سمندر، سورج اور شاعری

چاک ایونٹ مینجمنٹ کا نام ادبی و تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کے پروگرامز کی ایک طویل فہرست ہے جو ادبی، تفریحی اور انتظامی ہر اعتبار سے ہر سطح پر سراہے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اگر چاک انتظامیہ نے جاتے ہوئے سال کو دسمبر مشاعرے کے ذریعے الوداع کہا تھا تو سال نو کا استقبال ساحل پہ پکنک اور مشاعرے کے ذریعے کیا۔ چاک کے وہ پروگرامز جو اب ایک روایت بن گئے

Read more

ایک اچھی روایت کی چالیسویں کڑی

سفر نامہ نگار، مزاح نگار معین قریشی ادب کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ مزاحیہ ادب کے ضمن میں ان کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سات جنوری کی دوپہر معین الدین قریشی کی رہائش گاہ پر یک جہتی مشاعرہ اور ظہرانے کا اہتمام ہوا۔ یہ دعوت ڈاکٹر معین قریشی ہر سال کیا کرتے تھے چوں کہ یہ دعوت سردیوں میں ہوتی ہے تو اس دعوت کا خاص کھانا پائے ہوتے ہیں گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ

Read more

اک حسین شب

چاک ادبی فورم کا نام ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اب ایک بہت معتبر حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ چاک کی محفل مشاعرہ ہو یا شب موسیقی، افسانہ کانفرنس ہو یا افسانچے کی نشست، غرض کہ پروگرامز کی طویل فہرست ہے جن میں لوگ اپنی شرکت کے ذریعے نہ صرف اسے کام یاب بناتے ہیں بلکہ اپنی پسندیدگی کا بھرپور اظہار بھی کرتے ہیں۔ چاک ادبی فورم و ایونٹ مینجمنٹ کے ہر پروگرام کو لوگ پسند کرتے اور انتظار کرتے ہیں

Read more

”رنگ ہی رنگ، سب رنگ“

سب رنگ ڈائجسٹ وہ رسالہ جس نے عشروں سے لوگوں کو گرویدہ بلکہ دیوانہ بنا رکھا ہے۔ یہ ایسا بے مثال جریدہ تھا کہ اس میں دنیا بھر کا بہترین فکشن شائع ہوا جس کو باذوق قارئین اب بھی پڑھنا چاہتے ہیں لیکن اب سب رنگ کے پرانے شمارے ملنا قریب قریب ناممکن ہے۔ خوش قسمتی سے اب اس بہترین ذخیرے کو وقت کی دست برد سے بچانے کے لیے کتابی سلسلے کی صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔

Read more

چاک کی اک شام دوستاں

امریکہ میں مقیم مشہور و معروف افسانہ نگار جناب امین بھایانی گزشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں مختلف تقریبات ہوئیں۔ چاک ایونٹ مینیجمنٹ و چاک فکشن فورم نے بھی امین بھایانی کے اعزاز میں ایک شام دوستاں کا اہتمام کیا۔ اٹھارہ اگست کو افسرز میس کلب کراچی میں سجائی جانے والی یہ شام بہ یک وقت دو تقریبات کا اجتماع تھا۔ ایک تو جناب امین بھایانی کے اعزاز میں اور دوسرا یہ کہ اسی دن معروف شاعرہ

Read more

ایک موضوعاتی شام افسانہ

چودہ اگست کی شام حلقہ6 احباب ذوق کے زیر اہتمام شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی لائبریری واقع گلشن معمار میں پاکستان کے قیام کا جشن الماسی منایا گیا اور اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ موسم خوش گوار تھا سو اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے نشست کا انتظام لائبریری کے صحن میں کیا گیا تھا۔ ویسے تو اس لائبریری میں ہر اتوار کو ادبی نشست منعقد کی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ یہ نشست ذرا مختلف

Read more

بھیگی بھیگی سی افسانوی شام

چاک ایونٹ مینجمنٹ شہر کراچی کی ایک فعال ادبی و ثقافتی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم ہر تھوڑے وقت کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا پروگرام کرتی ہے جو ادب اور ثقافت کے کسی شعبے کے حوالے سے ہوتا ہے اور بہت خوب ہوتا ہے۔ ڈیڑھ برس کے مختصر سے عرصے میں اس تنظیم نے اپنی ایک نمایاں اور بہت واضح پہچان بنالی ہے۔ اس کے منفرد پروگرام نہ صرف اس تنظیم کا حوالہ اور اس کی شناخت ہیں بلکہ یہ

