پردیس میں معمر مہاجرین کے مسائل
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
(اسلم کولسری )
بچپن میں سنا کسی شاعر کا یہ شعر باوجود کم عمری کے میرے حافظہ میں محفوظ ہو گیا۔ شاید اس لیئے کہ عورت ہونے کے ناطے ماں بننا میرا اعزاز بھی ٹھہرا تھا۔ اولادوں سے ماؤں کی بے غرض ایثار وقربانی کی مثالیں عہد و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ہر دور میں راتوں کو نیندیں حرام کر کے اپنی گود کی گرمی میں اولاد کی بھوک مٹانے کا عمل ہو یا کسبِ معاش کی صورت میں اولاد کی وداعی کا دکھ، ساری مائیں ہمیشہ ہی اپنی انمٹ محبتوں کی جادوئی پٹاری سے بساط بھر زر اور بیشمار دعاؤں کے خزینہ اولاد کے سپرد کرتی رہی ہیں۔ اولادیں اگر پلٹ کر خبر نہ بھی لیں تب بھی ماؤں کی دعاؤں کا وظیفہ آخری ہچکی تک جاری و ساری رہتا ہے۔
نوجوان اولادوں کا روزی اور معاشی آسودگی کی تلاش میں ہجرت کا عمل صدیوں سے جاری ہے۔ ان طویل مسافتوں میں رشتوں کی قربانی ، روایتوں اور اقدار کی دانستہ یا غیر دانستہ پامالی،دیگراخلاقی اور جذباتی زبوں حالی کا سبب بھی بنتی ہیں۔اورستم یہ کہ ہجرتوں کے اس تجربے میں سب سے زیادہ قربانی ان بوڑھے والدین (بالخصوص ماؤں)کو دینی پڑتی ہے۔ کہ جو نہ چاہتے ہوئے بھی اولاد کی محبت، تنہائی سے نجات اور سہارے کی تلاش میں اپنے پرانے مخصوص ٹھکانے بدلتے ہیں۔ ساٹھ سترسال کی عمر میں آبائی وطن، عادی قدروں اور ثقافت کو بدلنا اتنا آسان نہیں۔ پاکستان سے امریکہ یا برطانیہ کا لمبا سفر مشکل تو ضرور ہے مگر کٹ ہی جاتا ہے ۔ لیکن اصلی کڑا سفر شاید منتقلی وطن کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کہ جس میں بعض افراد پیرانہ سالی کے باوجود ایسے تجربات سے گزرتے ہیں کہ شاید جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ آپ کے مشاہدے میں یقینا ایسے بہت سے بزرگ افراد گزرے ہوں گے کہ جن کے چہروں پر باوجود آسودگی کے کئی دکھ پلٹے نظر آتے ہیں۔ ہم نے ایسی ہی ان چند ماؤں سے گفتگو کی کہ جو اس اذیت سے نبرد آزما ہیں۔ ان کی داستانِ حیات آئینہ مثال ہیں کہ جن میں آپ میں سے اکثر کو اپنی تصویر نظر آئے گی۔ پھر اگر اپنی صورت دیکھ کر آپ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائیں تو یقینا یہ تحریر رائیگاں نہیں ہو گی۔
یہ کہانیاں ان ماؤں کی ہیں جو باوجود صاحبِ اولاد ہونے کے کسی نہ کسی وجہ سے بالکل تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ باوجود امریکہ رہنے کے اولڈ یا نرسنگ ہومز یا اسٹیٹ لیونگ کا تصور ہماری اقداروں میں خال خال ہی ہے۔ امریکی معاشرے میں بچوں اور بوڑھوں کے لئے ایسے ادارے ہر قدم پر نظر آئیں گے۔ مگر ہم نے اپنی قدروں کو بھلانے کے باوجود مغرب کی اس طرز کو پورے طورپر نہ قبول کیا ہے نہ اپنایا ہے۔ لہذا یہ مائیں مجبور ہیں کہ اکیلی زندگی بسر کریں۔ اوربہ صورت دیگر غیروں کے گھر زندگی کے دن پورے کریں۔
ہم نے اپنے سوالوں میں ان ماؤں کو درپیش مسائل، علیحدہ اور تنہا زندگی گزارنے کی وجہ اور مسائل کے ممکنہ حل کے متعلق دریافت کیا۔ رازداری کا بھرم رکھنے کے لیے ہم نے اصلی ناموں اور مقامات کو درج کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
