نافرمان پردیسی بیٹے کی سچی کہانی


پھر میں نے آخری حکمت عملی کو آزمایا۔ ایک روز اماں سے تکرار کرتے کرتے ان کو کمرے سے باہر دھکیل کر دروازے کی چٹخنی لگا دی۔ اماں کمرے کی کھڑکی میں منت کرنے چلی آئیں۔ میں نے ان کے دوپٹہ کو پنکھے میں پھندا بنا کر ڈالا تو اماں کی چیخوں کی گونج رب کے علاوہ سب نے سنی۔ لیکن میں ان کو تڑپانے کا کام پوری دل جمعی سے کرتا گیا۔ میز پر چڑھ کر پھندا گلے میں ڈالا تو اماں روتے ہوئے فریاد کرنے لگیں اور بولیں کہ جو تو کہے گا میں مانوں گی۔ میں نے مقصد کی کامیابی کے بعد دروازے کھولا تو اماں میرے پیروں میں آ گریں۔ بلک بلک کر بس یہ کہہ رہیں تھیں تیری جان کے صدقے میں سب کچھ وار دوں۔ اماں اپنے ہاتھوں سے میرے پاؤں پکڑے زمین پر پڑی تھیں اور میں بڑی ڈھٹائی سے اکڑا کھڑا تھا۔

زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بکا تو لگا جیسے زندگی کے دروازے اب مجھ پر کھل گئے ہیں۔ چند ماہ کے بعد باہر کے لیے اڑان بھر دی۔ دل میں خواب بھرے تھے۔ اور عقل اس حقیقت سے انجان تھی جو میرے ساتھ ہونے والا تھا۔ وقت مجھے بہت کچھ سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ جن جذبات اور احساسات سے میں عاری تھا ان سے آگاہی میری منتظر تھی۔ جن رشتوں کو میں نے پیروں میں روندا تھا اس کی جدائی کا غذاب سہنا تھا۔ جس رزق کو زمین پر دے مارتا تھا اس کی قدر کرنا سیکھنی تھی۔ محنت کے لفظ سے شناسائی ابھی باقی تھی۔

زندگی کو ابھی بہت ہچکولے لینے تھے۔ میں تو ان آسانیوں کا عادی تھا جو مشکلوں سے چھان کر میرے والدین مجھے دیتے تھے۔ عذاب جاں کے لیے باہر جانا میرا ذاتی فیصلہ تھا۔ اماں کی زندگی میں تہلکہ مچانے کے بعد اپنی زندگی میں کہرام اٹھنے کا آغاز ہو چکا تھا۔

اماں کو بلیک میل کر کے لائی ہوئی رقم چند دن بھی نہ چلی۔ یہ خیال تھا کہ نوکری ہاتھ باندھے کھڑی ہو گی پر یہاں کوئی سیدھے منہ بات کرنے کا ہی روادار نہ تھا۔ بے سروسامانی کا عالم تھا۔ ایک روز اپنی بے بسی پر زاروقطار رویا۔ بلک بلک کر رونے سے اماں کے آنسوں کی سچائی کا اندازہ ہوا تھا۔ لوگوں کی بے نیازی سے گزر جانے پر اماں کا پیار یاد آیا۔

سرد موسم کا آغاز ہو چلا تھا۔ سردی سے بچنے کے لیے تین قمیضوں اور ایک پتلے سے سویٹر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سڑک کے کنارے جہاں نیند آتی وہاں سو جانے کی کوشش میں لگا رہتا مگر سردی ایسی کہ ہڈیوں کے اندر تک گھسی چلی جاتی۔ ایسے میں گھر کی جھوٹی سی انگھیٹی کی تپش کا خیال دل کو سلگا کر رکھ دیتا۔