Read more

صحرا میں بہار۔ ”ویرانے کی دلکش رات“ ۔ (چوتھی قسط) ۔

کھانا کھانے کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔ تھر کے سرحدی علاقے کی اس دور افتادہ چھوٹی سی آبادی میں ہونے والی اس محفل سخن کا ایک اپنا ہی تاثر تھا جو بہت ہی مختلف تھا۔ ذرا سوچیئے خاموش رات ہر سمت ایک پرسکون سناٹا اور اس سناٹے میں ہوا کے دوش پہ پھیلتے ہوئے شعر و سخن کے دل نشین آہنگ۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ بڑے شہروں میں تو رات بھی روشنیوں سے بھرپور

Read more

"صحرا میں بہار” (تیسری قسط۔)

آشرم سے نکل کے ہم نے پھر سفر شروع کیا۔ سفر کا دورانیہ تھوڑی دیر کا بتایا گیا تھا اور یہ تھوڑی دیر ڈھائی پونے تین گھنٹے پہ محیط تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ کراچی سے نکلنے کے بعد سے تو گویا منظر ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے ہر طرف شام ہو چکی تھی دن ڈھل رہا تھا تو شہ فلک اپنی آرام گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ خیر

Read more

چودھویں عالمی اردو کانفرنس: علم و ثقافت کا اجتماع

 کراچی شہر میں ہر طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ سال کے اختتامی مہینوں میں جب گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔ موسم قدرے خُنکی ماٸل ہوتا ہے۔ تب ادب شناس اور ادب نواز سُخن وران، یوں لگتا ہے کہ جیسے جوش سے بھر جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ادبی تقریبات منعقد ہونے لگتی ہیں ادبی محفلیں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کراچی کی

Read more

صحرا میں بہار (2)

ہمارا یہ سفر خاصا طویل تھا۔ لق دق ویرانے میں جہاں کہیں کہیں سبزہ اور کھیت بھی نظر آ جاتے لیکن زیادہ تر تو زمین سیم اور تھور جیسے موذی امراض میں مبتلا نظر آئی جسے دیکھ کے میرا دل دکھ سے بھر جاتا تھا۔ سہ پہر کو ہم جس علاقے میں پہنچے وہ ایک چھوٹی سی آبادی تھی۔ یہ اسلام کوٹ کا علاقہ تھا۔ گاڑی یہاں روکی گئی تاکہ کچھ کھا پی لیا جائے۔ ہم لوگوں کے لیے یہ

Read more

صحرا میں بہار : پہلی قسط۔

”سفر میں گزرا دن“ صائمہ نفیس چاک ادبی فورم اور ایونٹ مینجمنٹ کے تحت کچھ نہ کچھ سرگرمیاں کرتی رہتی ہیں جنھیں لہو گرم رکھنے کا بہانہ کہا جاسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں چاک ادبی فورم اور ایونٹ مینیجمنٹ کے زیر اہتمام کراچی کے کچھ شعرا6 نے تھر کا دورہ کیا۔ جن میں شاعروں کے علاوہ چند ایک مجھ جیسے غیر شاعر بھی شامل تھے۔ شعرا6 میں یاسمین یاس، لبنیٰ عکس، علی کوثر، سحر علی، ہدایت سائر، آئرین فرحت، سلمان ثروت

Read more

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق

پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی خواہ کہیں بھی رہتے بستے ہوں لیکن ان کی قلبی وابستگی پاکستان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں نے اپنے نئے وطن کی شہریت لینے کے باوجود پاکستانی شہریت ترک نہیں کی ہوتی ہے۔ ایک تو اس لیے بھی کہ ان میں سے اکثریت نے اسی ملک میں جنم لیا، پلے بڑھے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا خاندان، اعزا و اقربا

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (9)

”سوئے شہر نگاراں“ ہم صبح ناشتے کے بعد سے سیر کے لیے مینار پاکستان، بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ گئے تھے وہاں سے واپسی دوپہر تقریباً ایک بجے ہوئی۔ ان جگہوں کا ایک بہت خوش گوار تاثر تھا جو کتنی ہی دیر ذہن پہ طاری رہا۔ دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہاں سے واپسی ہو لیکن مسئلہ یہ تھا کہ شام کی ٹرین سے واپسی تھی۔ اگر لاہور میں مزید قیام ہوتا تو بہت دیر بلکہ رات تک وہیں

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (8)

”باغوں کے شہر کی سیر“ گزشتہ رات کی ایک اچھی محفل اور عمدہ مشاعرے نے طبیعت کو شاداں و فرحاں کر دیا تھا۔ حامد انوار صاحب مرکز قومی زبان کے سربراہ ہمارے میزبان تھے اور سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے بہترین میزبانی کی۔ مشاعرے کے فوری بعد چائے کا انتظام تھا۔ ساتھ ہی ڈھیروں اقسام کے بسکٹس تھے غالباً مارکیٹ میں دست یاب ہر بسکٹ وہاں لا کے سجا دیا گیا تھا۔ چائے بہت مزے دار تھی بلکہ

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (7)

” شہر دلداراں کی طرف“ ۔ گزشتہ شام کی عمدہ محفل اور لذیذ کھانے نے بہت لطف دیا تھا۔ محفل برخاست ہونے کے بعد اسی احساس کے ساتھ میں گیسٹ ہاوٴس کی چھت پہ چلی آئی۔ ابھی چاند نہیں نکلا تھا لہٰذا ماحول پہ گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ گیسٹ ہاوٴس کی روشنیاں ایک محدود رقبے میں تو اس تاریکی پر غالب آئی ہی تھیں لیکن اس سے آگے گھور تاریکی تھی۔ دن کا چمکتا دمکتا روشن منظر اس وقت

Read more

چھٹی قسط۔ ” ایک اور خوب صورت دن“

گزشتہ رات محفل شعر و غنا آخر شب جا کے اختتام پذیر ہوئی۔ چار سوا چار بجے میں سوئی لیکن زیادہ دیر نہ سو سکی۔ ساڑھے چھ بجے آنکھ کھل گئی۔ اب میں دوبارہ نہیں سو سکتی تھی لہٰذا اٹھ گئی۔ پتوکی کے برعکس فاروقہ میں رات نسبتاً خنک تھی۔ صبح بھی خنکی لیے ہوئے تھی لیکن یہ خنکی خوش گوار اور قابل برداشت تھی۔ میرے دیگر ہم سفر اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ میں کمرے سے باہر آئی۔ ہمارے میزبان میجر کھوسہ صاحب صحن میں اپنے ملازمین کو کاموں کے بارے میں ہدایات دے رہے تھے۔

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی۔ پانچویں قسط۔

” اک نئے نگر میں“ پتوکی سے دوپہر کو شروع ہونے والا سفر رات ساڑھے نو بجے ہماری منزل مقصود پہ آ کے ختم ہوا۔ اب ہمارا قیام سرگودھا اور ساہیوال کے درمیان چھوٹا ساہیوال کے گاؤں فاروقہ کے ایک علاقے سلکیاں میں تھا۔ یہاں ہمارے میزبان ریٹائرڈ میجر سربلند اقبال خان صاحب تھے جو علاقے کی نمایاں شخصیت ہیں۔ اس پرفضا علاقے میں ان کی زمینیں ہیں جہاں فصل اگائی جاتی ہے اور انھی زمینوں کے درمیان انھوں نے

Read more

سفرنامہ پنجاب۔ تیرے شہر میں یوں زندگی ملی۔ چوتھی قسط۔

آج ہماری پتوکی سے روانگی تھی۔ پتوکی میں یہ آخری صبح بھی ہم نے بہت بھرپور انداز میں گزاری۔ گروپ کی نصف سے زائد خواتین صبح کی سیر کرنے نکل پڑیں۔ آج ان میں میں بھی شامل تھی۔ ایک مزے کی بات بتاوٴں خواتین صرف صبح سیر کرنے ہی نہیں نکلتی تھیں بلکہ راستے میں کھیتوں میں انھیں جو بھی مٹھے مالٹے کا درخت نظر آ جاتا یہ اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے باز نہ رہتیں۔ پھل کھانا

Read more

پنجاب تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (3)

” جب گلاب فرش راہ ہوئے“ ۔ ہمارا یہ دن بہت بھرپور بھی تھا اور یادگار بھی۔ ہمیں گھر سے رخصت ہوئے تیسرا دن تھا لیکن انھی دو دنوں میں ہم نے بہت مصروف وقت گزار لیا۔ صبح کھیتوں کی سیر، دوپہر کو چھانگا مانگا کی سیر اور اب شام کو مشاعرہ۔ یہ مشاعرہ پتوکی پریس کلب رجسٹرڈ نے کراچی کے مہمان شعرا کے اعزاز میں منعقد کیا تھا۔ چھانگا مانگا سے واپسی پر ہم سب پھر تیار ہونے لگے

