جس کا کام اسی کو ساجھے
ایسا لگتا ہے دنیا کے سب سے زیادہ فارغ لوگ ہمی ہیں۔ کہیں کچھ ہو جائے اس پہ ایسے ایسے تبصرے سننے کو ملتے ہیں اور وہ ایسے ایسے لوگوں کے منہ سے کہ بس کیا کہیے۔ صفائی والی آئیں گی تو محترمہ کام تو بعد میں کریں گی پہلے موجودہ سیاسی اور سماجی معاملات پہ گفت گو، یعنی ڈسکشن ضرور کریں گی۔ باہر جائیے بس میں سفر کریں تو جو شخص قریب ہو وہ موجودہ صورت احوال پہ اپنے تجزیے سے آپ کو مستفیض کرنا شروع کر دے گا۔ رکشے ٹیکسی میں یہ فریضہ ڈرائیور حضرات انجام دیتے ہیں؛ دُکان پہ سودا لینے جائیں ہر دفعہ چیزوں کی قیمت مختلف، یعنی زیادہ ہو گی۔ دُکان دار سے کہا جائے کہ بھائی پچھلی مرتبہ تو یہ چیز اتنے کی تھی اب مہنگی کیوں؟ تو فوراً رونی صورت بنا کر کہے گا ہم کیا کریں باجی پیچھے سے ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے اور پھر اس کے بعد درآمدات و برآمدات سے لے کر خارجہ پالیسی اور خارجہ پالیسی سے لے کر عام انتخابات میں ہو نے والی دھاندلیوں اور ان دھاندلیوں سے لے کر ٹرمپ کے دورصدارت میں کیے جانے والے غلط فیصلوں تک پہ ایک طویل اور پر مغز لیکچر سنا جا سکتا ہے؛ بشرطے کہ سننے والے کے پاس اتنا فارغ وقت اور اس میں اتنا ضبط یا تحمل ہو۔
گھروں میں بھی عموماً یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر وہ (مرد اور خواتین کی تخصیص نہیں) جو مہینوں گھر سے باہر نہیں نکلتے لیکن ان سے کچھ بھی بات کی جائے وہ ”عالم تمام حلقہ دام خیال ہے“ کی زبانی تشریح بن جاتے ہیں۔ یعنی میڈیا کی بے راہ روی سے لے کر اشیائے خور و نوش میں ملاوٹ تک جس موضوع پہ ان کا دل چاہے وہ گفت گو فرما سکتے ہیں۔ یہ تو محض چند مثالیں ہیں ویسے ایسے نابغے ہر جگہ، ہر موڑ، ہر قدم پہ پائے جاتے ہیں جو علمیت کے دریا بہانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
یہ پوری قوم کا عمومی مزاج بن گیا ہے اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو چند وجوہ سامنے آتی ہیں سب سے پہلی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت کے پاس فراغت بہت ہے اور کرنے کو کوئی کام نہیں، لہٰذا انھوں نے عالمی حالات و واقعات پر ہی غور و فکر کرنا ہے اور بین الاقوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے جو کہ ان سے پوچھنے کوئی بھی نہیں آ رہا نہ ٹرمپ نہ شاہ سلمان اور نہ ہی بشارالاسد۔
دوسرے ہر شخص خود کو عقل کل سمجھتا ہے ساتھ ہی یہ رونا بھی کہ نہ تو اسے سمجھا گیا اور نہ ہی اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا گیا تو ایسے بلبلِ ناشاد خود ہی اپنی علمیت سے دوسروں کو مستفید کرنا چاہتے ہیں۔ بے شک ان کی نیت دوسروں سے بھلائی کی ہوتی ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا متعلقہ شخص کو ان کی رہ نمائی یا مشورے کی ضرورت ہے بھی یہ نہیں؟
اب آ جائیں تیسری وجہ کی طرف، تجسس انسان کی فطرت کا لازمی جزو ہے لیکن انفرادی طور پر ہم میں سے ہر شخص کچھ زیادہ ہی تجسس کے پنجے میں پھنسا بلکہ جکڑا ہوا ہے مثال کے طور پر دو خواتین کی گفتگو ملاحظہ فرمائیے:
”یہ ثانیہ اور شعیب کی شادی کو کتنے دن ہوئے؟“
”دو سال تو ہوگئے“۔
”ابھی تک ان کے یہاں کوئی خوش خبری نہیں؟“
”ہاں دیکھو تو اتنے دن ہوگئے۔“
”پتا نہیں ان کے اماں ابا کو فکر کیوں نہیں ہو رہی۔“
بھلا بتائیے ان کے اماں ابا کو فکر نہیں ہو رہی تو آپ کیوں فکر میں دبلے ہو رہے ہیں لیکن بس یہ تو قومی و اخلاقی فریضہ ہے نا دوسروں کے غم میں دبلا ہونا۔
اس پس منظر میں جو بات سوچنے اور غور کرنے کی ہے وہ یہ کہ ہر شخص نجی اور اجتماعی سے لے کر عالمی سطح کے ہر معاملے پر تبصرہ کرنا اور رائے دینا اپنا حق سمجھتا ہے چلیے ٹھیک ہے سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے لیکن وہ شخص ذرا یہ بھی تو سوچ لے کہ جس معاملے پر وہ رائے زنی کر رہا ہے تو کیا وہ اس کا اہل ہے بھی کہ نہیں، اسے اس بارے میں کیا معلومات ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا اس معاملے سے براہ راست واسطہ کیا ہے جو وہ اس بارے میں اتنا جذباتی ہو رہا ہے؟ آخر ہم لوگ اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتے یہ وہ سوال ہے کہ اگر اس کا جواب ہر شخص کو اپنے اندر سے خود تلاش کرنا ہے اپنی ہی نہیں معاشرے کی بہتری کے لیے۔


