متر پیارے نوں۔۔۔ حال مریداں دا کہنا


‘ ابا کدھر گیا تیرا؟ ’ اس نے پوچھا۔

‘وہاں ’ لڑکے نے ایک لمحے کے توقف کے بعد اپنا فاقہ زدہ ہاتھ اٹھا کر قبرستان کے اس حصے کی جانب اشارہ کیا جہاں اس کا ابا آج کل ہوتا تھا۔

وہ ایک لمحے کو بھونچکا رہ گیا۔ اسے دل میں ذرا سی شرمندگی بھی ہوئی کہ اسے اس طرح کے جواب کے لیے تیار ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس نے جلدی سے خود پر قابو پایا اور بولا۔

‘ او ہو ہو۔ بڑا افسوس ہوا جی۔ اللہ بخشے۔  کب فوت ہوا؟ ’

‘ کوئی چھ مہینے ہو گئے ’ لڑکے کے خشک حلق سے اس کی کمزور آواز بمشکل نکلی۔

‘ بس جی اللہ کی رضا۔ ’ لڑکا محض سر ہلا کر رہ گیا۔

چند لمحات تک خاموشی رہی۔ پھر وہ بولا۔

‘ اچھا پتر تو مجھے دو کلو گلاب کی پتیاں دے دے۔  یا پھر ایسا کر جتنی پڑی ہیں ساری تول دے۔  ٹھیک۔ اور یہ گیندے اور گلاب کی لڑیاں بھی دے دے چار چار۔ اور ایک پیکٹ اگر بتی کا اور ساتھ ایک ماچس بھی شاباش۔ ُ

لڑکے نے جلدی جلدی تعمیل کی اور سارا سامان پلاسٹک کی تھیلیوں میں بھر دیا۔

‘ کتنے پیسے ہوئے پتر؟ ’ اس نے جیب سے اپنا لیدر والٹ نکالتے ہوئے پوچھا۔

لڑکے نے اپنے منے سے سلیٹی کیلکولیٹر پر حساب کیا‘ جی دو سو ستر ہو گئے ٹوٹل ’

اس نے والٹ سے تین لال نوٹ نکال کر لڑکے کو دیے۔  لڑکے نے نوٹ پکڑکر پہلے اپنی گلک میں جھانکا اور پھر جیبیں ٹٹولیں تو وہ سمجھ گیا۔

‘ کوئی نئیں پتر تو رکھ لے۔  کوئی نئیں۔  پھر کیا ہوا۔ خیر ہے۔  ’

اس نے اپنا سودا اٹھایا اور آگے چل پڑا۔ لڑکا تشکر اور شرمندگی کے ملے جلے جذبات میں تھا کچھ کہہ نہ پایا۔

اس نے اماں کی قبر ڈھونڈنی شروع کی تو ایک بار چکرا کر رہ گیا۔ اس کی طویل غیرحاضری کے دوران اس شہر کی آبادی خاصی بڑھ گئی تھی اور وہ قبر کہیں دوسری قبروں میں گم ہو چکی تھی۔ اس نے تھوڑا سا دماغ پر زور ڈالا تو یاد آیا کہ اماں کی قبر قبرستان کی عقبی دیوارسے قریب تھی۔ آخری بار جب وہ فاتحہ کہنے آیا تھا تو یہاں سے لے کر داخلی دروازے تک خاصی کھلی جگہ موجود تھی مگر اب کہیں ایک انچ زمین بھی خالی نظر نہ آتی تھی۔ بہر طور وہ کچی پکی قبریں پھلانگتا اور قبروں کے کتبے پڑھتا ہوا اماں کی گمشدہ قبر ڈھونڈنے لگا۔ یونہی ادھر سے ادھر گھومتے ہوئے وہ یک بیک ایک نئی کیفیت سے آشنا ہوا تو ٹھٹک گیا۔ اسے لگا کہ یہ سب مٹی کے ڈھیر قبریں نہیں تھیں بلکہ جیتے جاگتے انسان تھے جو لیٹے ہوئے تھے اور قبروں کے کتبے در اصل ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ تھے۔  ہاتھ جو زندگی کے آخری موڑ سنگ میل کی طرح زمین میں گڑے ہوئے تھے اور ہر سنگ میل ایک ورق تھا۔ امیدوں آشاوں حسرتوں مسرتوں خوشیوں اور نامرادیوں سے لکھی ہوئی کتاب زیست کا آخری باب۔

خاصی دیر کی جستجو کے بعد آخر کار وہ اپنی ماں کی قبر کو شناخت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ایک خستہ حال کچی قبر تھی۔ اطراف کی دونوں قبروں کے وارثوں نے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا تھا اور قبروں کو بلند و بالا مر مریں چبوتروں کی شکل دے دی تھی۔ بیچ میں اس کی ماں کی قبر محض ایک تودہ خاک معلوم ہو رہی تھی۔ اس نے دونوں مزار نما قبروں کو غصے رشک اور حسد کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا بائیں ہاتھ والی قبر کے سفید براق تعویذ کے کنارے پر ٹک گیا۔

اس نے دیکھا کہ اماں کی قبر کی مٹی خشک ہو کر بھوری اور بھر بھری ہو رہی تھی جیسے مدتوں سے پیاسی ہو۔ قبر کے اوپر بے تحاشا جنگلی گھاس اور خود رو بوٹے اگے آئے تھے۔  سنگی کتبے پر مٹی کی اتنی دبیز تہیں جم گئی تھیں کہ حروف اس کے نیچے دب گئے تھے۔  وہ ایک ٹک کتبے کو دیکھتا رہا پھرجیب سے رومال نکالا اور کتبے پر جمی ہوئی مٹی کو آہستہ آہستہ رگڑکر صاف کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے سفید کتبے پر سیاہ روشنائی میں لکھی تحریر ابھرنے لگی۔ نیم دائرے میں خوبصورت خط میں لکھی قرآنی آیات اور ان کے بیچوں بیچ اس کی ماں کا نام اور زوجیت بمع تاریخ پیدائش و وفات سن عیسوی اور ہجری دونوں میں لکھا ہوا ظاہر ہوا۔ اتنی مدت بعد اپنی ماں کا نام جلی حروف میں لکھا ہوا دیکھ کر اس کے دل کی کیفیت عجیب ہو گئی۔ وہ تا دیر وہیں بیٹھا کتبے پر لکھے اماں کے نام کو بار بار پڑھتا رہا اور نام کے مٹتے ہوئے سیاہ حروف پر انگلیاں پھیرتا رہا بالکل ویسے ہی جیسے اس کی ماں جب اسے لاڈ کرتی تھی تو اس کے سیاہ بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کیا کرتی تھی۔

پھر یک بیک اسے کچھ خیال آیا۔ وہ وہاں سے اٹھا اور قریبی چوبچے سے ایک زنگ آلود کنستر میں جو شاید اسی کام کے لیے وہاں رکھا گیا تھا پانی بھر کے لے آیا اور اپنے ہاتھوں سے مل مل کر قبر کو غسل دینے لگا اور قبر کے کتبے پر جمی مٹی کو دھونے لگا۔ اس نے قبر ہراگے ہوے جھاڑی نما پودے بھی اکھاڑ کر پھینک دیے۔  جب وہ اس کام سے فارغ ہوا تو اس کی کلف لگی شلوار قمیض داغدار ہو چکی تھی لیکن قبر دھل کر ایسی نکھری ہوئی اور تازہ دم لگ رہی تھی جیسے اس کی ماں خود اپنی زندگی میں لگا کرتی تھی۔ اس نے قبر کو پھولوں اور پتیوں سے لاد دیا اور سرہانے کی طرف دو اگر بتیاں بھی جلا دیں جو دھیرے دھیرے سلگ کر اپنی مخصوص خوشبو دینے لگیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3