گلگت بلتستان کی سیاحت دہشتگردی کی لپیٹ میں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کی دو مساجد میں گھس کر 49 نمازیوں کو شہید کردیا گیا۔ تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہوگا جہاں دنیا بھر میں امن و امان کے لحاظ سے معروف علاقے میں اس قسم کی وحشت بھری کارروائی کی گئی ہے کہ جس میں باقاعدہ کیمرہ لگا کر…

Read more

انڈین پائلٹ کی رہائی کے بعد وزیراعظم کا قوم سے تاریخی خطاب

پاکستان نے انڈین جنگی طیارہ کے ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے کے بعد ’جذبہ خیر سگالی‘ کے تحت پائلٹ کو رہا کردیا۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص ابھر آیا۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لئے مذاکرات کی دعوت دیدی۔ وزیراعظم کے قوم کے نام عزیز ہموطنوں اور برادران وطن کے خطاب میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات میں جس طرح بگاڑ پیدا ہوا اور ایک جنگ کا خطرہ جس طرح سرپر منڈلانے لگا وہ کئی راز نہیں ہے۔

Read more

اندھیروں میں ڈوباہوا روشنیوں کا شہر

اگر عوامی ضرورت کی سب سے اہم ایجاد موجودہ دور میں دیکھا جائے تو بلب اور بجلی کی ایجاد ہے۔ جن کے باہمی تعلق کی وجہ سے گھروں کو رونق ملی اور شہروں میں چمک آگئی ہے۔ اگر چہ بجلی ایجاد ہونے سے اب تک عشرے نہیں بلکہ صدیاں گزری ہیں لیکن اس کے باوجود سب سے اہم ضرورت بجلی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی فراہمی کو عوامی بنیادی حقوق کی فہرست میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی یہ ایک آسان مثال بن گئی جس کے اعداد و شمار سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور فراہمی کو تولا جاسکتا ہے۔گلگت بلتستان اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے محققین کے لئے ہمیشہ سے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ بعض اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ یہاں پر ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت ہے جبکہ باقی اعداد و شمار اس بات پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان میں کم از کم 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور 50 ہزار میگاواٹ کا یہ ہندسہ صرف پن بجلی کا ہے، جدید جنریٹرز، ہوا سے بجلی پیدا کرنا اور سورج کے ذریعے بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیتیں اس کے علاوہ ہیں۔ جن کو ساتھ شامل کرنے سے کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

Read more

عمران خان مشرف کابینہ میں کیوں نہیں تھے؟

پاکستان تحریک انصاف کی وفاق اور دوصوبوں میں حکومت پر ناقدین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کا جواب ناقدین پر ہی چھوڑدیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا کتنا ہاتھ تھا؟ اور اس بیانیے کو لے کر وہ کتنی عوامی ہمدردی حاصل کرسکتے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا عروج 2012 سے شروع ہوا جب انہوں نے شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی اور دیگر بڑے بڑے پہلوانوں کا دل جیت لیا تھا۔

2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو نمایاں کامیابی نہیں مل سکی البتہ خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور کئی اہم قلعوں میں اپنے سپاہیوں کو داخل کرانے میں کامیاب ہوگئی جن میں اسلام آباد، لاہور کراچی اور دیگر شاہی قلعے شامل تھے۔ اس دورانیہ میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا موجودہ اپوزیشن حقیقی نہیں ہے کیونکہ یہ اسمبلی میں بولتے ہیں اور حکومت کو کہتے ہیں کہ آپ قانون سازی کریں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ تحریک انصاف ابھی تک اپنے اس پرانے روپ سے باہر نہیں آسکی ہے جس کی وجہ سے ابھی تک قانون سازی تک ہاتھ نہیں بڑھاسکی ہے۔

Read more

گلگت بلتستان میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پوری اسمبلی سے زیادہ طاقتور ہے

گلگت بلتستان اسمبلی کے سب سے متحرک رکن اور صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت اور ہوم سیکریٹری کے رویہ پر احتجاجاً استعفیٰ جمع کرادیاجو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلگت کے تبادلے کے بعد واپس لیا گیا۔ گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے خصوصی افراداپنے مطالبات کے حصول کے لئے اسمبلی کے باہر علامتی دھرنا دیے ہوئے تھے۔ اسمبلی میں اپوزیشن رکن نواز خان ناجی کی جانب سے سوال اٹھانے پر صوبائی وزیر قانون نے ان مطالبات کی سرکاری سطح پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

جس پر سپیکر جی بی اسمبلی فدامحمدناشاد نے مذکورہ دونوں ممبران کو حکم دیا کہ وہ یہی وضاحت خصوصی افراد کے دھرنے میں جاکر کریں تاکہ مطمئن ہوسکیں اور سردی میں مزید دھرنا دے کر بیٹھنے کی ضرور پیش نہ ہو۔ خصوصی افراد جن میں اکثر نابینا اور وہیل چیئرپر چلنے والے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ خصوصی برتاؤ بھی لازمی تھا۔ دونوں ممبران دھرنے میں پہنچ گئے جو اسمبلی کے گیٹ کے باہر تھا اور اپنی وضاحت کرکے انہیں منتشر کررہے تھے کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ وارد ہوئے اور اورنگزیب ایڈوکیٹ کی گفتگو کے دوران مداخلت کرتے ہوئے انہیں کہا کہ اس روڈ کو واگزار کرانا انتظامیہ کا کام ہے اور ہم اس کو واگزار کرائیں گے اسی توتومیں میں کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے سکواڈ سے ایک سپاہی نے وزیر قانون کے گریبان کو بھی پکڑا۔

Read more

کامریڈ باباجان اور گرتی ہوئی اخلاقی دیواریں

گزشتہ سال کے اواخر میں انسپکٹر جنرل آف پولیس نے گلگت سے کچھ صحافیوں کو اپنے دفتر میں ملاقات کے لئے بلایا تھا جس کے اغراض و مقاصد کا علم نہیں تھا تاہم گمان پریس بریفنگ کی تھی لیکن صحافیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بتایا کہ…

Read more

یوم یکجہتی کشمیر کا بائیکاٹ کیوں؟

مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی افواج کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف اور مظلوم کشمیری مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے پاکستان نے سرکاری اور ریاستی طور پر باقاعدہ پانچ فروری کی تاریخ متعین کردی ہے جس میں ہر سال جلسے جلوسوں اور مظاہروں کے ذریعے کشمیری مظلوم عوام سے یکجہتی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اور اقوام متحدہ، عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے قتل عام کو رکوانے کے لئے متحرک ہوجائیں اور اقوام متحدہ اپنے قراردادوں پر عملدرآمد کراتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں کردارادا کریں۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی رہی ہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا حصہ تھا تو شروع سے ہمیں کشمیر طرز پر مراعات کیوں نہیں دی گئیں جب ہم نے پاکستان کے آئینی صوبے کا مطالبہ کیا تو ہمیں صدارتی حکمناموں میں ٹرخایا گیا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان امید کی آخری کرن تھی جس نے رواں سال کے شروع میں ہی ’گلگت بلتستان کے متنازعہ‘ ہونے پر مہر ثبت کردی۔ اس ساری تشویش کے پیچھے سب سے اہم بات یہی رہی ہے کہ مذکورہ سیاسی حلقے گلگت بلتستان کی مخصوص انتظامی حالت کو سمجھنے سے قاصر رہے، یا پھر جان بوجھ کر مخصوص انتظامی و آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

