متر پیارے نوں۔۔۔ حال مریداں دا کہنا
سرخ اور پیلے پھولوں سے لدی اپنی ماں کی قبر اسے اس وقت اتنی اچھی لگ رہی تھی کہ وہ وہاں سے اپنی نظریں نہ ہٹا سکتا تھا۔ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں کو صفائی کا جنون تھا۔ ان کا گھر ہمیشہ ایسا دھلا دھلایا اورصاف لگتا تھا کہ جیسے وہاں کوئی رہتا ہی نہ ہو۔ کوئی بھی داغ یا نشان خواہ گھر کی کسی شے پر ہوتا یا کسی بچے کے ہاتھوں پیروں پر اماں جب تک اسے مٹا نہ دیتی چین سے نہ بیٹھتی تھی۔ اس کا باطن بھی بالکل ویسا ہی تھا۔ شفاف، بے ریا اور محبت سے معمور۔ کینہ اور حسد اس میں تھا ہی نہیں۔ وہ کسی کے برے میں نہیں تھی۔ پھراسے یاد آیا کہ کیسے ماں چہرے کے سوا پورا جسم چادرسے ڈھانپ کر نماز پڑھا کرتی تھی اور کیسے لہک لہک کر تلاوت کرتی تھی۔ یہ خیال آتے ہی ایک دم سے اماں کی تلاوت کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ وہ ہڑبڑا گیا۔ اسے لگا کہ جیسے آواز یہیں قبر کے اندر سے آئی ہو۔ پھر اسے یاد آیا کہ کیسے اماں اوراد و وظائف سے فارغ ہو کر بستر میں سوئے ہوئے ایک ایک بچے پر آیتیں پڑھ پڑھ کے پھونکتی تھی۔ اور کیسے وہ نماز کے بعد دو زانو مصلے پر بیٹھ کر اپنی چادرکے پلو کا کشکول بنائے ’بار الہا بار الہا‘ کی گردان کرتی بہتے ہوئے اشکوں کے ساتھ دعائیں مانگا کرتی تھی اور کیسے اس وقت اس کا سرخ و سپید چہرہ پاکیزگی کے نور سے منور ہو جایا کرتا تھا۔ اماں کی دعائیں خاصی طویل ہوا کرتی تھیں جنہیں سن کر وہ کبھی کبھی اکتانے لگتا تھا۔ اماں بچوں سے سٹارٹ لیتی تھی اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہوتی ہوئی ’کل عالم کا بھلا۔ کل عالم کی خیر‘ پر جا کر ختم کرتی تھی۔ وہ اللہ کے آگے کل عالم کی وکیل بن جاتی تھی حتی کہ وہ اس کے باپ کی سلامتی اور نیک ہدایت کی دعا کرنا بھی کبھی نہ بھولتی تھی۔
اپنے باپ کا خیال آتے ہی نفرت کی ایک شدید لہر اس کے دل میں اٹھی اور اس کے اندرون میں جیسے زہر سا گھل گیا۔ اس کا باپ اس کی ماں کے عین متضاد تھا۔ اماں فرشتہ تھی تو وہ مجسم شیطان۔ لالچ شقاوت اورہوس کا پتلا جس نے زندگی بھر کبھی اس کی ماں سے محبت کی نہ بچوں کو شفقت پدری کا احساس دلایا۔ اسے ہمیشہ اس بات پر انتہائی حیرت ہوتی تھی کہ کیوں کر اس کی تہجد گذار ماں ایک ایسے بد کردار شوہرکے ساتھ عمر بھر نبھاتی رہی اور کبھی حرف شکایت تک زبان پر نہ لائی۔
اس نے بصد کوشش اپنے باپ کے سراپے کو اپنی تصور کی آنکھ سے کھرچ کر دور پھینکا اورپھر سے ماں کے ساتھ گذارے ہوئے دنوں کو یاد کرنے لگا۔ ماں کے تصور نے اس کے جلتے دکھتے ہوئے باطنی زخموں کو ٹھنڈے مرہم جیسی آسودگی عطا کی۔ اماں کا نرم و گداز شفیق سراپا، اس کی ریشمیں آواز، اس کی باتیں، اس کا لا ڈ پیار، اس کی ہنسی اور اس کا وہ مصنوعی غصہ جب بچے اپنی شرارتوں سے اسے عاجز کر دیتے تھے۔ سب کچھ اسے رہ رہ کر یاد آتا رہا۔ پھر اسے اماں کی زندگی کے اختتامی لمحات یاد آئے جب اس نے اپنی بے نور ہوتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ آخری بار اپنے بچوں کو دیکھا تھا اور پھرہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔ ساتھ ہی اس کا بیماری کی اذیت سے تنا ہوا چہرہ ایک دم ڈھیلا اور پرسکون ہو کرایک جانب ڈھلک گیا تھا۔ وہ اس وقت کڑیل جوان ہونے کے باوجود کیسا بچوں کی طرح بلک بلک کر تڑپ تڑپ کر رویا تھا۔ اماں جو اس کے لیے ماں بھی تھی اور باپ بھی اور جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی اس کے لیے محال تھا اسے گزرے ہوئے دس سال سے اوپر ہو گئے تھے۔ وہ ماں کے بغیر زندہ بھی تھا اور بہت خوشحال بھی تھا۔
اماں کو یاد کرتے ہوئے اس نے کئی بار دانستہ کوشش کی کہ اسے رونا آ جائے مگر نہ آیا۔ اس نے زندگی کے کئی جذباتی لمحات کو بے تحاشا یاد کیا کہ کسی طرح آنسو بہہ نکلیں مگر آنسو کہیں ایسی گہری نیند جا سوئے تھے کہ بہت جگانے پر بھی نہ جاگے۔ اسے آنسووں کی اس نا فرمانی پر حیرت بھی تھی غصہ بھی اور شرمندگی بھی۔ یک بیک اس کے کھیسے میں ایک ہیجان خیز بھارتی گانے کی دھن بج اٹھی۔ اس نے ایک دم گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو پھر بجلی کی سی تیزی سے سیل فون جیب سے نکالا اور کان سے لگایا۔
‘ہیلو۔ ہاں۔ کس کے ساتھ کیا مطلب؟ قبرستان میں ہوں بھئی اور کدھر ہونا ہے میں نے ’
‘ بتا کر تو گیا تھا میں۔ وہ فاتحہ۔ ’
‘ تو آ رہا ہوں نا گھر بھئی۔ اتنے غصے والی کونسی بات ہے آخر۔ ‘
‘نہیں اتنی بھی کوئی دیر نہیں ہوئی ’
‘ کہا تو ہے۔ بس پندرہ منٹ میں ’
‘ہاں ہاں ضرور چلیں گے۔ تم بچوں کو تیار کرو۔ میں پہنچتا ہوں۔ ’
‘اچھا بھئی دس منٹ میں۔ او کے۔ ’
سیل فون بند کر کے اس نے واپس کھیسے میں ڈالا اور جلدی جلدی قبریں پھلانگتا ہوا اپنی گاڑی کی سمت بڑھنے لگا۔