بھوک سے نڈھال ہو کر کوڑے دانوں میں کھانا تلاش کرتا۔ جسم کو گرم کرنے کے لیے میلوں دوڑتا۔ لوگوں کی اترن پہن کر جسم کی گرمائش کا کچھ ساماں کرتا۔ اسی طرح کرتے کرتے ایک دن ایک نوکری مل تو گئی پر مالک نے میرا پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھ لیا۔ شہزادہ کہلوانے والا اپنے گھر کی سلطنت پر راج کرنے والا اب بیت الخلا صاف کرنے پر مامور تھا۔ رات کو سونے کے لیے ایک کنٹینر نما کمرے میں چند فٹ جگہ نصیب ہوئی۔ سرد اور سخت فرش پر لیٹتے ہی گرم بستر کی یاد بہت ستاتی۔ گرم لحاف میں دھنی روئی کی کمی کا احساس مجھے اور سکڑ جانے پر مجبور کر دیتا۔ اماں کی یاد رہ رہ کر ستاتی۔ اس وقت احساس ہوا کہ میرے والدین نے کیسے مجھے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ جب احساس گناہ ہوا تو گستاخیوں کے انبار تھے اور میلوں کے فاصلے۔

جیسے ہی کچھ رقم ہاتھ آئی تو اماں کو فون کیا۔ اماں کو جب جب حال دل سنانا چاہ تو زبان ساکن ہو جاتی۔ میں اماں سے خوش ہونے کا ڈرامہ کرتا اور اماں میرے ڈرامہ پر خوشی کا ناٹک۔ اماں حال دل سے خوب واقف تھیں مگر وہ مجھے شرمندہ ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ جب کبھی اماں سے یہ پوچھا کہ انہیں کچھ چاہیے تو بتائیں۔ تو ہمیشہ اس جملے کے بدلے میں دعائیں دیتی۔ ہر بار میں واری میں صدقے اور جگ جگ جینے کی دعا دے کر فون بند کر دیتی۔

وقت گزرتا گیا حالات میں کچھ تبدیل آئی تو ہر ہفتے اماں سے رابطہ کرتا۔ اماں ہر بار بس ایک سوال کرتیں کہ تو کب آئے گا؟ ان کو کو ہر بار یہ تسلی دیتا کہ جیسے ہی پاسپورٹ واپس ملے گا میں آ جاؤں گا اور پھر کبھی نہ جاؤں گا۔ پاسپورٹ کا تین برس سے پہلے ملنا ممکن نہیں تھا۔ جب بھی بات ہوتی تو دل کرتا کہ گڑگڑاتے ہوئے اماں کے پیروں کو تھام کر معافی مانگ لوں۔ اسی طرح رو رو کر ہلکان ہو جاؤں جیسے اماں میرے پیروں میں پڑی تڑپی تھیں۔ لیکن اماں سے فاصلوں کی دوری بہت تھی۔ معافی مانگنے کی تمنا میں گھر واپس لوٹ جانے کی جلدی تھی

اماں سے ہر بار معافی تلافی کرتا تو ہر بار وہ آگے سے ہنس دیتی۔ ہنستے ہنستے بات کا رخ کس اور طرف موڑ دیتی۔ پر میں پچھتاوے کے بھنور میں غوطے کھاتا رہتا۔
اس رات جب اماں سے بات ہوئی تو ان کی آواز میں بہت نقاہت تھی۔

فون پر مختصر بات کے بعد اماں خواب میں چلی آئیں۔ خواب کچھ یوں تھا
تنگ گلیاں۔ گلیوں میں تاریک گھر۔ اماں کے گھر کے پیچھے کھنڈر نما ایک مندر دکھائی دیا۔

گھر میں اماں بھی مندر کی طرح کھنڈر نظر آ رہی تھیں۔ گھر میں کوئی ویرانی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ شام کا آخری پہر تھا۔ اماں دکھتے رکتے قدموں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازے سے اماں ڈوبتے سورج کو تکے جا رہی تھی۔ کھنڈر مندر، اماں کا لاغر جسم اور سورج مجھے سب ہی ڈوبتے دکھائی دے رہے تھے۔

سورج کے ڈوبتے ہی گھر میں ایک خوفناک تاریکی چھا گئی۔ میں خواب کے دوران ہی اماں اماں کہتا ہوا نیند سے اٹھ بیٹھا۔ ہڑبڑا کر فون کیا تو خبر ملی کہ اماں چند لمحے پہلے ہی چل بسی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2