لوز کریکٹر لڑکی اور جنسی ہراسانی کی ایک ڈھیلی تفتیش
میڈم نے دفتر جوائن کیا۔ بڑی سوہنی تھی اور اسے اس بات کا پتا بھی تھا۔ میں نے بھی پہلی فرصت میں اسے بتایا تو وہ کہنے لگی کہ مجھے اپنے سوہنے ہونے کا علم ہے۔ میں اس کی اس بے تکلفی اور آزاد خیالی پر خوش تو ہوا لیکن تھوڑا سا ڈر بھی گیا۔ بڑی منہ زور اور منہ پھٹ تھی۔ دل ہی دل میں اسے زیر کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں شادی سمیت سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھا۔
میں نے بڑے خلوص سے یہ بھی سوچا کہ اس بیچاری کو یقینا مالی مجبوری ہو گی کہ نوکری کے لیے اسلام آباد چھوڑ کر اتنی دور آ گئی ہے۔ اور شادی تو اس کی بہرحال نہیں ہو سکی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں وہ اور اس کے گھر والے بہت پریشان ہوں گے۔
خیر دفتر کی روٹین چل پڑی۔ دفتر میں دل لگا رہتا۔ ہم کام بھی کرتے اور انہیں گھورتے بھی رہتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے گنگنانا بھی آ گیا۔ میں خوش تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے اندر بھی لڈو پھوٹتے رہتے تھے۔ اچھا بتاتا چلوں کہ تھی وہ میری باس۔ اندر پھوٹنے والے لڈو چھپاتی رہی اور نخرے کرتی رہی۔ مجھے تو پھر نخرے اچھے لگتے ہی تھے۔
مجھے تھوڑے عرصے بعد لگا کہ وہ اپنی تعریف پر اتنی خوشی کا اظہار نہیں کرتی تھیں اور اصل میں اس کا شوق یہ تھا کہ میں ان کے کام کی تعریف کروں تو میں نے بھی پھر وہی شروع کر دیا۔ میں جب انہیں کہتا کہ آپ کی ورکنگ بڑی اچھی ہے اور وہ ایک قابل مینیجر ہیں تو وہ اس بات کو بھی نظرانداز ہی کرتی تھی۔
خیر صورتحال ہر روز پہلے سے بہتر ہو رہی تھی اور میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے آتے جاتے ذرا ان کے قریب سے گزرنا شروع کر دیا۔ فائل وغیرہ پکڑاتے ہاتھ کو بھی ٹچ کرنا شروع کر دیا۔ اس پر ان سے بھی کنٹرول تو نہیں ہوتا تھا لیکن وہ اپنے جذبات چھپانے کی ماہر نکلی۔ اور سچی بات ہے کہ ہماری غیرت مند اور شریف لڑکیاں ایسا ہی کرتی ہیں۔ اس سے تو میری پاک محبت اور بھی زیادہ ہو گئی۔ ایسی ہی لڑکی سے تو شادی کرنا چاہیے۔ اور شادی کی تو اسے اور اس کے گھر والوں کو اشد ضرورت اور خواہش بھی تھی۔ میرا مطلب ہے کہ تیس کے قریب تو وہ پہلے ہی تھی تو ایسے میں ایک کھاتے پیتے گھر کا اچھا رشتہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔
ایک دن صبح صبح میں دفتر پہنچا تو ناخوش اور غصے میں تھی۔ سارا دفتر تو ڈر جاتا تھا، لیکن میرا معاملہ اور تھا۔ میں نے سارے دفتر کو ڈرا ڈرا دیکھ کر گرم لوہے پر ضرب لگا ہی دی۔ میں نے کہا میڈم اگر آپ کو کوئی پرابلم ہے تو میں آپ کے ساتھ شادی کر سکتا ہوں۔ تھوڑی دیر تو اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔ اتنی اچانک خوشی کی انہیں امید نہ تھی۔ انہیں ہضم کرنے اور اپنے جذبات چھپانے میں تھوڑی دیر لگی۔
