پٹواری نامہ

صاحبو! وہ قصہ تو آپ نے یقیناً پڑھ رکھا ہو گا جب قدرت اللہ شہاب صاحب نے بطور ڈپٹی کمشنر، جھنگ کی ایک ضعیف عورت کی زمین کا ایک پرانا مسئلہ حل کیا تو اس نے اپنی جھُریوں بھری ہتھیلیاں اُٹھا کر ڈی سی صاحب کو یوں دُعا سے نوازا تھا ”پُتر! اللہ تجھے پٹواری بنائے“ اور صدر ایوب کی خود نوشت کا وہ باپ بھی کہ جس میں صدر ایوب کو اس کی والدہ نے کہا تھا ”اگر تمہیں

Read more

افسران، ڈاکٹران اور وکلا وایا بٹھنڈا

اخبارات میں خبر چھپی ہے لیکن خبر کی تفصیل آخر میں پہلے چند مُشاہدات۔ رانا صاحب زمیندار تھے، سیاست کا شغل بھی فرماتے رہتے تھے، اور ایک وکیل دوست کے پاس اکثر حاضِر ہوتے، روزانہ وکلاء کی محفل کا اثر یوں ہوا کہ ایل ایل بی کرنے کی ٹھان لی لیکن مسئلہ یہ کہ نہ تو رانا صاحب پڑھنے لکھنے کے شوقین نہ یہ توقع کہ پیپر دیں گے تو کوئی ایک آدھ صفحہ ہی لِکھ پائیں گے۔ اوپر سے

Read more

چورانوے فیصد سادہ دل پاکستانی ملک چھوڑ کر کہاں جائیں؟

سوشل میڈیا کو جہاں انفارمیشن ریوولوشن کہا جاتا ہے وہاں اس کے منفی اثرات بھی کم تباہ کُن نہیں۔ ایک طرف جہاں آج کے بچے شعور کے اُس لیول پہ ہیں جہاں تک پہنچنے میں پندرہ بیس سال پُرانی جنریشن کو تیس تیس سال لگے تھے وہاں اس کے سماجی اور مذہبی انحطاط کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انٹرنیٹ اور ٹچ موبائل جہاں بچوں کی سوچ کو جِلا بخشتا ہے وہیں بچوں کے اخلاقی انحطاط کا باعث

Read more

ایمانداری کے خمار کا ظلم

صاحب موصوف اس محکمے کے سربراہ تھے جس کا کام بدعنوانی کا سدباب کرنا ہوتا ہے، ریٹائرڈ جج تھے جو پی سی او ججز کے خلاف عدالتی فیصلے سے متاثر ہو کر نکالے گئے تھے، بزعم خود بڑے ایماندار آدمی تھے اور ہماری پہلی پہلی فیلڈ پوسٹنگ تھی۔ افسران کی کمی کی وجہ سے ایک اور ضلعے کا چارج بھی اسی نوآموز افسر کے پاس تھا۔ اوپر سے باس بڑے جلد باز تھے۔ 2010 کے سیلاب نے ہر طرف آفت

Read more

کلرکوکریسی کی سرکار

سروس کا پہلا ہفتہ تھا، نئی نئی فائلز سے واسطہ پڑ رہا تھا، پی یو سی (Paper under Consideration ) اور ڈی ایف اے ( Draft for Approval ) کا فرق جاننے کی کوشش میں تھے کہ ایک جونیئر کلرک میرے آفس میں داخل ہوا۔ سر! آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ جی فرمائیے؟ سر! وہ اکبر آپ کے پاس ایک آرڈر کی کئی کئی کاپیاں سائن کروانے آتا ہے۔ آپ ایک کاپی کو دیکھ کر سب پر سائن

Read more

خاک پائے معلم کو سلام

کون بتائے گا؟ ”میں استاد جی“ گاؤں کے اکلوتے پرائمری سکول کے استاد کے ہر سوال کے جواب میں ہم نے پھر ہاتھ کھڑا کیا تو استاد جی نے ڈانٹ کر بٹھا دیا۔ ہر سوال تم نے ہی بتانا ہے بیٹھ جاؤ آرام سے۔ یادوں کی سکرین کے پردے پر موہوم سی یاد کا یہ اکیلا نقش ہے جو باقی رہا۔ گاؤں کے ٹاٹ سکول پہ الف انار، ب بکری یا پھر پہاڑے ایک دونی دو، دو دونی چار کہ

