تعلیم دوست فورس کمانڈر


میجر جنرل احسان محمود خان حال ہی میں گلگت بلتستان میں فورس کمانڈرتعینات ہوئے ہیں۔ مختصر عرصے میں انہوں نے مختلف تقریبات کا انعقاد کرکے اور شرکت کرکے اپنا پیغام عام کردیا ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی و سماجی حلقوں نے میجر جنرل احسان محمود خان کے اس مختصر دورانیے میں یہ تبدیلی بھی دیکھی کہ پہلی مرتبہ جنگ آزادی کے غازیوں کو مرکزی تقریب میں بذریعہ ہیلی کاپٹر گلگت لایا گیا۔ یہ ان غازیوں کی قربانیوں کا نعم البدل تو نہیں مگر ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے۔

گزشتہ دنوں فورس کمانڈر ناردرن ایریاز میجرجنرل احسان محمود خان نے گلگت کے صحافیوں کے ساتھ ایک تعارفی نشست رکھی۔ قریباً ایک بجے ایف سی این اے کا مہمان خانہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ میجر جنرل احسان محمود خان نے تمام صحافیوں سے بالمشافہ ملاقات کی اور مختصراً تعارف بھی کرایا۔ غیر رسمی ملاقات میں دوطرفہ معاملات میں گفت وشنید ہوئی۔ صحافیوں کی جانب سے جی بی این ایس کے صدر ایمان شاہ صاحب۔ پریس کلب گلگت کے صدر اقبال عاصی صاحب اور یونین آف جرنلسٹ کے صدر خالد حسین صاحب نے نمائندگی کی اور صحافیوں کودرپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا۔ جبکہ فورس کمانڈر کے ساتھ بعض معاملات میں سیکٹر کمانڈر ایس سی او نے معاونت کی۔

تعارفی سیشن میں فورس کمانڈر میجر جنرل احسان محمود خان نے اس بات کو پرکھنے کی کوشش کی کہ گلگت بلتستان کی صحافی برادری کن حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں۔ قارئین کو شاید اس بات کا احساس نہیں ہوگا کہ گلگت سٹیشن جی بی کا صحافتی مرکز ہے۔ دیگر تمام اضلاع سے گلگت میں صحافی اور ادارے بھی زیادہ ہیں۔ سائیڈ اضلاع میں اکثر صحافی اعزازی کام ہی کررہے ہیں جن کی کوئی اجرت بھی نہیں ہوتی ہے جبکہ گلگت کے صحافیوں میں اکثریت ان کی ہے جنہیں باقاعدہ میڈیا ہاؤسز سے اجرت ملتی ہے مگر کتنی؟

صحافیوں میں سے اکثر یت ان کی ہے جن کی تنخواہ پتھر توڑنے والے مزدور سے کم ہے۔ صحافیوں کو کسی قسم کے دیگر مراعات نہیں ملتے ہیں۔ صحافیوں کو کسی قسم کی فزیکل۔ سوشل سیکیورٹی موجود نہیں ہے۔ گلگت کے بدترین حالات میں بھی صحافتی ذمہ داریاں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی گئی ہے۔ معلومات تک رسائی کا تصور یہاں پر موجود نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی تیز سہولت علاقہ بھر کی طرح صحافیوں کو بھی میسر نہیں ہے۔ وقت پر تنخواہیں نہیں ملتی ہیں۔

صحت۔ تعلیم اور رہائش جیسے سہولیات جو ملک کے دیگر صوبوں میں صحافیوں کو میسر ہیں وہ یہاں پر نہیں ہیں۔ حکومتی سطح پر صحافیوں کے استعدادکار میں اضافے کے لئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ گویاں یہاں پر کرتے کرتے سیکھنا پڑتا ہے اس دوران معمولی سے معمولی غلطی ہو یا پھر کوئی بڑی غلطی ہو اس ساری کی ذمہ داری اس کے سر پر خود عائد ہوتی ہے آپ اس سانچے میں صحافت کی ڈگری لے کر آنے والے نئے کسی طالبعلم کو فِٹ کرکے دیکھیں حساسیت کا اندازہ ہوگا۔

صحافیوں نے اس صورتحال سے فورس کمانڈر کو آگاہ کیا۔ چونکہ نشست مکمل طور پر صحافیوں سے متعلق تھی اس لئے دیگر کسی بھی معاملے پر گفت و شنید نہیں ہوسکی۔ البتہ ایس سی او کی کچھوارفتار انٹرنیٹ پر سوال اٹھایا گیا۔ جس کی تائید فورس کمانڈر نے کی اور سیکٹر کمانڈر سے وضاحت طلب کی۔ سیکٹر کمانڈر کے جواب کا لب و لباب یہ تھا کہ تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی فراہمی کی نیلامی پی ٹی اے نے کرنی ہے لیکن اس میں تاخیر ہورہی ہے اور ساتھ میں ایس سی او کو فور جی سروس بند کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ جس کے خلاف ایس سی او نے بلاتعطل فراہمی کے لئے ہائیکورٹ اسلام آبادسے حکم امتناعی لیا ہے۔ بہرحال تھری جی فورجی کے متعلق اس جواب سے معلوم ہوا کہ جی بی کو آئندہ سال تک کسی قسم کے تیز انٹرنیٹ کی فراہمی کا امکان نہیں ہے ایس سی او کا تھری جی فورجی جیسا بھی ہے اسی کو استعمال کرنا ہے۔

