سرکاری جشنِ میلاد النبیؐ
منادی ہوئی ہے کہ امسال جشنِ میلاد النبیؐ سرکاری سطح پر منایا جائے گا۔ اس سے قبل وُزرائے اعظم اور صدور ذاتی حیثیت میں اپنی رہائش گاہ یا کسی اور موزوں مقام پر اس دن کی مناسبت سے محافل کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ لیکن، طالب علم کے محدود عِلم کے مطابق، سرکاری سطح پر ایسا پہلی مرتبہ ہونے جا رہا ہے۔ دنیا کے اُنچاس اسلامی ممالک میں یہ سعادت حاصل کرنے والا پاکستان پہلا ملک، اور جناب عمران خان پہلے وزیراعظم ہونے جا رہے ہیں۔
میں اور میرے والدین فدا اس مبارک گھڑی پر، جس میں خاتمؐ الانبیاء کا ظہور اس فانی دنیا میں ہوا۔ لیکن کُچھ سوال ذہن میں کلبلا رہے ہیں۔ کیا وزیراعظم صاحب نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ اُن کا اپنا عقیدہ سرکارؐ کے ظہور کی خوشی اِس طرح منانے کا متقاضی ہے؟
میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ وزیراعظم صاحب کو بخوبی عِلم ہو گا کہ مسلمانوں ہی کا ایک مکتب فکر سِرے سے میلاد النبیؐ منانا ایک بدعت اور نادرست عمل سمجھتا ہے۔ وزیراعظم صاحب اپنے عقیدے کی تشہیر سے اُن کی دل آزاری کیوں کریں گے؟ مزید یہ کہ وزیراعظم صاحب یہ سوچ بھی رکھتے ہوں گے کہ اگر کل کسی اور پارٹی کی حکومت آ گئی اور اُس وقت کے وزیراعظم نے اِس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے عقیدہ کے مطابق عزاداری امام حسین ؓ یا کسی اور مذہبی اجتماع کو سرکاری سطح پر منانے کا فیصلہ کیا تو مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی ایک اور پہچان اُن کی قیادت کا مسلک بن جائے گی۔ اور وزیراعظم صاحب مسلکی بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کی تقسیم ہرگز نہیں چاہتے ہوں گے۔
تو کیا وزیراعظم نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ مُلک کی اکثریتی آبادی کے مذہب کا ایک مکتبہ فکر بہت ذوق و شوق سے یہ مبارک یوم مناتا ہے، لہٰذا اُن کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے سرکاری سطح پر میلاد النبیؐ منایا جائے؟ اگر ایسا ہے تو طالب علم کی رائے میں یہ بہت ہی اچھا فیصلہ ہے۔
مجھے یقین ہے کہ پھر محرم الحرام میں امام عالی مقامؓ کی عزاداری بھی سرکاری سطح پر ہی ہو گی۔ یوم عاشور کا مرکزی جلوس وزیراعظم ہاؤس سے برآمد ہو گا، پارلیمان کے سامنے سے گزرتا ہوا بنی گالا میں اختتام پذیر ہو گا۔
پھر وزیراعظم صاحب مسلمانوں کے ایک اور مکتبہ فکر کے بین الاقوامی شہرت یافتہ مذہبی اجتماعات کو بھی سرکاری کانفرنسوں کا درجہ دیں گے۔ جس میں نہ صرف خود شرکت فرمائیں گے بلکہ مُسلم ممالک کے مندوبین کو بھی مدعو کریں گے۔ یہی نہیں بلکہ وزیراعظم صاحب خود سہ روزہ تبلیغی دورے پر گلی گلی خود تشریف لے جائیں گے۔ وفاقی اور صوبائی کابیناؤں کے اراکین بھی اپنے پورٹ فولیو کے حساب سے سہ روزہ، دس روزہ یا چالیس روزہ تبلیغی دورہ ریاستی پالیسی کے طور پر مکمل کریں گے۔
یہاں ہی بس نہیں بلکہ ایک اور مکتبہ فکر کے زیرِ اہتمام مساجد اور دینی مراکز میں ہر شبِ جمعہ کو ہونے والا اجتماع بھی وزیراعظم صاحب ریاستی سرپرستی میں لے لیں گے۔ ان روح پرور محافل میں شرکت ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور اعلیٰ پولیس افسر کے فرائض میں شامل ہو گی۔
چونکہ پاکستان میں غیر مُسلم اقلیتیں بھی آباد ہیں تو وزیر اعظم صاحب اُن کے مذہبی تہواروں کی تواریخ بھی اپنے آفس کیلنڈر پر نشان زدہ کریں گے۔ اور ایسٹر، کرسمس، جنم دن بابا گرونانک اور پنجہ صاحب، ہولی، اور دیوالی کے دِن محض ایک ٹویٹ کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوں گے بلکہ اقلیتوں کے یہ سارے مذہبی تہوار سرکاری سطح پر منائے جائیں گے۔ اور اس طرح سے پاکستان بھرپور طریقے سے ایک مذہبی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا جس میں ریاست کو ہر شہری کے مذہب اور عقیدہ سے خصوصی دلچسپی ہو گی۔
لیکن، وزیراعظم صاحب، اگر ایسا نہ ہو پایا اور یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر آپ جشنِ میلاد النبیؐ سرکاری سطح پر کیوں منا رہے ہیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مظاہرے کرنے والے کچھ فسادیوں کی طرف سے آپ اور آپ کی حکومت کے بارے میں اسلام دُشمنی کا جو تاثر دیا گیا، اسے کم کرنے کے لیے یہ کوشش کی جا رہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ سرکاری میلاد منا کر سراپا رحمت نبیؐ سے اپنی محبت ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنے ایمان کی گواہی دینے کے لئے ریاست کو ایک خاص مذہبی رنگ دے رہے ہیں؟
وزیراعظم صاحب چند دہائیاں قبل بھی ہمارے اوپر ایسی سوچ رکھنے والے ایک حکمران آئے تھے۔ اُنہوں نے بھی ریاست کو ایک خاص مذہبی رنگ دیا تھا۔ وہ رنگ اتنا چوکھا چڑھا کہ اُسے اُتارتے اُتارتے ہم ہزاروں شہریوں کی جانیں اِرزاں ہو گئیں۔
بہرحال، وزیراعظم صاحب، آپ فیصلہ فرما چکے ہیں۔ ہو گا تو وہی جو آپ چاہیں گے لیکن اس کوتاہ فہم طالب علم کی رائے یہی ہے کہ جو آپ کو ”یہودی بچہ“ اور ”یہودی ایجنٹ“ کہتے ہیں، وہ اس ربیع الاول کے بعد بھی یہی کہیں گے۔ قتل کے فتوے صادر کرنے والی فیکٹریاں اس طرح سے اپنی پروڈکشن بند نہیں کریں گی۔ جو سیاسی مخالف اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کے آسیہ بی بی کی بریت کو آپ کی ایک اقلیتی وفد سے ملاقات سے جوڑتا ہے، اُس کا بیانیہ تبدیل نہیں ہو گا۔
لیکن یہ ضرور ہو جائے گا کہ آپ کے بعد آنے والی حکومتوں کو اپنے ایمان اور عشقِ رسولؐ کی گواہی دینے کے لئے کم از کم بارہ ربیع الاول سرکاری سطح پر منانا پڑے گا۔
اہلِ علم و دانش سے سوال ہے کہ کیا کوئی ایسا اسباب ہو سکتا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں شہریوں کی جان و املاک کے تحفظ، معیشت کی بحالی، تعلیم و صحت، اور دیگر خالصتاً انتظامی امور پر ہی مرکوز رکھے، اور شہریوں کے مذہب اور مذہبی تہواروں کو اُن کی ذاتی زندگی کا حصہ سمجھ لے؟


