مئی، رمضان اور امتحان

کراچی میں انٹر آرٹس (پرائیویٹ اور ریگولر) کے امتحانات تیرہ مئی سے شروع ہوئے ہیں۔ اور گزشتہ دو تین برسوں سے ایسا اتفاق ہورہا ہے کہ رمضان بھی مئی کے مہینے میں آتے ہیں اور انٹر آرٹس کے امتحانات بھی۔ مئی کا مہینہ سال کے گرم ترین مہینوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سال کا سب سے گرم مہینہ یہ ہی ہے۔ مئی کے دنوں میں یا تو شدت کا حبس ہوتا ہے یا پھر تپتی ہوئی ایسی لُو چلتی ہے کہ اس کے سبب انسانی جسم بری طرح متاثر ہوسکتا ہے اتنا زیادہ کہ زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے۔

Read more

ڈاکٹر شیرشاہ سید سے ایک گفتگو

س: کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے؟ ج: میں کراچی میں پیدا ہوا۔ لی مارکیٹ چاکیواڑہ کے علاقے میں۔ میرے ماں باپ غریب لوگ تھے۔ میرے والد صاحب اسکول ٹیچر تھے، میری والدہ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا لیکن میری چھوٹی بہن کی پیدائش کے بعد انھوں نے پڑھنا شروع کیا اورجیسا…

Read more

نیوزی لینڈ: وحشت سی وحشت

یوزی لینڈ میں جو دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا اس میں پچاس افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ایسی واردات دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو ہر صاحبِ احساس کا دل دکھادیتی ہے۔ زندگی کسی کی بھی ہو انمول اور اہم ہوتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل خواہ ان کا تعلق کسی رنگ، نسل، مذہب اور زبان سے ہو لائقِ مذمت اور صدمے کا باعث ہوتا ہے۔ دہشت گرد کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے لیکن ان کا ایک فرقہ ضرور ہوسکتا ہے اور اس کی بنیاد انتہا پسندی اور نفرت پر ہوتی ہے۔

Read more

مجھے نہیں جانا

امی دور سے فرح کو پکارتی ہوئی اس کے کمرے میں آگئیں۔
”فرح تم تیار نہیں ہورہیں؟ “
” نہیں امی میں نہیں جاٶں گی“۔ فرح نے موبائل پہ اپنی دوست سے بات کرتے کرتے امی کو جواب دیا۔

”کیوں نہیں جاٶ گی؟ اتنے قریبی رشتے داروں کی شادی ہے نہ جانے کی کیا بات ہے؟ “
”میں وہاں جاکے بور ہوجاٶں گی مجھے نہیں مزہ آتا تقریبات میں۔ اس لئے نہیں جانا چاہتی بس یہ بات ہے۔ “
امی جو بڑبڑانا شروع ہوئیں تو بس نہ پوچھیے۔ فرح کان لپیٹے خاموشی سے سنتی رہی۔

Read more

لفظوں کے زخم

” ارے آپ اتنے دن سے کہاں غائب تھیں ہم تو سمجھے آپ اللہ کو پیاری ہوگئیں؟ “

سدرہ نے اپنی امی کی کزن نجمہ کو دیکھتے ہی چہک کر کہا جو بہت دنوں بعد ان لوگوں سے ملنے ان کے گھر آئی تھیں۔ یہ جملہ سنتے ہی نجمہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا جسے محسوس کرتے ہوئے فرزانہ یعنی سدرہ کی ماں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا;

”بھئی ہماری سدرہ تو بہت ہی ہنسوڑ اور خوش مزاج ہے اب دیکھو نا کتنی مزے کی بات کی“۔
نجمہ ان کے اس خیال سے متفق تو نہیں تھیں لیکن بات کو ختم کرنے کے خیال سے اپنی بدمزگی کوچھپا گئیں۔

آئیے اب ایک اور جگہ دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔
”افوہ آپ تو دن بہ دن موٹی ہوتی جارہی ہیں بالکل ڈرم جیسی لگ رہی ہیں، کیا کھارہی ہیں آج کل؟ “

سعد نے اپنی چچی سے کہا یہ سب ایک شادی کی تقریب میں موجود تھے پندرہ سالہ سعد نے یہ جملہ اتنی بلند آواز میں کہا کہ آس پاس موجود سبھی لوگوں نے سنا اور نہ صرف سنا بلکہ کئی افراد نے، جن میں خواتین کی اکثریت تھی چونک کے سعد کی چچی رومانہ کو بغور دیکھا۔ وہ بے چاری شرمندہ سی ہو کے رہ گئیں جب کہ سعد کے ماں باپ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس جملے کو یوں نظر انداز کیا جسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔

Read more

جس کا کام اسی کو ساجھے

ایسا لگتا ہے دنیا کے سب سے زیادہ فارغ لوگ ہمی ہیں۔ کہیں کچھ ہو جائے اس پہ ایسے ایسے تبصرے سننے کو ملتے ہیں اور وہ ایسے ایسے لوگوں کے منہ سے کہ بس کیا کہیے۔ صفائی والی آئیں گی تو محترمہ کام تو بعد میں کریں گی پہلے موجودہ سیاسی اور سماجی معاملات…

Read more

یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

ثریا کے گھر جائیے تو دور سے ہی تیز آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بچوں پہ چیخنا چلانا انھیں ڈانٹنے کی آوازیں گلی کے کونے سے ہی سنائی دینے لگتی ہیں۔ پہلے تو صرف ثریا کی والدہ ہی اپنے بچوں کو ڈانٹا کرتی تھیں لیکن ان کے بچے بڑے ہوئے شادی شدہ ہوئے اور بھابیاں…

Read more

کتاب سے دوری کیوں؟

کتاب کا رواج اس وقت سے ہے جب سے انسان نے اپنی بات، اپنے احساسات اور جذبات کو لفظوں میں مقید کر کے ضبط تحریر میں لانے کا آغاز کیا۔ قدیم دور میں جب کاغذ آج کی طرح ارزاں اور سہل الحصول نہیں تھا اور لکھے گئے مخطوطوں کی بہت اہمیت ہوا کرتی تھی، ان…

Read more

ایک چھوٹی سی بات

ذکر ہے مُتوسّط طبقے کے ایک خوش حال گھرانے کا کہ جس کے افراد خانہ معقول اور پڑھے لِکّھے لوگ ہیں گھر میں میاں بیوی اُن کے دو بچّے ہیں، خاتون خانہ نوکری پیشہ ہیں نوعمر بچّوں کی ماں ہیں شوہر کی بھی اچھی ملازمت ہے خاتون گھر اور باہر کے تمام مسائیل خود نمٹاتی…

Read more

درخت لگاؤ ماحول بچاؤ

درخت کسی بھی جگہ کے ماحول کو بہتر بنانے میں بُہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ہرے بھرے سرسبز و شاداب درخت ماحول کو خُوبصورتی بخش کے دیکھنے والوں کے تسکینِ ذوق کا ساماں بھی مُہیّا کرتے ہیں۔ اور درختوں کا سایہ گرم موسم میں ہمیں دُھوپ کی شِدّت سے بھی محفُوظ رکھتا ہے۔ گرمیوں…

Read more