بہت مزہ آ رہا ہے We are proud of you!


اپنی تمام زندگی میں دو اقسام کے لوگوں کا کبھی انجام بخیر نہیں دیکھا: ایک وہ جس کے بارے میں عوام کی اکثریت یہ گمان کر لے کہ اس نے توہین رسالتؐ کی ہے۔ اور دوسرا وہ جس کے بارے میں کوئی صوبیدار صاحب یہ تحریر کر دیں کہ اس نے توہینِ فوج کی ہے۔

بھلے دونوں صورتوں میں یہ محض الزامات ہی ہوں، مگر بے کار ذہنوں کی اکثریت، کتب دشمنی، گفتگو سے دور، بحث کے قریب، اپنے خیال کو علم ماننے، مذہب و سیاست کے نام پر تشدد کی دبی دبی خواہش رکھنے والے پاکستانی معاشرے میں اختلافِ رائے، ذاتی اور ادارہ جاتی مخالفت جانی جاتی ہے۔ اور ذاتی اور ادارہ جاتی مخالفت کو گناہ و غداری وغیرہ کے زمرے میں لاتے ہوئے ایسے ”فاسد“ خیالات رکھنے والوں کو عموما تصادم و تشدد کے ذریعے سے ”ٹھنڈ“ کرا دی جاتی ہے۔

کبھی احمد نورانی کے سر پر لڑکی کے بھائی آ کر لوہے کے راڈ مارجاتے ہیں، تو کبھی لڑکی کے بھائی عمر چیمہ کو اٹھا کر اس کی بھنویں مونڈ کر سڑک کنارے پھینک دیتے ہیں۔ کبھی ایم کیو ایم سے حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے اک ”پی ایچ ڈی ڈاکٹر“ کے پروگرام کی بنیاد پر اک فلم۔ میکر کو اٹھا لے جاتے ہیں۔ کبھی رانا ثنا اللہ کے پٹھوں میں چرکے لگا کر اس پر پٹرول چھڑکتے ہیں اور ان کے سر کے بال اور بھنویں مونڈ کر سڑک کنارے مدہوشی کی حالت میں گاڑی سے پھینک دیتے ہیں۔

اور میں قسم اٹھاتا ہوں کہ یہ سب تحریر کرتے ہوئے، میں بھی خوفزدہ ہوں۔ کہ لکھا اور کہا ہوا نجانے کیسے Interpret کیا جائے۔ میری تو اب عمر بھی نہیں کہ سر پر ڈنڈے کھاؤں یا چلتی ہوئی گاڑی سے پھینکا جاؤں۔ بس ایک آدھ ٹیلیفون کال ہی کافی رہے گی۔ اور یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ہی ٹیلیفون کال پر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سُدھر جاؤں گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ میری زندگی کا اک مناسب سی شہری آزادی میں معاشی خوشحالی حاصل کرنے کے علاوہ، اور کوئی مشن نہیں۔

میرے وطن میں یہ خوف کی فضا مسلسل کیوں ہے؟ اور اس خوف کی تکون کے دو سرے پاکستان میں ریاست کی مقتدرہ سے جڑے اداروں اور مذہبی رہنماؤں و جماعتوں سے کیوں جا ملتے ہیں؟

آج آسیہ مسیح کو سپریم کورٹ نے بریت دے دی تو اس فیصلہ کے ساتھ ہی پورا ملک، بالخصوص پنجاب فورا ہی اک تنی ہوئی کمان کی شکل اختیار کر گیا۔ تاریخ سے واقفیت نہ ہو تو بہت موج رہتی ہے، مگر تھوڑی واقفیت ہے تو مسلسل اذیت کا احساس رہتا ہے۔ آیئے کہ جلدی سے اک کریش کورس کر لیتے ہیں۔

1953 میں لاہور میں تحریک نفاذ نظامِ مصطفیٰ چلی۔ ریاست نے تشدد پر بتدریج آمادہ ہوتے ہوئے مظاہرین کو طاقت سے دبا ڈالا۔ حکومت کے مطابق درجنوں ہلاک ہوئے۔ مظاہرین کے بیانیہ کے مطابق ہزاروں شہید ہو گئے۔ اس تحریک کا کیا انجام ہوا؟ میرے پڑھنے والوں میں سے کتنے ایسے ہیں جو، مر جانے والے ان افراد کے نام جانتے ہیں اور ان کی پرواہ بھی کرتے ہیں؟ کتنے؟ اس تحریک کا انجام کیا ہوا؟

کچھ یہی قصہ پھر 1974 میں دھرایا گیا، جب ریاست نے احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا۔ توازن کھو دینے میں رہی سہی کسر پاکستانی معاشرے نے پوری کر دی۔ سینکڑوں ایسے مقدمات ہیں جہاں اک مسلمان نے اپنی کاروباری رقابت، ذاتی رنجش وغیرہ میں، کسی دوسرے مسلمان پر ارتداد کا الزام لگایا۔ باقی کام مقامی مسلم جانبازوں نے کر ڈالا۔

