ڈونگ ڈیانگ فونگ کی جنگ اب تک جاری ہے


”میں ویت نام کی جنگ سے بھاگا نہیں تھا۔ آخرتک لڑتا رہا، یہاں تک کہ جنگ ختم ہوگئی ویت کا نگ فوجیوں نے ہمیں گھیرلیا اور گرفتار کرلیا۔ کاش اس وقت ہی مجھے گولی مار دیتے، جان لے لیتے۔ کسی بھی طریقے سے، بغیر مقدمہ چلائے ہوئے یا مقدمہ چلاکرگولی مارنا کیا مشکل ہوتا ہے۔ کتنوں ہی کو مارا ہوگا انہوں نے، جیسے ہم نے مارا تھا لوگوں کو، فوجیوں کو، نہتے شہریوں کو، عورتوں کو، بچوں کو مگر میں بچ گیا۔ نہیں مارا ان لوگوں نے۔ “

یہ کہہ کر بَڈ ہارٹی نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس کے چہرے سے درد پسیج پسیج کر آہستہ آہستہ دھیرے دھیرے آنسوؤں کی طرح بہہ رہا ہے۔

وہ میرا مستقل مریض تھا۔ گزشتہ دو سالوں سے وہ میرے پاس آرہا تھا۔ آج پھر وہ آیا تھا۔ اپنے طے شدہ وقت پر۔ اسے میں ہمیشہ آخر میں دیکھتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ اسے وقت دینا ہوگا۔ وہ مستقل طور پر ٹینشن اور گھبراہٹ کا شکار رہتا تھا۔

”ویت نام کے جنگ کے خاتمے کے بعد میں ٹھیک تھا ڈاکٹر، بالکل ٹھیک تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو میں ہیرو کی طرح واپس آیا۔ فوج سے اتنے پیسے ملے کہ میں نے دوبارہ کالج کی پڑھائی شروع کردی۔ ڈگری لینے کے بعد ہی ایڈمنسٹریشن کا کورس کرکے نیویارک میں بڑی اچھی جگہ پر کام شروع کردیا تھا میں نے۔ “ آج اس نے اپنے بارے میں اس طرح بتانا شروع کیا تھا۔

”لیکن تم نے مجھے یہ پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ تم ویت نام کی جنگ لڑکر آئے ہو؟ “ میں نے تعجب سے پوچھا۔

”ضرورت نہیں سمجھی تھی میں نے۔ پھر ڈپریشن کا جنگ سے کیا تعلق ہے۔ تم نے جو دوائیں دی تھیں میں اس سے صحیح ہوگیا تھا، بالکل ٹھیک ٹھاک۔ “
وہ صحیح نہیں ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھیک ٹھاک نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ خرابی کی ہی طرف چلتا گیا تھا۔ دواؤں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اس کی طبیعت میں سدھار نہیں آیا بلکہ بگاڑ ہی ہوتی رہی۔ پھر بَڈ ہارٹی نے نوکری چھوڑدی تھی۔

ویت نام کی جنگ سے واپس آئے ہوئے بہت سارے فوجی میرے مریض تھے عام سپاہی سے لے کر بڑے افسر تک۔ بہت سارے فوجی جو وہاں گئے اور لڑے اور مرگئے، ان کے خاندانوں کی کہانی اور ہے لیکن جو لڑے زخمی ہوئے قید ہوئے رہا ہوئے اور واپس آگئے ان میں سے کئی امریکی زندگی میں پھر کبھی اسی طرح سے شامل نہیں ہوسکے جیسے پہلے تھے۔ ان کی زندگی شاید کہیں تھم گئی تھی ایک خاص محور پر رک گئی تھی۔ وہ اس دوڑ سے نکل گئے تھے جو ایک عام امریکی کی دوڑ ہے۔ روز مرہ کی دوڑ، امریکی خواب کی دوڑ۔

بَڈ ہارٹی الاباما کا رہنے والا تھا۔ متوسط طبقے کے خاندان کا اور بہت سارے امریکیوں جیسا عام امریکی۔

اس زمانے میں ہر ایک کو فوجی خدمات کے لیے جانا پڑرہا تھا۔ صرف وہی لوگ بچ سکے تھے جو صحت کی خرابی کی بناء فوجی خدمات کے قابل ہی نہیں تھے یا پھر اپنے تعلقات کی وجہ سے کسی ایسی فوجی ڈیوٹی پر چلے گئے تھے جس کے لیے امریکہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔

”جنگ انسان کو بدل دیتی ہے ڈاکٹر۔ “ اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ”اچھا خاصا آدمی جو انسانیت، محبت، برداشت کی طاقتوں سے مسلح ہوتا ہے وہ ان سارے ہتھیاروں سے محروم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں دوسرے ہتھیار آجاتے ہیں، مرنے مارنے والے۔ وہ انسان سے حیوان بن جاتا ہے۔ اس کی محبت نفرتوں کی جگہ لے لیتی ہے۔ اور اس کی نگاہیں صرف دشمن کو تلاش کرتی ہیں اس کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے ہیں اور و ہ جنگ کے نام پر سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوتا ہے۔ قتل، تشدد، عورتوں کی پامالی، قوموں کی تذلیل نہ جانے کیا کیا کچھ۔ “