Read more

سفر نامہ پنجاب۔ تیرے شہر میں یوں زندگی ملی۔ دوسری قسط۔

” جنگل میں منگل“ لاہور ریلوے اسٹیشن سے ہماری گروپ لیڈر نے ایک وین کا بندوبست کیا جس میں تمام لوگ مع ساز و سامان کے سما گئے۔ اس مرتبہ ہمارا سفر پتوکی کے لیے تھا۔ بڑے شہروں سے باہر نکلتے ہی گویا منظر بدل جاتا ہے۔ کہاں شہروں کی گہماگہمی اور کہاں مضافات اور اس سے بھی آگے کے خالص قدرتی مناظر۔ شہر سے دور چھدری آبادی، کھیت، یہاں سے وہاں تک بکھرا ہوا سبزہ جیسے قدرت نے زمین

Read more

سفر اور میں؟ پہلی قسط

صائمہ نفیس اپنے نام کے دوسرے حصے کی طرح خود بھی خاصی نفیس خاتون ہیں۔ نفیس تو وہ ہیں ہی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خاصی متحرک اور توانائی سے بھرپور خاتون ہیں۔ انھوں نے ادبی سرگرمیوں کے فروغ ایک ادبی تنظیم چاک ایونٹ مینجمنٹ اور ادبی فورم کے نام سے تشکیل دی ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ دل چسپ پروگرام ترتیب دیتی رہتی ہیں۔ میری اس بات کی تائید ان تمام سرگرمیوں سے ہوتی ہے جو وہ

Read more

خوش رنگ سب رنگ

کچھ وقت پہلے ”سب رنگ کہانیاں“ کی تیسری جلد بھی منظر عام پہ آ گئی ہے اور عنقریب چوتھی جلد بھی آنے کو ہے۔ ”سب رنگ کہانیاں“ ان کہانیوں کے انتخاب پر مشتمل ہے جو سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت کے تقریباً ساڑھے تین عشروں میں سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں۔ ”سب رنگ کہانیاں“ کتب کا سلسلہ ہے اور جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ سب رنگ کہانیاں کی تیسری جلد بھی اپنی پہلی دو جلدوں کی طرح سب

Read more

قوس قزح کے سب رنگ

کہتے ہیں کہ کتاب سے اچھا دوست کوئی نہیں ہے۔ صاحبان ذوق اور اہل علم حضرات اس قول کی صداقت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہمیشہ سے کتب بینی یا مطالعے سے شغف ہونا پڑھے لکھے ہونے کی نشانی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ کسی دور میں مطالعہ صرف علم میں اضافے کا سبب ہی تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ فاضل وقت گزارنے کے لیے ایک بہترین مشغلہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ یہ صدی سائنسی ترقی اور اس کے عروج کی صدی ہے۔ اس دور میں علم کے اضافے اور وقت گزاری کے لیے اب صرف کتابیں ہی نہیں ہیں بلکہ سائنس کی ترقی کی بدولت دیگر کئی ذرائع بھی وجود میں آچکے ہیں مثال کے طور پہ الیکٹرانک میڈیا۔ جس کے سبب کچھ لوگوں کے خیال میں کتاب سے رغبت کم بلکہ خاصی کم ہوئی ہے۔ شاید یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کہ;

Read more

کورونا کے دنوں میں اردو کانفرنس

رواں سال تمام دنیا کے لیے بہت سخت ثابت ہوا۔ ابتدائی چند ماہ سے بلکہ پہلی سہ ماہی سے ہی کورونا نامی آفت نے دنیا بھر کو اپنی گرفت میں لے لیا اور کچھ اس طرح لیا کہ ہر سرگرمی معطل ہوکے رہ گئی۔ یہ موذی مرض متعدی ہے اور میل جول، قربت اور لمس کا دشمن ہے۔ لوگوں کے ایک دوسرے سے میل ملاقات کو پسند نہیں کرتا۔ یہ مرض چوں کہ سماجی رابطوں کے ذریعے سے پھیلتا ہے

Read more

دھنک رنگ، سب رنگ

گزشتہ دنوں حسن رضا گوندل صاحب کی مرتب کردہ ایک کتاب شایع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان کہانیوں میں سے چند کا انتخاب ہے جو سب رنگ میں شایع ہوچکی ہیں۔ کہنے کو تو یہ کہانیاں مغربی کہانیوں کا ترجمہ ہیں لیکن اس قدر خوب صورت زبان اور دل نشیں انداز بیان ہے کہ ترجمے کے بجائے طبع زاد کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔ سب رنگ کا آغاز جنوری 1970 میں ہوا اور شکیل عادل زادہ کی ادارت میں جنوری 2007

Read more

مئی، رمضان اور امتحان

کراچی میں انٹر آرٹس (پرائیویٹ اور ریگولر) کے امتحانات تیرہ مئی سے شروع ہوئے ہیں۔ اور گزشتہ دو تین برسوں سے ایسا اتفاق ہورہا ہے کہ رمضان بھی مئی کے مہینے میں آتے ہیں اور انٹر آرٹس کے امتحانات بھی۔ مئی کا مہینہ سال کے گرم ترین مہینوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سال کا سب سے گرم مہینہ یہ ہی ہے۔ مئی کے دنوں میں یا تو شدت کا حبس ہوتا ہے یا پھر تپتی ہوئی ایسی لُو چلتی ہے کہ اس کے سبب انسانی جسم بری طرح متاثر ہوسکتا ہے اتنا زیادہ کہ زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے۔

Read more

ڈاکٹر شیرشاہ سید سے ایک گفتگو

س: کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے؟ ج: میں کراچی میں پیدا ہوا۔ لی مارکیٹ چاکیواڑہ کے علاقے میں۔ میرے ماں باپ غریب لوگ تھے۔ میرے والد صاحب اسکول ٹیچر تھے، میری والدہ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا لیکن میری چھوٹی بہن کی پیدائش کے بعد انھوں نے پڑھنا شروع کیا اورجیسا کہ آپ کو پتہ ہے وہ پڑھ کے ڈاکٹر بن گئیں۔ میری جو اسکولنگ ہوئی وہ لیاری میں ہوئی اس کے این جے وی نریندرناتھ

Read more

نیوزی لینڈ: وحشت سی وحشت

یوزی لینڈ میں جو دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا اس میں پچاس افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ایسی واردات دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو ہر صاحبِ احساس کا دل دکھادیتی ہے۔ زندگی کسی کی بھی ہو انمول اور اہم ہوتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل خواہ ان کا تعلق کسی رنگ، نسل، مذہب اور زبان سے ہو لائقِ مذمت اور صدمے کا باعث ہوتا ہے۔ دہشت گرد کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے لیکن ان کا ایک فرقہ ضرور ہوسکتا ہے اور اس کی بنیاد انتہا پسندی اور نفرت پر ہوتی ہے۔

Read more

مجھے نہیں جانا

امی دور سے فرح کو پکارتی ہوئی اس کے کمرے میں آگئیں۔
”فرح تم تیار نہیں ہورہیں؟ “
” نہیں امی میں نہیں جاٶں گی“۔ فرح نے موبائل پہ اپنی دوست سے بات کرتے کرتے امی کو جواب دیا۔

”کیوں نہیں جاٶ گی؟ اتنے قریبی رشتے داروں کی شادی ہے نہ جانے کی کیا بات ہے؟ “
”میں وہاں جاکے بور ہوجاٶں گی مجھے نہیں مزہ آتا تقریبات میں۔ اس لئے نہیں جانا چاہتی بس یہ بات ہے۔ “
امی جو بڑبڑانا شروع ہوئیں تو بس نہ پوچھیے۔ فرح کان لپیٹے خاموشی سے سنتی رہی۔

Read more

لفظوں کے زخم

” ارے آپ اتنے دن سے کہاں غائب تھیں ہم تو سمجھے آپ اللہ کو پیاری ہوگئیں؟ “

سدرہ نے اپنی امی کی کزن نجمہ کو دیکھتے ہی چہک کر کہا جو بہت دنوں بعد ان لوگوں سے ملنے ان کے گھر آئی تھیں۔ یہ جملہ سنتے ہی نجمہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا جسے محسوس کرتے ہوئے فرزانہ یعنی سدرہ کی ماں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا;

”بھئی ہماری سدرہ تو بہت ہی ہنسوڑ اور خوش مزاج ہے اب دیکھو نا کتنی مزے کی بات کی“۔
نجمہ ان کے اس خیال سے متفق تو نہیں تھیں لیکن بات کو ختم کرنے کے خیال سے اپنی بدمزگی کوچھپا گئیں۔

