ریکوڈک کا گم گشتہ خزانہ


کیا آپ نے کبھی اس ملک کے بارے سنا ہے جو 100 ارب ڈالر مالیت کے سونے اور تانبے کے ذخائر رکھتا ہے، مگر اسے بروئے کار لانے کی بجائےعالمی عدالت میں 11 ارب ڈالر کے ہرجانے کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ صرف پاکستان ہی میں ہو سکتا ہے، اور وہ بھی بلوچستان کے ضلع چاغی میں موجود تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے تانبے کا ایک کلو یا سونے کا ایک اونس نکالے بغیر۔ یہ خزانہ ریکو ڈک کی زمین میں بدستور دفن ہے، جہاں سے کوئی 40 برس قبل اس کی کھوج لگائی گئی تھی۔

اس دوران جب نئی حکومت بیرون ملک موجود بینک اکاونٹس سے اربوں ڈالر وصول کرنے کے لئے ہاتھ پاوں مار رہی ہے، علاوہ ازیں بیرون ملک پاکستانیوں کی ملکیتی جائیدادوں کی بھی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں، مگر ریکو ڈک کے معاملے میں حالات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کی عالمی عدالت (آئی سی ایس آئی ڈی) میں یہ مقدمہ لڑنے والی وکلا کی ٹیم پہلے ہی دو الزامات میں اپنا دفاع نہیں کر سکی اور یہ مقدمہ تیزی سے حتمی فیصلے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو ممکنہ طور پر اگلے چھ ماہ میں سنایا جا سکتا ہے۔

نامور وکیل رضا کاظم کی جانب سے قومی مفاد کی قانونی فتوحات بھی ضائع ہو کر رہ گئیں، کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس نمایاں فیصلے کے باوجود جس میں ٹیتھیان کاپر کمپنی اور حکومت بلوچستان کے مابین معائدے کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے ہرجانے کی ادائیگی کاحکم جاری کر دیا گیا ہے۔

سینڈک میں سونے کے دوسرے ذخائر کو ایک چینی کمپنی کے حوالے کرنا بھی اتنا ہی مجرمانہ فعل تھا۔ یہ سودا کوئی بیس برس پہلے کیا گیا اور 90 کی دہائی کے وسط میں اُس کمپنی نے وہاں کان کنی شروع کی اور ایک بھٹی و ہاں نصب کی۔ حکومت پاکستان نے آٹھ کروڑ ڈالر خرچ کر دئیے، اور جو سنگ میل باقی رہ گیا تھا وہ تین کروڑ ڈالر کی مزید لاگت سے ایک ریفائنری کا قیام تھا۔ چینیوں نے سینڈک میں یہ ریفائنری لگانے کا وعدہ تو کیامگر گزرے 20 سال میں اس وعدے پر عمل نہیں کر سکے۔

چینی سینڈک سے پچھلے 20 سال سے یومیہ 12500 ٹن کان کنی کر رہے ہیں، اورسونا اور تانبا الگ الگ کرنے کے لئے نیم مصفہ تانبا چین بھیج رہے ہیں۔ خالص سونے اور تانبے کی مقدار پر حکومت پاکستان کا کوئی اختیار نہیں۔ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے اس قومی خزانے کی نگرانی پر صرف دو مستقل اور آٹھ عارضی ملازم تعینات کر رکھے ہیں۔

ریکو ڈک کے ذخائر سینڈک سے 11 گیارہ گنا زیادہ ہیں، جن کی مقدار ساڑھے چار ارب ٹن ہے، اور اس طرح یہ دنیا میں سونے کا پانچواں بڑا ذخیرہ ہے۔ ہر دو ذخائر صرف نو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اب اطلاعات مل رہی ہیں کہ حکومت ریکو ڈک کے قومی اثاثے سعودیوں کو پیش کرنے جا رہی ہے، جبکہ چینی بھی انہیں حاصل کرنے کے لیے جان توڑ کوشش کررہے ہیں۔

اگریہ ہوتا ہے، جس کے لیے بڑی تگ و دو کی جا رہی ہے ، تو یہ قومی شرمساری کا مقام ہے اور قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کے مترادف ۔ کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ 100 ارب ڈالر کے قومی اثاثے کو آپ صرف تین سال کی ڈیفرڈ پےمنٹ میں جھونک دیں۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ بلکہ یوں کہنا چاہیے کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ تھر کے ریگستان میں ہم 140 میٹر کی گہرائی سے صرف دو سال میں دسیوں لاکھ ٹن کوئلہ کھود سکتے ہیں مگر بلوچستان کے ضلع چاغی میں پچھلے 40 سال سے صرف 100 میٹر کی گہرائی سےتانبا/سونا تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔ باوجود اس کے کہ تھر کے کوئلے کی فی ٹن مالیت صرف 30 ڈالر اور تانبے کی 6000 ڈالر ہے۔

تانبے اور کوئلے پر برابر سرمایہ کاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں۔

تانبے اور سونے کی کان کنی ایک مستحکم صنعت ہے، اور تنزانیہ اور افغانستان جیسے ممالک نے بھی اس معاملے میں پاکستان سے بہتر سودے بازی کی ہے۔

ٹیتھیا کاپر کمپنی نے 56 سال تک سالانہ دو ارب ڈالر مالیت کے سونے اور تانبے کی کان کنی کے لیے 3.3 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا تھا۔ چینیوں کی طرح وہ بھی چاہتے تھے کہ ریکوڈک سے تانبے اور سونے کی حامل مٹی کا گارا 1000 کلومیٹر لمبی پائپ لائن کے ذریعے گوادر پہنچایا جائے، اور وہاں سے صفائی کے لیے آسڑیلیا۔

سونے اور تانبے کی کان کنی اور صفائی میں منافع کی شرح کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ ریفائنڈ کاپر/گولڈ پر قریب 300 ڈالر لاگت آتی ہے یا اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت (6000 ڈالر) کے 5 فیصد سے بھی کم۔ عزم کی کمی کے باعث اس منافع بخش اثاثے کو اونے پونے دے دینا مجرمانہ فعل ہو گا۔

 اگلے کئی سال پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ درپیش رہے گا، اور برآمدات کی مد میں حاصل ہونے والے دو ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہماراحساب برابر کرنے میں بڑا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک بار دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے، وفاقی حکومت کو بلوچستان کے اشتراک سے، یہ منصوبہ اپنی ملکیت میں رکھنا چاہیے اور 56 سال تک اس سے سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد کمانا چاہیے۔

مختصر یہ کہ ریکو ڈک کے مجموعی ذخائر کی مالیت 1947 تا حال ،پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضوں سے بڑھ کر ہے، اورایک سادہ عزم سے اس کی وصولی کی جا سکتی، اوروہ یہ کہ ہم اپنے ویژن اور اپنے وسائل کے ساتھ ان منصوبوں پر کام کریں گے۔

ادائیگیوں کا بحران نام نہاد کالے دھن کی وصولی سے حل ہونے کا نہیں، جیسا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے، مگر بڑے قومی منصوبوں کو قومی مفادات میں شروع کرنے سے۔

آپ کو اپنا سونا کسی کے کھوٹ کے لیے گنوانے کی ضرورت نہیں۔

(لکھاری اے پی این ایس انعام یافتہ صحافی ہیں اور ان سے Imranbajwa2000@hotmail.com  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمران باجوہ

مصنف کو تحقیقی صحافت کے لیے اے پی این ایس کی جانب سے ایوارڈ مل چکا ہے۔

imran-bajwa-awon-ali has 13 posts and counting.See all posts by imran-bajwa-awon-ali