پھر افغان ”جہاد“ کا ڈول ڈالا گیا۔ اور اس جہاد کو Orchestrate کرنے والے، تمام کے تمام رہنماؤں نے مجھ جیسے غریب گھروں کے بچوں کو مذہب کی اک پرتشدد تشریح پر لگایا۔ مگر جناب جنرل ضیاءالحق صاحب نے اپنے بچوں کو بینکر بنایا، ڈاکٹر بنایا، جناب جنرل اخترعبدالرحمٰن صاحب نے اپنے بچوں کو ایکچؤری پڑھائی، بزنس سکھایا اور ان کے لیے سافٹ ڈرنکس کی ایجنسیاں لیں، اس سے قبل جناب جنرل ایوب خان صاحب نے اپنے بچوں کے لیے گاڑیاں بنانے کے کارخانے لگائے۔ افغان جہاد کے دیگر معماروں میں جناب قاضی حسین احمد بھی شامل تھے۔ ان کے بچوں نے مغرب سے تعلیم حاصل کی اور پاکستان واپس آ کر انٹرنیٹ کی کمپنیاں قائم کیں اور ضلع ناظم بھی بنے۔ راولپنڈی میں وفات پا جانے والے اک مشہور جہادی رہنما نے اس دور میں اپنے داماد کو اپنی بیٹی اور بچوں سمیت کیلیفورنیا بھیجا جہاں انہوں نے آئس کریم بیچنے کی اک چھوٹی سی Chain بنائی، اور پیسے کمائے۔

پرتشدد مذہبیت نے نہ صرف پاکستان، بلکہ میرے مذہب کا بھی چہرہ بگاڑ کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا اور میں آج بھی بحثیت اک پاکستانی اس خطے اور دنیا میں اپنی حیثیت پر شرمندہ شرمندہ پھرتا ہوں۔ میرا کیا قصور ہے؟

پھر اسی افغان جہاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تشدد کے اک بنیادی معمار کے صاحبزادے، اپنی والدہ اور بہن کو گھر اور جائیداد میں حصہ دینے سے انکاری ملتے ہیں اور ان پر تھانہ ائیرپورٹ، راولپنڈی میں اک درخواست بھی دی گئی کہ انہوں نے والدہ اور بہن پر تشدد کیا اور انہیں گھر سے نکالا۔ وہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اک ”تحریک“ اور Defence Pakistan Team کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلاتے ہیں۔ وہ فاٹا سے نوجوانوں کو پیسے دے کر مظاہرے کروانے کے لیے اسلام آباد لاتے ہیں، پھر پیسے ادا نہیں کرتے اور پیسوں کا تقاضا کرنے والے کو اپنے وٹس ایپ گروپ سے نکال باہر پھینکتے ہیں۔

جیسی تیسی بھی تھی، پچھلی جمہوری حکومت کے خلاف فیض آباد پر مولوی خادم رضوی صاحب اپنے ہمراہیوں کے ساتھ آتے ہیں، اور اک ایٹمی طاقت کے دارالحکومت کو مفلوج کر کے پوری دنیا میں ہمارا پرچم بلند کرتے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم، جناب عمران نیازی صاحب اور ان کے بطل حریت، جناب شیخ رشید صاحب اک دم ہی محافظ ختمِ نبوتؐ بن جاتے ہیں اور اس پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ پھر اک بیان آتا ہے جس میں نقص امن سے بچنے کے لیے ہزار ہزار روپے لے کر واپس بکھر جانے والے مجاہدین ختم نبوتؐ کے خلاف ریاست کو ایکشن نہ لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

آج سنا کہ آسیہ مسیح کی بریت کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک پاکستان نے اپنے مونہوں سے پھول جھاڑے اور کئی بڑے شہر اور موٹر وے وغیرہ بند کر دیے۔ عجب لطیفہ یہ ہوا کہ ”شٹ ڈاؤن ٹو ری۔بلڈ“ اور چار مہینے دھرنہ تماشہ کرنے والے جناب وزیر اعظم، عمران نیازی صاحب نے سڑکیں بند کرنے کو ملک کے خلاف عمل قرار دیا اور ریاست کی رٹ کی عملداری کا یقین دلایا۔ دیکھنا ہے کہ اب مجاہدین ختم نبوتؐ کے خلاف ایکشن لینے سے کہیں معاشرتی نقص امن کا خطرہ دوبارہ تو پیدا نہیں ہوتا۔

پچھلے 42 برسوں میں پاکستان کی اس صورتحال پر اتنا مسلسل دُکھ دیکھ چکا ہوں کہ اب بے بسی کی ہنسی آتی ہے اور بے اختیار دل کہہ اٹھتا ہے کہ: بہت مزہ آ رہا ہے، وئی آر پراؤڈ آف یو!

Facebook Comments HS