پنجاب یونیورسٹی میں جنسی بے راہروی اور جمعیت


واضح رہے کہ اپنی بیوی کو گھر میں چولہے چوکے جیسے اہم کاموں میں مصروف نہ رکھنے، محلے کی نانیوں کے خوش خبری والے سوال کو یکسر نظر انداز کرنے اور اپنی بیوی کو یونیورسٹی بھیجنے کے تہرے جرم کی پاداش میں بے شرم شوہر کی پٹائی کے اس واقعہ سے اسلامی جمعیت طلبہ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

لڑکیوں کو صرف انتہائی مجبوری کی صورت میں ہی کالج یا یونیورسٹی تک جانا چاہیے۔ یعنی صرف وہ لڑکیاں جن کی شادیاں وقت پر نہیں ہو سکیں وہ یونیورسٹی جائیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ محلے دار، رشتہ دار اور ملنے جلنے والے سو سو سوال پوچھتے ہیں کہ ابھی تک شادی کیوں نہیں ہو سکی اور پھر گھر والوں کے لیے جواب دینا تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا بہانہ اچھا ہے۔ گو کہ اعتبار کوئی نہیں کرتا۔ سوال پوچھنے والے شریف لوگ آپ کے جواب کی بجائے اپنے اندازے پر ہی بھروسا کرتے ہیں۔

انہیں علم ہے کہ کسی جسمانی یا دنیاوی عیب کی وجہ سے وقت پر شادی نہیں ہو سکی تو یونیورسٹی تعلیم کا بہانہ چلا رہے ہیں۔ بات بھی ٹھیک ہے ایک لڑکی کے لیے زندگی کا اہم ترین گول تو شادی ہی کا سیٹ کیا جاتا ہے اور سارے وسائل بھی اس حساب سے خرچ کیے جاتے ہیں کہ پہلے تو وہ شادی کے قابل ہو تاکہ کوئی رشتہ آئے اور پھر اس کی برداشت اور فرمانبرداری ایسی ہو کہ وہ شادی نبھا سکے۔ یہی ہماری قابل فخر مشرقی روایات ہیں اور ہم نے انہیں مذہب میں بھی خوب فٹ کر لیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی بادشاہت ہے اور وہ ہم سب کی بھلائی اور اس پاکستان کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے اسی عقیدے، روایات اور اخلاقیات کو نافذ کرنے کی بھرپور کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ باقاعدہ مسلح جہاد بھی کر گزرتے ہیں۔ ایسے ہی جہاد کا ایک واقعہ چند دن قبل اس وقت پیش آیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کو معلوم پڑا کہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک شادی شدہ خاتون بھی زیر تعلیم ہے۔

سارے بھائی حیران پریشان ہو گئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر لڑکی کی شادی ہو گئی ہے تو پھر وہ زندگی اور ہم سے اور کیا چاہتی ہے۔ اب یونیورسٹی آنے کا کیا جواز ہے۔ آپس کی بات ہے کہ جب لڑکی کی شادی ہو گئی ہے تو اسے یونیورسٹی جانے کا وقت کیسے مل گیا۔ اب محلے کی نانیوں کے خوشخبری کے متعلقہ سوالوں کے جواب کون دے گا۔ خدانخواستہ فیملی پلاننگ جیسی لعنت کا محلے تک پہنچ جانے کا شبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر اس کے ساتھ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کو خوب بڑھنے سے روکنے اور پاکستان کی ترقی کے سفر کو سبوتاژ کرنے جیسی عالمی سازشیں جڑی ہوئی ہیں۔

لڑکی کی غلط تربیت، مغرب زدگی اور بے راہروی کا سوال تو بنتا ہی ہے۔ انہی ساری سوچوں میں گم پنجاب یونیورسٹی کی اخلاقی سرحدوں کے محافظ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن سرگرداں تھے کہ ان کے ہتھے اس ساری سازش کا اصلی مجرم یعنی اس شادی شدہ طالبہ کا بے شرم شوہر آ گیا۔ پھر کیا تھا وہ ان سارے سوالوں کا جواب لینے کے لیے فوراً اس کی ملاقات کو پہنچے۔

اس بے شرم شوہر سے اوپر دیے گئے چند سوالات پوچھے گئے۔ یہ سوالات پوچھتے ہوئے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے اس شخص کے دونوں کان مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے تاکہ وہ یہ بہانہ نہ کر سکے کہ سوال اسے ٹھیک طرح سے سنائی نہیں دیے۔ وہ ان سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ گناہ گار اور مجرم ثابت ہو گیا۔ اسی جرم کی سزا کے طور پر اس کی پٹائی کی گئی۔ انصاف کے تقاضے پورے ہوئے۔

واضح رہے کہ اپنی بیوی کو گھر میں چولہے چوکے جیسے اہم کاموں میں مصروف نہ رکھنے، محلے کی نانیوں کے خوش خبری والے سوال کو نظر انداز کرنے اور اپنی بیوی کو یونیورسٹی بھیجنے کے تہرے جرم کی پاداش میں بے شرم شوہر کی پٹائی کے اس واقعہ سے اسلامی جمعیت طلبہ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس سے پہلے جمعیت نے صرف ان لڑکیوں کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی تھی جن کی شادیاں وقت پر نہیں ہو سکیں اور انہیں والدین کا اعتبار حاصل نہیں تھا اس لیے والدین نے جمعیت کے سہارے انہیں پنجاب یونیورسٹی بھیج دیا تھا۔

جناب اوریا مقبول جان اور جناب حسن نثار دونوں نے ہی اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کی بجائے جمعیت کی اخلاقی چوکیداری پر اعتبار کر کے انہیں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی بھیجتے ہیں۔ شاید انہوں نے کوئی ایسی تحقیق کر رکھی ہو جس کے تحت پنجاب یونیورسٹی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان لوو افیئرز باقی یونیورسٹیوں کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت نے لڑکیوں کو لڑکیوں کے ساتھ مکس ہونے اور لڑکوں کو لڑکوں کے ساتھ مکس ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔ پرابلم صرف اس وقت ہوتی ہے جب مکسنگ کی اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے۔

پہلے مغرب اور اب انڈیا میں بھی جنسی بے راہروی بڑھنے سے صورت حال یہاں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ وہاں مزید بے شرمی اور بے غیرتی کے قوانین بن رہے ہیں اس کا اثر ہمارے معاشرے کو بچانا بہت ضروری ہے۔ لڑکوں کا لڑکوں سے ملنا اور لڑکیوں کا لڑکیوں سے ملنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کا بندوبست ابھی کرنا ہے۔ لیکن بات رکے گی یہاں بھی نہیں۔ اکیلے آدمی کا دماغ بھی شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ ایک دن اسلامی جمعیت طلبہ اس برائی کو روکنے کی کامیاب کوششیں بھی ضرور کرے گی۔ اس کا حل یہ ہو گا کہ لڑکوں کے ہاتھوں پر لوہے کے نوک دار کیلوں والے دستانے چڑھا دیے جائیں۔ اگر ہم یونیورسٹیوں میں دماغ کو سوچنے اور سوال کرنے کے کام سے روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو یہاں بھی کامیابی ضرور حاصل کر لیں گے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik