سعودی بادشاہ سلمان کے خلاف بغاوت ہونے والی ہے: سعودی شہزادہ خالد بن فرحان السعود
سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعہ پر مغربی دنیا کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہت کشیدہ ہو چکے ہیں اور خصوصاً ولی عہد محمد بن سلمان کو سخت تنقید کا سامنا ہے، مگر سب سے بڑھ کر خطرناک بات سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ناراض شہزادے خالد بن فرحان السعود نے کہہ دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ فرمانروا شاہ سلمان اور ان کے وارث پرنس محمد بن سلمان کے خلاف کسی بھی وقت بغاوت ہوسکتی ہے۔
’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ کے مطابق پرنس خالد بن فرحان نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”آنے والے دنوں میں بادشاہ اور ولی عہد کے خلاف بغاوت ہوگی۔“ پرنس خالد بن فرحان نے قتل کے ذمہ داران کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس قتل کے احکامات محمد بن سلمان کے علاوہ کسی نے جاری نہیں کئے۔ پرنس خالد کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سعودی حکام کی جانب سے جو کچھ بھی کیا جارہا ہے وہ دراصل اس بات کی کوشش ہے کہ ان پر براہ راست الزام نہ آئے۔
قتل کے محرکات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمال خاشقجی اپنی یادداشتیں تحریر کررہے تھے اور عین ممکن ہے کہ اسی وجہ سے انہیں قتل کروادیا گیا ہو۔ یاد رہے کہ سعودی فرمانروا کے خلاف بغاوت کے امکانات کے حوالے سے کئی دعوے پہلے بھی کئے گئے مگر ان میں سے کوئی بھی دعوٰی سچ ثابت نہیں ہوا۔


