فواد چودھری اور اعظم سواتی کی سپریم کورٹ میں پریشان کن پیشی


عدالت کی طلبی پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے علاوہ اٹارنی جنرل، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکریٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئین کی کتاب لہرا کرریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آئی جی کو نہیں ہٹا سکتی لیکن یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے اس آئین کے تحت وزیر اعظم کو گھر بھیجا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا کیا آتش فشاں پھٹ گیا تھا کہ آئی جی کے خلاف فوری اقدام کیا، وزیراطلاعات نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا، کیا اس طرح بیان دیا جاتا ہے؟ ایسا ہم سوچ بھی نہیں سکتے، غیرذمے داری کی بھی حد ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو ہیں۔
اٹارنی جنرل نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کی سمری تیار کرنے کا حکم وزیر اعظم نے دیا، وزیر مملکت شہر یار آفریدی نے وزیر اعظم کو آئی جی اسلام آباد کو ہٹانے کا کہا تھا، چند دن قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی آئی جی کی تبدیلی کے لیے کہا، وزراء آئی جی اسلام آباد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے، آئی جی کے ہوتے ہوئے اسلام آباد میں جرائم اور منشیات میں اضافہ ہوا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ سیکریٹری داخلہ کو میٹنگ میں جانا ہے انہیں جانے کی اجازت دی جائے، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو جانے کی اجازت دے دی۔

وزیراطلاعات فواد چوہدری عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ نے عدالت کے بارے میں اس طرح کا طنزیہ بیان کیوں دیا؟

فواد چوہدری نے کہا کہ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تو آپ بتا دیں کیا بیان دیا تھا؟ آپا زبیدہ کی کہانی آپا زبیدہ کی زبانی سن لیتے ہیں۔

عدالت نے فواد چوہدری کے وضاحتی بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ میں عدالت کا بے حد احترام کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے خود سنا ہے، ابھی عدالت میں آپ کا بیان چلا دیتے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ میری جرأت ہی نہیں کہ عدالت کے بارے میں کوئی بات کروں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ بیورو کریسی کوکرداراداکرنا ہے تو الیکشن کی کیا ضرورت ہے یہ بیان کس کا ہے؟
فواد چوہدری نے جواب دیا کہ میرا اشارہ جوڈیشری کی طرف ہرگز نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے آئین کی کتاب لہرا کر فواد چوہدری سے کہا کہ آپ آرٹیکل فوری پڑھیں، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ یہ بھی تو مناسب نہیں کہ آئی جی منسٹر کا فون نہ سنے نہ کال بیک کرے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر ہے تو کیا ہوا، کیا قانون سے بالا ہے؟ ایک عام آدمی اور ایک طاقتور وزیر کا کیا مقابلہ ہے؟ اگرآپ اپنے بیان پر اصرار کر رہے ہیں تو پھر میرٹ پر دیکھ لیتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ میں بالکل بھی اصرار نہیں کر رہا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ کا معاملہ علیحدہ کر دیتے ہیں، اعظم سواتی کدھر ہیں؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعظم سواتی نہیں آئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعظم سواتی رات سے شور کر رہے تھے کہ میں عدالت جاؤں گا، آئے کیوں نہیں؟ ان بچوں کو بھی لے کر آئیں۔
بعد ازاں اعظم سواتی بھی آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے معاملے میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہو گئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے اعظم سواتی سے استفسار کیا کہ آپ نے سارا کیس ٹی وی پر لڑنا ہے کیا؟ آپ نے عورتوں سمیت خاندان کو اندر کرا دیا، کیا وہ آپ کی طاقت کے لوگ ہیں؟ ان کے گھر تین دن سے چولہے نہیں جلے۔

اعظم سواتی نے جواب دیا کہ مجھے دھمکی آئی تھی کہ بم سے اڑا دیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کا رقبہ کتنا ہے؟ آپ نے قبضہ بھی کیا ہوا ہے، کل اپنی اور بچوں کے تمام اثاثوں کی تفصیل عدالت کو فراہم کریں۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا جبکہ مذکورہ خاندان کے درخواست دینے کی صورت میں اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کر دی۔

بشکریہ جنگ۔

Facebook Comments HS