بیجنگ یا بیگنگ


سرکاری ٹی وی بھی نا ذرا عقل نہیں ہے، کیسی کیسی غلطیاں کرتا ہے اب یہی دیکھئیے ”وزیراعظم کے چین کے دارلحکومت بیجنگ میں سینٹرل پارٹی اسکول کی تقریب میں خطاب کیا۔ جس کی کوریج پاکستانی میدیا نے بھی کی اور سرکاری ٹی وی نے بھی اس کی کوریج کی یہ بتانے کے لیے کہ وزیراعظم کہاں خطاب کر رہے ہیں، بیجنگ کے بجائے بیگنگ لکھ دیا جس کے معنی ہیں بھیک مانگنا، اور یہ غلطی بیس سیکنڈ تک اسکرین پر جلوہ افروز رہی، اور یہ غلطی ایک موضوع بن گیا جیسے کبھی کسی نے غلطی نہ کی ہو۔

تھی تو یہ غلطی لیکن کچھ غلط بھی نہ تھی، آج کل ہم بڑی شد ومد سے یہی کام تو انجام دے رہے ہیں۔ ہمارا دبنگ لیڈر جو کشکول توڑنے کی باتیں کرتا تھا اسے کیا پتہ تھا کہ خزانہ اتنا خالی ہے کہ اسے ملکوں ملکوں جھولی پھیلا کر مانگنا پڑجائے گا اور ہم اتنی بے غیرت قوم ہیں کہ مذاق اڑانے میں لگے ہیں۔ وزیر اعظم اپنے لیے تھوڑی“ بیگنگ ”کر رہا ہے وہ بھی قوم کے لیے مانگ رہا ہے بقول ایک وفاقی وزیر کے“ جس عمران نے اپنی ضرورت کے لیے اپنے باپ سے پیسے نہیں مانگے وہ آج قوم کے لیے مانگ مانگ کر خزانہ کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے“۔ اس سلسلے کی کڑی تھی کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں تک نیلام کردیں۔ چائے بسکٹ کا رواج ڈال دیا، پیٹرول بچانے اور پروٹوکول سے بچنے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیا، اپنے پہننے کے لیے دو چار جوڑوں میں گزارا کر رہے ہیں تاکہ قوم کو بچت کا درس دے سکیں۔

خان صاحب جس محنت سے ملک کے لیے یہ کام کر رہے ہیں تو قوم کو بھی آپ کا ساتھ دینا چاہیے اب کیا کریں کچھ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتیں ہیں اور پی ٹی وی میں بھی ایسا ہی ہے انھوں نے یہ حرکت کرڈالی ویسے“ بیگنگ ”لکھنا برا بھی نہیں آپ اس قوم کے لیے یہ کام کر رہے کل کو سنہری حروف سے نام لکھا جائے گا کہ یہ بندہ تھا جس نے پاکستان کو مالی بحران سے نکالا۔

اس طرح کی ٹائپو کی غلطی سہوا بھی ہو جاتی ہے جس سے مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے شاعر نے کیا خوب کہا ہے
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

یہ غلطیاں تو اب عام ہوگئیں ہیں، جلد بازی میں، بریکنگ نیوز کے چکر میں، ہر چینل پہ کہیں نا کہیں اردو کے الفاظ کی غلطیاں موجود ہوتیں ہیں۔ اخباروں میں بھی پروف ریڈنگ کی بے شمار غلطیاں ہونے لگیں۔ اس طرح کی بے شمار غلطیاں ہم روزمرہ کی ٹی وی نشریات میں دیکھتے رہتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں۔ نیوز پرڈیوسرز کواس طرف دھیان دینا چاہیے تاکہ ایسی فاش غلطیوں سے بچا جاسکے اور اردو کا بیڑا غرق نہ ہو۔

ایک وقت تھا بڑے بچوں کو تلقین کرتے تھے کہ خبرنامہ ضرور دیکھا کرو اردو اچھی ہوگی، تلفظ درست ہوگا یا پھر اخبار کا اداریہ ضرور پڑھا کرو اس میں الفاظ کا چناؤ اتنا مناسب اور زبان و بیان کی سلاست و روانی درست ہوگی۔ لیکن اب اس طرح کی کوئی نصحیت نہیں کی جاسکتی کہ کب بچہ کچھ غلط سیکھ جائے۔ پہلے ہم اپنی غلطی سے سیکھتے تھے اب ہم غلطی پر غلطی کرکے ڈھیٹ ہوچکے ہیں یعنی چکنا گھڑا بن چکے ہیں جس پر ایک بوند پانی نہیں ٹہرتا۔

Facebook Comments HS