سراب

کل شام کا پہر تھا اور میں شاید نیند سے آنکھیں مل رہی تھی۔ میرے اطراف ملگجا سا اندھیرا تھا۔ نہ رات کے اندھیرے جیسا سیاہ اور نا شام جیسا سُرمئی۔ اداسی جیسا ٹھہرا ہوا نیلا اندھیرا مگر ایسا کہ جس میں سب صاف نظر آ رہا ہو۔ پاپا میرے سامنے تھے۔ اور ہمارے بیچ ایک گہری خاموشی حائل تھی۔ میں نے اُنکے ہاتھوں میں ہاتھ تھام رکھے تھے۔ میری آنکھیں بنا پلکیں جھپکے ان کو ایسے دیکھ رہی تھیں

Read more

انسانی گدھ

قریب دو ماہ پہلے میرے قریبی رشتہ دار کام کی غرض سے لاہور شفٹ ہو رہے تھے۔ ان کی فیکٹری میرے گھر کے نزدیک ہے اور ان کو فوری گھر چاہیے تھا۔ میرے سامنے والا گھر چند ماہ پہلے ہی خالی ہوا تھا۔ میں نے ان کے لیے اس کا پتا کیا تو معلوم پڑا کہ وہ کسی بیوہ خاتون کا ہے اور دوبارہ کرائے پہ بھی ابھی نہی چڑھا۔ پچھلے کرایہ دار گھر کی حالت کافی خراب کر گئے

Read more

مردوں کو بھی جنسی ہراسانی کا سامنا ہے

آفس میں داخل ہوا تو ٹیبل پہ دھری فائلیں میری توجہ کی منتظر تھیں۔ اتنے سالوں کی سروس میں کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ کسی دن کام کم ہوا ہو۔ میں نے بیل دے کر پی۔ اے کو بلایا اور آج کے دن کے حوالے سے ضروری چیزوں کی ہدایات دیں۔ مجھے کام کے بیچ آفس میں ہی ایک کلاس بھی لینی تھی، اور اس سے پہلے چند ایمرجنسی سکین رپورٹس تیار کر کہ کاؤنٹر تک پہنچانی تھیں۔

Read more

شمالی علاقوں میں آنے والے ماڈرن جوڑے

گلگت میں دوران قیام ایک ٹورسٹ پوائنٹ پہ میرے ساتھ پاک فوج کے دو جوان تھے۔ ان سے کچھ ایسا پتا چلا جو میرے لیے حیران کن اور بہت افسوس ناک تھا۔ وہ چائنہ بارڈر پہ کسی لڑکی کے ریسکیو کی بات کر رہے تھے جب میں نے پوچھا کہ وہ اکیلی کیسے وہاں پہنچ گئی۔ پہلے وہ تھوڑا ہچکچائے پھر انہوں نے بتایا۔ کہ یہ عام روٹین ہے۔ اس پہ میں چونکی کہ یہ روٹین کیسے ہوئی؟ افسر نے

Read more

میری نانی کا گھر

بچپن کی یادیں نانی کے گھر کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ یہ ایک ایسا مقناطیسی مرکز ہوتا ہے جس کے گرد سب بہن بھائیوں اور ان کے بچے گھومتے رہتے ہیں یہاں تک کے ایک دن نا نانی رہتی ہے نا نانی کا گھر۔ ہماری نانی نے اپنی سات بیٹیاں پورے پاکستان میں جگہ جگہ بیاہی ہوئی تھیں۔ دو بیٹوں میں سے ایک کا خاندان تو عرصے سے پردیس میں آباد تھا اور ایک بیٹا بہو اپنے تین بچے چھوڑ

Read more

جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے!

‫نبی کریم صلعم نے 13 سال مکّہ میں دین کی دعوت دی۔ اس دوران وہ لوگ جو ایمان لائے مگر لڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، ان پر کفار نے جی بھر کے ظلم کِیا۔ ایک حضرتِ بلال حبشیؓ کی مثال ہی ان جسمانی مظالم کی منظر کشی کے لئے کافی ہے جو ان نو مسلموں نے ایمان کے نتیجے میں برداشت کیے۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا یہ تھی کہ انہیں تین سال تک شعبِ ابی طالب

Read more

میرا حق آدھا کیوں؟

میں نے تقریباً ہر مسلمان عورت کو اللہ سے یہ شکوہ کرتے پایا ہے کہ موروثی جائیداد میں ہمیں بیٹے سے آدھا حصہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جو زبان سے شکوہ نہیں کرتیں وہ یہ کہہ دیتی ہیں کہ اب اللہ کے فیصلوں پر ہمارا کیا بس۔ لیکن دل میں سبھی کے یہ کانٹا ضرور چبھتا ہے کہ اللہ نے یہ تقسیم کر کے عورت کو کم تر کیوں کر دیا ہے۔ چلیں آئیں اِس قانون

Read more

رسمِ آدم فروشی

جولائی کی حبس والی گرمی نے ہر چیز جُھلسا کے رکھ دی تھی۔ میں اِن دنوں میں جب بھی باہر نکلی، ایسے لگا کہ منظر سے لے کے انسانوں تک ہر چیز پگھل رہی ہے۔ کل دوپہر آفس کے کام سے نکلنا ہوا تو جوہر ٹاؤن کے سگنل پہ تھی جب ایک منظر دیکھا جِسے ابھی تک بھول نہیں سکی۔ دیکھتی ہوں کہ ایک بزرگوار ہاتھ میں معمولی سائز کے بینر کا ڈنڈا پکڑے بیٹھے تھے۔ ایسی جان لیوا گرمی

Read more

قضائے عمری

کچھ عرصے سے نماز کے موضوع پہ لکھنا چاہ رہی تھی مگر قلم نہیں اٹھا سکی۔ ہمارے یہاں دین کے معاملے میں لکھنا ذرا ہمت طلب کام ہے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہم سب پہ فرض ہے کہ ہم وقتاً فوقتاً معاشرے کی دینی و معاشرتی اصلاح میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ نماز قضا ہو گئی، ان شا اللّٰہ کسی دن فرصت سے ایک ساتھ ساری ادا کریں گے۔ یا جو نماز چھوٹ جائے اسے پھر کبھی فرصت میں ادا کر لیں گے۔ لوگ شبِ معراج اور رمضان کے لئے بھی اپنی قضا نمازوں کو بچا کے رکھتے ہیں کہ ان دنوں میں ادائیگی کا ثواب زیادہ ملے گا۔ یہ دیکھ کہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ثواب کی دوڑ میں نماز کا اصل مقصد بھول گئے ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی کے ہمیں دن میں پانچ بار اپنے سامنے حاضر کرنے میں نہایت خوبصورت حکمت پوشیدہ ہے۔ ہمیں وہ جاننی ہے۔ آئیں اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more

ڈرامے میں صلّہ کی گندی سٹوری معاشرے کا برہنہ سچ ہے

ہم ٹی وی پہ چلنے والا وہ ڈرامہ سیریل جس نے ایسے نازک مگر اہم نُکتے پہ بحث چھیڑی جس کے بارے میں بات کرنے کو بھی نا ممکن سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو دیکھنے میں اور سُننے میں بہت سے لوگوں کو ناگوار گزری کیوں کہ ان لوگوں کی نظر میں یہ انتہائی واہیات ڈرامہ ہے، بہت گندی سٹوری ہے، فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے والا نہیں وغیرہ۔ مگر میں نے اس سیریل کو بہت دھیان سے دیکھا ہے۔ جو پیغام اس سیریل کے ذریعے ہم تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اسے بہت گہرائی سے سمجھا ہے۔

اور میری نظر میں یہ پیغام ہر گھر میں پہنچنا چاہیے! لوگوں کے لئے یہ محض کہانیاں ہوں گی مگر یہ ہمارے معاشرے کی ایسی حقیقتیں ہیں جنہیں سامنے لانے پر بہت سے گھروں کے چاچا، ماما، تائے، پُھپھا، دیور اور جیٹھ برہنہ ہو جائیں گے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں مرد ننگے ہو کہ بھی عزت دار رہتے ہیں مگر جس عورت کا دوپٹہ یہ کھینچ دیں اُسکی عزت تار تارہو جاتی ہے۔ ! میں بھی شاید آپ لوگوں کی طرح اس ڈرامے کو اتنا ’سیریس‘ نہ لیتی اگر یہ سب مُجھ پہ خود نہ گُزرا ہوتا۔

Read more

میرا بیٹا ہاتھ سے نکل رہا تھا!

”کچھ عرصے سے میں نے نوٹ کِیا کہ وہ کاروبار سے پیسے نکالنے لگا تھا۔ دکان کی حالت دن بہ دن خراب ہو رہی تھی۔ اُس سے پوچھتا تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے مجھے تسلی کرا دیتا۔ لیکن میں جان گیا تھا کہ اب وہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اکثرو بیشتر میں اچانک دکان پہ جاتا تو وہ دکان بند کر کے کہیں آوارہ گردی پہ نکلا ہوتا۔ اس کے دوست بھی عجیب مشکوک سے تھے۔ سگریٹ کا استعمال بھی بڑھ رہا تھا۔ گھر پہ ہوتا تو زیادہ تر سویا ہوا پایا جاتا یا موبائل فون پہ لگا ہوتا۔ کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ کوئی لڑکی کا چکر بھی ہے۔

Read more

جشن یا عوام پہ وزن؟

نبی پاک صلعم جب مدینہ کو ہجرت کی تو دیکھا وہاں موجود یہودی 10 محرم الحرام کا روزہ رکھتے تھے۔ آپ صلعم کے استفسار کرنے پہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ حضرتِ موسٰی کی پیدائش کی خوشی میں روزہ رکھتے ہیں۔نبئ اکرم صلعم نے فرمایا کہ موسٰی اُن سے زیادہ ہمارا ہے اور ہم بھی یہ خوشی منائیں گے۔ لیکن ہم ایک کہ بجائے دو روزے رکھیں گے تاکہ یہودیوں سے مماثلت نہ رہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے 9 اور 10

Read more

آسیہ بی بی کی رہائی

آسیہ کیس پہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے اور اُسکے بعد عوامی ردِّ عمل نے بحیثیت ایک عام مسلمان مُجھے بہت کُچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ جیسے ہی فیصلہ آیا، آسیہ بی بی کے بری ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کِیا۔ لوگ سڑکوں پہ آگئے، راستے بند کر دیے گئے اور ایک نا معلوم مدت تک کے لئے ملگ گیر احتجاج شروع ہو گئے۔ ہمیشہ

Read more

بھابھی نے قربانی نہیں دی

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب شباب نے میری دہلیز پہ اپنے قدم جمانے شروع کِئیے تھے۔ میرا قد سرو ایسا لمبا اور جسم کمان کی طرح تن گیا تھا۔ ایسے میں اب لڑکوں سے بھرے کالج میں بھی دل نہی لگتا تھا۔ کلاسیں چھوڑنے پہ حاضری کے پیشِ نظر پرنسپل نے مجھے کالج سے بھی نکال پھینکا۔ ابّا نے کالج کا یہ حال دیکھ کر مجھ پہ دوکان کے کام کی ذمہ داری ڈال دی۔ سارا دن دوکان

Read more