اب ان کی دلچسپی تھوڑی بڑھی اور اس نے اس کا اظہار بھی کیا۔ اس نے مجھے کمرے میں اکیلے بلا کر ایک لیکچر جھاڑا۔ بظاہر وہ مجھے یہ کہہ رہی تھی میرا رویہ جنسی ہراسانی میں آتا ہے۔ میں تو اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔ اس نے باقاعدہ جنسی ہراسانی کے قانون والا کتابچہ جو ہر این جی او کے دفتر میں ہوتا ہے میرے سامنے رکھ دیا اور اس میں سے جنسی ہراسانی کی تعریف نکال کر مجھے سمجھانے لگی۔ وہ گفتگو کافی سیکسی تھی اور مجھے اس کھلی گفتگو کا بڑا مزا آیا۔
اس نے خود اپنے منہ سے لفظ سیکسوئل کئی دفعہ ادا کیا۔ بڑا مزا آ رہا تھا جب کہ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے میں اس کی بات سمجھ ہی نہیں پا رہا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میڈم جس کو آپ ہراسمنٹ کہہ رہی ہیں یہ تو اصل میں محبت ہے۔ میں نے اپنی بات اس سے کھل کر کہہ دی لیکن وہ پھر بھی شادی سے مسلسل انکار کرتی رہی۔ ظاہر ہے اس نے تو شرم وغیرہ کی وجہ سے یہ انکار کرنا ہی تھا۔ اس کے بعد ادھر تو میں نے دفتر کے لوگوں میں اپنی محبت کا اعلان کر دیا اور اس نے ہیڈ آفس میں جنسی ہراسانی کی شکایت دفتر کی ایک سینیئر میڈم سے کر دی۔ اس میڈم کو بھی میری محبت کی سمجھ نہیں آئی اور لگیں مجھے سمجھانے بجھانے۔ خیر بات ٹھنڈی ہو گئی۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد میں نے محبت کا پروگرام دوبارہ چلا دیا۔
اب تو بات واقعی جنسی ہراسانی کمیٹی تک جا پہنچی۔ انہوں نے پھر مجھ سے بڑے سوال پوچھے۔ میں نے بھی خوب جواب دیے۔ میں نے کمیٹی کو بتایا کہ میں اس سے پیار تو نہیں کرتا لیکن مجھے اس کا کام پسند ہے اور دوسرا یہ کہ وہ لوز کریکٹر نہیں ہے ورنہ وہ میرے ساتھ بھی پھنس جاتی۔
کمیٹی نے پھر اسے سمجھایا۔ انہوں نے اسے بتایا کہ میرج پروپوزل تو کوئی ہراسمنٹ نہیں بلکہ لڑکی کو عزت دینے کے برابر ہے۔ اور اگر سو دفعہ انکار کے بعد بھی سو دفعہ میرج پروپوزل دی جائے تو یہ تو سو گنا عزت ہو گئی نا۔ کمیٹی نے اسے یہ بھی بتایا کہ یہ جو تم کہتی ہو کہ وہ فالو کرتا تھا، مسلسل میسج کرتا تھا، لوگوں کو بھی بتاتا تھا، یہ سب تو لڑکے کی محبت کی شدت تھی جو کسی بھی لڑکی کے لیے ایک نعمت ہے ہراسمنٹ نہیں۔
کمیٹی نے اسے یہ بھی بتایا کہ تم جیسی بولڈ، ووکل، سڑک پر کھڑے ہو کر عورتوں کے حقوق کے لیے نعرے لگانے والی، مردوں سے ہاتھ ملانے والی، اونچے اونچے قہقہے لگانی والی، راتوں کو دیر تک دفتر میں کام کرنے والی اور ہاسٹلوں میں رہنے والی لڑکی کو کوئی کیسے جنسی طور پر ہراس کر سکتا ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی اسے بتایا کہ بار بار انکار سے مرد کی عزت بھی تو مجروح ہوتی ہے، جو کہ بڑا ظلم ہے۔
پھر بات عدالت تک چلی گئی۔ عدالت نے مجھے کہا کہ کیوں ہراس کرتے رہے ہو تم اسے تو میں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ تو میری بہن ہے۔ لیکن عدالت نے اچھا نہیں کیا۔ انہوں نے میرے اس جواب کے باوجود فیصلہ میرے خلاف کر دیا۔


