انقلاباتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ پچھلی دہائی کا ذکر ہے۔ نیا میلینئم، نئی صدی کا آغاز، بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، ایم اے انگلش کی کلاس کا پہلا دن، ڈاکٹر شیریں کی انگریزی، ڈاکٹر فاسٹس (Dr Faustus) کے کورس، سینئرز کی ریگنگ اور کرکٹ کے میڈیم سائز بیٹ جتنا موبائل فون۔ ہمارے لئے یہ سب کُچھ ہی نیا اور عجیب تھا اور سچ پوچھئے تو اتنی ساری لڑکیوں کو نقاب کے بغیر بھی ہم نے پہلی بار دیکھا تھا۔ جمبو سائز موبائل ہاتھ میں لئے مُدثّر سے ہم نے رشک آمیز لہجے میں سوال کیا ”یہ موبائل فون ہی ہے نا“ تفاخر سے لبریز جواب ”جی ہاں“۔

عمر ہال کے اکلوتے لینڈ لائن نمبر کو ہمیشہ مصروف پا کر سگنل کی اُمید میں فرسٹ فلور پر موجود ہمارے کمرے میں آئے راجہ اندر سے ہم نے ایک دِن سوال کیا، اِس پر لیّہ سے بھی کال آ جاتی ہے؟ جی نہیں، صرف یونیورسٹی کی حدود میں ہی کام کرتا ہے۔

وہ دِن اور آج کا دن موبائل فون نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ ٹیکنالوجی کا یہ طوفان ہماری ساری فصل اُڑا کر لے گیا، راوی کی پُلوں سے تو نامعلوم کبھی کوئی پانی گُزرا یا نہیں، پر مادی ترقیات کا یہ زہر ہمارے سماج کی ساری قدریں چاٹ گیا۔ آپ مقابلہ کر لیجیے، جرمنی کو یہودیوں کے ہاتھوں پہنچنے والا نُقصان ایک طرف اور ہماری نسلِ نو کے شجرِ سایہ دار کو چاٹنے والی یہ آکاس بیل ایک طرف۔

اگر آپ کو کبھی ہوسٹل میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے تو پھر آپ بہت سے چشم کُشا مناظر کے عینی شاہد بھی ہوں گے۔ کالج یا یونیورسٹی کے کونے کھُدروں میں آپ کو دو طرح کی مخلوق نظر آئے گی، یا تو کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض یا پھر کان سے ہینڈ فری لگائے دھیمی آواز میں بات کرتے طلباء جو نامعلوم آپس میں علمی نُکات پر بحث کر رہے ہوتے یا دورِ جدید کے ”مجنوں کی ڈائری“ اور ”لیلیٰ کے خطوط“ مُرتب کرنے کا سامان۔

پھر موبائل فون نے مسابقت کی منزلیں طے کرنا شروع کیں تو ایک سے بڑھ کر ایک پیکج، کبھی پیغام رسانی مفت ہوئی تو کبھی بیلنس لوڈ کرنے پر اضافی بیلنس کی خوشخبری، لیٹ نائیٹ آفرز سے ابھی نسلِ نو کے اخلاق وکردار پہ ہوئے اثرات کا مطالعہ جاری تھا کہ بقول شاعر:

رات تو رات ہم دِن کو بھی جلاتے ہیں چراغ

مفت کالز سے ہمارے خون پسینے کی کمائی سے جلتے چراغوں کا یہ سلسلہ تھما نہیں تھا کہ تین چار جی کی نیٹ آفرز نے جینے کو نئی جہت عطا فرما دی۔ موبائل فون آپریٹرز کی دریا دلی پہ صدقے جائیے۔

پھر فیشن کی جگہ ضرورت نے لی تو کیا مزدور، کیا کسان، کیا نوکر اور کیا مالک:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

کوڑا کرکٹ کی ریڑھی لے جاتے ہوئے ”ایک چکر ڈال آیا ہوں، دوسرا چکر ڈالنے جا رہا ہوں“ کا بآوازِ بلند پیغام پہنچاتے خاکروب کو تو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ گھر میں کھانا نہیں پکا تو کوئی بات نہیں کل کھا لیں گے، موبائل کارڈ لینے کے پیسے تو ہیں نا۔ اور اگر موبائل کارڈ لینے کے ہیسے بھی نہیں تو پھر کیا ہے، ایزی لوڈ جو ہے، آخر آپ کی جیب میں پڑے آخری تیس چالیس روپے کِس کام آئیں گے؟ اور اگر جیب بھی مفلس کی قبا کی طرح خالی ہے تو پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں، اپنے پہلے سے ہوئے میسیج پیکیج کو کام میں لائیے اور ”میرا نام صبا ہے، میں ہسپتال میں ہوں، بڑی مصیبت میں ہوں، اللہ کے نام پہ پچاس روپے کا ایزی لوڈ کروا دیں، واپس کر دوں گی“ قسم کا میسیج لکھیے اور دو تین سو نامعلوم لوگوں کو فارورڈ کر دیجئے اور پھر رحم دل عوام کی سخاوت کا کرشمہ دیکھیے۔ لیں جناب آپ کا مسئلہ تو حل ہوا، اب ہفتہ آرام سے نکل جائے گا۔

موبائل فون کا ایک اور کمال تو شاید ابھی آپ کے مُشاہدے میں ہی نہیں آیا۔ آپ کے پاس گھر نہیں، گاڑی نہیں، پلاٹ نہیں یا پانچ دس لاکھ روپے کا بینک بیلنس نہیں تو پریشانی کیسی؟ موبائل فون جو ہے، بس کِسی دن آپ کے موبائل فون کی سکرین پر ایک نیا نمبر جگمگائے گا اور ایک شائستہ سی نسوانی آواز آپ سے مُخاطب ہوکر کہے گی ”آپ شاہد صاحب بات کر رہے ہیں نا؟ “ مبارک ہو آپ کا گھر، گاڑی یا جیتو پاکستان گیم شو سے پانچ دس لاکھ کا انعام نکلا ہے۔ لیجیے آپ کے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی ساعتِ سعید آن پہنچی، لکشمی دیوی کو آخر آپ کا گھر نظر آ ہی گیا۔ بس یوں کیجیے کہ پانچ دس ہزار روپے کی پروسیسنگ فیس جمع کروائیے اور قیامت کے اُس نامے کا انتظار کیجیے کہ جِس میں آپ کے خوابوں کی تعبیر پوشیدہ ہے۔

اگر آپ سرکاری افسر ہیں اور ای اینڈ ڈی رولز آپ کے رشوت لینے کی راہ میں سدِّ سکندری بنے ہوئے ہیں تو موبائل استعمال کیجیے اور اپنے سائیلین سے ایزی لوڈ کروائیے اور پھر ایزی لوڈ کا سائڈ بزنس شروع کیجیے۔ اب ہماری ایک تازہ ترین اطلاع ہی کو لیجیے کہ جِس کے مطابق جب کُچھ بدخواہوں کی شکایت پر ہمارے ایک افسر کا تبادلہ ہوا تو اُن کے موبائل میں چھپن ہزار روپے کا بیلنس تھا۔

مگر اوپر دی گئی موبائل فون کی ساری خرابیوں کو ہماری قنوطیت پر محمول کیجیے کہ جہان نہ آٹا، نہ چینی، نہ بجلی نہ پانی، کُچھ بھی سستا نہیں وہاں سستی کال غنیمت نہیں تو اور کیا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •