حسین نقی سے باتیں (1)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز ادیب مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں:” سیاست کی کثافت اور polarizationکی مخرب اقدار کشش سے کتنے صحافی اور کالم نویس ہیں جو خود کو بچا سکے ہیں، ان حالات میں حکومتیں اگر Fourth estateکواپنا زرخرید ترجمان و تابع فرمان بنانا چاہیں توتعجب نہیں ہونا چاہیے۔

صحافی ہو یا سیاست دان، جج ہویا بینکراور بیوروکریٹ… یہ سب اسی ترکیب سے ”پکڑائی“دیتے ہیں، جس طرح بعض علاقوں میں بندر پکڑے جاتے ہیں۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ناریل میں اتنا سوراخ بنا دیا جاتا ہے کہ صرف بندر کا پنجہ اندر جا سکے۔ بندر نرم و شیریں کھوپرے کے لالچ میں اس میں ہاتھ ڈال دیتا ہے اور مٹھی میں بہت ساکھوپرا بھر لیتا ہے۔ لیکن بھری مٹھی کو تنگ سوراخ سے نہیں نکال پاتا۔ مٹھی کھول کر کھوپرا چھوڑنے اور ہاتھ چھڑانے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس طرح ایک ہاتھ ناریل میں پھنسائے تین پایہ بنا لنگڑاتا پھرتا ہے اورآسانی سے پکڑا جاتا ہے۔ پھرساری عمرمداری کی ڈگڈگی اور اشاروں پرقریہ قریہ، گلی گلی اچھل کود دکھاتا اور ہاتھ پھیلا کر پیسے بٹورتا ہے۔ مداری اگر رحم کھا کر اسے جنگل میں آزاد چھوڑ بھی دے تو واپس آ جاتا ہے اور کسی نئے مداری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ سو یہی حال ان حضرات کا ہوتا ہے جن کے معزز پیشوں کے نام ابھی اوپر گنوائے گئے ہیں۔ صحافیوں کی تخصیص نہیں۔ ایں خانہ ہمہ داغدار است۔ “

مشاق لکھاری نے کس قدر بلیغ اور موثرانداز میں ہمارے ہاں کی صحافت اور صحافیوں پر تبصرہ کیا ہے۔ اور یہ اس وقت کا لکھا تھا، جب الیکٹرانک میڈیا اور اس کے اینکرز اپنی حشرسامانیوںکے ساتھ موجود نہ تھے۔ مشتاق احمد یوسفی کی بات سولہ آنے ٹھیک ہے، ہماری صحافت اپنے اعتبار اور ساکھ کے لحاظ سے نازک دورسے گزر تو رہی ہے مگراس گئے گزرے وقت میں بھی چند باصفا صحافی ہمارے درمیان موجود ہیں، جن کے لیے صیاد، ترغیب وتحریص کا کیسا ہی پھندہ لگا دے، وہ کبھی پکڑائی نہیں دیں گے۔ ایسے عالی مرتبت صحافیوں میں ایک معتبر نام حسین نقی کا ہے، جن کی دیانت داری اور جرات پر کوئی حرف گیری نہیں کرسکتا۔ ایسے معاشرے میں جہاں وہ صحافتی تنظیمیں جن کا خمیر ہی سرکار مخالفت سے اٹھا، ان کی نگہبان سرکار سے مسکراتے ہوئے ایوارڈ لیں اورصحافی حاکم کے دربار میں رسائی اور اس کے ساتھ غیرملکی دورے کو اپنے فن کی معراج جانیں تو ایسے میں حسین نقی جیسے صحافی کا دم اور بھی غنیمت محسوس ہوتا ہے۔

صحافت سے وابستہ ہونے سے قبل طالب علم رہنما کی حیثیت سے انھوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور کراچی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کے ذریعے اپنی استقامت کا سکہ جمایا۔ صحافت میں حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہنر آزمانے کا موقع انھیں اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی میسر آ گیا، جب حیدرآباد میں فیلڈ مارشل صاحب سے تیکھے سوال پران کا تبادلہ کردیا گیا۔ حیدرآباد ہی میں زمین کے عوض انھیں خریدنے کی کوشش ہوئی۔ 1967ء میں لاہور میں پیپلز پارٹی کی بنیاد پڑنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا جن صحافیوں سے ربط ضبط بہت زیادہ رہا۔ ان میں حسین نقی شامل تھے۔ لیکن ذاتی تعلق کبھی ان کی صحافیانہ رائے پر اثرانداز نہ ہوا۔ وہ بھٹو پر 70ء کے الیکشن کا مینڈیٹ تسلیم کرنے پر زور دیتے رہے۔ بھٹو نے مشرقی پاکستان الگ ہونے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالا تب بھی حسین نقی نے ان کی پالیسیوں کوآڑے ہاتھوں لیا۔

