جون ایلیا کی شاعری اور نوجوانوں کی خودکشی
کبھی کبھی کچھ ایسا پڑھنے کوملتا ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے۔ فیس بک پر ایک بہت ہی عجیب وغریب پوسٹ دیکھی اس مرد ناداں کی عقل کل پر ماتم کرنے کو دل چاہا ملاحظھ فرمائیے، لڑکوں کی بڑھتی ہوئی خود کشی کے واقعات پر ایک ماہر نفسیات کی گوہر افشانی جو سیدھی دل کو لگی کہ یک طرفہ محبت کی دیمک نے ایک بہت بڑی تعداد میں لڑکوں
کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کردیا ہے، اور یہ ماہر نفسیات سے اپنے اداس رہنے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ سگریٹ پینے اور پنکھے کے نیچے پڑے رہنے والے پریشان لڑکوں کی زندگیوں میں ایک چیز مشترک ہے وہ جون ایلیا کو پڑھتے ہیں، اور زیادہ تر خود کشی کے حادثات کا باعث جون ایلیا کی شاعری ہے۔
ہائے جانی کیا مشترک چیز دریافت کی ہے، دنیا بھر کے سارے مسئلے، سارے بکھیڑے پریشانیاں دکھ ایک طرف اور جون کی شاعری ایک طرف، کیا خود کشی کے اتنے سارے واقعات جون کی شاعری پڑھنے والوں کے ہیں، کیا غم جاناں کے سوا غم دوراں کی وجہ خودکشی کا باعرث نہیں امتحان میں کم نمبر آئے، ماں باپ کے جھگڑے، بھوک، ذلت، بھی خودکشی کی وجہ ہے آپ نے حل پیش کردیا کہ نوجوان جون کی شاعری سے پرہیز کریں، ویسے ہی نئی نسل اردو ادب سے دور ہے اور اس پہ آپ کا مشورہ، آپ کو جون کا پتہ ہے وہ تو ایسا شاعر ہے جو خود سے بھی پرہیز کرتا تھا۔
ہاں ٹھیک ہے اپنی انا کا مریض ہوں
آخر میرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
جون ایلیا ایک مکمل شاعر تھے، بچپن سے لے کر آخری سانسوں تک انھوں نے شاعری اور قلم سے رشتہ استوار رکھا۔ سنا ہے پہلا شعر چھ سال کی عمر میں کہا، اس لیے کہہ سکتے ہیں وہ پیدائشی شاعر تھے۔ ان کا منحنی سراپا بھی ایک مجنوں، مجذوب شاعر جیسا ہی تھا جس نے بھی انھیں مشاعروں میں سنا ہے وہ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ مشاعرہ لوٹنے کا فن جانتے تھے، اپنے شعر کو خود سراہتے اور سامعین کو مکرر سناتے، ساتھ بیٹھے شاعروں کو نام لے لے کر اپنے اشعار پر متوجہ کرتے، کبھی لہجے میں رقت ہوتی کبھی آواز میں زور پیدا کرتے، وضع قطع سے مکمل شاعر، الجھے بالوں کی لٹیں چہرے پر بکھری ہوتیں اور گاہے گاہے انھیں ہاتھوں سے سنوارتے، ملگجے کرتے پاجامے واسکٹ میں، مشاعرہ لوٹ لیتے۔ ان کے قریبی رفقاء ان سے سرزد ہونے والی عشقیہ وارداتوں کے گواہ اور ان کے کئی ”راز ہائے نیاز“ سے واقف ہیں۔
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھاس جہان میں کیا
ہاں جون ناکام عاشق ضرور تھے، جب یاسیت کا دورہ پڑتا اپنی داستانیں بڑی حسرت سے سناتے۔ وہ ایک بار نہیں کئی بار اس واردات قلبی کا شکار ہوئے، انھیں دق کا مرض بھی لاحق تھا، علاج اور دوا بھی زندگی کے نشیب وفراز کے ساتھ چلتا رہا۔ ان کی شاعری کے بارے میں مشہور شخصیت، نثر نگاری کے بادشاہ شکیل عادل زادہ فرماتے ہیں ”ان کی توانائی ان کی شاعری اور ان کی امارت ان کی شاعری تھی، ان کا کلام، فصاحت مقام، بلاغت نظام، دل آویزو دلنشیں، خیال آرا، جمال آرا۔ انھوں نے اپنے تیور اپنے خاص رنگ وآہنگ کی شاعری سے ایک جہان کو گرویدہ کیا تھا۔ وہ کتنے ہی عجیب اور ناقابل فہم رہے ہوں، اصل میں تو محض شاعر تھے۔ باقی تو سارے ان کے سائے تھے۔
جون ایلیا تو شاعر ہی صحرانوردوں، تیشہ بدوشوں، کج اداؤں، کج کلاہوں، آئینوں اور آئینہ خانوں کے تھے۔ ان کا جلال آمیز بیانیہ، جمال آگیں، خیال واحساس کی نازکی سے عبارت تھا، لپکتا، کھنکتا، دھمکتا، گونجتا لہجہ۔ ان کی نثر میں ایک جرأت مند، بے باک، ناراض اور تونگر شخص کی تصویر ابھرتی ہے اور یقیناً ایک ہم نفس، غم گسار دل دار شخص کی بھی“۔
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
یہ ضرور ہے ان کی شاعری میں ہجر، وصال اور یاسیت کا رنگ نمایاں ہے شاید یہی وجہ ہے جو اسد ماہر نفسیات نے ان کی شاعری پر الزام عائد کیا کہ نوجوان اس کو پڑھ کر خود کشی کر رہے ہیں۔ مانا کہ یہ بات ایک فیصد درست ہو، لیکن جون ایلیا کی شاعری کا تو ایک زمانہ گرویدہ ہے ان کے بے باک لہجے کا معترف ہے، ان کا ہی ایک شعر ہے
یہ میرا فرض بنتا ہے میں اس کے ہاتھ دھلواؤں
سنا ہے اس نے میری ذات پر کیچڑ اچھالا ہے
دنیاوی حادثات کی ذمہ داری شاعری یءا نثر کو قرار دینا جہل کی نشانی ہے۔ کیا انقلاب جوش اور جالب کے طفیل برپا ہورہے ہیں، کیا نئی نسل میں شراب وشباب جگر اور ریاض خیرآبادی کے مرہون منت ہیں۔ ایسا نہیں ہے جناب معاشرے میں پھیلی مایوسی، مہنگائی، آپس کی رنجشیں، ناکامیاں انسان کو خودکشی جیسی حرکت پر مائل کرتیں ہیں۔ جون ایلیا تو سرکش اور باغی تھے اس نظام کے انھوں نے اپنی شاعری اور نثرکے ذریعے علم ودانش کے ایسے پھول کھلائے، ایسے جواہر پارے تراشے جو غورو فکر کرنے والوں کے ذہنوں کو جلا بخشتے ہیں اور ان کے لیے ایک تحفہ ہیں
کارخانے میں خون تھوکنے کے
اپنی روزی کما رہا ہوں میں


