حکیم الیونین کونسل حلوی نے اقبال کو ایڈٹ کر دیا

ہشت پہلو شخصیت علامہ حکیم حلویؔ نامراد آبادی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ چھوٹے بڑے چار دیہات پر مشتمل ہماری پوری یونین کونسل میں ان جیسا ماہر طب، باکمال شاعر، زود فہم دانشور اور نامور محقق پیدا نہیں ہوا۔ آپ نے میدانِ علم و ادب میں اپنا جو مقام مقرر کر رکھا ہے، اسے اندیشۂ نقصِ امن کے پیش نظر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس حقیقت سے پردہ اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ آپ برسہا برس سے علم و حکمت کے رنگ برنگے قمقمے فروزاں کرنے کے علاوہ علاقہ سے بیماری، برائی، جہالت اور حلوے کے خاتمے کے لیے بھی مصروف عمل ہیں۔ بد قسمتی سے اولین تینوں ”میگا پراجیکٹس‘‘ میں تو انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی؛ البتہ غمی خوشی اور عید‘ بقر عید کے مواقع پر آپ بہ نفسِ نفیس گھر گھر جا کر کئی مرتبہ حلوے کا خاتمہ کر چکے ہیں۔ ان کا ایک لافانی شعر زبان زدعام ہے کہ: حلوہ ہوتا ہے حلویؔ کے لئے/ یہ مناسب نہیں ہر کسی کے لئے۔

اندر حدود یونین کونسل ہٰذا، علامہ حکیم حلویؔ نامراد آبادی نے میدانِ طب میں برسوں بلا شرکتِ ایرے غیرے حکمرانی کر کے چار قبرستان آباد کیے ہیں؛ تاہم اب ڈاکٹروں کی فراوانی نے ان کے پیشے اور عزت نفس کو زک پہنچائی ہے تو آپ نے خود کو علم و ادب اور فکرِ اقبال ؔ کے فروغ کے لئے وقف کر دیا ہے۔ علامہ حلویؔ کی علمی شہرت اب کسی خطرناک وائرس کی طرح یونین کونسل کی سرحدیں پھلانگ کر قریبی دیہات کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اگر شہرت ہٰذا نے اسی رفتار سے اپنا سفر جاری رکھا تو کچھ عجب نہیں کہ پورا ملک اس کی زد میں آ جائے، جیسے وہ سموگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔

اگرچہ حکیم الیونین کونسل اپنے تجربے اور باطنی علوم کے مقابلے میں دنیاوی علوم کو کوئی خاص اہمیت دینے پر تیار نہیں، پھر بھی اپنی روایتی منکسرالمزاجی کی بدولت آپ کا فرمان ہے کہ انہوں نے اپنے بچپن میں باقاعدہ سکول جا کر لگ بھگ ساڑھے تین جماعتیں پڑھی ہیں مگر بد قسمتی سے سکول کا ریکارڈ اس دعوے کی تصدیق کر نے سے قاصر ہے۔

بنیادی طور پر علامہ حلویؔ کی ساری زندگی ”عشقِ اقبالؔ‘‘ اور ”عشقِ حلوہ‘‘ کے گرد گھومتی ہے۔ آپ نے جہاں اپنی دانشِ بے کراں کی بدولت فکرِ اقبال کو نئی نئی جہات سے روشناس کرایا ہے، وہاں اپنے شکمِ لا محدود کے طفیل بے شمار مرتبہ حلوے کو سبق بھی سکھایا ہے۔ علامہ اپنے نظریات، افکار اور عقائد پر کسی مضبوط چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر حکیم حلویؔ اپنے اس آبائی نظریے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے؛ البتہ حالات و واقعات کی روشنی میں انہوں نے ارضِ پاک کی حد تک اپنے نظریے میں اتنی ترمیم ضرور کی ہے کہ اسے ایک نہیں، بلکہ کئی بیلوں نے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے۔ علامہ نے اپنی ذاتی دانش اور گہرے غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ ان بیلوں کا جذبہ جنوں انہیں بار بار سینگ بدلنے پر مجبور کرتا ہے، تاکہ کوئی نہ کوئی ”زلزلہ‘‘ برپا رہے اور اہل ایمان غفلت یا آرام کی نیند سو نہ جائیں۔

علامہ حکیم حلویؔ نامراد آبادی کو اقبالیات سے ویسی ہی رغبت ہے، جیسی کسی کو بھی اپنی پسندیدہ چیز سے ہوتی ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ہماری سیاسی، روحانی اور فکری رہنمائی کرنے والوں کی بھاری اکثریت فکرِ اقبال سے بے بہرہ ہے؛ چنانچہ قحط الرجال کے اس عالم میں آپ نے اپنی قومی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے نئے سرے سے افکارِ اقبال کی ترویج و ترقی کے لئے کمر کس لی ہے۔ آپ نے اس میدان میں کثیر سمتی پیش قدمی کرتے ہوئے جہاں کلام اقبال ؔ کی ہوشربا تعبیر و تشریح کا فریضہ انجام دیا ہے، وہاں اس کلام میں مناسب قطع و برید اور اصلاح کے ذریعے اسے جدید دور سے ہم آہنگ بھی کیا ہے۔

علامہ کو یقین کی حد تک شک ہے کہ یورپ کے تیز رَندوں اور ان کے طفیلیوں نے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر اقبال ؔکے کلام میں شر انگیز تبدیلیاں کی ہیں۔ آپ نے کلیات اقبال کے اس غالب حصے پر سرخ قلم سے نشان لگا رکھے ہیں، جہاں اقبال ؔ نے ملوکیت اور ملائیت کے تاریخی گٹھ جوڑ کی مذمت کی ہے۔ قبلہ حکیم صاحب کے خیال میں کلام اقبال کا یہ حصہ خاصا مشکوک ہے، جہاں فرنگیوں نے اپنا باریک کام دکھایا ہے۔ کئی اشعار میں مختلف الفاظ قلم زن فرما کر آپ نے اس خوبی سے ان کی صحت کی ہے، جس سے فکرِ اقبال ؔ واضح طور پر ملوکیت نواز نظر آتی ہے۔ کئی اشعار کو تو علامہ نے مکمل طور پر کاٹ کر خارج از کلامِ اقبال فرما دیئے ہیں۔ جیسے:

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کے بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرہ۔

اقبالؔ کی اس سوچ کے مظہر اشعار اور مصرعوں کی ایک طویل فہرست ہے، جسے علامہ حلویؔ کی بے کراں دانش نے سند قبولیت نہیں بخشی۔ جیسے: دین کافر فکر و تدبیر جہاد/ دین مُلا فی سبیل اللہ فساد: خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں/ ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق: میں جانتا ہوں انجام اس کا/ جس معرکے میں مُلا ہوں غازی: اور: ملا کی شریعت میں فقط مستیٔ گفتار وغیرہ وغیرہ۔

البتہ وہ کلیات اقبال ؔ کے ایسے اشعار پر بھڑک اٹھتے ہیں اور ان کی تشریح کرتے ہوئے ان کی بریکیں فیل ہو جاتی ہیں کہ: اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں/ نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے: یا : خیر ہے سلطانیٔ جمہور کا غوغا کہ شر/ تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر: ایسے مواقع پر علامہ حلویؔ ملکۂ جذبات بن کر سامنے آتے ہیں اور گندے انڈوں کے علاوہ جہان و جمہوریت کے ایسے ایسے ہولناک فتنوں سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ خود اقبال ؔ بھی سن لیتے تو پریشان ہو جاتے۔ علامہ کا علمی فن اس مقام پر اپنی معراج کو چھوتا نظر آتا ہے کہ جہاں وہ کلامِ اقبالؔ سے شخصی آزادیوں اور سائنس و ٹیکنالوجی کی مذمت اور حلوے اور مطلق العنانیت کی ثنا برآمد فرماتے ہیں۔ حکیم الیونین کونسل کو حکیم الامت کا ایک شعر ”اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل/ لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے‘‘ اتنا پسند ہے کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں ”کبھی کبھی‘‘ کو ”ہمیشہ‘‘ سے بدل رکھا ہے۔

ان دنوں حکیم الیونین کونسل، حکیم الامت کے 141ویں یوم ولادت پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کلام اقبال کا از سرِ نو تحقیقی جائزہ لے کر اس سے یہ حکمت کشید کرنے میں مصروف ہیں کہ اقبال نے جس آزاد ریاست (اسے مادر پدر آزاد ریاست نہ پڑھا جائے) کا خواب دیکھا تھا، اس میں توڑ پھوڑ، شاہراہوں کی بندش اوردھرنوں کے زور پر اپنے مطالبات منوانا روا ہے۔ المختصر! اس پُر آشوب دور میں علامہ حکیم حلویؔ نامراد آبادی جیسی ہستیاں غنیمت ہیں، جو ہماری نظریاتی اساس پر سیکولر اور جمہوری یلغار کے آگے کسی دیوہیکل کنٹینر کی مانند ایستادہ ہیں۔ آپ سوچ پروف حلقہ کے نمائندہ ہیں، جن کے نظریاتِ اولیٰ کی چھپر چھائوں تلے ہم اس آس میں زندگی گزار رہے ہیں کہ اللہ نے چاہا تو ایک دن ان کی تعلیمات کی بدولت ہم مہذب قوم کہلائیں گے۔ علامہ کی بد دعائیں ثمر بار ہوں گی، دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں گے اور ہم بغیر ہاتھ پائوں ہلائے دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words