۔ یہ مہم پانچ دنوں پر محیط ہوتی ہے۔ پہلے تین دن پولیو ٹیمیں جو مرد و زن پر مشتمل ہوتی ہیں گھر گھر جا…

Read more

کسے بت کہیں، کسے خدا مانیں

ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور۔یہ کیسا دیش ہے یہ کیسا ملک ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں کہاں بنائی اور توڑی جاتی ہیں۔ تحریک آزادی کیا ایسا ملک بنانے کے لئے چلائی گئی تھی۔ ہمارے اجداد نے اسی وطن کی خاطر جانوں کا نزرانہ پیش کیا تھا۔ ایسے انصاف کے لئے ہم نے نا انصافی کا ڈھنڈھورا پیٹا تھا۔ ایسی مساوات کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ آئے تھے۔پاکستان بن گیا۔ بن کے ٹوٹ گیا۔ ایک نسل آزادی کی راہ تکتے دنیا چھوڑ گئی۔

Read more

جب تک دوا ملی، بیٹا دنیا چھوڑ چکا تھا

اس دن مصروفیت بہت تھی۔ ایک تو میڈیکل بورڈ تھے پندرہ بیس ہوں گے۔ میں چیر مین میڈیکل بورڈ تھا۔ ایک سرجن صاحب نشتر سے تشریف لائے تھے اور دو قیدی عدالتی حکم پر میڈیکل بورڈ سے معائنے کے لئے لائے گئے تھے۔ ہسپتال میں مریضوں کی سفارش کے لئے کوئی آئے نہ آئے، میڈیکل بورڈ کے لئے سفارشیوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ اسی لئے میرے دفتر کے باہر خاصا رش لگا ہوا تھا اور گیٹ کیپر دروازہ بند کیے ہوئے تھا۔ میں ان دنوں ایک ڈسٹرکٹ ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھا۔اچانک دروازہ زور سے بجایا گیا۔ اس طرح کی بدتمیزی کا مطلب یہ ہو سکتا تھا کہ کوئی انہونی موت ہوئی ہے یا کسی وجہ سے ہسپتال میں کوئی ہنگامہ ہو گیا ہے۔

Read more
––>