لالہ لطیف خان سے لالہ عارف خٹک تک

یہ غالباً 2017 کی ایک گرم دوپہر تھی میں مُلتان انٹی کرپشن میں تعینات اپنے دوست لطیف خان کے دفتر میں اُسے لینے پہنچا، لطیف خان اپنی لطیف طبیعت کے ساتھ ایک طرف درخواست گزاران کو سُنتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہمیں مُسلسل ”خان بس ابھی چلتے ہیں“ کا لارا لگایا ہوا تھا۔

ایسے میں چند سادہ قسم کے لوگ اگلی پارٹی کے طور پر دفتر میں داخل ہوئے، سادہ سے کپڑوں میں ملبوس چہرے مہرے سے عام سے دیہاتی نظر آنے والوں نے مقامی ایس ایچ او کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔ ایس ایچ او نے بھی کیا ظلم توڑے تھے، کتنے دن بیچاروں کو اندر رکھا اور کتنے لوگوں پر کتنے پرچے دے دیے۔ ایک ہی فیملی کے مُختلف افراد کے خلاف کئی پرچے اور اب یہ مظلوم خاندان اینٹی کرپشن کے دفتر میں انصاف کا متلاشی تھا

Read more

رب کی بے پایاں رحمت کے طلبگار

بی اے انگلش لٹریچر کے ساتھ کرنے کا خیال پتا نہیں ذہن میں کیسے سمایا؟ بس دل میں ٹھانی تو اگلے دن ٹرین کا ٹکٹ لیا اور عازمِ مُلتان ہوئے۔ مہر ایکسپریس ٹرین کہ جس کے ساتھ اگلے کئی سالوں تک سفر کرتے اور پروفیسر کاشف مجید سے ”حسن کوزہ گر“ سُنتے گُزار دیے۔

بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے عمر ہال میں کیمسٹری میں ماسٹر کرتے لنگوٹیے سمیع اللہ کے دروازے پر دستک دی اور اُسے اپنی آمد کا مُدعا بیان کیا۔ پروفیسر سمیع اللہ کہ جسے آج تک ادب کی الف کا پتا نہیں چلا بھلا بی اے کے لٹریچر کے نوٹس ہمیں کہاں سے لا کر دیتا؟

Read more

حضور کا اقبال بلند ہو، غریب کو جینے کا حق عنایت فرما دیں

انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
بات اگرچہ تلخ ہے اور حساس بھی کہ اس موضوع پر لب کُشائی کرتے ہوئے ہم عوام کے تو پر جلتے ہیں، اور آج کل تو بھلا کون بیل کو مارنے کی دعوت دے؟

کمزور کے لئے توہین عدالت کے دفعات کی لٹکتی ہوئی تلوار ہے ہی۔ بس ایک ہمارے وکیل بھائی ہیں جو توہین تو کیا کریں گے، اس طوطے کی طرح جس نے ہمسائے کی شکائت پر مالک سے مار کھانے کے بعد کہا تھا ”سمجھ تو آپ گئے ہوں گے“۔
تو بس ہم سے کیا کہلوانا سمجھ تو آپ بھی گئے ہوں گے۔

Read more

انقلاباتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر

یہ پچھلی دہائی کا ذکر ہے۔ نیا میلینئم، نئی صدی کا آغاز، بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، ایم اے انگلش کی کلاس کا پہلا دن، ڈاکٹر شیریں کی انگریزی، ڈاکٹر فاسٹس (Dr Faustus) کے کورس، سینئرز کی ریگنگ اور کرکٹ کے میڈیم سائز بیٹ جتنا موبائل فون۔ ہمارے لئے یہ سب کُچھ ہی نیا اور عجیب…

Read more

مسٹر پرائم منسٹر۔ ماسی غفوراں کو زہر بھجوا دیں

حکمران جمہوری رہے ہوں یا ڈکٹیٹر، عوام نامی مخلوق کسی حُکمران کی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ اور پاکستان تو رہا ہی ٹریننگ گراؤنڈ ہے۔ چاہیں تو کرکٹ کی پِچ بنا لیں، چاہیں تو ہاکی کے لئے آسٹرو ٹرف بچھا دیں اور چاہیں تو پول لگا کر فُٹبال کھیلیں۔ شِکار بھی یہاں کبھی ممنوع نہیں رہا،…

Read more

عثمان بزدار، ایک اسسٹنٹ کمشنر کی نظر سے

عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ کیا نامزد ہوئے، پنجاب کی دھرتی کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے والی سیاسی اشرافیہ، مافیاز کا غول، صحافت کے بھانڈ، سٹیٹس کو کے موقع پرست، پنجاب کو مردار سمجھ کر اس کے بدن سے اپنے اپنے حصے کا ماس بھنبھوڑنے والے گدھ سب مل کر نشانہ باندھے کنکر پہ…

Read more

ہے کوئی پوچھنے والا؟

عجب ملک ہے، عجب حکمران اور عجب ہی عوام، ملٹی نیشنل کمپنیاں کیا گُل کھلاتی رہیں اور کھانے کے نام پر ہمیں کیا کھلاتی رہیں، کسی کو فرصت نہیں کہ پوچھے، پانی کی ایک بوتل 100 روپے میں بکے، موبائل کمپنیاں 100 کے لوڈ پہ جتنے مرضی پیسے جِس نام سے کاٹ لیں، بچوں کے…

Read more