ڈونگ ڈیانگ فونگ کی جنگ اب تک جاری ہے


”جینٹ مجھ سے محبت کرتی تھی۔ شدید محبت میں چار سال کا طویل عرصہ گزرا تھا اس کے ساتھ۔ ویت نام سے آنے کے بعد کالج میں بہت ساری لڑکیوں سے دوستی ہوئی، وہ میری زندگی میں خاموشی سے آئیں اور خاموشی سے ہی چلی گئیں۔ تھوڑے دنوں، ہفتوں، مہینوں کی دوستی۔ کوئی کنکشن نہیں بن سکا ان سے۔ کوئی طویل رفاقت نہیں ہوئی کسی سے مگر جینٹ کی بات اور تھی۔ وہ مجھے نیویارک میں ہی ملی۔ میری نئی نئی نوکری تھی اور میں بھی نیا نیا نیویارک میں آیا تھا وہ بھی اُسی کمپلیکس میں رہتی تھی جس میں میں نے اپارٹمنٹ لیا تھا۔

اس سے میری ملاقات سوئمنگ پول میں ہوئی تھی۔ پہلی ملاقات اور پھر سب کچھ کلک کرگیا ہم دونوں کے درمیان۔ پہلی ملاقات ہی محبت میں بدل گئی۔ وہ چار سال ہی میری زندگی کے چار شاندار سال تھے اور شادی کے بعد ویتنامی دلہن نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔ سب کچھ لٹا کر بھی جینٹ میرے ساتھ ہی تھی مگر اس دن وہ بھی چھن گیا مجھ سے۔ اس رات ہم دیر تک بات کرتے رہے وہ مجھے دلاسا دیتی رہی، سمجھاتی رہی، بتاتی رہی کہ اب مجھے دنیا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اب امریکہ میں وہ سب کچھ بھول جانا ہوگا جو ماضی کا حصّہ ہے، جو ماضی کی کہانی ہے۔ اس نے پیار سے مجھے تھپکیاں دی تھیں۔ میرے ماتھے کو چوما اور میں سوگیا لیکن رات کو یکایک میں جنگل میں تھا اپنے یونٹ کے ساتھ۔ جھاڑیوں میں آہستہ آہستہ رینگتا ہوا پانی، کیچڑ، دلدلی زمین پر۔ پھر یکایک فائرنگ شروع ہوگئی اور ہم سب زمین سے چپک کر رہ گئے۔ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے وہ چار تھے، ویتنامی چوہے۔ ہم نے ان چاروں کو پکڑ لیا۔

چاروں کو درختوں کے ساتھ ہاتھ پیر باندھ کر لٹکا دیا تھا ہم نے۔ وہ چاروں اُلٹے لٹکے رہے ننگے۔ ہم نے چاقوؤں سے ان کے اعضا کاٹ دیے۔ ان کا خون آہستہ آہستہ بہتا رہا۔ ان کے پیٹ اور ان کی پیٹھ پر چاقوؤں سے بنائی ہوئی لکیروں سے خون رستا رہا اور ہم لوگ ان کی چیخوں کو سنتے رہے، ہنستے رہے، بولتے رہے پھر وہ چاروں اُسی طرح سے مرگئے تھے۔ خون گررہا تھا ٹپ ٹپ ٹپ اور ایک ٹپ پر میری چیخ نکل گئی ایسی چیخ کہ میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ پسینے سے تر۔ نہ جانے میں کب تک چیختا رہا تھا۔

اسی صبح کو جینٹ مجھے چھوڑ گئی۔ کیسے رہ سکتی تھی۔ وہ بہت دن رہی میرے ساتھ۔ لڑتی رہی راتوں کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گولیوں کے بوچھاڑ میں چھپاتی رہی مجھے۔ ہیلی کاپٹروں کے شور میں سمجھاتی رہی مجھے۔ انجانی سمتوں سے آنیوالی گولیوں سے بچاتی رہی مجھے۔ کب تک ساتھ دیتی میرا ڈاکٹر، میری جنگ تو ختم ہی نہیں ہورہی تھی۔ میں کیا کرتا، میں کیا کروں“

وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا یہ جنگ تو ویت نام میں ختم ہوئی ہے۔ امریکہ میں تو لڑی ہی نہیں گئی۔ جنگ ویت نام میں شروع ہوئی اور ویت نام میں ہی ختم ہوگئی مگر امریکہ میں تو ابھی شروع ہوئی تھی ویت نام کی جنگ کے بعد۔ دس ہزار دنوں کی لڑائی کے بعد۔