اس نے پھر اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ اس کے پپوٹے پھڑک رہے تھے اورآنکھوں کے دونوں کناروں سے آنسو چھلک رہے تھے اور چہرہ ایک بار پھر اداس ہوگیا تھا۔

”مجھے سب کچھ تفصیل سے بتاؤ، بالکل شروع سے۔ پہلے دن سے کچھ چھپائے بغیر۔ یہ پریشانی شروع کب ہوئی، کیسے ہوئی، تب ہی میں تمہیں صحیح دوائیں لکھ سکوں گا۔ یہ ضروری ہے بڈ کے مجھے سب پتہ ہو۔ “ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”یہ سب کچھ میری شادی والے دن شروع ہوا، ڈاکٹر۔ شادی والے دن۔ چار سال سے جینٹ میری گرل فرینڈ تھی۔ پھر ہم نے شادی کا فیصلہ کیا اور ہماری شادی بھی ہوگئی۔ لیکن اس رات ڈنر کے بعد شادی کی پہلی رات مجھے ایک اور شادی یاد آگئی پھر میرا کچھ نہیں رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں ہے ایسا کیوں ہوا میں اور جینٹ تین سال سے ساتھ رہ رہے تھے، بہت اچھے تعلقات تھے ہمارے۔ بہت خوش تھے ہم لوگ، پر اس دن شادی کی پہلی رات ہوٹل کے اس ہنی مون سوئٹ میں سب کچھ بھسم ہوگیا جیسے وہ لوگ بھسم ہوگئے تھے۔ سالوں پہلے ویت نام میں۔ مجھے وہ سب کچھ یاد آگیا تھا اس ویت نامی کو دیکھ کر جو اس ہوٹل میں بیرا تھا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا وہی ویت نامی شکل صورت، چھوٹا قد، پتلے پتلے ہونٹ، ویسی ہی چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور گول سا چہرہ، سینے کے بیج پر لکھا ہوا عام ساویت نامی نام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نگویان وان ترائے۔

پھر کمرے میں جاتے جاتے میرے دماغ میں جیسے دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے ساتھ روشنیوں کے جھماکے تھے جنہوں نے میرے پورے وجود کو جیسے دہلاکے رکھ دیا پھر مجھے وہ ویت نامی دلہن یاد آرہی تھی، جسے میں نے، ٹام نے، جیک نے، جان نے، ول پٹ نے باری باری ریپ کیا تھا یہاں تک کہ وہ مرگئی تھی“

”کہاں ہوا تھا یہ سب کچھ اور کیسے؟ یہ تو فوجی ڈسپلن کے خلاف ہے، “ میں نے سوال کیا۔

” تم صحیح کہہ رہے ہو۔ “ اس نے جیسے سرگوشی کی تھی، ”مگر اس دن ہمیں ہماری انٹیلی جنس نے خبر دی تھی کہ اس گاؤں میں شادی کی تقریب ہے اور اس تقریب میں ویت نامی گوریلا لیڈر جمع ہوکر میٹنگ بھی کررہے ہیں۔ ویت نامیوں نے ہمیں پریشان کردیا تھا نہ ان کے پاس ایٹم بم تھا نہ ہی نیپام بم، نہ ہی کمیونیکیشن کے لیے وہ سب کچھ جو ہمارے پاس تھا اور نہ ہی وہ فائٹربمبار تھے جو ہمارے پاس تھے۔ دبلے پتلے فاقہ زدہ بھوکے چوہوں جیسے ویت نامیوں نے شیر جیسے امریکہ کی کمر توڑ دی تھی اور گھٹنے ٹکا دیے تھے۔ “

”جنگ کا عجیب طریقہ تھا ان کا۔ شہروں، گاؤں، دیہاتوں، قصبوں، کھیتوں، کھلیانوں جنگل، ندی نالوں میں جہاں بھی ہم جاتے ہمارا نقصان ہوتا۔ کدو کے کھیت میں اور تربوزوں کے اندر بھی بم لگایا ہوا تھا انہوں نے۔ اس صبح بھی سات ہمارے ساتھی مارے گئے تھے۔ شام کو وہ پورا گاؤں جلادیا تھا ہم لوگوں نے۔ ایک ایک آدمی قتل ہوگیا تھا جو بچ گیا وہ بھاگ گیا ہوگا۔ جو بھی لڑکیاں تھیں دلہن سمیت ہر ایک کو پامال کیا ہم لوگوں نے، ڈسپلن کے خلاف لیکن اسٹرٹیجی کے ساتھ۔ یہی حکم تھا دشمن کو دہشت زدہ کردو۔ اس دن ہم سب حیوان ہوگئے پھر ہم حیوان ہی رہے جب تک ویت نام میں رہے۔“

اس شادی کی رات کو ویتنامی، مری ہوئی، پامال کی ہوئی دلہن میرے اور جینٹ کے درمیان آگئی پھر جا نہیں سکی۔ میرے اور جینٹ کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ انہی دنوں میں تمہارے پاس آیا تھا ڈپریشن کی شکایت لے کر۔ تمہاری دواؤں سے میں ٹھیک ہوگیا تھا۔ تھوڑے دنوں کے لیے مگر پھر وہ مجھے چھوڑ گئی۔ “ یہ کہہ کر وہ خاموشی سے آہستہ آہستہ گھومنے والے پنکھے کو گھورنے لگا تھا۔

”کیوں کیا کوئی نئی بات ہوگئی تھی۔ “ میں نے اسے ٹوکا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں