حسین نقی کا مرتبہ
پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ بھی ایک دور میں نقی صاحب کی مشاورت کے بغیر نہیں چلتے تھے۔ اپنے انگریزی روزنامے دی نیوز اور اس سے پہلے معروف انگریزی ہفت روزہ میگزین میگ کی ابتداء انہیں کے ہاتھوں کرائی۔ اس ادارے میں بھی نقی صاحب کا آخری دن کارکنوں کا ساتھ دینے پر ہوا اور انہوں نے صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد پر اس ادارے کے دروازے اپنے لئے ہمیشہ کے لئے بند کر لئے۔
حسین نقی صاحب کے اہل خانہ کو ان کی مختلف ادوار میں جدوجہد اور پھر اس سب کے نتیجے میں خراب حالات کا سامنا رہا، جن میں کبھی جیل جانا اور کبھی بے روزگاری جیسے ایام کا آنا۔ ان کی اہلیہ نے بڑی ثابت قدمی اور جراؔت و ہمت کی مثال بنتے ہوئے نہ صرف نقی صاحب کا ساتھ نبھایا بلکہ گھر والے محاذ پر تمام نامساعد حالات کا ذاتی طور پر خندہ پیشانی سے سامنا بھی کیا۔ نقی صاحب کے بچے بھی انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہد مسلسل کا عملی نمونہ ثابت ہوئے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اچھے عہدوں پر فائز ہوئے۔
انسانی حقوق کمیشن میں نقی صاحب کی آمد، درحقیقت عملی صحافت سے رخصت کے فیصلے کا نتیجہ تھی۔ یہ بات ہمیں کئی برسوں بعد معلوم ہوئی کہ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ کسی اخبار میں ذمہ داری نہیں لینی البتہ وہ مختلف اخبارات اور جرائد کے لئے لکھتے رہے۔ اور پچھلے بیس پچیس سال سے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی صحافی کی حیثیت سے ان کا ایک الگ مقام ہے۔
پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر آئی اے رحمان صاحب کے ساتھ ان کی رفاقت بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے،جس میں سب سے زیادہ وقت انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن میں اکٹھے گزارا۔ یہاں بھی کام کی نوعیت بہت زیادہ حد تک صحافتی اخبار میں تربیت کا یہ عالم تھا کہ سب سے پہلے ڈیسک پر خبر بنانے کا بتایا پھر باہر بھیجا اور رپورٹنگ کرنے کے لئے کہا۔ اس خبر کو بطور رپورٹر بنانے کے فوری بعد بتایا کہ اب اس کو ڈیسک کے تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دے دو۔ ادارتی صفحے پر مضمون نویسی اور کالم نویسی کے بارے بھی بعض اہم نکات سے آگاہ کیا۔ اسی طرح فیچر لکھنے کی بھی ترغیب دی۔ نقی صاحب کا کہنا ہے کہ جس زبان میں صحافت کی جاتی ہے اس کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ صحافت کی تحریر بھی ادب کا حصہ شمار ہوتی ہے۔ اس میں بھی کسی شعر یا نثر کی مانند کوئی جھول نہیں ہونی چاہئے، لیکن ایک بات پر اصرار کرتے کہ زبان کو زیادہ آسان ہونا چاہئے تاکہ پڑھنے والے کے لئے دقت نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اخبار کو ایک ریڑھی بان نے بھی پڑھنا ہوتا اہے اس لئے کم از کم خبر کی تشکیل زیادہ مشکل الفاظ کے ساتھ نہیں ہونی چاہئے۔ مضمون یا کالم میں لفاظی کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کا قاری زبان سمجھ لیتا ہے۔
نقی صاحب کا کہناہے ابلاغ کا کام بڑی ہی ذمہ داری سے انجام دینا جس میں غیرجانبداری اور جانبداری کی دیوار پھلانگے بغیر ایک خبر بھی دینا اور اس کے ساتھ اس کی نوعیت کے اعتبار سے اس کے اچھے یا بُرے اثرات سے آگاہ کردینا، یا اسے پڑھنے والے کی اپنی سوجھ بوجھ پر چھوڑ دینا، ہوتاہے اور اسی کو ایک متوازن اور ذمہ دارانہ صحافت کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے صحافی کا کام نہ تو تھانیدار بن کر کارروائی کرنا ہے اور نہ ہی جج بن کر فیصلے سنانا ہے لیکن ایک پولیس والے سے زیادہ تفتیش اور تحقیق کرکے بات کی تہہ تک پہنچنا اوراصل حقائق کو باہر نکالنا ایک اچھے صحافی کی نشانی ہے۔ اسی طرح کوئی فیصلہ دیئے بغیر کسی بھی خبر کو چاہے وہ تین جملوں کی ہو یا پھر تین صفحات پر مشتمل ہو، اپنے حتمی انجام تک پہنچانا چاہئے، خبر میں کوئی بات ادھورا پن یا تشنگی نہیں رہنی چاہئے، اس کو مختصر بھی ہونا چاہئے اور مکمل بھی۔ یہی ڈیسک پر بیٹھے ایڈیٹرز کی صلاحیتوں کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
نقی صاحب کہتے خبر بناتے اور ایڈٹ کرتے تھوڑا وقت چاہے لے لو مگر اس کی طوالت سے گریز کیا جائے اور اس میں تمام پہلوؤں کو مدنظر ضرور رکھا جائے۔ اس میں الفاظ کا چناؤ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے اور الفاظ کے تکرار سے حتی المقدور بچا جائے۔
نقی صاحب حقیقی معنوں میں ایک اصول پسند انسان ثابت ہوئے، جنہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی کا سوچا تک نہیں۔ اگرچہ ان کے مزاج اور طبیعت میں ہٹ دھرمی نہیں پائی جاتی اور موقف میں کسی حد تک لچک بھی ہوتا لیکن وہ اپنی بات پر قائم رہتے اور ڈٹ جاتے ہیں۔ وہ مسائل کے بہتر اور پائیدار حل تجویز کرتے، جس سے دوسرے کو نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہو۔
نقی صاحب کو دین سے زیادہ لگاؤ نہیں مگر دنیاداری بھی ان کی زندگی کا حصہ نہ بنی۔ سیدھے راہ پر چلنے کی تلقین کی، کسی لالچ یا فائدے کا ان سے کوئی سروکار نہ رہا، عالم یہ ہے کہ عمر بھر ایک گاڑی تک ان کی ملکیت نہ بنی۔ لباس اور خوراک بھی سادہ رہا۔ لیکن کھانے پینے میں ایک ڈسپلن ضرور ہے کہ کب کیا کھانا اور کیا پینا ہے۔
زندگی میں تلخ حالات اور کئی اتار چڑھاؤ آئے، اگر انہوں نے ان کا کبھی ذکر کیا تو گلہ ہرگز لبوں پر نہ آیا، اس صورتحال سے کیسے نمٹا یہ ضرور بتایا مگر اس کا دکھ اور تکلیف بیان نہیں کی۔
شخصیت میں پائی جانے والی وضع داری کے حلیف اور حریف سبھی قائل ہیں، کسی نے یہ نہیں کہا حسین نقی اپنی بات سے پلٹ گیا، یا اس نے پسپائی اختیارکرلی۔ اُن کا انداز بیان دھیما مگر بڑا بارُعب اور بااثر جس کا ایک زمانہ معترف۔ نقی صاحب نہ جانے کس دنیا کے ہیں، جنہیں ہر چیز کا علم حاصل کرنے کی جستجو ہے مگر غرض نام کی کوئی شے ان کے پاس سے بھی گزر کر نہیں گئی۔ کبھی کوئی سرکاری یا سیاسی عہدہ نہیں لیا۔ حتیٰ کہ صحافیوں کو پلاٹ ملے تو واحد سنیئر صحافی ہیں جنہوں نے لینے سے انکار کردیا اور سچ بتا دیا کہ بھٹو دور میں لے چکا ہوں جسے بیچ کر ضیاء دور کے مقدمے پر لگا دیا تھا۔
نقی صاحب کے خواص بتانے کا مقصد محض اتنا ہے کہ ایسے انسان ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ اور اُن کی تعداد اگرچہ کم ہوتی ہے مگر وہ بہت زیادہ موثر کردار ادا کرتے ہیں یا ادا کرسکتے ہیں ان میں سے بعض شہرت کی بلندیوں کو چھو جاتے ہیں لیکن اسی عمل کے دوران وہ خود کو عام لوگوں سے مختلف یا امتیازی سلوک کے حق دار سمجھنے لگتے ہیں، مگر ان میں سے بھی معدودے چند ہیں جن میں نہ تو کسی قسم کی انا ہوتی ہے اور نہ احساس تفاخر، وہ تو بس اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں یہ لوگ درحقیقت مثالی کردار یعنی رول ماڈل ہوتے ہیں، جنہیں ہر آنے والی نسل کےلئے پیش کیا جانا چاہئے۔
معاشرے میں بہتر، مثبت اور بامقصد کردار ادا کرنے کے لئے ایسی شخصیات ہی ہوتی ہیں، جنہیں مثال بنا کر آگے بڑھا جاتا ہے۔
دنیا بنانے والے نے بھی شاید ان لوگوں کا خصوصی طورپر انتخاب کیا ہوتاہے تاکہ اس کی دھرتی پر امن، سلامتی، فلاح پھیلانے کے کام آ سکیں، یہ لوگ اس ذات اقدس کا بھیجا ہوا تحفہ ہیں، جن کی نہ صرف قدر کی جانی چاہئے بلکہ ان کے اچھے اعمال کی پیروی بھی کرنی چاہئے۔ نقی صاحب ان ہی میں سے ایک ہیں۔ کاش ہم لوگ ایسے لوگوں کو پہچان سکیں اور ان کی قدر کرنا بھی جان سکیں۔