Read more

واللہ خیۡر الۡماکریۡن۔ بہتر سے بہترین عطا کرنے والا رب

ایف ایس سی کا امتحان دے کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ ائر پورٹ سیکیورٹی فورس میں اے ایس آئی کا اشتہار آیا، فوراً درخواست دے ڈالی، تھکا دینے والی دوڑ کے بعد تحریری امتحان اپنے تئیں سب سے بہترین کر کے آئے۔ دو تین ہفتے گزرے رزلٹ کے کوئی آثار نہ دیکھتے ہوئے ائر پورٹ جا پہنچے، معلوم ہوا کہاں کا رزلٹ؟ بندے تو سیلیکٹ ہو کر جوائن بھی کر چکے۔ یہ پہلا اتفاق تھا۔ چند ماہ بعد ایک

Read more

انکوائری نامہ

چاچا رفیق کی درخواست بڑی دلچسپ تھی، ساٹھ سالہ چاچا نے اپنے بھانجے کو نوکری دلوانے کے لئے نمبردار کو تین لاکھ روپے کی رشوت دی تھی جس میں پینسٹھ ہزار کی بھینس بھی شامل تھی اب نمبردار نے نہ تو نوکری دلوائی اور نہ ہی چاچے کے پیسے واپس کر رہا تھا۔ میں نے بطور انکوائری افسر ابھی کارروائی کا آغاز نہیں کیا تھا لیکن چاچے نے میرے دفتر میں مستقل ڈیرہ ڈال لیا تھا، دو دن اور اوپر ہوئے تو سیاسی سفارشیں شروع ہو گئیں کہ نمبردار پہ پرچہ دیا جائے اور چاچے کے پیسے واپس کروائے جائیں۔ اور تو اور چاچے نے اپنی غربت کا رونا روتے یہ تک کہہ دیا کہ معاشرے میں انصاف پسند افسر ختم ہو گئے ہیں اور وہ آخری امید لے کر انصاف لینے میرے پاس حاضر ہوا ہے۔

Read more

با برکت آموں کی رشوت

چاچا قادر بخش ناراض تو تھا ہی مگر اب لہجہ گلو گیر اور رونے والا ہو گیا تھا، مسلسل دوسرا دن تھا چاچا میرے پی اے کے پاس بیٹھا اصرار کیے جا رہا تھا۔ چاچا کا اصرار مجھے شوکت کی یاد دلا رہا تھا، پہلی فیلڈ پوسٹنگ تھی اور میں گھر سے جائے ملازمت پر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچا تھا، گاڑی سے اتر کر رکشے کا انتظار کرنے کو سڑک کے کنارے پہ رکا ہی تھا کہ مخالف سمت کو جاتا ایک رکشہ میری طرف مڑا اور چادر لپیٹے رکشہ ڈرائیور مجھ سے مخاطب ہوا۔ سر! آپ بیٹھیں میں ایک منٹ میں آیا۔ ایک ہی ساعت میں چادر پوش شخص واپس آیا اور قریبی کھوکھے سے لائی کولڈ ڈرنک میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا! سر آپ یہ پی لیں پھر میں آپ کو گھر چھوڑ آتا ہوں۔ میں حیران و پریشان رکشہ ڈرائیور کو تکے جا رہا تھا۔

مجھے محو حیرت دیکھ کر وہ گویا ہوا، سر! آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ میں شوکت ہوں، آپ کا احسان میں ساری زندگی نہیں چکا سکتا۔

Read more

علامہ صاحب جھنگ والے اور اتنی تنخواہ

ہر بجٹ سے پہلے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ اب ایک روٹین کا معاملہ ہے، سرکاری ملازمت کے بارے میں مشہور ہے کہ نہ مرنے دیتی ہے اور نہ ڈھنگ سے جینے دیتی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ حکومت وقت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں معمول کے مطابق بڑھا دے مگر عموماً ایسا ہوتا نہیں، احتجاج، مراسلے، دھرنے اور پتا نہیں کیا کیا اور پھر کہیں جا کر سرکاری ملازمین کی سنی جاتی ہے، اور یہ ہر حکومت میں ہوتا ہے، سرکاری ملازمین کا ایک مظلوم طبقہ سرکاری افسران بھی ہیں۔

