سیاسی جماعتوں کے بیرونِ ملک دفاتر: ایک ناسور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 11
  •  

کاش ہماری سیاسی جماعتیں اپنے بیرونِ ملک دفاتر بند کرنے پر غور کریں۔

اسلامی انقلاب کے بعد ارض فارس کے سوکھے دھانوں پر چھاجوں مینہ کچھ ایسا برسا کہ آئے دن ملک بھر میں کہیں نہ کہیں کوئی اجتماع، سیمینار، کانفرنس یا تربیتی ورکشاپ ہوتی رہتی ہے۔ قزوین میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل یونیورسٹی اس کام میں کیوں پیچھے رہتی۔ وہاں کے شعبہ سیاسیات نے اس نسبت سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اعلان کیا تو خیال آیا کہ لگے ہاتھوں شاید کچھ تاریخی مقامات کی زیارت ہو جائے۔ ابتدائی کاموں میں اولین مشق اس تحقیقی مقالے کا مختصر مجوزہ خاکہ ہوا کرتا ہے جو ایسی کسی کانفرنس کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔

اگر کانفرنس کے منتظمین اسے منظور کریں تو گویا تیاری کے لیے کمربستہ ہوا جا سکتا ہے۔ ایران کی دستوری تاریخ میں 1906 ء اور 1980 ء کے دو دستور ہیں۔ ان دونوں کے مطابق ایران امام غائب کے تصور پر قائم ایک ایسی ریاست ہے جس کے روزمرہ امور فقہ جعفری اثنا عشری کے تحت چلانا دستوری تقاضا ہے۔ میں نے ان دونوں دساتیر کے مطالعے کو پیش نظر رکھ کر کچھ تجاویز مرتب کیں۔ ضروری مراحل سے گزر کر بالآخر قزوین سے دعوت نامہ آ گیا۔

محبّی ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی، کہ اپنی وضع کے ایک ہی فرد ہیں، کو علم ہوا تو بڑے خوش ہوئے۔ انہیں کہیں خبر مل جائے کہ کسی نے کچھ لکھا ہے تو سارے کام چھوڑ کر اس لکھے ہوئے کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ چین انہیں تب آتا ہے جب وہ لکھا ہوا پڑھ لیں۔ وہ مشتاق یوسفی کے ان خان اورنگ زیب خان کے مثل ہیں جنہیں کوئی بتا دیتا کہ پرسوں جنگل کے فلاں حصے میں فلاں درخت پر ایک فاختہ بیٹھی تھی تووہ اسی وقت بندوق کندھے پر لٹکا کر اسے شکار کرنے چل پڑتے تھے۔

ڈاکٹر فاروقی صاحب کو میں نے رواروی میں بتایا کہ اس طرح کا مقالہ پیش نظر ہے حالانکہ ا بھی کچھ زیادہ سنجیدگی نہیں تھی۔ بس پھر کیا تھا۔ انہیں نہ بتاتا تو خود سوچ کر دیگر کاموں میں لگ جاتا۔ لیکن آنجناب کو اس وقت چین آیا جب لکھا ہوا مقالہ ان کے ہاتھ میں پہنچ گیا۔ جب انہوں نے افسراعلیٰ کی حیثیت سے میری چھٹی کی درخواست دیکھی جو صرف ایک ہفتے کے لیے تھی کہ اس سے کم کوئی پرواز دستیاب نہ تھی تو بجائے منظور کرنے کے فوراً طلب کر لیا۔

”آپ ایران جیسے اسلامی ملک میں جا رہے ہیں جواسلامی تاریخ و تہذیب کی اپنی نوعیت کی ایک ہی مثال ہے، او ر وہ بھی صرف ایک ہفتے کے لیے؟ دیکھئے! ایک ہفتے میں سے دو دن تو آنے جانے کے رکھ لیں، تین دن کی کانفرنس ہے، بھئی ڈاکٹر صاحب باقی دو دنوں میں آپ کیا دیکھ پائیں گے؟ کم از کم دو ہفتوں کے لیے آپ کو جانا چاہیے دو ہفتے کم از کم“۔

گھر آ کر اس بابت اعلان کیا تو بچوں کی تو کلغیاں گر گئیں لیکن بیگم کو سو فی صد ڈاکٹر فاروقی صاحب کا ہم نوا پایا: ”یہ کیا آپ وقت کو بھی پنساریوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ نہ آپ فلم دیکھیں، نہ کوئی ٹی وی ڈرامہ، نہ کسی پارک میں جانے پر آپ رضامند ہوں، کچھ وقت اپنے اوپر بھی صرف کیا کریں، ہر وقت کتابیں اور قلم یہ کوئی زندگی ہے۔ “ اب تھوڑا سا اختلاف نوکِ زبان پر آیا ہی تھا کہ بچوں کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھتے ہوئے انہیں ڈانٹا: ”تم لوگوں کو تو بس باپ ہی کی بغل میں گھسے رہنا اچھا لگتا ہے کبھی ماں کا بھی خیال کر لیا کرو۔

” خیریت یہ گزری کہ یہ ماں ذرا جدید دور کی ہے ورنہ ہمارے وقتوں کی ماؤں کی بغل میں ایک مرغا ہوا کرتا تھا جس کے برتے پر وہ صبح نہ ہونے کی دھمکی یوں دیا کرتی تھیں :“ بتیس دھاریں نہیں بخشوں گی۔ ”اس تمام دانتا کِل کِل کے آخر میں بیگم کا قولِ فیصل وہی ڈاکٹر فاروقی صاحب کے علمی پیرائے کا غیر علمی اور نسوانی بیان تھا:“ میں تو کہتی ہوں ایک ہفتہ تو اس کانفرنس کی نظر ہو جائے گا۔ سُنیے! وہاں سے زعفران اصلی اور خالص ملتا ہے۔

اتنا ضرور لانا کہ کچھ بڑی آپا کو بھی دیا جا سکے۔ سنا ہے مہنگا ہوتا ہے، پر پلاؤ زردے پر ڈالوں گی تو محلے بھر میں ڈھنڈیا پٹے بغیر پٹ جائے گی۔ زعفران آخر زعفران ہے! ہاں تو کانفرنس سے سیدھے گھر ہی واپس آنا ہے یا کہیں منڈی بازار، وہ تو آپ کو اس کاہو کا ہی نہیں ہے۔ مسز شجاع بتا رہی تھیں وہاں کے عود کی بات ہی کچھ اور ہے۔ میں تو کہوں دو ہفتوں کے لیے جائیے دو ہفتوں کے لیے! ”

قارئین کرام! اس بات سے کون اختلاف کر سکتا ہے کہ جس طرح کھانے کے دو اہم اجزا۔ روٹی یا چاول اور سالن۔ ہوتے ہیں باقی بروزن صحت دیگر اجزا بس زبان کا لپکا ہوتے ہیں ویسے ہی انسان کی تمام زندگی دو بڑے دائروں میں گردش کرتی ہے : ایک معاشی تگ و دو کا دائرہ جس کا مرکزہ ڈاکٹر یوسف فاروقی تھے، دوسرا دائرہ ازدواجی زندگی سے عبارت ہوا کرتا ہے جس کے دونوں نصف قطر کے بیچ میں زوجہ محترمہ یعنی پتنی تھی۔ اب آپ نے ان دونوں یعنی میری کل کائنات میں سے ہر دو کے اقوال زریں میرے بارے میں پڑھ لیے ہیں۔ دونوں کا کہنا تھا کہ میں دفتر اور گھر سے ذرا فاصلے پر ہوں تاکہ دفتر اور گھردونوں سکون سے چل سکیں۔ یوں آپ خواتین و حضرات بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ باقی مخلوقِ خدا مجھ سے کس قدر بیزار ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 11
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام اسلامی قانون کے پروفیسراوردستوری قانون میں پی ایچ ڈی ہیں ۔ گزشتہ 33 برس سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔

dr-shehzad-iqbal-sham has 9 posts and counting.See all posts by dr-shehzad-iqbal-sham