ہماری گفتگو سب سے پہلے اسی سالہ مسز آمنہ حسین سے ہوئی کہ جو امریکہ میں دس سال سے مستقلاً رہ رہی ہیں۔بہت روادار، خوش شکل، خوش لباس ہونے کے ساتھ ساتھ مطالعہ اور اچھے انسانوں سے گفتگو کی شوقین۔ پاکستان میں ان کے میاں ایک اہم سرکاری عہدہ پہ فائز تھے۔ جس کی مراعات کی بدولت آمنہ صاحبہ کی زندگی مثالی تھی اور کبھی نوکری کی نوبت پیش نہ آئی۔ تین لڑکوں کو جنم دیا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکوں کا ہونا باعث فخر و انبساط ہوتا ہے ۔ لڑکیاں لاکھ خدا کی رحمت ٹھہریں لیکن ہوتی تو پرایا دھن ہیں۔ جب کہ لڑکے والدین کا زورِ بازو ہوتے ہیں۔ تینوں لڑکے ایک ایک کر کے اعلی تعلیم کے لیئے امریکہ منتقل ہونے لگے۔ ان کے پیر جمانے کے لیئے ماں نے اپنی جمع پونجی کو اولاد کے سپرد کیا۔ گو پاکستانی رقم امریکہ میں بہت تھوڑی ہو جاتی ہے۔تاہم پیر جمانے کے لیئے ابتدا کام آئی۔ شروع شروع میں آنگن سے چڑیوں کا پرواز کرنا کچھ اتنا نہ پتہ لگا۔ مگر شوہر کی نوکری سے فراغت کے بعد گھر کی ویرانی کاٹنے لگی۔ ادھر امریکہ سے شادی شدہ اولادوں کے بلاوے آنے شروع ہو گئے۔ کسی کو امتحان دینے تھے اور کسی کو ریذیڈینسی شروع کرنی تھی۔ امریکہ میں مطلوبہ ڈگری کا حصول بغیر کسی مدد کے ممکن نہ تھا۔ ننھے بچوں کو پالنے اور گھر چلانے کے لیے بوڑھی اماں ابا سے بڑھ کر کون ہو سکتا تھا؟ اور یوں پوتے پوتی کھلانے اوراولاد سے یکجا ہونے کی خواہش میں امریکہ آ بسیں یہ سوچ کر کہ اگر اولاد ساتھ ہو تو بڑھاپا اچھا ہی کٹ جائے گا۔
مسز آمنہ حسین نے بتایا کہ شروع شروع میں تو سب اچھا رہا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، اولادوں کی ضرورتیں نکلتی گئیں، بچے بڑے ہو گئے۔ تو ہمارے بوجھ کا احساس بہوؤں کو زیادہ ہوتا گیا۔
بالآخر ہم نے علیحدہ اپارٹمنٹ میں رہنے میں عافیت سمجھی۔ لڑکوں نے اپنی اونچی چھتوں والے مکانوں کے نامکمل تہ خانوں کی تکمیل کے بعد ماں باپ کو رکھنے کا ارادہ کیا۔ تاہم اس دوران پچیاسی سالہ میاں، بیوی کا ہاتھ چھڑا کر موت کے فرشتے کے ساتھ سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے۔ اونچے عہدوں پر کام کرنے والے بہو بیٹے ماں کو گھر تو لے آئے مگر بہو کی خواہش تھی کہ ” آپ تینوں بیٹوں کے گھر برابر سے رہیں صرف ایک گھر میں رہنے سے میاں بیوی کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے۔ ” ایک جانور بھی اپنا مخصوص ٹھکانہ چاہتا ہے۔ ـ‘‘ بالآخربوڑھی مسز آمنہ حسین نے بیٹوں سے کہہ کر اپنا چھوٹا سا اپارٹمنٹ لے لیا ۔خود بیٹوں نے بھی ماں کے حق میں اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔ اب کمزور اور بوڑھی آمنہ حسین آہستہ آہستہ چل کر گھر کے سارے کام کرتی ہیں مگر خوش ہیں کہ کوئی ٹھکانہ تو ہوا جہاں ان کے ملنے والے گھر آسکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ’’وہاں تو پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا ۔‘‘
انہوں نے کہا ۔’’مجھ جیسی عورتوں کا سب سے بڑا مسئلہ سوشلائزیشن اور تنہائی کا ہے ۔ عمر کے اس حصہ میں نہ میں نوکری کر سکتی ہوں نہ ہی ڈرائیونگ ۔ انگریزی بھی واجبی ہے جو اکثر رابطے میں دشواری کا باعث بنتی ہے ۔ ‘‘ انہوں نے دکھ سے کہا ۔ ’’ہم امریکہ میں تنہا رہنے کے لیئے تو نہیں آئے تھے ۔ہم تو یہ سوچ کر آئے تھے کہ بچے خوشحال ہیں ہمارا بوجھ اٹھا لیں گے ۔ میرے لڑکے تو اب بھی یہی چاہتے ہیں ۔ لیکن پیشہ ہونے کے باوجود بہوؤں کا دل بہت چھوٹا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’ گو اب میرے ملنے والے آزادانہ آتے ہیں ۔ اور میرا خیال رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی کوئی معمولی سی تکلیف بھی گہرا دکھ پہنچاتی ہے۔ مثلا تنہا دوپہر کو کھانا کھاتے کھاتے میری زبان دانتوں تلے آگئی گو تکلیف اتنی نہ تھی لیکن تنہائی کے احساس سے تادیر روتی رہی ۔ ایسے مسائل کا حل ان کی نظر میں قدروں کی پاسداری ہے ۔ ’’میرے ساتھ یہ سلوک انہوں نے کیا جو پاکستان میں پروان چڑھے اب یہ سوچنا ہے کہ یہاں کے پلے بڑھے بچے ان والدین کے ساتھ کیا سلوک کریں گے کہ یہاں کی مصروف زندگی میں والدین کے لیئے اپنی اولاد کی تربیت کا وقت نہیں وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کا کیا خیال رکھیں گے ۔ ــ‘‘
ہماری دوسری ملاقات ایک ایسی ماں سے ہوئی کہ جو اعلی تعلیم یافتہ اور نوکری پیشہ تھیں۔ ستتر سال کی عمر میں بھی مسز صفدر مرزا کا کمال کا حافظہ اور علمیت ہے۔ بیوہ ہونے کے بعد پاکستان سے امریکہ ہجرت کے بعد بیٹے کے گھر سے اپنے مختصر اپارٹمنٹ میں منتقلی کا تجربہ اٹھا چکی ہیں۔ بقول صفدر مرزا کے ” اکلوٹے بیٹے کے لیئے بہت چاؤ سے بیاہ کر لائی تھی۔ بہو کی بدتمیزی اور بدکلامی پہ صبر کے گھونٹ پیتی رہی۔ ” وہاں ایک بنک کے اچھے عہدہ پر کام کیا تھا۔ یہاں یہ حشر کہ ایک کونہ میں منہ دیئے نمازیں پڑھ رہی ہوتیں۔ اور آنسو سے قرآن کے صفحات بھیگتے رہتے۔ ان کا بیٹا بھی بیوی اور ماں کی نا اتفاقی سے پریشان ہو چکا تھا۔مسز صفدر کی ذہنی اور جسمانی صحت دیکھ کر ڈاکٹر نے ان کا ڈیپریشن دور کرنے کا ایک ہی حل بتایا کہ الگ رہائش اختیار کی جائے۔ شروع میں دوری کا احساس تکلیف دہ تھا لیکن بیٹے نے سالوں سے صبح شام ماں کی خبر رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔بقول مسز صفدر ” مجھے تنہائی کا کوئی خاص مسئلہ نہیں میں تو خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ رشتہ ناتوں کی زنجیر توڑ کر خدا کی محبت میں جذب ہوں اور یکسوئی سے خدا کی عبادت کرتی ہوں۔ اس تنہائی نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔” ان کی نظر میں اس مسئلے کا ایک حل تو بلاشبہ اپنی اقدار اور مذہب سے قربت ہے لیکن دوسری طرف ایسے نرسنگ یا اولڈ ہومز کا قیام ہے کہ وہاں جنوبی ایشیائی یا چلتے چلتے کلچر کے افراد رہ سکیں۔ کلچر کا فرق ہونے کی وجہ سے مغرب میں زندگی بسر کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ مثلا حلال کھانے، مرچ مصالحوں کا استعمال، زبان سے نا آشنائی اور ماحول کا فرق ہم اتنی آسانی سے امریکی معاشرے میں فٹ ہو نہیں سکتے۔”
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