فورس کمانڈر سے تعارفی ملاقات کے بعد فوراً خیال تھا کہ فورس کمانڈر کو علاقائی مسائل اور صورتحال سے آگاہ رکھنے اور عوامی آراء پہنچانے کے لئے الگ مضمون ترتیب دیا جائے۔ لیکن ایک اور مضمون چھپائی کا منتظر تھا لہٰذا پہلے حسب معمول اس کو مکمل کرکے بھجوا دیا اور بعد میں فورس کمانڈر سے ملاقات کے احوال پر قلم اٹھایا۔ میرے لئے یہ بات کسی خوشگوار حیرت سے کم نہیں تھی کہ میجر جنرل احسان محمود خان پیشہ ورانہ مہارت کے علاوہ تعلیمی میدان میں بھی اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اب تک متعدد تحقیقی مقالے ان کے شائع ہوچکے ہیں۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے شعبہ ’ملکی سلامتی و جنگی اسباب (National security and war couse) کے فیکلٹی ممبر بھی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کے لئے گلگت بلتستان کو بطور کیس سٹڈی منتخب کیا ہے جس کا موضوع ہے‘ انسانی تحفظ میں جغرافیائی کردار ’۔

فورس کمانڈر جناب میجر جنرل احسان محمود کو اپنے اس مختصر دورانیے میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف بلتستان میں خطاب کرنے کا موقع بھی ملا۔ دونوں تعلیمی درسگاہوں میں انہوں تحقیق کو فروغ دینے پر زور دیا اور دونوں تعلیمی اداروں کو انہوں نے دس دس لاکھ روپے نقد دیدیے۔ ان دونوں علمی جامعات بالخصوص قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں کئی لوگوں کو بشمول وفاقی و صوبائی حکومت کے عہدیداروں کو متعدد بار خطاب کا موقع ملا ہے لیکن مجھ سمیت کسی کے بھی علم میں یہ بات نہیں ہوگی کہ انہوں نے علم و تحقیق کے فروغ کے لئے نقد امداد کی ہو۔

بیچاری قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی تو روز اول سے بیرونی دباؤ کا شکار رہی ہے ماضی کے فسادات کے حالات اس بات کے گواہ ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی عوامی مسائل پر گفتگو کرنے والی ایک تنظیم نے جاکر مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی میں طالبات کے لئے کینٹین اور کلاسیں بھی الگ کردی جائیں۔ لیکن کسی کو اس بات کا علم بھی نہیں ہوگا کہ وہاں پر طلبہ و طالبات تحقیق کاکام بھی کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے صحافیوں کی فورس کمانڈر سے یہ نشست فوراً سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی۔ اور چہ مگوئیوں نے جگہ بنانا شروع کردیا ہے۔ ایک اہم سیاسی شخصیت نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں صوبائی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ صحافیوں کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر اس طرح کی بیٹھک کریں فورس کمانڈر صاحب نے صحافیوں کو عزت دے کر نئی روایت ڈال دی ہے جو خوش آئند ہے۔ بعض محروم طبقوں کی جانب سے معمول کا تبصرہ حسب معمول ہی سامنے آیا لیکن میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی کوئی بات نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں پاک فوج کی کمان کرنے والا شخص نہ صرف پیشہ ورانہ امورپر مہارت رکھتا ہے بلکہ اس کا تعلیمی پس منظر بھی نہایت مضبوط ہے۔

انسانی تحفظ جیسے موضوع پر تحقیقی مقالہ چھاپنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے جس میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا جابجازکر بھی ملتاہے۔ فورس کمانڈر نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے حالیہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف تاخیر کا شکار میڈیکل کالج کی خوشخبری سنائی ہے بلکہ سکردو میں بھی میڈیکل کالج کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی آف بلتستان میں فوری امداد ان کی تعلیم دوستی جبکہجنگ آزادی کے غازیوں کو اعزاز بخش کر بذریعہ ہیلی کاپٹر گلگت لانا پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔

فورس کمانڈر گلگت بلتستان پر لکھے گئے تقریباً تصانیف اور تحریروں سے واقف ہیں۔ پروفیسرعثمان علی۔ شیرباز علی خان برچہ کی تصانیف۔ ظفر وقار تاج۔ حشمت کمال الہامی کی شاعری اور قاسم نسیم کے کالموں کی تعریف انہی کی زبانی سننا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ میجر جنرل احسان محمود خان کو کسی بھی موضوع پر اپنے فلسفہ جھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قوی امید ہے کہ علم دوست اور جغرافیہ شناس اس شخصیت کا عہد قیادت روایتی نہیں ہوگا اور عوامی مسائل اور بنیادی حقوق جیسے معاملات میں وہ اپنے فورمز پر جی بی کی موثر نمائندگی بھی کریں گے۔

Facebook Comments HS