رہنا کرسچن ٹاؤن میں!
”کچھ نہیں بس ویسے ہی“۔
وہ یہ کہہ کر خاموش پڑگیا۔
میں نے کہا ”بھئی یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ہم یہاں رہ رہے ہیں اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں“۔
قادری کہنے لگا ”بالکل ایسی کوئی بات نہیں“۔
”میں نے کہا مذہب ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے جو جہاں سے پلا بڑھا وہ اسی ماحول و تربیت کی بات کرے گا۔ اسی کتاب کی بات کرے گا۔ تم مت الجھا کرو ان لوگوں سے۔ “
وہ اچھا کہہ کر خاموش ہوگیا۔ دن بڑے ہونے لگے۔ یہ بات معلوم ہونے پر بھی کہ دونوں عیسائی ہیں میرے ان سے خوف نہ کھانے میں کمی نہ آئی۔ ہوٹل سے جب بھی کھانا لیکر فلیٹ پر آتا تھا۔ وہ دونوں میرے ساتھ مذہب کی آنکھ بچا کرکھا لیتے تھے۔ کوئی دن ایسے بھی جاتے جب میرے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوا تو میں اپنے مذہب سے آنکھ بچا کر ان کی تھالی میں کھاتا تھا۔ یہ دونوں بھی پیر محل کے تھے۔ یہاں آکر شہزاد نے فلیٹ لیا تھا اور مجھے رہنے کو کرایہ اسے ہی دینا پڑتا تھا۔ کوئی دن وہ بھی گزرے جب کرایہ جیب میں نہ ہوا دینے کو تو ایک انسانیت بھرا جواب شہزاد کی طرف سے مل جاتا
”کوئی گل نئی اگلی واری دے دیویں، اے لا اے پیسے رکھ لا، ضرورت ویلے کم آجان گے۔ “ (کوئی بات نہیں، اگلی باری دے دینا۔ یہ لے یہ پیسے رکھ۔ ضرورت کے وقت کام آ جائیں گے)۔
میں اس احسان مندی پر اسے دیکھے جاتا اور شکریہ تک نہ کہتا۔ ہنی بھی اسی ڈھب کا نوجوان تھا۔ وہ بھی اکثر کھیلنے میں لگا رہتا مگر پڑھتا کم تھا۔ میں اسے روز ڈانٹتا پھٹکارتا تھا مگر وہ میری کسی بات کا برا نہ مناتا۔ ایک سویرے جب میں اٹھا تو دیکھا کہ وہ موبائل میں بائبل کا مطالعہ کر رہا تھا۔ میں نے دانستہ پوچھا ”یہ کون سی کتاب ہے“ کہنے لگا ”یہ ہماری کتاب ہے۔ “ میں نے کہا ”آپ کے اور ہمارے مذہب میں بنیادی فرق کیا ہے۔ “ کہنے لگا ”آپ رسول کریم ص کو آخری نبی مانتے ہیں اور وہ آپ کے لیے راہ نجات بھی ہیں۔ ہم بھی اہل کتاب ہیں۔ حضرت عیسی ہمارے لیے راہ نجات ہیں۔“
یہ کہتے ہی کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر وہ بولا
” میں اٹلی جاوں گا پادری بنوں گا اور شادی نہیں کروں گا۔ “
”شادی نہیں کروں گا کیا مطلب؟ “ میں نے پوچھا
”ہاں تمہارے ہاں امام شادی کرتا ہے جبکہ ہمارا امام جسے ہم پادری کہتے ہیں وہ شادی نہیں کرتا۔ یہ عمل ہمارے نزدیک خدا کو خوش کرنا ہے۔ “
یہ باتیں سن کر مجھے خاصی حیرت ہوئی تھی۔ معمول میں دن گزر رہے تھے۔ ایک روز جب میں فلیٹ پر پہنچا تو قادری پھر کسی مسئلے کو لیے ان سے برسر پیکار تھا۔ میں نے کہا دیکھو قادری ہر فرد کو اپنا مذہب عزیز ہے۔ جب وہ تمہارے مذہب میں ٹانگ نہیں اڑاتے تو تم کیوں اڑاتے ہو، تمہیں کیا ضرورت ہے، وہ اپنی کتاب پر سچے ہیں یا جھوٹے یہ وہ جانیں تم متشدد کیوں بنتے جارہے ہو، یہاں سلسلہ تبلیغ نہیں چل سکے گا، ہمارا خدا جسے ہدایت دے گا، اسے بہتر دین کی سمجھ عطا کرے گا۔
یہ کہہ کر میں خاموش ہوا تو قادری کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ مگر وہ کہہ کچھ نہ پایا تھا۔ دن گزرنے لگے۔ میں ان کی معمول کی سرگرمیاں نوٹ کررہا تھا۔ آٹھ ماہ ایک ساتھ رہتے ہوئے میں نے محسوس کیاکہ جب کسی مسجد سے اذان سنائی دیتی ہے وہ اپنی گفتگو بند کردیتے تھے۔ میں نے محسوس کیا جب بھی اذان سنائی پڑتی تھی یہ اپنے ٹیپ ریکارڈ کا سوئچ نکال دیتے تھے۔ میں اپنی دھن میں رہتا تھا نہ ان کے مذہب پر حرف گیری کرتا تھا نہ انہیں خیال سوجتا تھا کہ وہ میرے مذہب بارے مجھ سے کچھ پوچھیں۔
دن تھے کہ گزر رہے تھے۔ ایک سویرے میں اٹھا کہ دیکھا دوست ہاتھ پر ہاتھ دھرے آنکھوں میں پپلاں لیے بیٹھے ہیں کپڑوں پر سلوٹیں ہیں۔ چہرے بغیر دھلے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا پانی ختم ہوچکا ہے۔ لائٹ جاچکی ہے۔ میں نے اپنے کپڑے رات ہی استری کر چھوڑے تھ۔ یونیورسٹی پہنچنا بھی ضروری تھا۔ مگر نل پانی چھوڑ چکا تھا۔ بمشکل چوتھے فلیٹ سے ہاتھوں میں بوتلیں ں اٹھائے اترا تو دیکھا سامنے عیسائی محلے دار تھے۔ ذرا تردد تھا کہ کیا کہوں گا ہاتھ میں پلاسٹک کی بوتلیں تھیں، منہ سوکھ رہا تھا اور پانی لینا ضروری تھا۔
یہ لوگ گرمی ہو یا سردی خزاں ہو یا بہار اکثر اپنے ڈیرے باہر ڈالے رہتے ہیں اس روز بھی ایک بوڑھی چارپائی پر بیٹھ کر سوئیٹر بن رہی تھی کہ میں نے کہا اماں ان بوتلوں میں پانی چاہیے۔ قریب تھا کہ اجازت لیتے ہی سامنے بنے نل پر دوڑنے لگتا مگراس کی جواں سالہ بیٹی آئی اور اس نے مجھے دونوں بوتلیں بھر دی۔ پھر وہ پوچھنے لگی کیا آپ نہانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا جی یہ کہتے ہی اس کی طرف دیکھے بغیر میں بوتلیں اٹھا کر فلیٹ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں دو بوتلیں وہ اور بھرے فلیٹ پر چڑھ آئی اور کہنے لگی یہ دو بوتلیں اور اماں نے بھجوائی ہیں۔
انہوں نے کہا اور ہیں تو مجھے دے دو میں اور پانی بھر کر آپ کو دے جاوں گی۔ یہ سب دیکھ کر دل خوش سا ہوا میں نے شکریہ ادا کیا ہم چاروں نے منہ پر چھینٹے پانی کے مارے اور تروتازہ ہوکر اپنی اپنی درس گاہوں میں جا پہنچے۔ وقت کٹنے لگا قادری مذہبی مباحث سے باز نہ آتا تھا اور انہیں سچا جھوٹا کہنے سے نہ چوکتا تھا۔ نہ میرے سمجھانے سے وہ باز آیا نہ اسے باز آنا تھا۔ میں حالات کا بگڑنا بھانپتے ہی ان سب کو خیر باد کہہ کر بوریا بستر اٹھائے نئے ہاسٹل کی تلاش میں ڈگلسپورہ آپہنچا اور رہنے لگا۔