میں نے بَڈ ہارٹی کو سمجھایا تھا کہ ایسا ہوتا ہے، ایسا ہورہا ہے بہت سارے فوجیوں کے ساتھ۔ جنگ ابھی تک ان کے ذہن و دماغ پر مسلط ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا سنڈروم ہے اور اس قسم کی جنگوں کے بعد یہ ہوتا ہے۔ پریشانی، ٹینشن، ڈپریشن، بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، راتوں کو نیند نہیں آنا، ایسا لگتا ہے کہ جیسے فوجی ایکشن جاری ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ بمباری شروع ہوگئی ہے اور مریض بستروں، دروازوں، الماریوں کے پیچھے چھپنے لگتا ہے۔

کبھی اسے ہیلی کاپٹروں اور بمباری کرنے والے جہازوں کی آواز آتی ہے اسے ایسا لگتا ہے جیسے دشمن اس کی نگرانی کررہا ہے۔ ایسا تو ہوتا ہے، میں نے اسے تفصیل سے بتایا تھا لیکن مریض کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اب میدانِ جنگ میں نہیں ہے۔ وہ واپس اپنے ملک میں آگیا ہے دوستوں کے درمیان یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ میں۔

”مجھے پتہ ہے ڈاکٹر کہ میں امریکہ میں ہوں، جنگ میں نہیں ہوں۔ جنگ ختم ہوچکی ہے لیکن یہی سب کچھ ہوتا ہے میرے ساتھ۔ پہلے کم ہوتا تھا، مگر اب بڑھ گیا ہے، وقفے وقفے سے۔ “ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا رکا اور پھر میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا تھا۔

”گرفتاری سے پہلے ہمارا یونٹ ڈونگ ڈیانگ فونگ کی بربادی میں شامل تھا ڈاکٹر۔ بڑی بھاری لڑائی تھی وہ۔ بڑی بے جگری سے لڑے ہم لوگ اور دشمن بھی بہت مضبوط تھا وہاں لیکن ہماری ہوائی فوج کی سرپرستی نے انہیں ٹکنے نہیں دیا، پھر شہر جلادیا تھا ہم لوگوں نے۔ کمیونسٹوں کو چن چن کر مارا تھا۔ گلی گلی میں، گھروں میں، بچے، بوڑھے جل کر مر گئے۔ عورتیں، لڑکیاں گھروں سے بھاگ گئیں اور نہ جانے کتنوں کو ہم لوگوں نے پامال کردیا۔

تم یہ کہتے ہو یہ جنگ ختم ہوگئی ہے۔ ڈونگ ڈیانگ فونگ تباہ ہوچکا ہے۔ کمیونسٹ مرچکے ہیں، دشمن پسپا ہوچکا ہے مگر یہ جنگ تو کل ہی رات لڑی ہے میں نے۔ رات پھر اپنے کمرے میں بستر کے اوپر سے اور کبھی بستر کے نیچے چھپ چھپ کر گولیوں کی بوچھاڑ میں لڑتا، بھڑتا رہا ہوں میں۔ اس جنگ نے مجھے پاگل کردیا ہے۔ میری نوکری چلی گئی ہے، جینٹ میری بیوی، میری دوست، میری ساتھی مجھے چھوڑ کر نہ جانے کہاں کھوگئی ہے سب کچھ لٹ گیا ہے میرا کیا رہ گیا ہے میرے پاس۔ مستقل ڈپریشن اور تمہاری دی ہوئی گولیاں۔ “

یہ کہہ کر اس نے جیسے اپنے بازوؤں میں اپنا مُنہ چھپالیا مجھے ایسا لگا جیسے آہستہ آہستہ رو رہا ہے۔ میں بھی خاموش رہا کہ وہ اسی طرح سے تھوڑی دیر رو لے تو بہتر ہے۔

تھوڑی دیر میں اس نے سر اُٹھا کر مجھے دیکھا تھا اُس کی دونوں آنکھوں سے آنسو رس رہے تھے۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ کہا: ”ڈونگ ڈیانگ فونگ کی جنگ تو ہم لوگ وہاں جیت گئے ڈاکٹر لیکن، یہاں امریکہ میں ڈونگ ڈیانگ فونگ جاری ہے۔ وہاں سے تو میں بچ کر آگیا۔ جان بھی بچ گئی اور ہاتھ، پیر بھی نہیں کٹے، لیکن اس اندر کی ڈونگ ڈیانگ فونگ میں، میں روز مر رہا ہوں، روز میرا ہاتھ کٹتا ہے، پیر کٹتا ہے اور انگلیاں کاٹ کاٹ کر پھینکی جاتی ہیں یہ امریکی ڈونگ ڈیانگ فونگ ہم سب کو مار دے گا ڈاکٹر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مار دے گا، ختم کردے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیشہ کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2