پردیس میں معمر مہاجرین کے مسائل
مسز صفدر اور مسز آمنہ حسین کی تنہائی کا سبب بظاہر بہوؤں کی بے اعتنائی تھا۔ ہماری اگلی ملاقات ایک ایسی ماں سے ہوئی کہ جو امریکہ میں بیٹوں کے ہوتے ہوئے غیروں کے گھر کام کر کے اپنی روزی کا انتظام کر رہی ہیں۔ بنتِ فاطمہ بھی ایک بیوہ ہیں۔ جنہوں نے شادی کے بعد پڑھا اور یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے کو اپنایا۔شوہر کی آمدنی کم تھی۔ بنتِ فاطمہ نے اپنی نوکری سے چار بچوں کو اعلی تعلیم دلائی۔ جب بچے امریکہ آ گئے تو وہ بیٹوں کی شادی کے فریضہ کے بعد خود بھی امریکہ آ گئیں۔ شروع میں سب کچھ اچھا تھا۔مگر ان کی زبان کی تیزی اور حکمرانی کا ہدف بننے والی بہوؤں نے ساس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ بدکلامی کے تبادلے تو معمولی بات تھی۔ نوبت مار پٹائی تک آ گئی۔ یعنی بہوؤں نے ساس کی پٹائی کی اور بالآخر گھر سے نکال کر دم لیا۔ وہ عورت جو پاکستان میں اونچے عہدے پر فائز تھی۔آج گھر اور روزی کی تلاش میں غیروں کے گھریلو کام کر کے اپنا خرچہ پورا کر رہی ہیں۔ بنتِ فاطمہ نے غصہ سے کہا۔ ” میں چاہتی ہوں آپ میرا اصل نام لکھیں۔ ” لیکن ہم نے دانستہ ان کی خواہش پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں فریقین ٹھنڈے دل سے کام لیں اور دل کشادہ کر کے ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔
یہ داستانیں ان خواتین کی تھیں کہ جو تنہائی جھیل رہی ہیں لیکن ہماری ملاقات اور ایسی ماؤں سے بھی ہوئی کہ جو بھرے پرے گھر میں رہتی ہیں اور ماشا اﷲ خوش بھی ہیں۔
رباب بانو صاحبہ 2000 میں شمالی امریکہ آئیں چار بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہیں۔ان کے خیال میں کہیں بھی گزارہ کرنے کے لیئے برداشت کرنا بہت ضروری ہے۔ بقول انکے غلط بات بیٹی کی ہو یا بہو کی، میں عقلمندی سے سنا ضرور دیتی ہوں اس طرح کہ ناگوار نہ گزرے۔ ” رباب صاحبہ نرسنگ ہومز کے حق میں نہیں۔ اس کی تنہائی کا تصور ہی ان کو پریشان کر دیتا ہے۔ ان کے خیال میں اپنی جڑوں، قدروں اور زبان سے پیوستگی ضروری ہے۔ ” بغیر جڑوں کے درخت کس طرح پھلے پھولے گا؟ وہ ہمیشہ کام کرنے اور مصروف رہنے کو بھی مسئلہ کا حل سمجھتی ہیں۔
دوسری خاتون نسیم اختر صاحبہ ہیں جو پاکستان سے اپنی نواسی کی خبر گیری کے لیے آئی ہیں۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر ہیں۔ گو ان کی پرانی قدروں کی بنیاد پر بیٹی کے گھر رہنا پسند نہیں۔ بقول ان کے ” میں روز کام کر کے اپنی روٹی حلال کرتی ہوں۔ ” امریکہ میں بزرگوں کا مسئلہ صحت کا ہے۔بقول ان کے ہاتھ پیر چلتے رہنے چاہئیں۔ میں لوگوں کے لئے سویٹرز بناتی ہوں۔ کمائی کے لیے نہیں بس لوگوں کو خوش کرنے کے لیئے۔” وہ کہتی ہیں۔” میری بہو اور بیٹا کہتے ہیں کہ جلد آ جائیں ہمارے گھر کی تو رحمت چلی گئی۔ وہاں سب سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے مسرت و فخر سے ان کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
ان تمام داستانوں سے یہ حقیقت واضح ہے کہ مغرب میں ہجرت کے سبب معاشرتی ڈھانچہ کی یکسر تبدیلی، خاندانی اور معاشرتی سہارے کی نایابی اور روزی کے حصول کے لیئے میاں اور بیوی کی شب و روز کی مصروفیت میں بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال اور انفرادی توجہ کا حصول دشوار ہو رہا ہے۔ اپنی اخلاقی قدروں کے سبب ہم اولڈ ہومز کی تشکیل کے ذکر پہ خجالت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن کیا حقیقت سے منہ چرانے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ آج کا جوان کل خود بڑھاپے کی دھلیز پر ہو گا۔ کیا ہم نے آج کی صورتحال اور آنے والے وقت کے لیئے خود کو تیار کیا ہے؟
حسین والجی جو نہ صرف بروکلین پارک سینوٹا میں بننے والی پہلی مسجد کی تعمیر کے نگراں ہیں بلکہ وہاں اسٹیٹ لیونگ اور نرسنگ کمپلیکس کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ان کے خیال میں اگر ان بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیئے مسجد سے متصل علاقہ ہو تو شائد وہ لوگ جو اپنے بزرگوں کا خیال رکھنے کی سکت نہ رکھتے ہوں نسبتا آسانی سے فیصلہ کر سکیں۔ تاہم پاکستانی نژاد ساجدہ خان اور ان کے شوہر رحمت خان نے مسلمان بزرگوں کے لیئے کیلی فورنیا لاس اینجلس میں جو ادارہ کھولا وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ حالانکہ وہاں حلال کھانے اور عبادت کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ مسلمانوں کو کمیونٹی کے افراد کے طعنوں کے خوف نے بھی اس قدم سے روکے رکھا۔ اوہائیو میں ٹولیڈو کے اسلامی ادارے نے مسجد سے قریب بزرگوں کے گھروں کے منصوبہ کی منظوری پہلے ہی دے دی تھی۔ جب کہ ڈیٹرائٹ کا ہنری فورڈ ہسپتال بھی علاقہ کے مسلم اور عرب قوم کے معمر افراد کے لئے پروگراموں کی تشکیل دے رہا ہے۔
مسلم ایشیائی افراد کی ضروریات کے مطابق بننے والے اولڈ یا نرسنگ ہومز کی تشکیل بظاہر ناگزیر نظر آ رہی ہے کہ وہ وقت کا تقاضہ ہیں۔ تاہم اسلاف کی اعلی قدروں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ کہ جس میں مادہ کی بجائے انسانوں سے ہم رشتگی پہ زور دیا ہے۔ انسانوں کا ایک دوسرے سے اجنبی رہنا سماج کے المیوں کو جنم دیتا ہے۔ جب کہ باہم میلاپ، خیال و اتفاق صحت مند معاشروں کی تشکیل کا ضامن بنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مضمون گوہر تاج اور ڈاکٹرخالد سہیل کی کتاب ’’ ہجرت کے دکھ سکھ ‘‘سے لیا گیا ہے ۔


