ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے


عالم کفر کے ساتھ یہ دوسرا عظیم الشان معرکہ بھی بزعم خود عظیم مجاہد ملت مولانا خادم حسین رضوی کے نام رہا.

پہلا معرکہ فیض آباد دھرنے کا تھا جس میں اس وقت کی حکومت کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد مولانا فتح کے پھریرے لہراتے ایسے واپس لاہور پہنچے ، جیسے نادر شاہ دلی کو لوٹنے کے بعد خزانوں سے لدا شاداں و فرحاں اپنے وطن واپس پہنچا تھا۔

خادم حسین رضوی ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام سے ایک نئی جماعت کے ساتھ ملکی منظر نامے پر وارد ہوئے تھے۔ ممتاز قادری نے 4 جنوری 2011 کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کر دیا تھا۔ اس جرم پر اس پر مقدمہ چلا اور اس کو 29 فروری 2016 کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ خادم حسین رضوی نے بعد ازاں اپنی جماعت کو الیکشن کمیشن میں رجسٹر کرا لیا۔ کسی نے بھی اس وقت یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ جس جماعت کی بنیاد ہی تشدد اور غیر قانونی اقدام کی حمایت پر رکھی گئی اس کو رجسٹریشن کیسے دی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے پاکستانی قوم دیوبندی اور وہابی نظریات کے حامل طالبان اور لشکر جھنگوی جیسے شدت پسندوں کی جان لیوا کارروائیوں کے نتائج بھگت رہی تھی۔ جن کو بوجوہ پہلے خوب پنپنے دیا گیا ۔ اور ریاست ان کے خلاف بھر پور کارروائی کرنے میں تذبذب کا شکار رہی۔ اور جس وقت تک ان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا اس وقت تک وہ ہزاروں پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلا چکے تھے اور پاکستانی معیشیت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ کے معرض وجود میں آنے سے پہلے بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ نسبتاً اعتدال پسند، درود و سلام اور میلاد کی محافل اور نور و بشر کی بحثوں تک محدود رہنے والے ہی سمجھے جاتے تھے۔ خادم رضوی صاحب کو جہاں نت نئی گالیوں کی ایجاد اور مخالفین کے خلاف بے محابہ مغلظات کے استعمال کا اعزاز حاصل ہے، وہیں اس عظیم مرد مجاہد نے سوئے ہوئے بریلوی مکتب فکر کے نوجوانوں میں ایسی مجاہدانہ روح پھونک دی ہے کہ اب وہ اس کے ایک اشارے پر سر پر پگڑ باندھ کر ، ایک ہاتھ میں ڈنڈا اور دوسرے ہاتھ میں پیٹرول کی بوتل لے کر کہیں بھی کسی بھی وقت معرکہ کارزار میں کود پڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

مولانا موصوف کی طبیعت میں اتنا جلال ہے کہ ان کی ایک للکار پر پورے پاکستان کو اپنا ایمان اور عشق رسول ان کے سامنے حلف لے کر ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کام میں ہماری حکومت کے سرکردہ افراد، اعلیٰ عدلیہ کے جج حضرات، اعلیٰ فوجی قیادت اور ملک کے نامور صحافی سب ایک ہی صف میں دست بستہ نظر آتے ہیں۔ پانی پت کی پہلی جنگ یعنی فیض آباد والے دھرنے میں کیونکہ ہارے ہوئے لشکر نے نہ صرف فاتحین کی ساری شرائط تسلیم کر لی تھیں بلکہ تاوان جنگ کے طور پر ہر لشکری کو زر نقد ادا کر کے اور ہاتھ جوڑ کر رخصت کیا تھا تو اس دوسرے معرکے میں فاتحین کے حوصلے بہت بلند تھے۔

اس بار جب مجاہدیں تلواریں سونت کر پیٹرول بکف میدان جنگ میں اترے تو مخالف فوج کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا۔ تین دن اس یکطرفہ لڑائی میں عاشقان نے جی بھر کر کفار کی ایجادات کو تہس نہس کیا۔ مال غنیمت کے طور پر کیلے اور مٹھائیاں اپنے قبضے میں لیں، گستاخ دکانداروں اور گاڑی مالکان کو خوب سبق سکھایا۔ تین دن بعد ہر طرف اسلام کا بول بالا تھا۔

اس بحران کے شروع میں وزیراعظم عمران خان ایک عدد دھواں دھار تقریر کرنے کے بعد اپنے فرائض سے سرخرو ہو گئے، اور ملک خادم رضوی اور اس کے لشکر کے حوالے کر کے چین روانہ ہو گئے۔ افضل قادری کی ججوں کو جان سے مارنے کی ترغیبات اور دیگر شر پسند بیانات پر اس کا نام لئے بغیر ہلکی سرزنش ہی کافی سمجھی گئی، اس کے اور تحریک لبیک کی دیگر اعلیٰ قیادت کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں کیا گیا۔ اور اس دوران ریاست خواب غفلت میں رہی۔ جب تک فسادی دنگا کرتے رہے۔ لوگوں کی گاڑیوں اور املاک کو آگ لگاتے رہے۔ کسی بھی جگہ پولیس اور دیگر فورسز نے انہیں روکنے کی ہلکی سی کوشش بھی نہیں کی۔ جب ریاست ہڑبڑا کر نیند سے اٹھی تو اس وقت تک ملکی معیشیت کو 150 ارب کا نقصان ہو چکا تھا۔ اور سینکڑوں لوگ اپنی املاک اور گاڑیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اس بار اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور ریاست کا ردعمل دیکھنے کے لئے شر پسندوں نے تبلیغی جماعت کے دو افراد کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ دیگر مواقع پر اعلیٰ عدلیہ نے کئی لوگوں کو عدلیہ اور ججوں کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر توہین عدالت کے جرم میں نہ صرف بلایا، بلکہ سزائیں بھی دی ہیں تو آخر مولانا خادم رضوی اور پیر افضل قادری کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ جس کی وجہ سے ریاست ان کی تمام تر شر پسندی اور کھلے عام دنگے فساد کی حمایت بلکہ سرپرستی کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ان کا نام آتے ہی ریاست کی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہیں۔ اور ان کو کوئی بھی کارروائی کرنے کی کھلی آزادی دے دی جاتی ہے۔

آج ہم اسی طرح کے ناسور کو کینسر بننے کا موقع دے رہے ہیں جس طرح کے ناسور کے ہاتھوں سانحہ اے پی ایس رونما ہوا۔ کئی اعلیٰ شخصیات کو اپنی جان کی قربانی دینا پڑی اور ملک کئی عشرے پیچھے چلا گیا۔ ان لوگوں کو آج اگر نہ روکا گیا تو کل یہ ملک کے لئے طالبان اور لشکر جھنگوی سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہوں گے۔ اس طرح کی شدت پسند تنظیموں کی الیکشن کمیشن کی رجسٹریشن نہ صرف منسوخ کرنا ہو گی بلکہ ان کے خلاف سخت کارروائی بھی وقت کی ضرورت ہے۔ فی الحال مولانا خادم حسین رضوی وہ ڈان بن چکے ہیں جس کو پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

Facebook Comments HS