Read more

ٹیکس کے بارے میں سوچیے اور بور ہونا سیکھئے

آپ کو یقیناً چٹ پٹی تحریریں اچھی لگتی ہیں لیکن آج میرے کہنے پہ یہ خشک تحریر پڑھ کر اپنی رائے دیجئے کہ آپ کی رائے بہت قیمتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا نظام میری بطور عام آدمی کی نظر میں خاصا پیچیدہ اور عام آدمی کے لئے بے فائدہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹھیکیدار کے پاس، لوہے کے کاروبار سے وابستہ ایک شخص کے پاس یا پھر ایک زمیندار کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ ٹیکس گزار بن سکے۔ لیکن ایک عام آدمی کے سامنے پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کیا کرے؟

ٹیکس آفس کے اہلکار بھی باقی محکموں کے چھوٹے اہلکاروں کی طرح کلائنٹ کی جیب پر نظر رکھتے ہیں اور ٹیکس آفس میں ایسا کوئی کاؤنٹر نہیں جو کلائنٹس کو یہ سہولت مہیا کر سکے۔

Read more

قبریں دیکھنے والے

باس نے ہمیں دفتر بلایا، بٹھایا، چائے منگوائی اور بولے ”ینگ مین اب آپ کو ہفتہ دس دن تو ہو گئے ہیں اس آفس میں، شکار کرنا سیکھو، یہ کیا ابھی سے فائلز میں ڈوب گئے ہو۔ ہوتا رہے گا سرکاری کام۔ چلو آؤ باہر چلتے ہیں آج پہلا پریکٹیکل میں کرواتا ہوں آپ کو“۔

یہ ہمارا باس سے پہلا تعارف اور لاہور میں پوسٹنگ کا پہلا تجربہ تھا۔ ہم گھر سے اسسٹنٹ کمشنر بننے نکلے تھے، خیر سے مقابلے کا امتحان دیا لیکن میرٹ میں ذرا نیچے رہے اور قسمت ہمیں ایک اور ڈیپارٹمنٹ میں لے آئی۔ پہلی پوسٹنگ راجن پور میں ہوئی، راجن پور جو آج بھی محرومی کا استعارہ ہے، دس بارہ سال پہلے تو بقول شاعر

کبھی لوٹ آیا میں دشت سے تو یہ شہر بھی
اسی گرد میں تھا اٹا ہوا میرے سامنے

Read more

اسسٹنٹ کمشنر کی ڈائری

شہر کی سب سے قیمتی زمین پر قبضہ مافیا کی نظر تھی، قبضہ مافیا کو شہر کی ساری سیاسی قیادت کی بھر پور حمایت حاصل تھی اور سیاسی قائد کی وقت کے وزیر اعلیٰ سے ذاتی دوستی۔ صورتحال کافی گمبھیر تھی اور ہم بطور اسسٹنٹ کمشنر ان کی راہ میں واحد لیکن کمزور سی رکاوٹ تھے۔ شہر میں ہماری پوسٹنگ کا قصہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ ہمارے پیش رو نے اپنے اچھے کام سے دو نمبر مافیا کو نکیل ڈالی ہوئی تھی، نوجوان افسر شہر کے لوگوں میں خاصا مقبول تھا لیکن سیاسی قیادت پریشان تھی اور حواری تو ایسے کہ دم پہ پاؤں آیا ہوا۔