پنجاب یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب میں وزیراعظم بھٹو ان کی کڑی تنقید پر بھنا گئے اور مجمع ان کی جراتِ رندانہ پر حیران رہ گیا۔ ہمارے ہاں حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کی ایسی دوسری مثال ڈھونڈے سے ہی ملے گی۔ ہاں البتہ بند کمرے میں مبینہ طور پر حکمرانوں کو للکارنے والے وافر ہیں، جو اپنی حق گوئی کے آپ ہی راوی ہوتے ہیں۔ حسین نقی نے بھٹو کے سلطانی جمہور میں جیل کاٹی اور ضیا آمریت میں بھی قید ہوئے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم صحافتی تنظیموں کا بھی وہ حصہ رہے۔ حکومت وقت سے ٹکر لینا اپنی جگہ بڑی دلاوری کا کام سہی لیکن مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے برتنے والوںسے نبرد آزما ہونا کہیں زیادہ دلیری کا متقاضی ہے، اور اس کار خیر کی انجام دہی میں بڑے بڑوں کی کور دبتی ہے، مگر حسین نقی ان عناصر سے بھی نہیں ڈرے اورجب بھی موقع ملا ان کے رخ سے نقاب اٹھاتے رہے۔

وہ اخبارات وجرائد جنھیں حسین نقی کا قلمی تعاون حاصل رہا۔ ان میں، آﺅٹ لک، ویو پوائنٹ، فرنٹیئر پوسٹ، ہالیڈے، فرنٹیئر گارجین، پنجاب پنچ، پنجاب ٹائمز، اسٹار، مسلم اور دی نیوز شامل ہیں۔ اردو میں “نصرت“اور ”مساوات میں لکھتے رہے۔ حنیف رامے کے ساتھ مل کر ” مساوات“کی فزیبلٹی رپورٹ بنائی۔ اخبار میں لکھا بھی لیکن اس کا باقاعدہ حصہ نہ بنے۔ منو بھائی نے حسین نقی کو بتایا کہ بھٹو نے انھیں ” مساوات“ کے عملے میں شامل نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حسین نقی بڑے صحافی ہی نہیں بڑے انسان بھی ہیں۔ ایک تو اردگرد کی فضا، دوسرے برصغیر کے تین اہم تہذیبی مراکز لکھنو، لاہور اور کراچی میں زیست کرنے سے ان کے مزاج میں اس رواداری اور وسعت نے جنم لیا جوہمارے ہاں جنس نایاب بنتی جا رہی ہے۔ وہ اردوبولنے والے ہیں لیکن دوسری زبانوں کے لوگوں سے ان کا بے پایاں محبت کا تعلق رہا۔ پنجابی روزنامہ ”سجن“ نکالنے کا منصوبہ بنا تو اس کی ذمے داری حسین نقی کے سپرد ہوئی۔ کراچی یونیورسٹی سے بلوچ طالب علموں کے مستقبل کی خاطر قربانی دی اور ان کی جگہ یونیورسٹی سے خود Rusticateہونا قبول کیا۔ طالب علم رہنما کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی میں سندھی زبان کی چیئر قائم کرنے کے سلسلے میں آواز اٹھائی۔ حسین نقی دھیمے لہجے میں اور صراحت سے بات کرتے ہیں، ہر بات کا پس منظر ذہن میں تازہ ہوتا ہے۔ ذہنی و جسمانی اعتبار سے چاق وچوبند ہیں ۔ لیپ ٹاپ کا استعمال کرنے والے حسین نقی ابھی تک خود کو موبائل فون کے استعمال پرآمادہ نہیں کر پائے۔ اہل سیاست اور صحافت سے ان کا تعلق خاطر تو رہا ہی ادیبوں سے بھی دوستیاں رہیں، ممتاز شاعر منیر نیازی ایک زمانے میں ان کے گھر کے پاس رہنے لگے تو تو ملنا جلنا زیادہ ہوگیا اور اس منفرد شاعر نے اس صحافی کو اپنا مشیر مقررکر لیا، ایک بارشاعر کو سیاست کا شوق چرایا تو یہ حسین نقی کا مشورہ ہی تھا جس نے انھیں سیاست میں آنے سے بازرکھا۔ تین دھائیوں سے امریکا میں مقیم اردو کے ممتاز شاعراحمد مشتاق۔ ملکی سیاست کا احوال جاننے کے لیے ان سے اب بھی برابر رابطے میں رہتے ہیں۔ زندگی سے وہ مطمئن ہیں۔ 1966ء میں محترمہ زہرا قزلباش سے شادی ہوئی جنھوں نے ہر کڑے وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ اکبر نقی، اصغر نقی اور محسن نقی ان کے بیٹے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •