وزیر اعظم کی بے اختیاری پر فواد چوہدری کی پریشانی
پاکستان میں جمہوریت کی بحث کے کئی پہلو ہیں۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمان آل پارٹیز کانفرنس بلوا کر نواز شریف اور آصف زرداری کی ہتھ جوڑی کروانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف نواز اور شہباز یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی اس قسم کے اتحاد کا وقت نہیں آیا ۔ آج قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چیمبر میں ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے موجودہ اور سابق صدر نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ اے پی سی بھلے ہوجائے لیکن وہ دونوں اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ البتہ پارٹی کا ایک ’اعلیٰ اختیاراتی ‘ وفد اس میں ضرور شرکت کرے گا۔ یہ بات چونکہ مولانا فضل الرحمان سمیت سب ہی جانتے ہیں کہ نواز کے بغیر مسلم لیگ اور آصف زرداری کے بغیر پیپلز پارٹی کے وفود کتنے بااختیار ہوسکتے ہیں ، اس لئے مولانا کا وہ سیاسی مقصد شاید ابھی پورا نہ ہوسکے جو وہ کل جماعتی کانفرنس منعقد کرکے حکومت اور تحریک انصاف سے سیاسی انتقام کی صورت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ملک کی بھاری بھر کم اپوزیشن کی پریشانیاں اپنی جگہ لیکن ملک کے مست مولا چیف جسٹس نے ایک ہی جھٹکے میں یعنی ایک سو موٹو میں تحریک انصاف اور اس کے وزیر اعظم عمران خان کو ان کی ’اوقات‘ یاد دلوا دی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کے اچانک تبادلہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا اور وزیر اعظم کے زبانی حکم پر ایک اعلیٰ پولیس افسر کے تبادلہ کو ’نیا پاکستان کے تصور‘ سے متصادم قرار دیتے ہوئے معطل کردیا۔ اب وزیر اطلاعات فواد چوہدری جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے اس بات پر برہم ہیں کہ ایسے انتخابات کا کیا فائدہ اگرکوئی وزیر اعظم انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد کسی پولیس افسر کا تبادلہ کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ پارٹی بدلنے والے جمہوریت کے ذہین طالب علم فواد چوہدری کی پریشانی بجا ہے لیکن انہیں بزرگوں کی اس کہاوت کو بھی پڑھ یا سن لینا چاہئے کہ جو بیجو گے وہی کاٹنا پڑے گا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد جمہوریت، انتخاب، منتخب اسمبلیوں اور سیاست دانوں کو بے توقیر کرنے کے جس ایجنڈے پر فواد چوہدری کے موجودہ لیڈر اور ملک کے وزیر اعظم عمران خان نے عمل شروع کیا تھا، اب اس کی بیجی ہوئی فصل بارآور ہورہی ہے۔ اس آگ کی پہلی چنگاری پر ہی تحریک انصاف کے وزیر اطلاعات کی پریشانی قابل فہم نہیں ہو سکتی۔
یہ وہی چیف جسٹس ہیں جن کی قوت انصاف کا سہارا لے کر عمران خان نے اپنے ناقابل تسخیر مد مقابل کو نہ صرف زیر کیا ہے بلکہ اسے جیل تک پہنچانے کا اہتمام بھی کیا ۔ اور اب نواز شریف کا چھوٹا بھائی نیب کی حراست میں ہے اور حسب قاعدہ جب احتساب والوں کو کسی معاملہ میں چوری کا کوئی کھرا نہیں ملتا تو وہ وسائل سے زیادہ حیثیت کا الزام عائد کرکے اپنا مقدمہ مضبوط کرلیتے ہیں۔ پھر شہباز شریف موٹر وے کے ذریعے اسلام آباد لائے جانے پر کمر درد کی دہائی دیتے قومی اسمبلی میں داخل ہوتے ہیں ۔ نیب ہی کے دائر کردہ مقدمات کی پیروی کرتا بڑا بھائی قومی اسمبلی کے ایک چیمبر میں چھوٹے بھائی سے ملاقات کرنے اور سیاسی معاملات پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ حکومت کے انتظامی معاملات میں عدالتوں کی مداخلت قابل تحسین نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی اعلیٰ پولیس افسر کے تبادلہ کا معاملہ بنیادی حقوق کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب عدالتیں وزیر اعظم کو کان سے پکڑ کر نکالنے کا اختیار حاصل کرلیں ۔ اور چیف جسٹس کی سرکردگی میں ملک کے ڈیم بنانے اور ہسپتالوں کی اصلاح کا کام لینے کی روایت پر حد فاصل قائم کرنے کی بجائے یہ نعرہ عام کیا جائے کہ ’اگر بدعنوان حکومت کام نہیں کرے گی تو کسی کو تو کام کرنا ہے۔ کسی طرح تو عوام کے مسائل حل ہوں‘ تو پھر عدالتیں انتخاب کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر ضرور یہ سوال کریں گی کہ وزیر اعظم کو تبادلے کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔ ملک کی عدالتوں کے اختیار میں اچانک اضافہ اور انصاف کی نت نئی جہتوں کا لشکارا بھی اسی ’چمک‘ کا محتاج ہے جس کے طفیل عمران خان وزیر اعظم بنے بیٹھے ہیں اور پنجاب میں ایک نامعلوم، ناتجربہ کار اور نوآموز شخص صوبہ چلانے کے لئے مرکز سے احکامات لینا اپنا فرض منصبی سمجھ رہا ہے۔
ملک میں اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کا خوف طاری ہے۔ دو صوبوں کے معاملات کو بالواسطہ طور سے اسلام آباد سے چلانے کا تجربہ کرکے اختیارات کے ارتکاز کی عملی صورت پیش کی جارہی ہے۔ اس دلیل کو قابل قبول بنانے کی عملی کاوش ہورہی ہے کہ صوبے محدود اختیارات کے ساتھ کام کریں تو ہی بہتر ہے تاکہ فوری اور درست فیصلے ہوسکیں۔ پاکستان میں یہ دلیل نئی نہیں ہے۔ اس کا سلسلہ ون یونٹ بنانے کے تصور سے جا کر ملتا ہے جس کے بطن سے جنم لینے والے حالات نے 1971 میں ملک کو تقسیم کیا اور مشرقی حصے کے باسیوں نے اکثریت میں ہونے کے باوجود سیاسی بے اختیاری کا جبر برداشت کیا اور بالآخر اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی طرف قدم بڑھانا ضروری سمجھا۔ اب حکومت اور اسے انگلیوں پر چلانے والی قوتیں ایک بار پھر صوبوں کو مزید اختیار دینے کی بجائے ، رہے سہے اختیار اور وسائل سلب کرکے ایک نیا خوشحال پاکستان بنانے کا خواب بیچنا چاہتی ہیں تو اس کی تعبیر تاریک اور المناک ہی ہوگی۔
فواد چوہدری کا گلہ بجا ہے کہ جمہوریت ایک ایسے طرز حکومت کا نام ہے جہاں عوام کے حق حکومت کا اظہار پارلیمنٹ میں اکثریت لینے والی پارٹی حکومت سازی کی صورت میں کرتی ہے۔ اس طریقہ کے مطابق قائم ہونے والی حکومت اور منتخب ہونے والا وزیر اعظم صرف پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے سیاسی فیصلوں اور انتظامی اختیارات کے لئے عدالتوں سے نہیں منتخب نمائیندوں سے رجوع کرتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت اسی معاشرے میں رونما ہوسکتی ہے جہاں جمہوریت کو واقعی عوام کا تفویض کردہ اختیار سمجھا جائے اور منتخب لیڈر خود کو عقل کل سمجھنے کی بجائے اپنی پارٹی کے فیصلوں اور پارلیمنٹ کے اختیار کا پابند ہو۔ ایسا لیڈر اپوزیشن کو بدعنوان قرار دے کر اپنے ہی وزیر اطلاعات کے ذریعے پچاس سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کروانے کی نوید نہیں سناتا اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری اور مسلسل حراست پر خاموش رہ سکتا ہے۔ اسے دیکھنا پڑتا ہے کہ ملک کے قانون اور عدالتی نظام میں کون سی ایسی خرابی ہے جس کی وجہ سے سیاست اور نظام میں تال میل پیدا نہیں ہورہا۔ ادارے کیوں اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کرنا قومی مفاد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ افراد کو اصولوں اور شخصی تفہیم کو کیوں قانون اور قانون ساز ادارے پر فوقیت حاصل ہورہی ہے۔ جو وزیر اعظم اپنے اختیار کے استعمال کے لئے ہر وقت سول ملٹری تعلقات کو پیش نظر رکھنے پر مجبور ہو، اس کے وزیر اطلاعات کو چیف جسٹس کی طرف سے گوشمالی پر چیں بچیں ہونے کی بجائے اس وقت کی تیاری کرنی چاہئے جب وزیر اعظم زیادہ وقت قومی اسمبلی کے ایوان کی بجائے سپریم کورٹ کے کٹہرے میں بتانے پر مجبور ہوں گے۔
یہ فصل خود عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے کاشت کی ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی ہی کہنا چاہئے کہ اسے کاٹنے کا کام بھی اب انہی کو سرانجام دینا ہے۔ اسمبلیوں کو گالیاں دینے اور بے توقیر کرنے کی جو روایت 2014کے دھرنے میں استوار کی گئی تھی اب اس کے پھل پھول دینے کا زمانہ ہے اور انہیں سمیٹنے اور چننے کا کام بھی عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ہی کرنا ہے۔ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا آغاز پچاس کی دہائی میں ہؤا تھا اور ملک کے دو لخت ہونے کے باوجود جمہور دشمن روایت کو ستر، اسی اور نوے کی دہائی میں راسخ کیا گیا تھا۔ اس کے نئے ایڈیشن کی قیادت کا کام اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آغاز سے ہی عمران خان کو تفویض ہوگیا تھا۔ سیاست اور سیاست دانوں کو رسوا کرنے کی رسم ’نئے پاکستان ‘کے عنوان کے ساتھ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے متعارف کروائی گئی ہے۔ اقتدار ملنے کے باوجود عمران خان اور ان کے ہونہار ساتھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیچڑ اچھالنے کے اس طریقہ کو جاری رکھنے سے ان کے اپنے چہرے بھی آلودہ ہوں گے۔ جن سہاروں سے وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں، ان کی محتاجی عوام سے دور ہونے والی ہر حکومت کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اور مجبور گلہ شکوہ نہیں قناعت کرنا سیکھتا ہے یا اس حصار کو توڑنے کا حوصلہ کرتا ہے جو اسے بے اختیار اور لاچار بناتا ہے۔
فواد چوہدری سپریم کورٹ کی عدالت میں اس بے اختیاری کا مقدمہ لڑنے کی بات کر رہے ہیں حالانکہ منتخب وزیراعظم کے اختیار کی بات کرتے ہوئے انہیں یہ مقدمہ منتخب پارلیمنٹ میں لے جانے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف جب تک اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے درست فورم کاانتخاب کرنا نہیں سیکھے گی، اس وقت تک مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی یا نواز زرداری اتحاد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ تحریک انصاف خود اس شاخ کو کاٹنے کے کام میں جتی ہے جس پر اس کا آشیانہ ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کو متحرک ہونے اور نوازشریف کو انقلابی بیانیہ دہرانے کی ضرورت نہیں بلکہ خاموشی سے تماشہ دیکھنا کافی ہے۔
اس خاموشی سے اگر لوگ مایوس ہوتے ہیں، جمہوریت کا راستہ کھوٹا ہوتا ہے یا پارلیمنٹ بے وقعت ہوتی ہے تو اس پر کسی کو پریشانی لاحق نہیں۔ سب نے مل جل کر پارلیمنٹ کو عوام کی قوت کا مظہر بنانے کی بجائے اپنے مفاد کی آماجگاہ بنانے کا سبق ازبر کر رکھاہے۔