آئیے اب ایک اور جگہ دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔
”افوہ آپ تو دن بہ دن موٹی ہوتی جارہی ہیں بالکل ڈرم جیسی لگ رہی ہیں، کیا کھارہی ہیں آج کل؟ “

سعد نے اپنی چچی سے کہا یہ سب ایک شادی کی تقریب میں موجود تھے پندرہ سالہ سعد نے یہ جملہ اتنی بلند آواز میں کہا کہ آس پاس موجود سبھی لوگوں نے سنا اور نہ صرف سنا بلکہ کئی افراد نے، جن میں خواتین کی اکثریت تھی چونک کے سعد کی چچی رومانہ کو بغور دیکھا۔ وہ بے چاری شرمندہ سی ہو کے رہ گئیں جب کہ سعد کے ماں باپ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس جملے کو یوں نظر انداز کیا جسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔

Read more

جس کا کام اسی کو ساجھے

ایسا لگتا ہے دنیا کے سب سے زیادہ فارغ لوگ ہمی ہیں۔ کہیں کچھ ہو جائے اس پہ ایسے ایسے تبصرے سننے کو ملتے ہیں اور وہ ایسے ایسے لوگوں کے منہ سے کہ بس کیا کہیے۔ صفائی والی آئیں گی تو محترمہ کام تو بعد میں کریں گی پہلے موجودہ سیاسی اور سماجی معاملات پہ گفت گو، یعنی ڈسکشن ضرور کریں گی۔ باہر جائیے بس میں سفر کریں تو جو شخص قریب ہو وہ موجودہ صورت احوال پہ اپنے

Read more

یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

ثریا کے گھر جائیے تو دور سے ہی تیز آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بچوں پہ چیخنا چلانا انھیں ڈانٹنے کی آوازیں گلی کے کونے سے ہی سنائی دینے لگتی ہیں۔ پہلے تو صرف ثریا کی والدہ ہی اپنے بچوں کو ڈانٹا کرتی تھیں لیکن ان کے بچے بڑے ہوئے شادی شدہ ہوئے اور بھابیاں گھر میں آئیں تو اب ان کی ڈانٹ کا مر کز پوتا پوتی تھے اور ان کی آواز میں اب ان کی بہوٶں کی آوازیں

Read more

کتاب سے دوری کیوں؟

کتاب کا رواج اس وقت سے ہے جب سے انسان نے اپنی بات، اپنے احساسات اور جذبات کو لفظوں میں مقید کر کے ضبط تحریر میں لانے کا آغاز کیا۔ قدیم دور میں جب کاغذ آج کی طرح ارزاں اور سہل الحصول نہیں تھا اور لکھے گئے مخطوطوں کی بہت اہمیت ہوا کرتی تھی، ان دنوں کتاب اس شکل میں نہیں تھی جیسے آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں ایک تو کاغذ بنانے کا فن ہر قوم نہیں جانتی

Read more

ایک چھوٹی سی بات

ذکر ہے مُتوسّط طبقے کے ایک خوش حال گھرانے کا کہ جس کے افراد خانہ معقول اور پڑھے لِکّھے لوگ ہیں گھر میں میاں بیوی اُن کے دو بچّے ہیں، خاتون خانہ نوکری پیشہ ہیں نوعمر بچّوں کی ماں ہیں شوہر کی بھی اچھی ملازمت ہے خاتون گھر اور باہر کے تمام مسائیل خود نمٹاتی ہیں کیوں کہ شوہر کی ملازمت کے اوقات کار بھی بہ نسبت اپنی بیگم کے زیادہ ہیں اور کچھ یوں بھی ہے کہ مردوں کی

Read more

درخت لگاؤ ماحول بچاؤ

درخت کسی بھی جگہ کے ماحول کو بہتر بنانے میں بُہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ہرے بھرے سرسبز و شاداب درخت ماحول کو خُوبصورتی بخش کے دیکھنے والوں کے تسکینِ ذوق کا ساماں بھی مُہیّا کرتے ہیں۔ اور درختوں کا سایہ گرم موسم میں ہمیں دُھوپ کی شِدّت سے بھی محفُوظ رکھتا ہے۔ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں کسی گھنے پیڑ کی چھاٶں، گرمی اور تپش کے مارے ہوٶں کے لئے جنّت سے کم راحت ِجاں نہیں ہوتی۔ درختوں

Read more