آسیہ بی بی کی رہائی واحد منطقی فیصلہ تھا


یہ ملک صرف آئین و قانون پر عمل کرکے ہی چلایا جاسکتا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ استفسار کرنا بھی ضروری ہے کہ ملک کی دوسری بڑی پارٹیاں اس موقع پر احتجاج اور مظاہروں کے رویہ کو مسترد کرنے میں کیوں ناکام ہیں۔ یا جس وقت بعض عناصر لوگوں کو اشتعال دلا کر قومی اداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، یہ سیاست دان اور پارٹیاں کیوں منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی ہیں۔ اگر کوئی قومی سیاسی لیڈر یا جماعت یہ سمجھ کر خاموش ہے کہ اس طرح حکومت کو مشکل کا سامنا ہو گا اور ان کے لئے سیاسی آسانی پیدا ہوگی تو یہ طرز عمل قومی مفاد اور متوازن سیاسی اصول سے متصادم ہے۔ اس ملک میں قانون کے احترام اور اقلیتوں کی حفاظت کے مقصد سے سامنے آنے والے ہر فیصلہ اور اٹھائے جانے والے ہر قدم کی تائید کرنا ملک کے لیڈروں اور شہریوں کا فرض ہے۔ سیاست دانوں کی خاموشی قومی مفاد سے غفلت کا پیغام ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ سچائی بھی اپنی جگہ پر چشم کشا ہونی چاہیے کہ توہین رسالت کے ایک جھوٹے مقدمہ میں گرفتار کی گئی ایک خاتون کو انصاف حاصل کرنے کے لئے 9 برس انتظار کرنا پڑا۔ ملک کی کوئی دوسری عدالت آسیہ بی بی کو انصاف دینے کا حوصلہ نہیں کرسکی۔ نہ ٹرائل کورٹ کو استغاثہ کے مقدمہ میں وہ کمزوریاں دکھائی دیں جن کی طرف سپریم کورٹ کے فیصلہ میں نشاندہی کرتے ہوئے ان کو دی گئی سزا کالعدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی ہائی کورٹ جیسے اعلیٰ عدالتی فورم پر کسی سقم کی بنیاد پر استغاثہ کے مقدمہ کو من گھڑت قرار دینے اور اس الزام کو مسترد کرنے کا اقدام دیکھنے میں آیا۔ اس کے نتیجہ میں ہی آسیہ بی بی کو 2015 میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا جس نے چار برس کے طویل انتظار کے بعد بالآخر آسیہ بی بی کوبے گناہ قرار دیا ہے۔ یہ انتظار زندگی اور موت کی امید کے بیچ وقت گزارنے والی آسیہ بی بی اور ان کے اہل خاندان کے لئے اذیت اور تکلیف کا باعث بنا رہا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ لائق تحسین ہے لیکن اسی فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ‘ 1990 کے بعد سے تقریباً 62 افراد توہین رسالت کے الزام میں قانون کے مطابق مقدمے کی سماعت سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نامور شخصیات بھی جنہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کا چند افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہو رہا ہے، خطرناک نتائج کا سامنا کر چکی ہیں۔ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک حالیہ مثال مشعال خان کا قتل ہے جو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم تھا جس کو اپریل 2017 میں یونیورسٹی کے احاطے میں مشتعل ہجوم نے صرف اس لئے قتل کر دیا کہ اس نے مبینہ طور پر کوئی توہین آمیز مواد آن لائن پوسٹ کیا تھا‘۔

ان حقائق اور صورت حال کی روشنی میں ہی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ’کسی کو حضرت محمد ﷺ کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی جرم کو سزا کے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے بعض اوقات مذموم مقاصد کے حصول کے لئے قانون کو انفرادی طور پر غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا دیا جاتا ہے‘ یہ مشاہدہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ کو توہین مذہب کے بے بنیاد الزام میں برس ہا برس تک جیلوں میں قید لوگوں کی داد رسی کے لئے کوئی واضح لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت عظمی کو یہ بھی طے کرنا چاہیے کہ ایسے مقدمات کا جلد فیصلہ کیا جائے اور نچلی سطح کی عدالتیں بھی کسی دباؤ یاخوف کی بجائے قانون کے میرٹ پر فیصلے کرنے کا حوصلہ کرسکیں۔

آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے کئی پہلو دلچسپ ہیں۔ اس فیصلہ میں استغاثہ کے مقدمہ کو تضادات سے بھرپور اور ناقص بنیاد پر استوار کہتے ہوئے یہ قرار دیا گیا ہے کہ بار ثبوت مدعی اور استغاثہ پر عائد ہوتا ہے۔ آسیہ بی بی کیس میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے اس پہلو کو نظرانداز کیا تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اضافی نوٹ میں تفصیل سے استغاثہ کے گواہوں اور واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ الزام من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی تھا۔

گاؤں کا ایک ایسا مولوی مدعی بنا ہؤا تھا جو اس واقعہ کا عینی شاہد ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ وقوعہ کے پانچ روز بعد ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ گواہوں نے بار بار اپنے بیان تبدیلکیے اور آسیہ بی بی سے ایک اجتماع میں خوف کی فضا میں ذبردستی لئے گئے ایک بیان کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کے مطابق ملزمہ کے بیان کو نظرانداز کیا گیا۔ یہ فیصلہ 56 صفحات پر مشتمل ہے جن میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے 34 صفحات تحریرکیے ہیں۔

باقی 21 صفحات میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اضافی دلائل دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلہ کے پہلے 14 صفحات میں حرمت رسول ﷺ کی اہمیت اور پیغمبر اسلام کے لئے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کو تفصیل سے بیان کرنے کے علاوہ یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح توہین مذہب کے الزام کے بعد لوگ قانون کا احترام کرنے کی بجائے خود فیصلہ کرنے اور سزا دینے پر تل جاتے ہیں۔ اس فیصلہ میں اس حقیقت حال کو تسلیم کرنے کے باوجود غلط اور جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف کارورائی کے حوالہ سے کوئی رہنمائی نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی اس مقدمہ کے مدعی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ کی روشنی میں توہین عدالت کے قوانین میں مناسب ترامیم کا بیڑا اٹھائے اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی قانونی بنیاد فراہم کی جائے جو جھوٹے الزامات میں افراد اور خاندانوں کو مشکل اور اذیت میں گرفتار کرتے ہیں۔ اور عام لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali