کنیز کا بیٹا، شہزادہ نہیں بن سکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بستر مرگ پر روز موت کے فرشتے کو ”کچھ اور مہلت دے دو“ کی منت سماجت جاری تھی۔ لیکن فرشتہ آتا سنتا اور مسکرا کر چلا جاتا۔ کرب و اذیت سرطان جیسے موذی مرض کا نہیں ان کیے دھروں کا تھا جو طاقت کے نشے میں کرنا معمول بن چکا تھا۔ لیکن اب وقت کسی ریت کی مانند مٹھی سے پھسلے جارہا تھا۔ گھٹن بڑھ رہی تھی اور رات کی تاریکی بھی کہ ایک رات جب سب سورہے تھے اور تارے جاگ رہے تھے، ایک سرگوشی سنائی دی۔ سنو! تمہیں ابو نے بلایا ہے، آواز میں اداسی بھی تھی اور دھیما سا خوف بھی لیکن اس کی آنکھ ایسے کھلی جیسے اسے اسی بلاوے کا انتظار تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھی او ر د وسرے کمرے کی جانب چل دی جہاں اس کا باپ نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ بے چینی سے اسی کا منتظر تھا یہ بوڑھی آنکھیں بتارہی تھیں۔

باپ نے اپنی چھوٹی بیٹی کو جانے کا اشارہ کیا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کی درخواست کی۔ ندا چپ چاپ بیٹھ گئی یہ تک نہ کہہ سکی کہ اتنی رات کیوں بلایا گیا ہے۔ پھر ا س بات کا آغاز ہوا جو شاید کبھی بھی نہیں ہوسکتی تھی نہ ہی کبھی اس کا سوچا گیا تھا۔ میں بہت پریشان ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آرہا سوچتا ہوں کہ اب میرے پاس وقت بھی نہیں جب میں چلا جاوں گا تو تم سب کا کیا ہوگا؟ اسد صاحب کے لہجہ کا شکستہ پن صاف بتارہا تھا کہ وجہ یہ نہیں جو بتائی گئی ہے یہ تو بات کو شروع کرنے کا بہانہ ہے اصل بات وہ ہے جو ابھی ہونا باقی ہے۔

آپ کو کچھ نہیں ہوگا سب کام آپ ہی کریں گے سب ویسے ہی چلے گا جیسے ہوتا آیا ہے۔ کل بھی آپ کا حکم چلتا تھا آگے بھی ایسا ہوگا آپ بہت جلد صحتمند ہوجائیں گے۔ کیوں اپنا دل برا کرتے ہیں۔ بیٹی نے اپنے کمزور باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ تسلی کے الفاظ پورے ہی ہوئے کہ سامنے بستر پر دراز چھ فٹ کے سراپے نے ایک جھرجھری سی لی اور آنکھوں سے گرم گرم آنسووں کی نہ رکنے والی لڑی نے جھڑنے کا رستہ ڈھونڈ لیا۔ مجھے فکر اس بات کی ہے کہ ولید کا رویہ دن بہ دن بدتر ہوتا جارہا ہے ابھی میں زندہ ہوں اور اس کا سلوک اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ اتنا ہتک آمیز ہے کل میرے مرنے کے بعد یہ کیا کرے گا؟

میں نے سوچا تھا کہ یہ تم سب کا سہارا بنے گا۔ تم سب کی طاقت بنے گا لیکن بات بے بات الجھنا چھوٹی بہنوں کی تضحیک کرنا۔ ماں کی توہین کرنا او ر تو اور کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا ہے کہ میں نے اس سے دوا اور پانی مانگا تو اس نے سنی ان سنی کردیا۔ ”میں بہت مایوس ہوا ہوں وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ مجھے یہ سوال بار بار ما ر رہا ہے۔ تم ہی کچھ بتاو؟ “ ندا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا ”ببول کاشت کر کے ہم گلاب کی کیسے تمنا کرسکتے ہیں۔ اس نے جو دیکھا وہ سیکھا اب وہی کر رہا ہے جو اسے درست لگتا ہے۔ رہی بات کہ ہم کیسے جھیلیں گے تو ویسے ہی جیسے امی نے جھیل لیا یہ تو مقدر ہے، عادت ہوچکی ابو ہمارے لئے نیا نہیں ہے“۔

رات کی تاریکی میں گہری بات ہوئی اور پھر سب اچھا ہوگا کی جھوٹی تسلی کے ساتھ ندا اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔ نہ جانے اس روز اس کے ابو سوئے بھی تھے یا صرف انھوں نے بیٹی کو جتایا تھا کہ وہ اب سونا چاہتے ہیں۔ پھر کبھی اس موضوع پر بات نہ ہوئی اور دو ماہ بعد وہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔

آج اس گھر میں سوائے لڑائی جھگڑے کے کوئی بات نہیں ہوتی۔ وہ بھائی جس نے دنیا کے سامنے باپ کی جگہ لینے کا دعوی کیا گیا وہ اپنی بہنوں کو اٹھتے بیٹھتے بد دعاوں سے نوازتا۔ پہلے ایک چھوٹی سی آہٹ پر کہ شوہر ناراض نہ ہو ماں ڈرتی پھرتی تھی آج آدھی رات کو بہنوں کی آنکھ کھل جاتی ہے کہ بھائی کی چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ گھر کا یہ وارث کسی کی بیٹی بیاہ لایا لیکن اس کو سکھ کے بجائے دکھ کے سوا کچھ نہ مل سکا۔ روز بیوی کی صبح گالم گلوچ سے ہوتی ہے اور سلسلہ رات تک چلتا رہتا ہے۔

دن کب بدلیں گے کوئی نہیں جانتا بس وہ رات او ر رات کو کیا جانے والا خاموش اعتراف جرم ندا کے کانوں میں کسی سر گوشی کی طر ح سنائی دیتا ہے۔ وہ اکثر رات کے کسی پہر کسی انجانی آواز پر اٹھ کر ا س کمرے کی جانب چل پڑتی ہے، سنو تمہیں ابو نے بلایا ہے۔ کمرے کے دروازے پر پہنچے تو وہاں دن بھر کی تھکان سے چور ماں کو بستر پر سویا پا کر واپس اپنے کمرے میں آجاتی ہے۔ پھر ہر سمت اپنے گھر میں رکھے سامان کو بغور دیکھتی ہے جو آج بھی وہی رکھا ہے جہاں اس کے باپ نے چاہا تھا باوجود اس کے کہ اب وہ نہیں وہ سامان وہاں سے اپنی جگہ تبدیل نہ کرسکا۔ نہ دن بدلے، نہ حالات سب وہی ہے ب س کردار بدلا ہے با قی سب پہلے جیسا ہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر خالد سہیل کی ایک تحریر میں ایک جملہ نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ ”جن گھرو ں میں بیوی کنیز کی طرح رکھی جائے تو اس سے پیدا ہونے والے بیٹے کبھی شہزادے نہیں بنتے“۔ یہ پڑھنا تھا کہ یہ کہانی یاد آ گئی۔ ہمارے اردگرد ایسے کئی گھرانے ہیں جہاں لڑائی جھگڑوں کا ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ بیشتر گھرانوں میں جب مرد چیخ و پکار کرتے ہیں یا تشدد کا راستہ اپناتے ہیں تو اگلے روز پڑوسیوں کے پوچھنے پر اسی گھر کی خواتین اپنا جھوٹا بھرم اور عزت رکھنے کو یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہمارے یہاں تو مرد ہوتے ہی سخت مزاج ہیں ان کی حاکمیت ہی ہمارے گھروں کی شان ہے۔

لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خو اتین اس جبر کو نہ صرف برداشت کر رہی ہوتی ہیں بلکہ اس حد تک مایوس ہوچکی ہوتی ہیں کہ انھیں آگے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ میں ایسے گھرانوں کو بھی جانتی ہوں جہاں میاں بیوی آپس میں آپ جناب سے بات کرتے ہیں شوہر اپنی شریک حیات سے مشورہ لینا پسند کرتے ہیں ان گھروں میں بھلے اختیارات مردوں کو حاصل ہوں لیکن وہاں گھر کی عورت کو ملکہ کا ہی درجہ حا صل ہوتا ہے جسے دیکھ کر اولاد یہ سیکھ رہی ہوتی ہے کہ عورت ذات کی عزت و مرتبہ در حقیقت ہے کیا۔

جب کہ کچھ ایسے گھرانے بھی ہیں جہاں میاں بیوی کے درمیان کی چپقلش، بدسلوکی چاہے وہ شوہر کی جانب سے ہو یا بیوی کی جانب سے اس ماحول میں پلنے والے بچے یا تو خود سر ہوجاتے ہیں یا پھر ان میں اس قدر خوف پیدا ہوجا تا ہے کہ وہ زمانے کو تو کیا خود کا بھی سامنا نہیں کر پاتے۔ کیا کبھی آپ نے ایسے بچے دیکھے ہیں جو محض پا نچ یا آٹھ برس کی عمر میں ہنسنا بولنا بھول جائیں؟ میں نے ایسے بچے دیکھے ہیں اور ان کے گھر کا ماحول کیا ہے اس سے بھی میں اچھی طرح واقف ہوں میری فکر صرف اتنی ہے کہ کل وہ بچے اپنی عورتوں کے ساتھ جو یا تو ان کی بہن ہوگی یا بیوی کیا سلوک روا رکھیں گے۔

کچھ بزرگ کہتے ہیں کہ عورت تو طاقتور تب ہی ہوتی ہے جب اس کا بیٹا جوان ہوجاتا ہے۔ یہ بات کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہی گئی ہوگی لیکن اب تو یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ ایک عورت جس نے اپنے شوہر کا عتاب سہا ہو اس کو دیکھ کر اس کا بیٹا بھی وہی کچھ اپناتا ہے اور وہی سب کرتا ہے جو ولید نے کیا۔ مرد طاقت رکھتا ہے، اختیار بھی یہ ذمہ داری اور بوجھ اس پر خدا نے ڈالا ہے۔ لیکن اگر وہ اس طاقت اور حاکمیت کا مطلب یہ سمجھنے لگے کہ عورت اس کے پاوں کی جوتی ہے تو یہ یاد رکھنا بے حد ضروری ہے کہ جو تی تو شاید ٹوٹ جائے لیکن وہ خون جو طاقت بھی رکھتا ہے اور جوش بھی وہ اس حاکم کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے جو کبھی اپنے ہی گھر میں فرش پر پڑی کوئی شئے اٹھانے کو نہ جھکا ہو۔

صرف اتنا یاد رکھیں کہ گھر کا سکون اور بڑھاپے میں اولاد کا سکھ اسی طور پر ممکن ہے کہ جب گھر کی آبیاری پیار محبت کی مٹی اور عزت کے پانی سے کی جائے تو پھر کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ لگایا گلاب جائے اور نکلے کیکر۔ کیونکہ ہر پودے کے ا ردگرد ا سی مٹی میں کچھ ایسے پتے، گھاس بھی نکل آتے ہیں جو ا س پودے سے ہی اس کی خوراک لیتے ہیں اور جب جڑ پکڑ جائیں تو انھیں اس سے الگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انھیں کبھی آپ نے اپنے من چاہے پودے کے ساتھ نہیں لگایا ہوتا لیکن انھیں بھی نکالتے وقت سختی نہیں نرمی برتی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا کہ کہیں وہ جڑ نہ پکڑ چکا ہو تو پھر کیسے آپ نے سب جانتے ہوئے اپنے سائے میں پلنے والوں سے تناور ہو جانے کے بعد اچھے کی امید لگالی؟ سوچنے کی بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 76 posts and counting.See all posts by sidra-dar