سو سارے چٹی دلال، کمیشن خور اور افسر کے ساتھ تصویر بنوا کر نمبر گانٹھنے والے وفد کی صورت سیاسی قائد سے ملے اور انہیں لاہور کی طرف روانہ کیا کہ افسر کا تبادلہ کروا کر آنا ہے، یوں وہ نیک نام افسر شدید سیاسی دباؤ پر تبدیل کر دیے گئے اور قرعہ فال اس خاکسار کے نام نکلا۔ اچھے افسر کی تبدیلی پر سارے ناجائز معززین نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ہمارے نام کے خوش آمدیدی بینر شہر کے ہر چوک چوراہے پر لٹکا دیے یوں ہم شہر میں وارد ہونے سے پہلے ہی متنازعہ اور ناپسندیدہ قرار پائے کہ سیاستدانوں کے ”اپنے“ بندے تھے۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی پر حواریوں کا پروپیگنڈا زیادہ۔ عوام کی رائے بہرحال ہمارے آنے سے پہلے ہی ہمارے خلاف نظر آئی۔

Read more

اللہ سائیں کے سچے دوست

ایم اے انگلش کی کلاس کا پہلا دن، سامنے دھری بڑی سی ٹیبل پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے بیٹھی ڈاکٹر شیریں ڈاکٹر فاؤسٹس ایسے پڑھا رہی تھیں جیسے سامنے بیٹھے ہم پینڈو طالبعلم اسے پہلے سے حفظ کر کے بیٹھے ہوں، نیا ماحول، نئے لوگ، اور نئے لوگوں میں بھی پچپن ساٹھ کی کلاس میں پینتالیس لڑکیاں۔ اور سچ پوچھئے تو اتنی ساری لڑکیوں کو نقاب کے بغیر بھی ہم نے پہلی بار دیکھا تھا۔

Read more

نوشین کا قتل: یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

آدھی رات کو صائمہ ملک کا نمبر میرے موبائل کی سکرین پہ جگمگایا تو مجھے حیرت ہوئی۔ صائمہ کے تیسرے شکوے کے بعد میں نے اس کا نمبر اپنے موبائل میں سیو کیا تھا۔ صائمہ ایک خاتون صحافی تھی جو کسی این جی او کی رجسٹریشن کے سلسلے میں میرے دفتر آئی تھی۔ دوسری دفعہ آئی تو شکوہ کیا سر! آپ تو میری کال ہی اٹینڈ نہیں کرتے۔ وبا کے دنوں میں مصروفیت بڑھی تو کیا دن اور کیا رات

Read more

لالہ لطیف خان سے لالہ عارف خٹک تک

یہ غالباً 2017 کی ایک گرم دوپہر تھی میں مُلتان انٹی کرپشن میں تعینات اپنے دوست لطیف خان کے دفتر میں اُسے لینے پہنچا، لطیف خان اپنی لطیف طبیعت کے ساتھ ایک طرف درخواست گزاران کو سُنتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہمیں مُسلسل ”خان بس ابھی چلتے ہیں“ کا لارا لگایا ہوا تھا۔

ایسے میں چند سادہ قسم کے لوگ اگلی پارٹی کے طور پر دفتر میں داخل ہوئے، سادہ سے کپڑوں میں ملبوس چہرے مہرے سے عام سے دیہاتی نظر آنے والوں نے مقامی ایس ایچ او کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔ ایس ایچ او نے بھی کیا ظلم توڑے تھے، کتنے دن بیچاروں کو اندر رکھا اور کتنے لوگوں پر کتنے پرچے دے دیے۔ ایک ہی فیملی کے مُختلف افراد کے خلاف کئی پرچے اور اب یہ مظلوم خاندان اینٹی کرپشن کے دفتر میں انصاف کا متلاشی تھا

Read more

رب کی بے پایاں رحمت کے طلبگار

بی اے انگلش لٹریچر کے ساتھ کرنے کا خیال پتا نہیں ذہن میں کیسے سمایا؟ بس دل میں ٹھانی تو اگلے دن ٹرین کا ٹکٹ لیا اور عازمِ مُلتان ہوئے۔ مہر ایکسپریس ٹرین کہ جس کے ساتھ اگلے کئی سالوں تک سفر کرتے اور پروفیسر کاشف مجید سے ”حسن کوزہ گر“ سُنتے گُزار دیے۔

بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے عمر ہال میں کیمسٹری میں ماسٹر کرتے لنگوٹیے سمیع اللہ کے دروازے پر دستک دی اور اُسے اپنی آمد کا مُدعا بیان کیا۔ پروفیسر سمیع اللہ کہ جسے آج تک ادب کی الف کا پتا نہیں چلا بھلا بی اے کے لٹریچر کے نوٹس ہمیں کہاں سے لا کر دیتا؟

