ماں تمہاری یاد ستاتی ہے

دکھ دل کے کسی کونے میں سنبھال لیے جائیں تو وہ روگ بن جاتا ہے۔ رہ رہ کر ستاتے ہیں۔ جی بھر کے رو نے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں۔ دوسرے کے سامنے حوصلے اور اکیلے میں توڑ جاتے ہیں۔ ایک دکھ ہم نے الماری میں سنبھال رکھا تھا۔ نہ جانے دن میں کتنی بار اس کا سامنا ہوتا اور ہم منہ چراتے دائیں بائیں ہو جاتے۔ ایک چھوٹا سا خواب تھا، ایک چھوٹی سی خوشی تھی جو ہمیں

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

زندگی کینوس پر بنی ایک ایسی تصویر ہے جو دکھ، سکھ کے ملاپ سے بنتی ہے۔ کہیں غموں کے گہرے رنگوں میں کہیں کہیں مسرتوں کی آمیزش دکھائی دیتی ہے، کہیں مسرتوں کے رنگ دل میں ترنگ پیدا کرنے کا سبب بنے رہتے ہیں۔ ہر ایک کی زندگی بسر کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کوئی مر مر کر جیتا ہے اور کوئی جی جی کر جیے جاتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی زندگی پر کس چیز کو حاوی کرتے ہیں۔ میرا زندگی کو دیکھنے کا زاویہ کچھ الگ ہے۔

میں چھوٹی سے چھوٹی خوشی کا اظہار کرنے اور روٹھے ہوؤں کو منانے میں دیر نہیں کرتی۔ ایسا نہیں کہ میری زندگی میں کبھی دکھ نہیں آئے یا میں ایک حساس دل نہیں رکھتی یا مجھے اپنوں سے دھوکے نہیں ملے۔ ایسا بھی نہیں کہ کبھی کڑا وقت نہیں گزرا یا میں نے اپنے بہت پیاروں کو نہ کھویا ہو۔ آپ جانے والوں کے ساتھ جا نہیں سکتے اور گزرتے لمحوں کو واپس لا نہیں سکتے۔

Read more

مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط

ماں جی میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیظ و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی

Read more

وہ کتاب جس کا پہلا ایڈیشن ایک ماہ میں ختم ہو گیا

آؤ بگی پر کمان سنبھالے مرزا کی بات کریں۔ سونجی گلیوں میں ہُوکتی صاحباں کو یاد کریں۔ دشت میں سرگرداں قیس کو ڈھونڈیں، محمل میں بے چین لیلٰی کی بات کریں۔ رانجھے کی بانسری کی تان، ڈولی میں بیٹھی ہیر کی چیخ، فرہاد کا کند ہوتا تیشہ، شیریں کی برہنہ پائی کی تصویر کھینچیں۔ چراگاہوں میں پھرتے مہینوال سے مکالمہ کریں۔ چلو کچّے گھڑے پر ڈوبتی سوہنی کو بچائیں۔ کیچ کے پنوں کے عطر کی خوشبو دل میں اتاریں۔ آؤ

Read more

سسکیوں کی گونج میں زندگی مسکرائی ہے

زندگی کے کچھ لمحے، کچھ پل، کچھ گھڑیاں آپ کی ساری زندگی کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ اس کا مقصد حیات کیا ہے؟ پھر اس کا جواب بھی مل جائے تو پھر اس سے زیادہ خوشی کا عالم اور کیا ہو گا؟ مجھے بھی اس بات کا جواب ملا۔ کبھی یہ ساعتیں آپ کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہیں سوچیں ذرا آپ کے زندگی کچھ لمحات کسی کو زندگی دے جائیں

Read more

بے حسی سے بے بسی پر ہنستے کیوں ہو؟

ہر انسان کے سوچنے کا ڈھنگ الگ ہے۔ ایک ہی چیز کسی کے لیے باعث مسرت اور کسی کے لیے باعث اذیت بن سکتی ہے۔ کبھی کبھی لوگوں کی سوچ مطابقت رکھتی ہے۔ ایک چھوٹی سی بات، واقعہ یا کہانی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔ زندگی نام ہی کہانیوں کے مجموعے کا ہے۔ کبھی آپ کہانیوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور کبھی وہ خود آپ کو ڈھونڈ لیتی ہیں۔ اچانک آپ کے سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی

Read more

بیوی کی بستر پر تذلیل

برسوں سے رابعہ کے چہرے کی رونق ماند پڑتی جاتی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ اس کے رخ پر صرف خزاں کا موسم ٹھہر گیا ہے۔ اٹھائیس برس کی عمر کہنے کو کیا ہے پر اتنی سی عمر میں اس کی جوانی ڈھل گئی تھی۔ آنکھیں ویران تھیں، عارض اجاڑ تھے۔ وہ سر تا پا پت جھڑ کا کمزور پیلا پتہ دکھائی دیتی تھی۔ مسکراہٹ کی نئی کونپلیں ہونٹوں پر نمودار ہونے کا نام نہ لیتی تھیں ۔ آنکھوں کے

Read more

ویکسین نہ لگوانے والوں کا علاج

ہماری قوم کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے۔ کرونا کی وجہ سے لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے تمام اقوام میں ویکسین لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انسانی جان کو مقدم جانتے ہوئے اس کو بچانے کے لیے دن رات اس کے علاج کو بہتر سے بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ لیکن ہم اس قوم کے باسی ہیں جہاں عقل کی بات ہوئی وہاں ہی علم بغاوت بلند کر دیا جاتا ہے۔ مخالفت میں ایسی ایسی تاویلات پیش کی جاتی ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ محب وطن پاکستانیوں کو بات تبھی سمجھ آتی ہے جب ان پر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

Read more

نو نکاتی آگاہی مہم منجانب بلیک میلرز

اے عالم پناہ اگر جان کی امان ہو تو ہم بلیک میلرز آپ کے حضور کچھ کہنے کے تمنائی ہیں۔ ہم اپنے بارے میں (بلیک میلرز) چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی بات سمجھانے کی سعی کریں گے۔ مائی باپ آپ کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو آپ کرکٹ سے اسے جوڑ کر ہمیں سمجھاتے ہیں۔ ہم بھی اسی نقش قدم پر اپنی بات کو آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

Read more

ارادھنا کا عشق اور ولیم کی محبت

ارادھنا عرصہ دراز سے دل میں ایک سوراخ پالے ہوئے تھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کا بڑھنا اس کے لیے جان لیوا بنتا جا رہا تھا۔ آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، زندگی آر یا پار ہونے کو تیار تھی۔ لیکن جیون اس کا ساتھ نبھانے کو منتظر۔

ولیم ہارٹ سرجن تھا۔ سال میں ایک آدھ بار اپنے دیش لازمی چکر لگاتا تھا۔ اس عرصے میں بہت سے مریض اس کے ہاتھ سے شفایاب ہوتے۔ ولیم ڈبلو، کے سمیتھ کے نام سے اپنے پروفیشن میں جانا اور مانا جاتا تھا۔ ڈبلو، کے سمیتھ کی وجہ شہرت ارادھنا کی ملاقات کا سبب بنی۔ وہ اس بات سے انجان تھی کہ یہ وہ سرجن ہے جس سے کبھی اس کا دل رشتہ رہ چکا تھا۔

Read more

تاریک گھر اور روشن دل

کہانیاں حقیقت کی شکل میں سامنے آئیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ آج کی کہانی البتہ انسانیت والے انسان کی ہے اور غضب یہ ہے کہ سچی ہے۔ یہ قصہ دور دراز کے ایک گاؤں کے ایک لڑکے کا ہے جس کا نام آپ علی فرض کر لیں۔ علی سولہ سترہ برس کا نہایت ہی کھلنڈرا، لا ابالی

Read more

روات تھانہ اور ہماری ایف آئی آر

ایسا کم کم ہی ہوتا ہے کہ ہمارے مجازی خدا علی الصبح اٹھ جائیں۔ یہ واقعہ شاذ و نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز فجر کے بعد بلکہ کافی بعد سوتے ہیں لیکن اگر تین چار ماہ میں ایک دفعہ وہ رات کو جلد سو جائیں تو صبح صبح گھر میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ ان کی پہلی ترجیح اور حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ کسی بہانے سے ہمیں اٹھا دیا جائے۔ سب سے پہلے موبائل کا استعمال شروع ہو جائے گا ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو فون کریں گے اور وہ بھی عین ہمارے کان کے اوپر جہاں سے دوسری طرف بات کرنے والے کی گفتگو بھی صاف سنائی دیتی ہو۔ اس سے فارغ ہوں گے تو اپنے اوزاروں کا بکسا اٹھائے ہر چیز کی ٹھوکا ٹھاکی میں لگ جائیں گے۔ بار بار کمرے میں اندر باہر آنے جانے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو جائے گا۔ اور ہماری نیند ایسی کہ کمرے میں سوئی بھی گرے تو آنکھ کھل جائے۔

آج بھی ایسا ہی دن تھا لیکن آج ہم بھی بستر سے اٹھنے کو تیار نہ تھے۔ جب سرتاج کو عمومی تجربات میں کچھ خاص کامیابی نصیب نہ ہوئی تو برخوردار کو بلا کر ہمارے سرہانے مذاکرات شروع کر دیے۔ باآواز بلند تبادلہ خیالات کے بعد ان کی امید بندھی کہ کامیابی نصیب ہونے ہی کو ہے۔ عین اسی وقت انہیں ہر بھولی بسری بات یاد ستانے لگی۔ جس کا جواب ہمارے پاس، ہوں، ہاں، جی، جی جی، نہیں، پتا نہیں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔ بلکہ کچھ سوالات پر تو فرمانبردار بیویوں کی طرح بس خاموشی اختیار کی۔ پھر کمرے سے باہر بلکہ گھر سے باہر طوفان کی طرح نکلے اور آندھی کی طرح واپس آ گئے۔ آتے ہی ارشاد ہوا، بیگم موسم بہت خوشگوار ہے چلو واک پر چلتے ہیں۔

Read more

امی کے انتقال پر ابو (انور مسعود) کے نام خط۔ ۔ ۔

پیارے ابو

لاکھ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے وہ بات نہیں ہو رہی جو آپ سے کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کے پاس گھنٹوں گزارتی ہوں۔ مگر زباں پر رکھے الفاظ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ امی میری اس عادت سے واقف تھیں کہ جب محبت، خوشی یا لاڈ کا اظہار کرنا ہوتا تو میں ہمیشہ کھل کر کرتی تھی۔ ہنستی، مسکراتی سارے گھر میں قہقہے لگاتی اورسارے گھر کو سر پر اٹھا لیا کرتی تھی۔ امی کا کہنا یہ بھی درست تھا کہ مشکل وقت میں لینہ بہت ہمت سے کام لیتی ہے۔ امی کی وفات پر بھی ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی مجھے ڈاکٹر نے امی کے انتقال کی خبر دی تو کچھ دیر میں اس کو تکتی رہی کہ ابھی وہ اپنی بات کی تردید کر دے گا۔ لیکن کانوں میں پڑتی بین کرتی آوازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ خبر سچ ہے۔

Read more

صندوقچی میں رکھے دکھ سکھ

اب گئے دن کی بات لگتی تھی کہ بھرے پرے محلے میں سکھ چین سے زندگی گزرتی تھی۔ خوشی کے ہر تہوار میں رنگ جمتا تھا۔ شادی بیاہ میں سنگیت ایک آنگن سے سنائی دیتا تو لگتا ڈھولک کے تھاپ دوسرے گھر سے اٹھ رہی ہو۔ تہوار کسی بھی مذہب کا ہو خوشی کی چاشنی پورا محلہ محسوس کرتا۔ کسی کے گھر موت کے فرشتے کا گزر ہوتا تو سفید چادر پڑوسیوں کے گھر بچھ جاتی۔ ایک دوسرے کے گھروں کی خیر خبر سے زندگی سہل بنی رہتی۔ سارا محلہ ایک ہی خاندان لگتا۔ لڑکے بالے نگاہیں نیچے کر کے گزرتے۔ لڑکیوں کو عزت سے دیدی یا بہن کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔

Read more

یا اللہ آلو گوشت کو فرنود کے عذاب سے بچا

آج کل سب کے پاس جو چیز وافر پائی جاتی ہے وہ وقت ہے۔ جس کے نہ ہونے کی شکایت ہر ایک زباں پر ہوتی تھی۔ آج اسی کے ہونے پر لوگوں کو گلہ ہے۔ وقت گزارنے کے لیے نہ جانے لوگ کیا کیا کر رہے ہیں۔ صبح ہی خبر سنی کہ اس لاک ڈاون کی وجہ سے گھریلو تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ لوگوں کا ڈپریشن اس قدر بڑھ جائے گا کہ اپنا غصہ کھانوں پر بھی نکالیں گے۔

شام کو فیس بک کھولا تو فرنود عالم کی پوسٹ پر نظر پڑی۔
پوسٹ کچھ یوں تھی کہ ”آلو گوشت بنانے کچن جارہا ہوں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ “

Read more

قتل یا خودکشی، فیصلہ کیونکر ہو؟

اویس کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ محترم کوئی اٹھارہ بیس سال کے گھبرو جوان تھے۔ دل کے بہت ناتواں تھے۔ بات بات پر رونا دھونا، چھوٹی چھوٹی بات کو جی سے لگا لینا ان کا معمول سمجھا جاتا۔ سہ ماہی سے ششماہی مشکل سے پار کر پاتے کہ کوئی نازک اندام حسینہ ان کے دل کا خون کر جاتی۔

Read more

رونق بڑی بی اور ایک خوف

آشیانہ رحمت کی تیسری منزل میں ثمر صاحب اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ پرانی بوسیدہ سی منزل، چھوٹے چھوٹے سے دو کمرے، ایک باورچی خانہ، بیٹھک نما ایک کمرہ اور ایک غسل خانہ۔ گھر کی دیواروں سے پینٹ اکثر جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔

سیمنٹ اور سیم کے سنگم نے اکثر جگہ تجریدی آرٹ بنا رکھا تھا۔ ان دیواروں کے آرٹ کو سمجھنے کے لیے کوئی خاص مہارت درکار نہ تھی بس افلاس سے آگاہی ساری الجھن سلجھا دیتی تھی۔

Read more

سچی اور مختصر کہانی

بادل تھمنے کو تیار نہ تھے۔  ندی نالوں میں پانی کی روانی میں بلا کی تیزی تھی۔ پانی کی سطح بلند ہوتی جا رہی تھی۔ سیلاب کے آنے کی اطلاع لاؤڈ اسپیکرز پر دی جا رہی تھی۔ ہنگامی حالات میں فوج کو الرٹ رہنے کا حکم تھا۔ سیلابی ریلے کے خوف سے اکثر مکین اپنے مسکن کو چھوڑ چکے تھے۔  کچھ رہائشی مگر اب بھی اچھے کی آس لگائے تھے۔  نجیب بھی ایسی ہی ایک بستی کا رہائشی تھا۔ وہ

Read more

حرام خور کی بیٹیاں

حرام خور کو اپنا اصل نام یاد نہ تھا۔ گھر میں پیار سے بلانے کا رواج نہ تھا پرحقارت سے اس کو آواز دینے والوں کی کمی نہ تھی۔ دن رات حرام خور گھر والوں کے سامنے ہاتھ باندھے زر خرید غلام کی طرح ان کے حکم کی منتظر رہتی۔ وہ حرام خور اس لیے تھی کیونکہ وہ شادی کے بعد یکے بعد دیگرے تین بچیوں کو جنم دینے کا جرم کر چکی تھی۔ پہلی بار ہی بیٹی پیدا کرنے کے گناہ میں اس کو حرام خور کے لقب سے نوازا گیا تھا۔ گھر کا ہر فرد بس اتنا جانتا تھا کہ یہ کھا کھا کے حرام کرتی ہے کہ اس سے تو ایک بیٹا بھی جنا نہیں جاتا۔

Read more

نافرمان پردیسی بیٹے کی سچی کہانی

خوابوں کی دنیا کا حقیقی دنیا سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ کہتے ہیں جو ہمارے شعور اور لا شعور میں کہیں دفن ہو وہ ہمارے خواب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ان میں سے کچھ یاد رہ جاتے ہیں اور کچھ ذہن سے محو ہو جاتے ہیں۔ کچھ برس پہلے میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو دماغ میں نقش ہے پراس عذاب خواب کا ذکر کرنے سے پہلے اپنی زندگی کی کہانی سنانا چاہتا ہوں۔ ہمارا گھرانہ کل

Read more

گول روٹی نہ پکانے والی انیقہ خالد کا جنت سے اپنے والد کے نام خط

میرے پیارے بابا یہاں وقت کا پتہ نہیں لگتا پر سنا ہے ایک سال گذر گیا ہے۔ پر میں ایک پل کو بھی اس دن کو بھولی نہیں ہوں۔ پتہ ہے اس دن میں بہت خوش تھی کہ آج میں اپنے بابا کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر کھلاؤں گی اور مجھے اس بات کا یقین بھی تھا کہ آپ میری اس کوشش کی بہت تعریف کریں گے، میرے ماتھے کو بوسہ دیں گے، میرے ہاتھوں کو پکڑ کر

Read more

مجھے محبت ہو گئی ہے

رات کا پچھلا پہر تھا ۔ نگاہ آسماں کی جانب اٹھی تو گہرے نیلے امبر پر نصف چاند نے میرے وجود پر سکتہ طاری کر دیا۔ ایک نامکمل شئے کی دلکشی اتنی پر اثر کیسے ہو سکتی ہے۔ پہلی نظر میں کسی کی چاہت میں گرفتار ہونا شاید اس ہی کا نام ہے ۔ پل بھر میں مجھے ایسی اسیری کا احساس کبھی نہ ہوا۔ اس کے حسن بےمثال سے کب میں محوِ گفتگو ہوئی، کچھ خبر نہیں۔ کچھ لمحے

