” ارے آپ اتنے دن سے کہاں غائب تھیں ہم تو سمجھے آپ اللہ کو پیاری ہوگئیں؟ “
سدرہ نے اپنی امی کی کزن نجمہ کو دیکھتے ہی چہک کر کہا جو بہت دنوں بعد ان لوگوں سے ملنے ان کے گھر آئی تھیں۔ یہ جملہ سنتے ہی نجمہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا جسے محسوس کرتے ہوئے فرزانہ یعنی سدرہ کی ماں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا;
”بھئی ہماری سدرہ تو بہت ہی ہنسوڑ اور خوش مزاج ہے اب دیکھو نا کتنی مزے کی بات کی“۔
نجمہ ان کے اس خیال سے متفق تو نہیں تھیں لیکن بات کو ختم کرنے کے خیال سے اپنی بدمزگی کوچھپا گئیں۔
آئیے اب ایک اور جگہ دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔
”افوہ آپ تو دن بہ دن موٹی ہوتی جارہی ہیں بالکل ڈرم جیسی لگ رہی ہیں، کیا کھارہی ہیں آج کل؟ “
سعد نے اپنی چچی سے کہا یہ سب ایک شادی کی تقریب میں موجود تھے پندرہ سالہ سعد نے یہ جملہ اتنی بلند آواز میں کہا کہ آس پاس موجود سبھی لوگوں نے سنا اور نہ صرف سنا بلکہ کئی افراد نے، جن میں خواتین کی اکثریت تھی چونک کے سعد کی چچی رومانہ کو بغور دیکھا۔ وہ بے چاری شرمندہ سی ہو کے رہ گئیں جب کہ سعد کے ماں باپ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس جملے کو یوں نظر انداز کیا جسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔
Read more