Read more

حضور کا اقبال بلند ہو، غریب کو جینے کا حق عنایت فرما دیں

انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
بات اگرچہ تلخ ہے اور حساس بھی کہ اس موضوع پر لب کُشائی کرتے ہوئے ہم عوام کے تو پر جلتے ہیں، اور آج کل تو بھلا کون بیل کو مارنے کی دعوت دے؟

کمزور کے لئے توہین عدالت کے دفعات کی لٹکتی ہوئی تلوار ہے ہی۔ بس ایک ہمارے وکیل بھائی ہیں جو توہین تو کیا کریں گے، اس طوطے کی طرح جس نے ہمسائے کی شکائت پر مالک سے مار کھانے کے بعد کہا تھا ”سمجھ تو آپ گئے ہوں گے“۔
تو بس ہم سے کیا کہلوانا سمجھ تو آپ بھی گئے ہوں گے۔

Read more

انقلاباتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر

یہ پچھلی دہائی کا ذکر ہے۔ نیا میلینئم، نئی صدی کا آغاز، بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، ایم اے انگلش کی کلاس کا پہلا دن، ڈاکٹر شیریں کی انگریزی، ڈاکٹر فاسٹس (Dr Faustus) کے کورس، سینئرز کی ریگنگ اور کرکٹ کے میڈیم سائز بیٹ جتنا موبائل فون۔ ہمارے لئے یہ سب کُچھ ہی نیا اور عجیب تھا اور سچ پوچھئے تو اتنی ساری لڑکیوں کو نقاب کے بغیر بھی ہم نے پہلی بار دیکھا تھا۔ جمبو سائز موبائل ہاتھ میں لئے

Read more

مسٹر پرائم منسٹر۔ ماسی غفوراں کو زہر بھجوا دیں

حکمران جمہوری رہے ہوں یا ڈکٹیٹر، عوام نامی مخلوق کسی حُکمران کی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ اور پاکستان تو رہا ہی ٹریننگ گراؤنڈ ہے۔ چاہیں تو کرکٹ کی پِچ بنا لیں، چاہیں تو ہاکی کے لئے آسٹرو ٹرف بچھا دیں اور چاہیں تو پول لگا کر فُٹبال کھیلیں۔ شِکار بھی یہاں کبھی ممنوع نہیں رہا، یہ آپ کے ذوقِ طبع پہ منحصر ہے، پرندے اور اِنسان یہاں پہ وافر دستیاب ہیں۔ سِول سروس ریفارمز کے دلکش نعرے ابتدا ہی سے

Read more

عثمان بزدار، ایک اسسٹنٹ کمشنر کی نظر سے

عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ کیا نامزد ہوئے، پنجاب کی دھرتی کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے والی سیاسی اشرافیہ، مافیاز کا غول، صحافت کے بھانڈ، سٹیٹس کو کے موقع پرست، پنجاب کو مردار سمجھ کر اس کے بدن سے اپنے اپنے حصے کا ماس بھنبھوڑنے والے گدھ سب مل کر نشانہ باندھے کنکر پہ کنکر اچھال رہے ہیں۔ کیا اپنے کیا پرائے عثمان بزدارسب کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ بڑے بڑے جغادری دانشور، سیاست کے

Read more

ہے کوئی پوچھنے والا؟

عجب ملک ہے، عجب حکمران اور عجب ہی عوام، ملٹی نیشنل کمپنیاں کیا گُل کھلاتی رہیں اور کھانے کے نام پر ہمیں کیا کھلاتی رہیں، کسی کو فرصت نہیں کہ پوچھے، پانی کی ایک بوتل 100 روپے میں بکے، موبائل کمپنیاں 100 کے لوڈ پہ جتنے مرضی پیسے جِس نام سے کاٹ لیں، بچوں کے دودھ تک کو جس قیمت کا ٹیگ لگا لیں، اور دودھ کے نام پر جو مرضی پِلاتی رہیں، کسی بڑے سٹور پہ عام استعمال کی

Read more