Read more

مرد بھی مظلوم ہوتے ہیں

لوگوں کا خیال ہے کہ ہم خواتین کے لیے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔  ان کے حق میں لکھتے ہیں۔ ارے جناب آج اس غلط فہمی کو ہم دور کئے دیتے ہیں۔ ہم اس خیال کی پر زور مخالفت کرتے ہیں کہ ہم صرف عورتوں کے حق کی بات کرتے ہیں۔ ہم تو مظلوموں کے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ ستم رسیدوں کی داستان بیان کرتے ہیں۔ ہم تو تذکرہ کرتے ہیں لوگوں کی جگ بیتی کا۔

Read more

کیا طوائف کا دل بھی دھڑکتا ہو گا؟

کنول پھولوں کی سیج پر پیدا ہوئی۔ پیدائش بھی ایسے گھر جہاں بیٹی کے آتے ہی ڈھول بجتے ہیں۔ بیٹی کے نزول کے بعد خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ جہاں بیٹی کو خوش قسمتی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی ادب آداب سکھائے جاتے ہیں۔ ان کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی سے ہر ممکن پرہیز کیا جاتا ہے۔ پیدائش کے ساتھ ہی کان چھیدنے کی رسم ادا کر دی جاتی ہے۔ ناک میں

Read more

شہید بچے کی پاگل ماں

سنا تھا وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ کوئی مرے یا جیے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گھڑی کی سوئیاں بھی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہیں۔ کیلنڈر پر لکھے ماہ و سال بھی اپنے اپنے مقررہ وقت پر آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جس گھر میں تم رہتے تھے وہاں سولہ دسمبر کے بعد سے وقت رک گیا ہے۔ وہاں گھڑی کی سوئیاں چلنا بھول گئی ہیں۔ غم اور اداسی کی گھنی چھاؤں اس گھر کی دیواروں پر بیٹھی ہمیں ڈراتی رہتی ہے جہاں کبھی صرف خوشی کا اجالا تھا، جہاں آنگن میں ہنسی کی دھوپ ناچتی تھی۔

تمہاری یادیں ہمیں جینے نہیں دیتیں یا یوں کہہ لو کہ ہم جینا ہی نہیں چاہتے۔ میں باپ ہوں اس لیے مجھے ہمت کرنا پڑتی ہے۔ پر تمہاری ماں کا ذہنی توازن دن بہ دن بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وقت آہستہ آہستہ اس کے دکھوں کا درماں بن جائے گا اور اس کے رستے ہوئے زخم بھر جائیں گے۔ وقت گذرتے گذرتے دو سال کا عرصہ گذر چکا ہے پر اس کا حال بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

شہید بچے کے نام اس کی ماں کا خط

میرے پیارے بیٹے

دو سال بیت گئے۔ ایک منہ زور ریلا ہے جو ہر صبح آتا ہے اور پچھلی رات باندھے گئے سارے بند بہا کر لے جاتا ہے۔ حوصلہ ہار جاتا ہے۔ ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ آنکھیں پہلے آنسوؤں سے بوجھل ہوتی ہیں پھر سیلاب کی طرح یہ آنسو بہتے چلے جاتے ہیں۔ اس روزانہ کے سیلاب نے مرے چہرے پر راستے بنا لیے ہیں۔ اب آئینہ دیکھتی ہوں تو اپنے آپ کو پہچان نہیں پاتی۔ ایک تباہی اور بربادی کی داستان ہے بس جو آئینے سے دیکھتی ہے مجھے۔

دو سال کا عرصہ کس طرح بیتا ہے۔ اس کا اندازہ کوئی کیسے لگا سکتا ہے۔ چار سفاک دہشت گردوں کی پھانسی میرے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتی۔ میں نے ایک ایک لمحہ کس درد سے تکلیف سے اور کس کرب سے گذرا ہے، اس کو لفظوں میں بیاں کرنا ممکن نہیں۔ کس کس بات پر کلیجہ منہ کو آیا ہے یہ بتانا ممکن نہیں، آج بھی صبح سے جو تمہاری یادوں کا تانتا بندھتا ہے وھ کتنی اور رات کے خوابوں میں بھی رہ رہ کر مجھے ستائے گا، اس کا حساب بھی ممکن نہیں۔

Read more