ایسا کم کم ہی ہوتا ہے کہ ہمارے مجازی خدا علی الصبح اٹھ جائیں۔ یہ واقعہ شاذ و نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز فجر کے بعد بلکہ کافی بعد سوتے ہیں لیکن اگر تین چار ماہ میں ایک دفعہ وہ رات کو جلد سو جائیں تو صبح صبح گھر میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ ان کی پہلی ترجیح اور حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ کسی بہانے سے ہمیں اٹھا دیا جائے۔ سب سے پہلے موبائل کا استعمال شروع ہو جائے گا ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو فون کریں گے اور وہ بھی عین ہمارے کان کے اوپر جہاں سے دوسری طرف بات کرنے والے کی گفتگو بھی صاف سنائی دیتی ہو۔ اس سے فارغ ہوں گے تو اپنے اوزاروں کا بکسا اٹھائے ہر چیز کی ٹھوکا ٹھاکی میں لگ جائیں گے۔ بار بار کمرے میں اندر باہر آنے جانے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو جائے گا۔ اور ہماری نیند ایسی کہ کمرے میں سوئی بھی گرے تو آنکھ کھل جائے۔
آج بھی ایسا ہی دن تھا لیکن آج ہم بھی بستر سے اٹھنے کو تیار نہ تھے۔ جب سرتاج کو عمومی تجربات میں کچھ خاص کامیابی نصیب نہ ہوئی تو برخوردار کو بلا کر ہمارے سرہانے مذاکرات شروع کر دیے۔ باآواز بلند تبادلہ خیالات کے بعد ان کی امید بندھی کہ کامیابی نصیب ہونے ہی کو ہے۔ عین اسی وقت انہیں ہر بھولی بسری بات یاد ستانے لگی۔ جس کا جواب ہمارے پاس، ہوں، ہاں، جی، جی جی، نہیں، پتا نہیں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔ بلکہ کچھ سوالات پر تو فرمانبردار بیویوں کی طرح بس خاموشی اختیار کی۔ پھر کمرے سے باہر بلکہ گھر سے باہر طوفان کی طرح نکلے اور آندھی کی طرح واپس آ گئے۔ آتے ہی ارشاد ہوا، بیگم موسم بہت خوشگوار ہے چلو واک پر چلتے ہیں۔
Read more