آسیہ بی بی کی رہائی


آسیہ کیس پہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے اور اُسکے بعد عوامی ردِّ عمل نے بحیثیت ایک عام مسلمان مُجھے بہت کُچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ جیسے ہی فیصلہ آیا، آسیہ بی بی کے بری ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کِیا۔ لوگ سڑکوں پہ آگئے، راستے بند کر دیے گئے اور ایک نا معلوم مدت تک کے لئے ملگ گیر احتجاج شروع ہو گئے۔

ہمیشہ کی طرح اس فیصلے میں سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کی ڈگڈگی بھی بجانی شروع کی جس میں سرِ فہرست وہ سیاسی شخصیت شامل ہے جس نے رواں سال 14 اگست کو یومِ آزادی منانے سے اس لیے انکار کِیا تھا کہ انہیں الیکشن کے نتائج قبول نہیں تھے۔

باقی ماندہ مذہبی جماعتوں کا یہ مطالبہ رہا کہ آسیہ کو پھانسی دی جائے ورنہ وہ ملک کا نظام نہیں چلنے دیں گے۔ اور وہ ایسا کرنے میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

شام کے وقت وزیرِاعظم نے قوم سے ہنگامی خطاب کِیا کہ وہ یہ احتجاج ختم کریں اور مشتعل ہوئے بغیر اس بات کو مانیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت نے آئین کے مطابق فیصلہ کِیا ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں ریاست کو احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینا پڑے گا!

میں اپنے ناقص علم کے مطابق عوام کے سامنے چند نکات رکھنا چاہتی ہوں۔

۔ کسی بھی ریاستی معاملے پر احتجاج کا طریقۂِ کار ایسا ہونا چاہیے جس سے باقی عوام کو تکلیف کا سامنا نا کرنا پڑے۔ سڑکیں بند کرنا، عوام کے معمول کے کام روکنا، سکول کالج دفاتر بند کرنا یہ سب اُن لوگوں کو تکلیف دیتا ہے جن کا کوئی قصور نہی۔ احتجاج کرنا ہے تو ایسے کریں کہ عوام کے متاثر ہوئے بغیر آپ کا احتجاج ریکارڈ ہو سکے۔ آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے لیں مگر عام لوگوں کی زندگیاں مشکل نہ کریں۔

۔ توہینِ رسالت کسی بھی مسلمان کے لئے ایک نا قابلِ برداشت امر ہے لیکن ہم کسی ایسے شخص سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و اعلی وسلم کو نبی ہی نا مانتا ہو کیسے اس بات کی توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اُن کے مقام کو سمجھے اور اتنی ہی تکریم سے ان کے بارے میں بات کرے جیسے ہم خود کرتے ہیں؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایک عام آدمی یہ حدیں متعین نہی کر سکتا۔

۔ ایک عام انسان کیسے اس چیز کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس گناہ کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ سزائے موت کا مطالبہ کرنے والے اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ سزا یا بری کرنے کا حق ریاست اور قاضئِ وقت کے پاس محفوظ ہے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی برتیں گے تو وہ اللہ کو جواب دہ ہیں۔ اسلام کا نظام ہمیں ریاست سے ٹکرانے کا حکم نہیں دیتا۔

۔ جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ آسیہ بی بی اپنا گُناہ قبول کر چکی تھی اور اُس کے باوجود اُسے رہا کِیا گیا ہے تو اُنہیں حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔ آسیہ بی بی نے ایسی صورتِ حال میں اپنا جرم قبول کِیا تھا کہ جس میں اگر وہ ایسا نا کرتی تو وہاں ایسے مشتعل افراد موجود تھے جو اسے موقعے پہ قتل کر دیتے۔

۔ عدالتی فیصلے کی فائنل سمری میں ایسے حقائق درج ہیں جن کے مطابق آسیہ بی بی کا جرم ثابت نہیں ہوتا ہاں بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اتنے بے صبرے اور اشتعال پسند ہیں کہ کسی کو اس کی بے گُناہی کو ثابت کرنے کا موقع دینا ہی نہی چاہتے۔ یہاں تک کہ آسیہ بی بی نے بائبل پہ قسم کھانے کا کہا تو اسے بائبل مہیا نا کی گئی!

۔ وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں ایک واضح بات کہی کہ کسی بھی معاملے کو معاشرتی اشتعال انگیزی سے حل نہیں کِیا جاتا بلکہ اُسے آئینی بنیادوں پہ ٹھوس دلیل کے ساتھ پُر امن طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کِیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہالینڈ والے معاملے میں کِیا گیا۔ میرا اس بات پہ مکمل اتفاق ہے کہ اگر دلیل نا قابلِ رد ہو تو فیصلے بدلے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس چیف جسٹس کے فیصلے کے برخلاف کوئی دلیل ہے تو وہ پیٹیشن دائر کرے اور پر امن طریقے سے اپنا مؤقف پیش کرے۔

۔ حکومتی سطح پر ایک اہم قدم اُٹھایا جائے کہ توہینِ رسالت کی مکمل تعریف اور تشریح عوام کے سامنے پیش ہو اورعوام کو اس بات کی تعلیم دی جائے کہ کس طرح ہمارا قانون ہمارے نبئِ اکرم صلی اللہ علیہ و اعلی وسلم کی عزت و ناموس کی زبانی اور عملی حفاظت کرتا ہے۔ اور مختلف صورتوں میں اس کی سزا کیسی ہو سکتی ہے۔

۔ چیف جسٹس صاحب نے آخر میں جس حدیث پہ فیصلہ محفوظ کِیا ہے اُسکے بعد اور کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایسا معلوم پڑتا ہے جیسے اسی معاملے کے لئے اللہ کے رسول نے غیر مسلموں کے حق میں ہمیں نرمی برتنے کا حکم فرما دیا ہو۔

میری ذاتی رائے میرے محدود علم اور انفرادی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ آپ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں!
وللہ العلم خیر۔

Facebook Comments HS