Read more

گلگت بلتستان میں صحت اصلاحات اور ڈاکٹروں کا رویہ

گلگت بلتستان مملکت پاکستان کا سب سے چھوٹا انتظامی یونٹ ہے جس میں استعداد کار، تجربات، اور بجٹ کی کمی کا مسئلہ گزشتہ صدی سے چلا آرہا ہے، اب سے چند برس قبل تک پورے گلگت بلتستان کا بجٹ ایک ارب بھی نہیں تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے قابل ذکر حد تک پہنچادیا گیا ہے اور ہر آنے والی حکومت اپنا حصہ ڈالتی چلی گئی۔ یوں یہ اب بجٹ اب 17 ارب کے آس پاس آگیا ہے لیکن ملک کے دیگر تمام علاقوں سے یہ بجٹ اب بھی بہت کم ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا اپنا بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے سارا انحصار وفاقی حکومت پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو امدادی اقدامات کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔

صحت کا شعبہ بلاواسطہ انسانی جانوں کے ساتھ منسلک ہے، جس میں ذرا سی دیر اور ذرا سی لاپرواہی بھی انسانی جان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گلگت بلتستان گزشتہ چند سالوں سے امراض قلب کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور ہوگیا تھا، گلگت بلتستان میں امراض قلب کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ایک اندازے کے مطابق سالانہ 15 ہزار امراض قلب کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے مریضوں کو امراض قلب کا علاج اور دیگر سہولیات کم و بیش ایک ہزار کلومیٹر دور میسر تھی جو کہ صاحب استطاعت افراد کے لئے بھی کافی بھاری اور مہنگاثابت ہوتا تھا ایسے میں غریب مریضوں کا پوچھے تو کون؟

Read more

گلگت بلتستان اپنا بیانیہ فروخت نہیں کرسکا

گلگت بلتستان کے تین مسائل سیاسی جماعتوں سے حل نہیں ہوسکے اور انہیں آپس میں اتفاق و اتحادکے ذریعے چلانے کی بجائے انہیں لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچنا پڑا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع ہونے والے کیسوں کی تعداد 33 کے قریب تھی جن میں سے ان تمام کیسوں کو پنڈنگ قرار دیا جو ذاتی نوعیت کے یا پھر کسی مخصوص نکتے کے گرد تھے۔ باقی تمام کیسوں کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 17 جنوری کو سنادیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 7 جنوری کا مذکورہ فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

Read more

لاپتہ خوش بخت اور سوشل میڈیا

چند روز قبل سوشل میڈیا میں خبر چلی کہ گلگت بلتستان کے علاقہ غذریاسین سے تعلق رکھنے والی اورسیفی ہسپتال ناظم آباد کراچی کی نرسنگ اسسٹنٹ 22 سالہ خوش بخت مورخہ 04 جنوری 2019 کو پراسرار طورپر لاپتہ ہوگئی۔ واقعہ کو کئی روز گزرنے کے باوجود تھانہ سچل پولیس نے تاحال مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز نہیں کیا۔ مغویہ کے ورثاءنے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ (رپورٹر کو) معلوم ہوا ہے کہ غذر کے علاقہ یاسین سے تعلق رکھنے والے زمیندار (والد) کی نوبیٹیوں میں سب سے چھوٹی بیٹی بائیس سالہ خوش بخت تقریباً ڈیڑھ سال قبل اپنی بڑی ہمشیرہ کے ہاں رحیم ویو کالونی ملیر آئی۔

خوش بخت نے سیفی ہسپتال واقع ناظم آباد میں ایک سال تک نرسنگ کی ٹریننگ لی اور وقوعہ سے تین روز قبل اس نے اسی ہسپتال میں اپنا انٹرن شپ شروع کیا۔ چار جنوری بروز جمعہ کو وہ حسب معمول اپنی رہائش گاہ سے دن تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہسپتال جانے کے لئے نکلی اور پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس روز وہ ہسپتال ہی نہیں آئی۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ نے اس کی غیرحاضری پراس کے ورثاءکو فون کرکے آگاہ کرنے تک کی بھی زحمت نہیں کی۔

Read more